15/08/2026
*خیبرپختونخوا میں سکول نہ جانے والے بچوں کی ڈور ٹو ڈور سروے کرانے کا فیصلہ*
خیبرپختونخوا میں سکول نہ جانے والے بچوں کی گھر گھر مردم شماری کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اسکول سے باہر بچوں کو اسکولوں میں واپس لانے کے لیے چار محکموں کے درمیان تعاون کیا جا رہا ہے اور اس سلسلے میں وزیر اعلیٰ محمد سہیل آفریدی کی موجودگی میں ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے۔ پلان کے مطابق صوبے میں گھر گھر مردم شماری اور سکول نہ جانے والے بچوں کا جامع سروے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے محکمہ ایلیمنٹری اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن، محکمہ لوکل گورنمنٹ، محکمہ صحت اور محکمہ سماجی بہبود مشترکہ حکمت عملی کے تحت کام کریں گے۔ اجلاس میں بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ صوبے میں سکول نہ جانے والے بچوں کی صحیح تعداد اور مقامات معلوم کرنے کے لیے ون میپ سسٹم بنایا جائے گا۔ شرکاء کو بتایا گیا کہ 2023 کی مردم شماری کے مطابق خیبرپختونخوا میں 5 سے 16 سال کی عمر کے تقریباً 4.9 ملین بچے سکول نہیں جاتے جبکہ محکمہ تعلیم کے مطابق 26 لاکھ بچے سکول نہیں جاتے۔ بریفنگ میں بتایا گیا کہ پلان کے پہلے مرحلے میں 60 فیصد سکول نہ جانے والے بچوں کو فوری طور پر سکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ مستقبل کے اسکولوں کی منصوبہ بندی کے لیے 5 سال تک کے بچوں کا ڈیٹا بھی اکٹھا کیا جائے گا۔ سرکاری اسکول، ڈبل شفٹ، کمیونٹی اسکول، ڈیجیٹل پلیٹ فارم اور نجی شراکت داری کو اسکول سے باہر تعلیم کے لیے استعمال کیا جائے گا۔ غربت کی وجہ سے اسکول چھوڑنے والے بچوں کو وظائف، زکوٰۃ اور دیگر سماجی امداد فراہم کی جائے گی۔ 14 سے 16 سال کی عمر کے نوجوانوں کو اقوام متحدہ کے پروگرام جنریشن لامحدود کے تحت پیشہ ورانہ تربیت فراہم کی جائے گی۔ اس کے علاوہ اس منصوبے کی نگرانی کے لیے صوبائی اور ضلعی سطح پر اسٹیئرنگ کمیٹیاں بھی قائم کی جائیں گی۔ ایک آزاد ادارہ شفافیت کے لیے سروے کیے گئے 5 فیصد ڈیٹا کی تصدیق کرے گا۔ بچوں کو وظائف کی ادائیگی کم از کم 75 فیصد حاضری سے مشروط ہوگی۔
Copied