Current Affairs

Current Affairs Thanks

This platform ( Current Affairs) is created to discuss the current affairs of Pakistan and international political issues and rise the voice of public in mainstream Pakistan Please subscribe our channel and share with your friend.

Alhamdulilah New Ringneck la aya ma 🥰🥰
21/12/2023

Alhamdulilah New Ringneck la aya ma 🥰🥰

Alhamdulilah New Ringneck la aya ma 🥰🥰 bb , , , , , , ...

29/01/2023
22/06/2021

مدارس میں زنا کیوں؟
محمد شہریار احمد رضوی

ہم ایک عرصے سے دیکھتے آئیں ہیں کہ وقتا فوقتا تھوڑے عرصے بعد کسی نہ کسی مدرسے یا مسجد کے مولوی صاحب کا کوئی نہ کوئی اسکینڈل نکل آتا ہے جس پر تمام دین دشمن اکھٹے ہو جاتے ہیں اور اسلام پر تنقید کرنا شروع ہو جاتے ہیں آخر ایسا کیوں ہے؟ یہ مدارس میں یہ سب کیوں ہورہا ہے؟

اگر آپ دیکھیں تو اسلام کے مضبوط قلعے مدارس ہیں اور یہ وہی مدارس ہیں جن سے لاکھوں حافظ پیدا ہوتے ہیں لاکھوں عالم بنتے ہیں لاکھوں مفتی بنتے ہیں کڑوروں لوگ قرآن پاک کو پڑھنا سیکھتے ہیں۔ ان پاک مقامات پر آج کل کوئی نہ کوئی اسکینڈل بنا کر سامنے لایا جاتا ہے اور پھر اس کے بعد جو مدارس پر اور علماء پر کتوں کی طرح بھونکنے نکل آتے ہیں کیا یہ سب اتفاق ہے یا سوچی سمجھی سازش؟

ان باتوں کا جواب جب میں نے تلاش کرنے کی کوشش کی تو بہت سے ایسے انکشفات ہوئے جن کی مجھے سوچ بھی نہیں تھی انہیں معملات میں میرے سامنے سلطان صلاح الدین ایوبی رحمۃ علیہ کا وہ واقع یاد آیا جس میں آپ کے دور حکومت میں ایک یہودی عالم پکڑا گیا تھا اور پھر اس کے بعد امام احمد حنبل رحمۃ کا وہ واقعہ یاد آگیا جس میں آپ کو قرآن پاک کا دفاع کرنے کے جرم میں کوڑے مارے گئے اور جن لوگوں کے ساتھ آپ نے مناظرہ کیا وہ سب درباری مولوی تھے۔

ان سب کو دیکھنے کے بعد میں نے جتنے بھی کیسز زنا کے نکلے ان سب پر غور کیا تو ایک اہم انکشاف ہوا کہ یہ جتنے بھی کیسز ہوئے ان کا زیادہ تعلق ایسے لوگوں سے تھا جن کا کوئی نام و نشان بھی نہیں تھا پہلے جنہیں کوئی جانتا بھی نہیں تھا اور پھر اچانک وہ منظر عام پر آیا اور جس صورت میں آیا وہ آپ سب کے سامنے ہے۔

اب اس کی عام سی مثال میں آپ کو یہ دے سکتا ہوں کہ جیسے ابھی کچھ دن پہلے عبدالعزیز نامی شخص جسے کم از کم میں اور میرے جاننے والے یہاں تک کہ انہیں کہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے بھی اس شخص کو اتنا نہیں جانتے تھے اور پھر جس کیس کے ساتھ وہ شخص منظر عام پر آیا وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔

تو میں نے غور کیا کہ مدرسوں سے زیادہ یہ زنا زیادہ تر تو سکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں میں ہوتے ہیں تو وہاں کوئی ایکشن کیوں نہیں لیتا؟ تو ایک ہی جواب ملا کہ وہ جگہ یہود و نصاری کے ماننے والوں کہ زیر اثر ہے اس لئے وہاں یہ سب کرکے بھی جائز ہی کہلاتا ہے وہاں کوئی نہیں پوچھے گا کیونکہ وہاں سال بعد لاکھوں کی تعداد میں ملحد و بد عقیدہ لوگوں کو پیدا کیا جارہا ہے۔

پھر آخر مدارس پر ہی یہ سب کیوں تو ایک بات میری سمجھ میں آگئی کہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور کوئی بھی یہ بات اچھی طرح جانتا ہے کہ دشمن جب حملہ کرتا ہے تو اس سے پہلے وہ اس ملک کے قلعوں پر حملہ کرتا ہے اور انہیں فتح کرنے کی کوشش کرتا ہے یہاں بھی کچھ ایسا ہی ہورہا ہے سب سے پہلے انگریزوں نے فرقہ واریت کو پلانٹ کیا لیکن وہ اس میں ناکام رہا کیونکہ اللہ پاک نے اپنے بندوں میں عین جب یہ فتنہ عروج پر تھا امام احمد رضا خاں بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کو معمور فرما دیا جنہوں نے اس فتنہ کو ایسا نقصان دیا جس کی کوئی حد ہی نہیں جب یہ دیکھا کہ پلان ناکام ہوگیا تو پھر انہوں نے قادیانی کو پلانٹ کیا لیکن جب اس کے مقابلے میں پیر مہر علی شاہ صاحب آئے اور دیگر علماء حق آئے تو یہ پلان بھی ناکام ہوگیا اب انگریز نے کیا کیا کہ اس نے سکول، کالج، یونیورسٹیوں میں تو اپنے لوگوں کو متحرک کردیا لیکن مدارس میں یہ کام کرنا ناممکن تھا۔

اس لئے انہوں نے سوچا کہ ہم کیوں نہ لوگوں کے دلوں سے علماء کی محبت ہی نکال دیں اور مدارس کا ایسا نقشہ لوگوں کے دلوں میں بیٹھا دیں کہ لوگ اپنے بچوں کو مدارس بھیجنے سے ڈریں اس طرح مدارس جوکہ اسلام کے قلعے ہیں عوام کے پاس علم نہ ہونے کہ وجہ اور۔علماء حق سے دور ہونے کی وجہ سے کمزور ہوجائیں گے اور ہم انہیں آسانی سے ختم کردیں گے پھر اس نے اپنے پلانٹ کئے ہوئے لوگوں سے ایک تعصب لوگوں کے ذہنوں میں ڈال دیا کہ ہر داڑھی رکھنے والا مولوی ہوتا ہے اس طرح جب بھی کوئی کیس نکلا تو لوگوں نے یہ نہیں جانا کہ وہ عالم ہے بھی یا نہیں بس علماء اور مدارس پر تنقید شروع کردی جوکہ اصل میں لبرلز کرتے تھے اور پھر عوام میں بھی اس بات کو ڈال دیا گیا۔

اس کے بعد مدرسوں میں اپنے لوگوں کو چھوڑا گیا اور ایسے کام کروائے گئے جس سے مدارس اور علماء کا زیادہ سے زیادہ نام بدنام کیا جائے اور لوگوں کو ان کے پاس جانے سے روکا جائے وہ اپنے اس پلان میں ایک حد تک کامیاب ہوچکے تھے کہ اللہ پاک نے اپنے ایک ولی اپنے ایک مجدد ایک امام ایک عالم ثانی خالد بن ولید امیرالمجاہدین حضرت علامہ مولانا خادم حسین رضوی رحمۃ اللہ علیہ کو بھیجا جنہوں نے ان کے تمام پلان کو زمین بوس کردیا اور نوجوانوں کی ایک کثیر تعداد انکے ساتھ آکھڑی ہوئی اور اسلام و دین کی خاطر لبرلز اور کفار کے سامنے کھڑے ہوگئے۔

تبھی سے انہوں نے اپنی ان سرگرمیوں کو تیز کردیا اور دیکھتے۔ہی دیکھتے پہلے عبدالقوی اور پھر یہ عبدالعزیز کو منظر عام پر لایا گیا اسی دوران مختلف جہگوں پر بھی یہ اپنا کام کرت رہے اور اقتدار میں بیٹھے ہوئے پیسوں کے پوجھاڑیوں کو خرید کر کبھی علماء پر ظلم تو کبھی مدارس پر پابندی لگانے کی کوشش کرتے رہے جس میں یہ ہر بار ناکام ہوئے پھر انکے لئے سب سے بڑا جھٹکا امیرالمجاہدین علامہ خادم حسین رضوی صاحب کے پردہ فرماجانے کے بعد لگا جب انہوں نے کڑوروں لوگوں کو انکے لئے روتے دیکھا پھر انکے صاحبزادے نے انکی جگہ سنبھالی تو کڑوروں عاشق انکے ساتھ کھڑے ہوگئے اور پھر انہوں نے اپنے کارندوں سے کہ کر سعد حسین رضوی اور سینکڑوں علماء کو جیل میں ڈالوا دیا اور پھر جو کچھ ہوا وہ سب آپ کے سامنے ہے اور ایک بار پھر سے وہی چال چلی گئی پہلے یہ نام نہاد مولوی پکڑا گیا اور اب کل کی عبدالقوی کی نازیبا ویڈیو بھی جاری کروائی گئی

ظاہر ہے کہ اب انکا اصل ٹارگٹ تیز کیا جارہا ہےبس آپ لوگوں سے درخواست ہےکہ اس بات کو خیال میں رکھتے ہوئے کہ ہم نے اسلام کے قلعوں کو مضبوط بنانا ہے اور اس کی حفاظت کرنی ہے اس کے لئے خود بھی اور اپنے بچوں کو علماء حق کے ساتھ تعلق میں رکھیں اور انکے ساتھ رابطے میں رہیں تاکہ آپ عالم دین کی صحبت میں علم کو جانتے رہیں اور کفر کی چالوں سے اپنے ایمان کو محفوظ رکھیں آمین

12/05/2021

سب اہل اسلام کو عید مبارک
عید کی دعا میں فلسطینی، کشمیری اور جہاں بھی مظلوم مسلمان ھیں اللہ انکی حفاظت اور آزادی کی دعا کریں اور ھم کو اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات پر چلنے اور عمل کرنے کی توفیق عطا فرما۔امین

10/05/2021

حکومتی مقدس ڈرامے بازیاں

ازقلم: محمد شہریار احمد

آج کل عمران خان کی ویڈیوز اور تصاویر سوشل میڈیا پر گردش کررہی ہیں جن میں وہ عمرہ ادا کررہا ہے اور اس چیز میں لوگوں کو مطمئن کیا جارہا ہے کہ دیکھو کتنا عاشق ہے
آج کی یہ تحریر اس لئے بیان کررہا ہوں کہ عوام ان کی اس ڈرامے بازیوں کو سمجھے اور ان کی چالوں میں نا آئے۔

سب سے پہلے تو میں بتاتا چلوں کہ یہ کوئی نئی بات نہیں کہ عمران خان کے لئے خانہ کعبہ کا دروازہ کھولا گیا ہو اگر آپ تاریخ اٹھا کردیکھیں تو اس سے پہلے نواز شریف، زرداری اور مشرف کے لئے بھی کھولا جاتا رہا ہے کعبہ پاک کا درواذہ کھول کے اندر جانا کوئی بڑی بات نہیں اور نا ہی کوئی اس سے سچا ثابت ہو جاتا ہے اور ناہی کسی کا کفر دھل جاتا ہے اس کی عام سی مثال ابوجہل کی ہے جو خود کعبہ شریف کا متولی تھا لیکن سرکار انبیاء صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے اسے ابوجہل کہا۔

اگر آپ تاریخ اٹھائیں تو آپ دیکھیں گے کہ 1958 میں ظفراللہ قادیانی جوکہ پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ بھی رہ چکا ہے عمرے پر گیا اور وہاں اس کا شاندار استقبال بھی کیا گیا اور اس کے لئے خصوصا کعبہ شریف کا دروازہ بھی کھولا گیا یہ پاکستانی وہ سیاستدان تھے سب سے ذیادہ دیر کعبہ شریف میں روکا گیا اس نے کعبہ شریف میں داخل ہونے کے بعد دروازہ بند کردیا اور مرزا قادیانی کانے کے وظائف پڑھنے لگ گیا۔

اس کے بعد جب یہ مدینہ منورہ گیا تو وہاں بھی اسے ایسا ہی پروٹوکول دیا گیا اور اس کے لئے روضہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا دروازہ کھولا گیا اس نے وہاں بھی پہلے تو سلام پڑھا پھر قادیانی کانے کا سلام دینے لگ گیا اور اسکے دئیے گئے وظائف پڑھنے لگ گیا اس کے بعد وہ شاہی محل میں رہا اور اس کے کچھ عرصے بعد عمرے پر بھی گیا اور ایسے ہی پروٹوکول میں گیا۔

یہ بیان کرنے کا مقصد یہ ہے کہ سعودیوں کی پہلی بار یہ حرکت نہیں کہ منافقین اور غلاظت سے بڑے لوگوں کے لئے خانہ کعبہ کا درواذہ کھولا ہو یہ بہت عرصے سے چلتا آرہا ہے اور یہ کوئی حیرانی والی بات نہیں کیونکہ سعودی خود ایک فتنہ ہیں اس پر بات پھر کبھی کروں گا۔

اب آخر وجہ کیا ہے کہ جب جب ناموس رسالت و ختم نبوت کی بات آتی ہے تو یہ لوگ پاکستان میں غداریاں کرکے مدینے بھاگ جاتے ہیں خود کو عاشق ثابت کرنے کی ناکام کوشش کرنے؟ تو آئیے آپ کو بتاتا چلوں ایسا کیوں ہوتا ہے۔

جنرل خالد محمود عارف ( کے ایم عارف) جنرل ضیاء کے گرائیں اور ان کے ساتھ وائس چیف آف آرمی سٹاف رہے ہیں انہوں نے ریٹائرمنٹ کے بعد بہت سی کتابیں لکھیں ان میں انہوں نے کچھ باتیں کہیں جو آپ کے سامنے رکھوں گا۔

جنرل خالد محمود عارف نے اپنی کتاب "ضیاء الحق کے ہمراہ" میں برسبیلِ تذکرہ لکھا ہے کہ جب پاکستانی وزیر اعظم یا صدر سے عوام کی نفرت اپنی انتہاء کو پہنچ جائے تو انٹیلی جنس ادارے حکمرانوں کو تسبیح ہاتھ میں لینے، ٹوپی پہن کر نماز پڑھنے اور حج و عمرہ پر جاکر اس کی پبلسٹی کرنے کا مشورہ دیتے ہیں اور ساتھ ہی سعودی حکام سے رابطہ کرکے وہاں خصوصی انتظامات ترتیب دیتے ہیں اور انکے فوٹو شوٹ کے لئے ان سے پہلے میڈیا کو بھیج دیا جاتا ہے

خصوصی سفارتی تگ و دو سے کعبہ کا دروازہ کھلوایا جاتا ہے اور پاکستانی صدر، وزیراعظم اور جنرل صاحب کا کعبے سے باہر نکلتے ہوئے خصوصی فوٹو سیشن کیا جاتا ہے اس کی مثال بے نظیر بھٹو کی لے لیں جب عوام میں بے نظیر بھٹو کیخلاف شدید غم و غصہ پایا گیا تو اسے بھی یہی مشورہ دے کر بھیج دیا گیا۔

اسی طرح اگر آپ نظر دہرائیں تو غازی ملت غازی ملک ممتاز حسین قادری شہید رحمتہ للہ علیہ کی شہادت کے بعد نواز شریف اور راحیل شریف بھی عمرے کے لئے چلے گئے تھے اور انکا فوٹو سیشن بھی وائرل کیا گیا۔

بلکل اسی طرح اس سے پہلے زرداری، مشرف اور بے نظیر کا بھی کیا گیا تھا اور آج وہی فوٹو شوٹ عمران خان کا بھی کیا جارہا ہے۔ اس فوٹو شوٹ کی وجہ صرف اور صرف ایک ہے کہ لوگ ختم نبوت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے معاملہ پر نرمی اختیار کریں اور اسے عاشق ثابت کیا جائے ان کاموں کے لئے انکے پیڈ سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ بھرپور کوشش کررہے ہیں اسے عاشق ثابت کرنے۔

آج بیت المقدس کے جو حالات ہیں اس پر انکی زبان تک نہیں کھلی جو کہ قبلہ اول ہے وہاں کی بہنیں پکار رہی ہیں عوام پکار رہی ہے لیکن انکی غیرت مر چکی ہے یہ اپنے فوٹو شوٹ اور صدقے فطرانے جمع کرنے سعودیہ گئے ہوئے ہیں۔

آئیے اب بہت ہوگیا غفلت کی نیند سے جاگیں اب اٹھنے کا وقت ہے ان ظالموں نے مقدس مقامات کو فوٹو شوٹ کی جگہ بنایا ہوا ہے اس بیغیری کو ختم کریں، بیت المقدس کی آزادی کے لئے جہاد کریں، کشمیر، برما، عراق، شام جہاں جہاں مسلمان پریشان ہیں مصیبت میں ہیں ہم اسلامی ایٹمی قوت ہونے کے ناطے اور مسلمان ہونے کے ناطے ان کی مدد کو پہنچیں اور یہ سب اسی وقت ممکن ہے جب دین اسلام تخت پر آئے گا آئیے آج دین اسلام کو تخت پر لانے کے لئے تحریک لبیک پاکستان کا ساتھ دیں اور ملک پاکستان بنانے والوں کے ساتھ کھڑے ہوکر ان قادیانی یہودیوں سے پاکستان کو بچائیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اللہ پاک جلد از جلد دین اسلام کو تخت پر قائم فرمائے اور ہمیں دین پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین ثم آمین


10 مئی، 2021

10/05/2021

*إِنَّا لِلَّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ‎*

*محمد جمیل چوہدری صاحب*(Gm Cables) اس دنیا فانی سے رخصت ہوگئے ہیں ان کی نماز جنازہ ٹاؤن شپ سیکٹرA-One والی مسجد میں 03:00pm پر اداکی جائے گی نماز جنازہ میں شرکت ہوکر ثواب دارین حاصل کریں اللّٰہ تعالی ان کی فیملی کو صبرِ جمیل عطا فرمائے اور ان کی آگے کی منزل آسان فرمائے آمین ثم آمین

08/05/2021

توہین رسالت: آزادی اظہار رائے یا کفریہ سازش
تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکستان اور ہمارا کردار

از قلم: محمد رضا

بسم اللہ الرحمن الرحیم
اسلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

چند دہائیوں سے تسلسل کے ساتھ مغرب کی جانب سے دین اسلام پہ بدترین حملے کیے جا رہے ہیں جن کی شدت میں مسلسل اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ محسن انسانیت، نبی آخر الزماں، سرور کون و مکاں، امام الانبیاء حضور خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان مبارک میں تواتر کے ساتھ بدترین گستاخیاں کی جا رہی ہیں جنہیں جدید مغربی دنیا آزادی اظہار رائے کا نام دے رہی ہے۔ ہماری اس تحریر کا مقصد یورپ کے اس دعوے کی قلعی کھولنا ہے کہ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آذادی اظہار رائے ہے۔ نہیں ہر گز نہیں بلکہ یہ تو اسلام و امت مسلمہ کے خلاف عالمی صیہونی فتنہ انگیزیوں کے آلہ کار بنے ظاہراً سیکولر مگر درحقیقت صلیبی یورپ کی منظم سازش ہے۔

اسلام دشمنی اہلیان مغرب کا ہمیشہ سے وطیرہ رہی ہے اور یورپ کے کفار ابتداے اسلام سے ہی اسلام و مسلمانوں کے درپے ہیں۔ سبب اہل کتاب یہود و نصاری کے سینوں میں پلتا دین حق کا بغض ہے اور ان کے اس کینہ و عناد میں ہر آن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ کفار مغرب کی فطرت ہے کہ جب بھی انہیں قوت ملتی ہے اور موقع میسر آتا ہے یہ بلا تردد اسلامیان مشرق پہ چڑھ دوڑتے ہیں اور جب ان کا بس نہیں چلتا تب اسلام پہ غیر اخلاقی حملے کر کے مسلمانوں کے دلوں کو ایذا پہنچا کر اپنے دلوں کی بھڑاس نکالتے ہیں۔ تاریخ اس بات سے نا واقف ہے کہ مغربی کفریہ اقوام صلیبی یورپیوں کو اسلام و مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کا کوئی موقع ملا ہو لیکن وہ اس سے باز رہے ہوں۔

ابتدائے اسلام میں ریاست مدینہ طیبہ پہ سلطنت روم کی صلیبی یلغار سے لے کر دسویں و گیارہویں صدی عیسوی میں عالم اسلام پہ صلیبی یورپی اقوام کی جارحیت تک پھر چودھویں پندرہویں صدی عیسوی میں جنونی عیسائیوں کے ہاتھوں سرزمین اندلس میں کی گئی مسلمانوں کی وحشیانہ نسل کشی سے لے کر اٹھارہویں اور انیسویں صدی عیسوی میں اسلامیان برصغیر و مغربی افریقہ پہ استعماری یورپی قوتوں کا ناجائز تسلط قائم کرنے تک اور پھر بیسویں صدی عیسوی میں یورپی کفار کے ہاتھوں خلافت و سلطنت عثمانیہ کے خاتمے اور بندر بانٹ کے بعد عالم اسلام کو غلام بنا لینے سے لے کر آج اکیسویں صدی میں دہشتگردی کے خلاف جنگ کے نام پہ افغانستان، عراق، شام و لیبیا کو تباہ و برباد کر کے کھنڈر بنا دینے تک، تاریخ عالم یورپی صلیبی کفار کی اسلام دشمنی میں مسلمانوں پہ ڈھائی گئی وحشت و بربریت کی چشم دید گواہ ہے اور چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ رواں دور میں اسلام پہ یورپ کے مسلسل حملے محض آزادی اظہار رائے یا یورپی اقوام کی کم علمی نہیں بلکہ یہ صدیوں پہ محیط اسلام دشمنی کا اظہار اور امت مسلمہ کے خلاف مذموم سازش کا حصہ ہے۔

یورپ درحقیقت ہمیشہ سے اخلاقی و معاشرتی پستی کا شکار ہے اور یورپ کی اسلام مخالف ذہنیت بھی دراصل یورپی اقوام کی اخلاقی تنزلی کا شاخسانہ اور جہالت کی آئینہ دار ہے۔ ثبوت کے لیے یہی جاننا کافی ہے کہ آج سے 1400 برس قبل جب خطہ عرب سے آفتاب اسلام طلوع ہو کر دنیا کو منور کر رہا تھا تو یورپ میں کفر و شرک کی ظلمت کا راج تھا۔ جب عالم اسلام علم و ہنر کا مرکز بنا تھا تو یورپ میں جہالت کے ڈیرے تھے۔ جب امت مسلمہ اقوام عالم کی رہنمائی کر رہی تھی تو یورپ اپنی بقا کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہا تھا۔ جب دنیائے اسلام میں ہر سمت امن و انصاف خوشحالی و ترقی کا دور دورہ تھا تو یورپ میں ظلم و نا انصافی کا بازار گرم تھا اور جہاں آج لندن و پیرس کے جدید متمدن شہر آباد ہیں وہاں غلاظت کے ڈھیر تھے اور وحشیوں کا راج تھا۔ جس تہذیب و تمدن، علم و ثقافت، ترقی و خوشحالی پہ آج یورپ ناز کرتا ہے یہ سب مسلمانوں کے مرہون منت ہیں۔ حقیقت تو وہ ہے کہ جب مسلم فاتحین اندلس و قسطنطنیہ کے رستے داخل ہوئے تو اہل یورپ کو نہ نہانا آتا تھا نہ ہی منہ دھونا۔ اس سے بڑھ کر جہالت اور کیا ہو گی کہ جس شمع نور یعنی اسلام سے یورپ کو روشنی ملی ہے آج اہل مغرب اسی شمع کو بجھانے پہ تلے بیٹھے ہیں۔

دور حاضر کا یورپ اسلام دشمنی میں اندھا ہو چکا ہے کیونکہ جب یہ اپنے سیاہ ماضی کو دیکھتا ہے تو مسلمانوں کے مقابلہ میں احساس کمتری کا شکار ہو جاتا ہے اور جب جب اسے قریباً نصف یورپ پہ قائم اسلامی حکومت یاد آتی ہے یہ غلبہ اسلام کے خوف سے پاگل ہو جاتا ہے۔ یہ بھی مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام کو مٹانے کی اور مسلمانوں کو ختم کرنے کی برس ہا برس کی مغرب کی سازشوں کے باوجود یورپ میں اسلام اس وقت نہایت تیزی سے پھیلتا چلا جا رہا ہے اور مسلمانوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جا رہی ہے۔ اس صورتحال سے کفر کے قلعہ صلیبی جنونیت کے مرکز یورپ کے ہاتھ پاؤں پھول چکے ہیں اور وہ مکمل طور پہ بوکھلاہٹ کا شکار ہو چکا ہے۔ عرصہ دراز تک اپنے تاریک ماضی کو چھپانے کے لیے سیکولر ازم کا پرفریب لبادہ اوڑھے رکھنے والا مغرب آج جلد بازی میں اپنا اصل بھیانک خونی جنونی چہرہ دکھانے پہ اتر آیا ہے جس کی عملی تصویر ہمیں فرانس سمیت یورپ بھر میں مسلمانوں کی جان و املاک پہ صلیبی انتہا پسندوں کی جانب سے بڑھتے ہوئے حملوں کی صورت میں دیکھنے کو مل رہی ہے اور اس تمام تر صورتحال پہ یورپی حکومتیں خاموش رہ کر صلیبییت کی پشت پناہی کرتی ہوئی صاف دیکھی جا سکتی ہیں۔

امت مسلمہ کا جدید تعلیم یافتہ جو طبقہ آج یورپ میں کی جانے والی بدترین گستاخیوں کو اسلامی بنیاد پرستی کا ردعمل قرار دے کر جواز فراہم کر رہا ہے یا اس صورتحال کو محض یورپی باشندوں کی آزادنہ فکر کی پیداوار سمجھ کر یورپ کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھے ہوئے ہے یا جو مسلمان اس حساس معاملے میں پیار سے یورپ کی اصلاح کرنے پہ مصر ہیں یا جو اس سب کو یورپ کا داخلی معاملہ قرار دے کر لاتعلق رہنے کا درس دے رہے ہیں یہ سب کے سب ہی اسلام کی اصل روح، تاریخی حقائق اور مغرب و اہل یورپ کی فطرت سے ناواقف ہیں خود بھی اندھیرے میں ہیں اور دوسروں کو بھی اندھیرے میں رکھنا چاہتے ہیں۔ ان دین کے ٹھیکیداروں، نام نہاد دانشوروں کو اس سازش کا ادراک ہی نہیں ہے جو ملت کفر نے اسلام و مسلمانوں کو ختم کرنے کے لیے صدیوں پہلے سے شروع کر رکھی ہے اور جو اب اپنے خطرناک مرحلہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا معاملہ جو پہلے کسی فرد واحد یا جماعت تک محدود ہوا کرتا تھا اب کھلے عام سرکاری سرپرستی حاصل کر چکا ہے جو اس پہ دلیل یورپ کی جانب سے اسلام و مسلمانوں کے گرد بتدریج گھیرا تنگ کیا جا رہا ہے جس کا ثبوت حال ہی میں یورپی پارلیمان کے نمائندوں کا حکومت پاکستان سے قوانین تحفظ ناموس رسالت و ختم نبوت ختم کرنے کا مطالبہ کر کے ریاست پاکستان کے داخلی معاملات میں کھلے عام مداخلت کرنا ہے۔

اسلام و مسلمانوں کے خلاف یہ مذموم سازش درحقیقت دنیا بھر میں فتنہ و فساد کی موجب عالمی صیہونی جماعت کی تیار کردہ ہے جس کے پس پردہ مقاصد فلسطین بیت المقدس پہ جبری تسلط قائم کرنے کے بعد عالمی دجالی ریاست و حکومت کی راہ ہموار کرنے کے لیے اسلام کو مسخ کر کے اپنی من پسند شکل دینا اور مسلمانوں کو اپنا مطیع بنانا ہیں جس کا تفصیلی جائزہ آئیندہ کسی موقع پہ پیش کیا جائے گا۔ فی الحال کے لیے یہ جان لینا ہی کافی ہے یورپ طویل عرصہ سے اس صیہونی دجالی سازش کا آلہ کار بنا ہوا ہے بلکہ صیہونی لابی کی کٹھ پتلی کا کردار ادا کر رہا ہے۔ جہاں ضرورت محسوس ہوئی یورپ کو صلیب تھما دی اور جہاں مفاد ہوا یورپ کو سیکولر ازم کا لبادہ پہنا دیا۔ جب چاہا یورپ کو کیل و کانٹے سے لیس کر کے عالم اسلام پہ چڑھائی کروا دی اور جب مناسب لگا تو یورپ کو امن و انصاف کا عالمی چمپئن بنا دیا۔ اسلام کے نظام خلافت کو ختم کر کے امت مسلمہ کی وحدت کو توڑ کر عالم اسلام کو جدید ریاستوں میں تقسیم کر کے جدید کفریہ نظام مسلط کر کے مسلمانوں کو اپنے زرخرید غلاموں کے ذریعے اپنا غلام بنا لینے اور جہاد و نفاذ اسلام کی جدوجہد کو بدنام کر کے حقیقی اسلام کو دہشتگردانہ فکر قرار دے کر علمائے سؤ کے ذریعے اسلام کو اپنی من پسند شکل میں ڈھال کر ملت اسلامیہ کے لیے قابل قبول بنانے کے بعد صیہونی اپنی سازش کے تکمیلی مراحل میں پہنچ چکے ہیں یعنی عالم اسلام کو صلیبی حملے کے ذریعے بلکل کمزور کر کے اپنی ناجائز ریاست کو وسعت دینا اور غیرت مسلم ختم کرکے مسجد اقصی کو شہید کر کے تھرڈ ٹیمپل قائم کرنا اور دنیا کو تیسری جنگ عظیم سے مکمل تباہ و برباد کر کے عالمی دجالی ریاست کو دنیا کا مرکز بنا کر دجالی حکومت قائم کرنا۔

صیہونی ایما پہ صیہونی غلام یورپ کے حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ مسلسل زور پکڑتے حملے درحقیقت امت مسلمہ کی غیرت ایمانی کا امتحان ہیں۔ یورپ میں دراصل ان ناپاک حملوں کے ذریعے وہاں برس ہا برس سے مقیم مسلمانوں کو مشتعل کر کے رد عمل میں یورپی مذہبی جنونیت کو زندہ کر کے یورپ سے اسلام کا مکمل خاتمہ اور مسلمانوں کا صفایا کرنے مقصود ہے۔ جس کے بعد یورپ اس قابل ہو جائے گا کہ سیکولر ازم کا نقاب اتار کر اعلانیہ صلیب تھام کر عالم اسلام پہ پھر سے بھرپور جارحیت کر سکے۔ ملت کفر کی دنیائے اسلام پہ جارحیت صیہونیوں کی نگاہ میں اس لیے ضروری ہو چکی ہے کیونکہ عالم اسلام میں بیداری کی زبردست لہر چل نکلی ہے جس کا حتمی نتیجہ اسلامی نظام حکومت و ریاست کی بحالی کی صورت میں نکلنے والا ہے۔ صیہونی مفادات کے لیے اس وقت افغانستان میں دوبارہ سے ابھرتی ہوئی امارات اسلامیہ، جدید ترکی کی میت میں پھر سے عثمانی روح پڑنا، پاکستان میں نفاذ دین اسلام کی پرزور تحریک اور بھارت میں بت پرستوں کا زوال باعث تشویش ہیں۔ اگر صیہونی عالم اسلام کے ان اہم مراکز میں بلخصوص اسلام کے نام پہ قائم ہونے والی عصر حاضر کی واحد اسلامی ریاست اور واحد اسلامی نیوکلیئر قوت پاکستان میں نفاذ اسلام کا رستہ روکنے میں ناکام ہو جاتے ہیں (جو ان شاءاللہ وہ عنقریب ہونے والے ہیں) اور یہاں ان کا دہائیوں سے مسلط نظام کفر منہ کے بل گر جاتا ہے تو پھر فلسطین پہ اپنے ناجائز تسلط کو برقرار رکھنے کے لیے عالم اسلام پہ مسلح جارحیت ان کے لیے ناگزیر ہو گی اور امریکہ ماضی میں صیہونیوں کے ہاتھوں بکثرت استعمال ہونے کے بعد اور افغانستان میں ذلت و رسوائی اٹھانے کے بعد اب اس قابل نہیں ہے اس لیے صیہونیوں کا انتخاب اس مرتبہ یورپ ہے اور موجودہ صورتحال سے درحقیقت سیکولر یورپ کو صلیبی روم میں بدل دینا مقصود ہے۔

مغرب کی جانب سے شان رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں بدترین گستاخیاں عالم اسلام کے لیے دعوت بیداری ہیں۔ مسلمان خواہ کتنا ہی گنہگار و نافرمان کیوں نہ ہو وہ کبھی حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ سمجھوتا کر ہی نہیں سکتا۔ اس حساس معاملہ پہ خاموش صرف وہی بیٹھ سکتا ہے جو فتنہ میں مبتلا ہو چکا ہو یا پھر خود ایمان کا سودا چکا کر فتنہ کا آلہ کار بنا ہوا ہو۔ موجودہ صورتحال میں امت مسلمہ کے ہر فرد پہ لازم ہے کہ وہ اپنے ایمان کا جائزہ لے اپنی حالت پہ غور کرے کہ وہ کس مقام پہ کھڑا ہے اور اپنی ماضی کی غلطیوں کوتاہیوں اور نافرمانیوں کا کفارہ ادا کرتے ہوئے تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کے لیے اٹھ کھڑا ہوا اور حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ سب کچھ لٹانے کے لیے ہمہ وقت تیار رہے۔ بحیثیت امت مسلمہ ہم پہ لازم ہے کہ ہم جائزہ لیں کہ دنیا کی محبت، جہاد سے دوری اور اغیار کی غلامی نے آج ہمیں کہاں لا کھڑا کیا ہے اور پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی امت ہونے کا حق ادا کرتے ہوئے اپنے علمائے حق کی قیادت میں تحفظ ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے لیے اٹھ کھڑے ہوں۔ اپنے حکمرانوں کو مجبور کریں کہ حرمت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حقیقی معنوں میں پہریدار بنیں اور اگر انہیں اس کا اہل نہ پائیں تو ان سے نجات حاصل کر کے اقتدار اہل افراد کے سپرد کر یں۔ اگر موجودہ نظام کفر کو ہم تحفظ و نفاذ اسلام کی راہ میں رکاوٹ پائیں (جو کہ ہے) تو متحد و منظم ہو کر اس نظام باطل کو الٹ دینا ہی ہم پہ لازم ہے۔ ہمیں چاہیے کہ ہم خود کو اور اپنی آنے والی نسلوں کو بقائے اسلام و غلبہ حق کے لیے جہاد کے حوالے سے تیار کریں۔

عالم اسلام میں سب سے اہم زمہ داری پاکستان کی ہے اور امت مسلمہ میں سب سے اہم کردار ملت اسلامیہ پاکستان کو ادا کرنا ہے۔ یہ اس لیے کہ پاکستان کی موجودہ مسلم ریاستوں میں وہ واحد ریاست ہے جس کی بنیاد نظریہ اسلام پہ رکھی گئی ہے اور جس کے قیام کا واحد مقصد اسلامی نظام حکومت و ریاست کی احیا، مسلم امہ کی عظمت رفتہ کی بحالی اور پوری دنیا پہ اسلام کا غلبہ قائم کرنا ہے۔ یہ اس لیے بھی کہ ہم ہی وہ واحد مسلم ریاست ہیں جو ایٹمی قوت سے مالا مال ہے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ہے اور دنیا کی بہترین فوج کی حامل ہے۔ یہ اس لیے بھی کہ ہم ہی عصر حاضر میں امت مسلمہ کا وہ واحد گروہ ہیں جو جذبہ جہاد سے مالامال ہے اور غیرت ایمانی سے سرشار ہے۔ یہ اس لیے بھی کہ ہم ہی وہ خوش نصیب جماعت اہل حق ہیں جسے غزوہِ ہند اور فتح بیت المقدس کی جدوجہد کی بشارت دی گئی ہے۔۔۔ ہمیں بحیثیت ریاست و ملت اپنی ان حساس ترین زمہ داریوں کا احساس کرنا ہے ہمیں ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم و ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ پہرہ دینا ہے اور ہمیں ہی نفاذ اسلام کا علم دنیا میں لہرانا ہے ان شاءاللہ۔

عالم اسلام و امت مسلمہ پہ بلعموم اور پاکستان و ملت اسلامیہ پاکستان پہ بلخصوص اللہ تبارک و تعالیٰ کا عظیم احسان اور پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خاص نظر عنایت ہے کہ ہمیں وہ عظیم جماعت عطا کی گئی ہے جو ہماری تمام زمہ داریوں کو بخوبی نبھانے کی بہترین اہلیت رکھتی ہے اور عصر حاضر میں ہماری اہم ترین ضرورت بھی ہے۔ ایک ایسی جماعت جو نظریہ پاکستان یعنی نظریہ اسلام کی محافظ ہے جس کی پاکستان سے محبت و خلوص تمام شکوک و شبہات سے بالاتر ہے۔ ایک ایسی جماعت جو ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ناموس رسالت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، ناموس صحابہ کرام و اہلبیت اطہار رضوان اللہ عنہم اجمعین، شعائر اسلام و مقدسات پہ ڈٹ کر پہرہ دے رہی ہے اور نفاذ اسلام کا علم بلند کیے ہوئے ہے۔ ایک ایسی جماعت جو سنت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم، سیرت صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین پہ عمل پیرا ہے، اسلاف امت کی روایات کی امین ہے، مسلم فاتحین کے نقش قدم پہ ہے، بانیان پاکستان کی جانشینی ہے۔ ایک ایسی جماعت جو قیام پاکستان کی روح سے واقف ہے اور جسے اسلام دشمنوں کی سازشوں کا ادراک ہے۔ ایک ایسی جماعت جو امت مظلومہ کا درد رکھتی ہے اور جہاد کو ہی کشمیر و فلسطین سمیت تمام مظلومین امت کی نجات کا واحد راستہ سمجھتی ہے۔ ایک ایسی جماعت جس کا بانی سچا و کھرا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے، جس کے قائدین قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے بھی حق پہ قائم ہیں اور جس کے کارکنان غلامی رسول میں موت بھی قبول ہے کی عملی تصویر ہیں۔ یہ جماعت اہل حق جس پہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کا ہاتھ، پیارے آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نظر کرم ہے، جس کے ساتھ اولیائے کرام و صوفیائے اعظام کی مبارک بشارتیں ہیں اور جس کے لیے ہر مسلمان کے دل سے دعائیں نکلتی ہیں امیر المجاہدین علامہ حافظ خادم حسین رضوی رحمتہ اللہ علیہ کی جماعت تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے جسے بہ یک وقت اپنوں کے طعنوں، ملامت و بے رخی اور اغیار کی سازشوں کا سامنا ہے، جو ہر طرح کی قربانیاں دے کر بھی ظالم و جابر حکمرانوں اور نظام کے روبرو صبر و استقامت سے کھڑی ہے، جس نے دنیا بھر میں عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دھوم مچا دی ہے اور کفر پہ لرزہ طاری کر دیا ہے، جو فیض آباد میں ختم نبوت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ کامیاب پہرہ دے کر، نیدرلینڈز کے گستاخ ملعون پہ اسلام کی ہیبت طاری کر کے، عاصیہ ملعونہ کے معاملے میں پورے پاکستان کی ترجمانی کر کے اور حکومت وقت کو گستاخ فرانس کے خلاف پارلیمنٹ میں قرارداد لانے پہ مجبور کر کے ہر دلعزیز بن چکی ہے اور یورپ کے محلات میں جس نے زلزلہ برپا کر دیا ہے۔

تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جہاں ایک جانب ہم پہ ایک عظیم احسان ربانی ہے وہیں دوسری جانب ہمارے لیے عظیم ترین آزمائش بھی ہے۔ آج ہم پہ لازم ہے کہ ہم تمام تر مسلکی اختلافات کو ترک کر کے تمام تر سیاسی و تنظیمی وابستگیوں کو پس پشت ڈال کر خواہ کسی شعبہ ہائے زندگی سے ہمارا تعلق ہو صرف بحیثیت مسلمان اور بحیثیت امتی محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑے ہو جائیں۔ بحیثیت ملت اسلامیہ پاکستان ہم پہ لازم ہے کہ ہم متحد و منظم ہو کر تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نفاذ اسلام کی مقدس و مبارک جدوجہد کا حصہ بن جائیں اور حصول مقصد کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہ کریں۔

عقل خواہ کتنے ہی دلائل کیوں نہ دے لے اور مصلحتیں خواہ کتنا ہی روک کیوں نہ لیں، یورپ کو توہین رسالت سے بعض رکھنے کی قابلیت صرف عشق کے پاس ہے اور عشق مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا تقاضا یہی ہے کہ اہانت رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پہ خاموش رہنے کی بجائے جان لینا پڑے تو جان لے لی جائے اور جان لٹانا پڑے تو جان لٹا دی جائے۔ تاریخ شاہد ہے کہ منت سماجت سے کفر کبھی نہیں رکتا کفر اگر ڈرتا ہے تو صرف سلطان صلاح الدین ایوبی، خلیفہ عبدالحمید ثانی رحمتہ اللہ علیہ کی غیرت ایمانی سے اور للکار جہاد سے۔ خواہ ہم یورپ کو پیار سے سمجھانے کی کتنی ہی خواہش کیوں نہ رکھ لیں یا قانونی رستہ سے توہین رسالت کے سدباب کی کتنی ہی سعی کیوں نہ کر لیں مغرب اس ناپاک حرکت سے باز آنے والا نہیں اس کو اگر روک سکتی ہے تو صرف جہاد کی دھمکی یا پھر یورپ پہ حملہ کے لیے کوچ کرتے اسلامی لشکر۔ صیہونی غلام یورپ کو اگر کوئی شے اسلام پہ حملہ آور ہونے اور مسلمانوں کو ایذا پہنچانے سے روک سکتی ہے تو یہ ہے ان کے دلوں پہ اسلام کا رعب و دبدبہ طاری کر دینا اس حوالے سے پاکستان کی زمہ داری اہم ترین ہے اور ہمارے ہاں یہ صلاحیت اگر کسی کے پاس ہے تو وہ تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے۔ صرف تحریک لبیک یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاکستان ہی ہے جو پاکستان کے حوالے سے صیہونیت کے ناپاک عزائم خاک میں ملا سکتی ہے اور اگر اپنے مغربی آقاؤں کے اشاروں پہ تحریک لبیک کا رستہ روکنے والے باز آ جائیں اور ملت اسلامیہ پاکستان تحریک لبیک کے ہم رکاب ہو جائے تو فلسطین و کشمیر کی آزادی اور عالم کفر کی بربادی زیادہ دور نہیں ہے۔ ان شاءاللہ تعالیٰ

08/05/2021

مذہب انسانیت
حسن رضوی
آج ہم نفسا نفسی کہ جس دور میں جی رھے ہیں اس دور میں انسان ذیادہ اور انسانیت کم آدمی ذیادہ اور آدمیت کم ھے جہاں باطل کا دور دورہ ھے جہاں ہر انسان۔ نے انسانیت کا اپنے الفاظ میں ترجمہ کیا ھے اور اس کو اپنی ضرورت کہ مطابق ڈھالا ھے وہاں دیکھتے ہیں کہ انسانیت کیا ھے اور مذہب انسانیت کیا ھے
کہتے ہیں کہ حضرت رابعہ بصری قلندر نے اپنے ماموں سے جو خود بھی اللہ کہ ولی تھے دریافت کیا ماموں جی آپ کا صبر کہ بارے میں کیا خیال ھے تو آپکہ ماموں نے جواب دیا کہ اگر مل جائے تو کھا لیا اور نہ ملے تو صبر کرلیا
یہ کام تو گلی کہ کتے بھی کرلیتے ہیں حضرت رابعہ بصری قلندر نے جواب دیا
پھر کیا پیمانہ ھے صبر کا آپکہ ماموں نے پوچھا
حضرت رابعہ بصری قلندر نے جواب دیا کہ مل جائے تو بانٹ دو اور نہ ملے تو صبر کرلو یہ ھے انسانیت کا میعار
آج کہیں مدرٹریسا تو کہیں ایدھی کو محسن انسانیت کہا جاتا ھے سمجھ نہیں آتی مغرب نے بغیر فوج کہ بغیر جنگ لڑے ہمیں فتح کرلیا اور ہم کیسے بھول گئے سب سے بڑے محسن انسانیت کو وہ محسن انسانیت جن کہ دربار ذیشان میں اونٹ بھی فریاد کرتے تھے وہ محسن انسانیت جنہوں نے فتح مکہ کہ موقع پر اپنے چچا کا کلیجہ چبانے والی کو معاف کر دیا
وہ محسن انسانیت جنہوں نے دشمن کی بیٹی کو اپنی چادر پردے کہ لئے دی اس بیٹی کو جو بیٹی محسن انسانیت کی آمد سے پہلے ذندہ درگور کردی جاتی اسی عورت کہ قدموں کہ نیچے جنت قرار دے دی ان سے بڑا محسن انسانیت کون ھے جہنوں ہجرت کہ موقع پر مواخات کا عظیم ترین نمونہ قائم کیا وہ محسن انسانیت جن کہ ہاتھ میں ہر چیز کا اختیار توفیق بااللہ تھا مگر ذبان سے کسی کہ لئے بددعا نہ نکلی باوجود اس کہ کہ دندان مبارک شہید ھوئے
ان سے بڑا محسن انسانیت کون ھے جنکو اللہ نے فرمایا کہ میں خالق کل عالم ھوں تو آپ میرے محبوب رحمت کل عالم ھو ھو امتی امتی کہتے کہتے ظاہری دنیا سے پردہ کرگئے کبھی نفسی نفسی نہ کہا جب بھی مانگا تو بس امت کی مغفرت مانگی
ان صلی اللّٰہ علیہ وسلم سے بڑا محسن انسانیت نہ کوئ ھے نہ کوئ ھوگا
اور مذہب انسانیت دین اسلام سے بڑا کوئ نہیں ھے جس میں زکوٰۃ عشر ٹیکس کی شکل میں امیروں سے لے کر غریبوں میں تقسیم کیا جاتا ھے جس میں امیرالمومینین سر کہ نیچے اینٹ کاسرہانہ رکھ کر کھجور کی چٹائ پہ سوتا ھے جس میں امیرالمومینین بیت المال کہ اونٹ چراتا ھے جس میں امیرالمومینین کاندھے پہ راشن اٹھا کر بیوہ کہ گھر پہنچاتا ھے جس میں امیرالمومینین سے جمعے کہ دن عورت پوچھ لیتی ھے کہ دو چادریں کیسے آپ کہ پاس جبکہ سب کہ حصے میں ایک ایک چادر آئ
اٹھو اے قوم نو اپنے اسلاف کی طرف لوٹو دیکھو محسن انسانیت سرور کائنات شافع محشر نبی مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم کی ذندگی آپ کہ اصحاب کی ذندگی آپکہ داماد سیدنا مولائے کائنات شیر خدا علی حیدر کرار کی ذندگی گھر میں دو چپاتی پورا دن روزے سے اور عین افطاری کے وقت فقیر نے آواز لگائی دونوں چپاتی فقیر کو دے دی دیکھو حضرت حسین کو چھ ماہ کا اصغر بھی نہ رکھا دیکھو پھر حسین کہ خادم کو باوجود زمیندار ھونے کہ کچھ نہ بنایا اور ڈیڈھ کروڑ جنازے میں آنے والے لوگوں کا مطمع نظر اس کی ایک جھلک تھی جس کا جنازہ مسجد کہ ہجرے اٹھایا گیا دیکھو حسین کہ خادم کہ اس شیر کو جس کہ باپ کی میت سامنے پڑی ھے مگر للکار کر کہتا ھے مشن جاری رھے گا دیکھو جس کہ کھیلنے کہ دن ہیں جس کہ دن ون ویلنگ کہ گلیوں میں بھاگنے دوڑنے کہ وہ بچہ عمر سے کتنا بڑا ھے اس سے بڑا ثبوت کیا ھوگا اسلام سے بڑا مذہب انسانیت کوئ نہیں اور نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم سے بڑا محسن انسانیت کوئ نہیں مگر مندرجہ بالا ذکرشدہ کی ایک بات جو سب میں مشترک
وہ من سبا نبیا فقتلوہ
آج اسی فلسفے پہ قائم رہ کر مسلمان جو زبوں حالی کا شکار ہیں وہ واپس عظمت رفتہ حاصل کرسکتے ہیں
بیچ کر تلواریں مصلے خرید لئے
مصلے خریدے یا مصلحتیں خرید لیں
او لوٹو اپنی عظمت رفتہ کی جانب اپنی ذنگ آلود تلواروں کو چمکاؤ بس
اسی میں عظمت ھے
آگے بڑھنے میں عظمت ھے
آگے بڑھنے میں عظمت

08/05/2021

آج کا مسلمان اور اسلام
از قلم شہزاد چوہدری
اسلام علیکم
اسلام اور مسلمانوں کی عروج و زوال کی داستانیں تو بہت پرانی چلی آ رہی ہیں المیہ یہ ہے کہ مسلمان جب بھی رسوا ہوئے صرف اور صرف اپنے قول و فعل کے تضاد کے بوجھ تلے آ کر دب کر رہ گئے۔۔۔۔ ہم رہنا تو یورپ میں دولت کے ساتھ عیش و عشرت والی زندگی چاہتے ہیں اور موت مدینہ میں۔ اسلام کا نفاذ تو ہر مسلمان چاہتا ہے مگر صرف اور صرف دوسروں پر۔۔
خود تو چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے حقوق عزت اور دولت کا خیال بھی رکھیں لیکن خود دوسروں کی ضبط کرنے کا موقع۔۔۔ کیا یہ اسلام ہے؟ نہیں ہرگز نہیں۔ اسلام تو کہتا ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرو وہی دوسروں کے لیے۔لیکن افسوس کہ ہم کہنے کو تو مسلمان ہیں لیکن اندر سے نہیں۔ ہم نارہ تو لگاتے ہیں کہ حرمت رسول پر جان بھی قربان مگر جب وقت آتا ہے تو نظر بھی نہیں آتے اپنے ماں باپ کی عزت و حرمت کے لیے تو کچھ بھی نہیں دیکھتے۔مگر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حرمت پر ہمارے درمیان ریاست و سیاست آور بہت ساری چیزیں آ جاتی ہیں۔افسوس سد افسوس۔۔۔۔۔ صرف اور صرف یہی وجہ ہے کہ ہم پیدا تو مسلمان کے گھر ہوگئے لیکن اسلام کو حاصل نہیں کرتے۔ اس کیلئے ہم سب کو ایک پیج پر آنا ہو گا اسلام کا نفاذ اپنی ذات سے اپنے گھر اپنی فیملی پر سے شروع کرنا ہوگا۔ انشاء اللہ اس طرح یہ پودا تناور
سابت ہو گا اور اسلام اور اسلامیان پاکستان کا عروج بھی ائے گا۔بس ہم سب کو اپنے اپنے حصے کا کام کرنا ہوگا۔بس آپ لوگ اپنے قول و فعل آور محنت سے لوگوں کو اسلام اور تحریک کی طرف راغب کرتے رہیں۔اللہ تبارک و تعالٰی اسلام و پاکستان اور تحریک کو کامیابی عطا فرمائے۔آمین

Address

Imbulgoda

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Current Affairs posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share