Collection of Syed Ahsan Ali Shah

Collection of Syed Ahsan Ali Shah Worries are like a bird, let them fly over you.But do not give them chance to build a nest on your h

Worries are like a bird, let them fly over you.But do not give them chance to build a nest on your head....

25 سے 30 سال کی عمر کا سب سے عجیب اور مشکل دور کچھ دوست شادی کر رہے ہوتے ہیں۔کچھ فائلیں بھر رہے ہوتے ہیں۔کچھ ابھی بھی اپ...
11/06/2026

25 سے 30 سال کی عمر کا سب سے عجیب اور مشکل دور
کچھ دوست شادی کر رہے ہوتے ہیں۔
کچھ فائلیں بھر رہے ہوتے ہیں۔
کچھ ابھی بھی اپنی شروعات میں struggle کر رہے ہوتے ہیں۔
کچھ اچھی کمائی کر کے "settled" ہو چکے ہوتے ہیں۔
والدین پر سال بدار سال بڑھتی عمر کے سائے گہرے ہوتے جا رہے ہوتے ہیں۔
ذمہ داریاں آہستہ آہستہ بڑھتی جاتی ہیں۔
موازنہ کرنا چاہیں تو زندگی مایوس کرتی جاتی ہے۔
راتیں زیادہ سوچنے میں گزرنے لگتی ہیں، خواب مہنگے لگنے لگتے ہیں۔
وقت تیزی سے گزر رہا ہوتا ہے۔
آپ باہر مسکرا رہے ہوتے ہیں،
لیکن اندر سے خاموش جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں،
اور 2 بجے رات کو اپنی ہی قدر پر سوال اٹھاتے ہیں۔
لیکن حقیقت یہ ہے:
آپ سست نہیں ہیں۔
آپ نااہل نہیں ہیں۔ آپ بس اپنے پیروں پر کھڑے ہونے سنبھلنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر آپ اس فیز میں ہیں تو اپنے ساتھ تھوڑی نرمی کریں۔ آپ کوشش کر رہے ہیں اور یہی سب سے اہم ہے۔
زندگی میں ہر عمر کا اپنا امتحان ہوتا ہے۔ 25 سے 30 سال کی عمر وہ مرحلہ ہے جہاں خواب، ذمہ داریاں، وقت اور حقیقت ایک ساتھ سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ اپنی منزل پا لیتے ہیں، کچھ ابھی راستے میں ہوتے ہیں، مگر ہر ایک اپنی الگ جنگ لڑ رہا ہوتا ہے۔ اگر آپ بھی اس سفر میں ہیں تو یاد رکھیں، ہر جدوجہد آپ کو آپ کی منزل کے قریب لے جا رہی ہے۔ ہمت نہ ہاریں، آپ ناکام نہیں، صرف سیکھ رہے ہیں۔ آپ اپنی کہانی خود لکھ رہے ہیں۔ 🖤✨
💚💚💚💚💚💚💚

27/04/2026

*Copied*
کچھ دن پہلے میں ایک شاپنگ مال کے باہر کھڑا اپنی بیگم کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک بہت خوش پوش اور شستہ زبان بولنے والے صاحب نے میری گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹایا۔ میں نے شیشہ نیچے کیا اور ان کی جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا۔ انھوں نے بہت محبت سے مجھ سے ہاتھ ملایا اور اپنا تعارف کروایا:
"I am Tayyab"۔۔۔
کیا ہم آپ سے بات کر سکتے ہیں؟
میں گاڑی سے اترا اور ان کی جانب متوجہ ہوا اور کہا: "جی فرمائیے"۔
طیب خان ہے میرا نام۔۔۔۔ میں 78 سال کا ہوں۔ میری کچھ خواہشیں ہیں۔ کیا آپ پوری کر دیں گے؟
میں نے بھی کچھ ویسا ہی سوچا، جیسا اس وقت آپ سوچ رہے ہیں۔ میں ان کو لیکچر دینے کے موڈ میں تھا کہ اللہ تعالیٰ سے مانگیں وغیرہ۔ مگر میں نے سوچا کہ یہ جو بھی ہے۔۔۔ سچا ہے یا مکار، اسے میرے پاس اللہ پاک نے ہی بھیجا ہے۔۔۔ تو کیوں نہ پہلے اس سے اس کی بات سن لوں۔
میں نے کہا جی میں کوشش کروں گا، آپ حکم فرمائیں۔ ان کے چہرے پر ایک حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثرات ابھرے۔ انھوں نے کہا، کیا واقعی آپ کوشش کریں گے؟ میں نے انھیں یقین دلایا اور تحمل سے ان کی بات سننے کیلئے ان کی جانب متوجہ ہوا۔
میں ایک ٹیکسٹائل مل کا مالک تھا۔ پچھلے سیاسی دور میں بھتہ نہ دینے پر مجھے قتل کی دھمکیاں ملیں تو سب کچھ چھوڑ کر بنگلہ دیش چلا گیا اور وہاں گارمنٹس فیکٹری لگا لی۔ کچھ عرصہ تو سسٹم ٹھیک چلا مگر پھر مجھے میرے بنگالی پارٹنر نے دھوکہ دیا اور مجھے نہ صرف وہاں سے بھگا دیا بلکہ میرا سب کچھ کھا گیا۔ پاکستان واپس آیا تو میرے پاس کچھ بھی نہیں تھا۔ مل بند پڑی تھی اور سرمایہ کاری کیلئے بھی کچھ نہیں تھا۔ بڑے بیٹے نے مل اپنے نام کروائی اور مجھے گھر سے نکال دیا۔ مل کی جگہ اس نے کالونی بنا دی۔ میں کچھ عرصہ تو اپنی بہن کے ساتھ رہا مگر ان کے شوہر کو اچھا نہیں لگتا تھا اس لیے میں وہاں سے بھی نکل آیا۔ بیٹے سے ملا مگر اس نے ذلیل کرکے نکال دیا۔ پھر میں ایک مسجد میں گیا اور وہاں کے امام صاحب سے مسجد کی خدمت اور بچوں کو پڑھانے کی درخواست کی اور رہنے کیلئے جگہ مانگی، تو وہ مان گئے۔ چار سال سے وہیں ہوں۔ کبھی کبھی دل چاہتا ہے کہ بن ٹھن کر نکلوں اور کافی پیوں۔ میں دن میں تین کپ کافی پیتا تھا۔ کافی کا مجھے جنون تھا۔ اب جب بھی کبھی ایک دو ماہ بعد دل کرتا ہے تو اپنی واحد پوشاک یہ کپڑے پہن کر یہاں آتا ہوں اور کسی ایک شخص کو جو مجھے اللہ والا دکھتا ہے، میں کافی پلانے کی درخواست کرتا ہوں۔ مان جائے تو اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اور نہ مانے تو واپس چلا جاتا ہوں۔۔۔۔۔ "کیا آپ مجھے کافی پلا سکتے ہیں؟"
میں زمین سے جیسے چپک کر رہ گیا تھا۔ میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔ آنکھیں نم تھیں۔ میں نے ان کا ہاتھ تھاما اور بیگم کو فون کیا کہ وہ میرے فون پر ہی لوٹے، کیونکہ میں ایک دوست کے ساتھ کافی پینے جا رہا ہوں۔ پاس ہی گلوریا جینز کے کیفے پر لے جا کر میں نے طیب صاحب کو ان کی پسند کی کافی اور کیک کھلایا۔ انھوں نے دو مگ پیئے۔ ہم نے مزید باتیں نہیں کی اور خاموشی سے کافی پینے کے بعد باہر نکل آئے۔ میں نے ان کو مسجد تک چھوڑنے اور ان کی کچھ مالی امداد کرنے کی اجازت چاہی، تو بولے: "تاثیر صاحب اب اور کوئی خواہش باقی نہیں رہی۔ اللہ پاک آپ کو بہت زیادہ عطاء فرمائے۔ آمین"
مجھ سے مصافحہ کیا اور چلے گئے۔
میں کھڑا ان کو جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور وہ بغیر پیچھے مڑے بہت شان سے چلتے ہوئے میری نگاہوں سے اوجھل ہو گئے۔
کسی کی خواہش کی تکمیل کیلئے سوچا نہ کریں اور ہر کسی کو لیکچر نہ دیا کریں۔ یہ جو آپ کے در پر دستک دیتے ہیں نا، یہ اللہ کے مہمان ہوتے ہیں۔ ان کی قدر کیا کریں۔
کیونکہ وقت ایک سا نہیں رہتا.

Dirección

Taxila
47080

Teléfono

+923135700014

Página web

Notificaciones

Sé el primero en enterarse y déjanos enviarle un correo electrónico cuando Collection of Syed Ahsan Ali Shah publique noticias y promociones. Su dirección de correo electrónico no se utilizará para ningún otro fin, y puede darse de baja en cualquier momento.

Contacto La Empresa

Enviar un mensaje a Collection of Syed Ahsan Ali Shah:

Atajos

Compartir