29/11/2024
یزیدیوں کا یزید سے موازنہ درکار ہے
کون یزیدی اول رہا موازنہ درکار ہے
مچھر ہو کوئی ایسا کام کردے جو تمام
نمرود جیسے کوآقاؤں کو نمونہ درکار ہے
مصلّے سے، مسلح نے دھکیل دیا
اے خدا اور کیا کرنا درکار ہے؟
اسفلا سافلین کہہ چکا قرآن تو
یہ بتاؤ ، گرنا اور کتنا درکار ہے
کہتے ہیں بھاگ گئے حق مانگنے آئے جو
خواب سہی، تم کو بھی سانحہ درکار ہے
بھول رہے تھے کربلا کو حکامِ وقت
سو کہا اک تماشۂ کربلا درکار ہے
چھا گیا اندھیرہ جب، تو کہا سالار نے
گولی چلا کرکے بتاؤ جسکو تمغہ درکار ہے
یقین تھا اپنے ہو پشیماں نہ کروگے
تم کو ایک تم جیسا خیر خواہ درکار ہے
رقم کردی تاریخ تم نے، اپنوں کو ہی مار کر
اس کو مطالعے کا مذموم جامہ درکار ہے
عادل کا عدل سے کچھ واسطہ ہی نہیں
رتبہ، پیسہ اور بنگلہ بڑا سا درکار ہے
علماء اس صف میں پیچھے کیونکر رہے
سر پر بوٹ سا بس امامہ درکار ہے