29/07/2025
# # # جنوبی کوریا میں غیر ملکی مزدوروں کے حقوق کی خلاف ورزی: ایک سنگین واقعہ اور حکومت کی اصلاحات
جنوبی کوریا میں ایک سنگین واقعہ نے غیر ملکی مزدوروں کے حقوق کے بارے میں عوامی غصے کو جنم دیا ہے۔ نجو شہر کے ایک اینٹوں کے کارخانے میں ایک سری لنکن مزدور کو فورک لفٹ کے ذریعے معطل کر کے اس پر تشدد کیا گیا، جس نے حکومت کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے غیر ملکی مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے قوانین میں اصلاحات کرے۔ اس واقعے نے کوریا کے "ایمپلائمنٹ پرمٹ سسٹم" (EPS) کے نظام کی خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے، جو غیر ملکی مزدوروں کو اپنے کام کے حالات سے بچنے یا بدلنے کی انتہائی محدود آزادی فراہم کرتا ہے۔
# # # واقعہ کی تفصیلات
31 سالہ سری لنکن مزدور، جس کا نام "A" بتایا جا رہا ہے، کو گزشتہ دسمبر میں اس کارخانے میں کام شروع کرنے کے بعد کئی مہینوں تک زبانی تشدد کا سامنا تھا۔ 26 فروری کو ایک چھوٹی سی غلطی پر اسے فورک لفٹ کے ذریعے اینٹوں کے ڈھیر کے اوپر معطل کر دیا گیا، اور پانچ منٹ تک اسے اس اذیت کا سامنا کرنا پڑا۔ اس واقعے کے بعد، "A" نے اپنے جذباتی اور ذہنی دباؤ کی وجہ سے حقوق کی تنظیم سے مدد حاصل کی۔
# # # کوریا کے غیر ملکی مزدوروں کے لیے موجودہ نظام
جنوبی کوریا کا ایمپلائمنٹ پرمٹ سسٹم (EPS) غیر ملکی مزدوروں کو اپنے ورک پلیس کو تبدیل کرنے میں سخت مشکلات میں ڈال دیتا ہے۔ یہ مزدور عام طور پر تین سال کے لیے اپنے ایک ہی آجر کے ساتھ کام کرنے پر مجبور ہوتے ہیں، اور صرف تین بار ملازمت بدلنے کی اجازت ہوتی ہے، اور اس کے لیے آجر کی اجازت ضروری ہوتی ہے۔ اس عمل میں بہت سی مشکلات اور پیچیدگیاں ہیں جن کی وجہ سے اکثر غیر ملکی مزدور ظلم و زیادتی کو برداشت کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
اگر مزدور اپنے آجر کے ساتھ کام کی حالت تبدیل نہیں کر سکتا، تو وہ کئی خطرات میں مبتلا ہو جاتا ہے، جیسے غیر قانونی حیثیت میں آنا، رہائش اور آمدنی میں استحکام کا فقدان، اور نئے کام کی تلاش میں مزید مشکلات۔
# # # حکومت کا ردعمل اور اصلاحات
یہ واقعہ عوامی غصے کا باعث بنا اور حکومت نے اس پر فوری ردعمل دیتے ہوئے غیر ملکی مزدوروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے اصلاحات کا وعدہ کیا۔ وزارت محنت اور روزگار نے کہا کہ وہ اس نظام میں اصلاحات لائے گی تاکہ غیر ملکی مزدوروں کو غیر منصفانہ یا خطرناک کام کے حالات میں منتقل ہونے میں آسانی ہو۔
ان اصلاحات میں اعلیٰ خطرے والے کام کے مقامات کی نگرانی کو سخت کرنا، ظالمانہ آجر پر سخت سزائیں لگانا، اور غیر ملکی مزدوروں کے لیے کام کی حفاظت، مزدور حقوق اور ملازمت کی آزادی کے لیے ایک مکمل حمایت کا نظام فراہم کرنا شامل ہے۔
# # # حقوق کی تنظیموں کی مطالبات
حقوق کی تنظیمیں اور مزدور یونینیں اس بات پر زور دے رہی ہیں کہ اس سسٹم میں بنیادی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ موجودہ نظام میں آجر کے اختیار کے تحت کام کی تبدیلی کو مزید لچکدار بنایا جائے، اور غیر ملکی مزدوروں کے لیے تین ماہ کے اندر نئی ملازمت تلاش کرنے کی شرط کو ختم کیا جائے۔
"مزدوروں کے حقوق کا تحفظ کرنے کے لیے حکومت کو آجر کے اختیار کو کم کرنا ہوگا۔ جب تک یہ نظام بدلے گا نہیں، مزدور ظلم و زیادتی برداشت کرنے پر مجبور رہیں گے"، یہ کہنا تھا "مائیگرنٹس ٹریڈ یونین" کے سربراہ اودیا رائے کا۔
# # # غیر ملکی مزدوروں کے خلاف امتیاز
ایک حالیہ تحقیق کے مطابق، کوریا میں 31.2 فیصد ای-9 ویزا پر آنے والے غیر ملکی مزدوروں نے امتیاز کا سامنا کیا۔ ان میں سے 43.1 فیصد نے اس امتیاز کو برداشت کیا، جب کہ 36.6 فیصد نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ تقریباً 80 فیصد غیر ملکی مزدور خاموش رہتے ہیں اور ان کے حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے۔
# # # نتیجہ اور مستقبل کے اقدامات
یہ واقعہ اور اس پر ردعمل نے ایک واضح پیغام دیا ہے کہ جنوبی کوریا میں غیر ملکی مزدوروں کے حقوق کی حفاظت کے لیے فوری اور اہم اصلاحات کی ضرورت ہے۔ حکومت کی جانب سے جو اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، وہ ایک اچھا آغاز ہو سکتے ہیں، مگر ان اصلاحات میں سسٹم کی بنیادی خرابیوں کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔
مزدوروں کو کام کی آزادی، آجر کی اجازت کے بغیر ملازمت تبدیل کرنے کا حق، اور قانون کی جانب سے بہتر تحفظ فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ، معاشرتی سطح پر غیر ملکی مزدوروں کے ساتھ بہتر سلوک اور امتیاز کی روک تھام کے لیے عوامی آگاہی اور تعلیم پر بھی توجہ دینا ضروری ہے۔
یہ اصلاحات نہ صرف جنوبی کوریا کے غیر ملکی مزدوروں کے لیے بلکہ عالمی سطح پر مزدور حقوق کے تحفظ کے لیے ایک اہم قدم ثابت ہوں گی۔