13/06/2018
ہم ہی کیوں کارِ اذیّت سے گُزارے جائیں
عشق مذہب ہے تو ایمان سے سارے جائیں
میں نہ یوسف نہ مرے ہجر میں رونے والی
مِثلِ یعقوب , کسی آنکھ کے تارے جائیں
یہ بھی ڈر ہے جو کسی پیڑ پہ پتھر پھینکوں
ساتھ پھل کے نہ کہیں گھونسلے سارے جائیں
ہم بھی ہیں کہف کی دیواروں سے لپٹی روحیں
یونہی سو کر نہ کہیں عمر گزارے جائیں
اور بھی نکھریں گے اعراب ِ وفا سے انجم
ہم پہ الفاظ محبت کے اُتارے جائیں
آصف انجم