12/09/2026
جہازمیں اتنی طاقت ہوتی ہے کہ وہ 350 سواریاں ، ان کا سامان ، اپنا وزن اور سوا لاکھ لیٹر تیل لے کر اُڑ جاتاہے لیکن جب جہاز ایئر پورٹ کے گیٹ پر کھڑا ہے توا س کی طاقت صفر ہوتی ہے کیونکہ اس کا بیک گیئر نہیں ہوتا، پھر ایک چھوٹا سا ٹریکٹر اسے رن وے پر سیدھا کرتاہے اور پھر جہاز کہتاہے کہ اب مجھے چھوڑ دے ، آگے جہاز کے انجنز پر منحصر ہے کہ وہ 25 منٹ بعد دہلی سے اُڑ کر چندی گڑھ اترتا ہے یا پھر 15 گھنٹے بعد سین فرانسسکو اترتاہے ،مجھے میرے پنجاب کے نوجوان کے انجنوں پر کوئی شک نہیں، یہ بہت قابل ہیں ، یہ بالکل جہاز جیسے ہیں جو ایئر پورٹ پر کھڑے ہیں ، کوئی مینٹور ، کوچ یا ٹیچر آئے اور انہیں رن وے کی طرف سیدھا کر دے تو یہ آسمانوں پر ہوں گے ۔رن وے جہاز کو اُڑاتا نہیں بلکہ اُڑنے کا موقع دیتاہے، رن وے سے اوپر اُڑ کر یہ نہیں سوچنا کہ رن وے بہت نیچے رہ گیا بلکہ اپنی جڑوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ واپس بھی اترنا ہے ، جو جہاز کریش ہوتے ہیں ان کی خبر یہی آتی ہے کہ فلاں وقت میں اس جہاز کا زمین سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا، جن کا زمین سے رابطہ ٹوٹ جاتاہے پھر وہ جنگلوں اور پہاڑوں میں سے ٹکڑوں میں ملتے ہیں، ا س لیئےاپنے والدین، ٹیچرز ، کلچر اور ورثے سے جڑے رہنا ہے۔