19/05/2026
ڈراپ سائٹ کی اسٹوری کا سب سے چونکا دینے والا حصہ
جنرل باجوہ نے ایکسٹینشن حاصل کرنے کے لیے آمریکی حکام کو پاکستان کے نیوکلیئر جیسے حساس پروگراموں تک رسائی کی یقین دہانی کرائی تھی۔
یاد رہے کہ عمران خان اور باجوہ کے درمیان تعلقات کی خرابی میں ایکسٹینشن بھی ایک اہم پہلو تھا۔ جب جنرل باجوہ کو معلوم ہوا کہ عمران خان دوسری مرتبہ ایکسٹینش نہیں دیں گے۔ پھر انہوں نے سازشیں شروع کیں، عمران خان کے خلاف واشنگٹن میں لابیوں کی خدمات حاصل کیں، پھر وہاں سے سائفر آیا، رجیم چینج آپریشن ہوا۔
جب جنرل باجوہ نے اپریل میں رجیم چینج آپریشن کیا تو ان کی ریٹائرمنٹ میں آٹھ ماہ باقی تھے۔ اپنی ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل اکتوبر 2022 میں جنرل باجوہ نے امریکہ کا دورہ کیا اور وہاں اہم لوگوں سے ملاقاتیں کیں۔ واشنگٹن میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں امریکی حکام کو کئی یقین دہانیاں کرائی گئیں کہ پاکستان اپنے Long-range missile پروگرام کو رول بیک کیا جائے گا، اپنے نیوکلیئر پروگرام میں کمی کیا جائے گا اور امریکا کو ان پروگراموں تک خصوصی رسائی بھی دے گا۔ یعنی، باجوہ ایکسٹینش حاصل کرنے کے لیے اس قدر Desperate تھے کہ وہ ریٹائرمنٹ سے ایک ماہ قبل امریکی حکام سے کہتا ہے کہ وہ انہیں پاکستان کی نیوکلیئر جیسے حساس پروگرام تک رسائی دے گا۔
جب باجوہ پاکستان واپس آتا ہے تو ایس پی ڈی جو کہ نیوکلیئر سے ریلیٹڈ ہے، ایس پی ڈی کے انچارج سے امریکی وفد تک رسائی دینے کو کہتا ہے۔ ایس پی ڈی نے باجوہ سے انکار کیا آرمی چیف کا نیوکلیئر چین آف کمانڈ پر ڈائریکٹلی کنٹرول نہیں ہے۔ چیں آف کمانڈ جو ایس پی ڈی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کو رپورٹ کرتا ہے، جوائنٹ چیفس اف اسٹاف وزیراعظم کو رپورٹ کرتا ہے۔ آرمی چیف کا اس پر ڈائریکٹلی کنٹرول نہیں ہے۔ (لیکن اب جب کہ 27ویں ترمیم منظور ہو چکی ہے، چین آف کمانڈ براہ راست چیف آف ڈیفنس فورسز کے ہاتھ میں آ گئی ہے۔)
ایک طرف عمران خان پھر سے ایکسٹینشن کی فیور نہیں دیں رہے تھے، دوسری طرف نواز شریف کے عاصم منیر سے معاملات طے پا چکے تھے، اور باجوہ کو ایکسٹینشن نہیں دی جا رہی تھی۔ اہم ساتھی جنرل ندیم انجم نے بھی پیروں تلے سے زمین کھینچی تھی, باجوہ کو پھر سے ایکسٹینشن کی حمایت کسی سے نہیں ملی۔ اور ریٹائر ہو کر چلے گئیں
جنرل باجوہ نے نیوکلیئر پروگرام تک رسائی اور Long-range missile پروگرام جیسے اہم معاملات پر امریکا کو یقین دلایا تھا لیکن یہ سب ان کے اختیار میں نہیں تھے۔ بصورت دیگر جنرل باجوہ امریکی وفد کو ایٹمی پروگرام تک رسائی دینے کے لیے تیار تھے۔
جنرل عاصم منیر کی ٹرمپ سے ملاقات ہوئی 27ویں آئینی ترمیم لائی گئی جس میں آرمی چیف کے عہدے میں نمایاں تبدیلی کی گئی اور آرمی چیف چین آف کمانڈ کے انچارج بن گئے۔ اب اگر کوئی امریکی وفد آکر ایٹمی پروگرام تک رسائی چاہتا ہے تو پورے پاکستان میں ان کی رسائی کا انحصار صرف اور صرف عاصم منیر پر ہے اور عاصم منیر ٹرمپ کے پسندیدہ فیلڈ مارشل بن چکے ہیں تو اس قربت کی کیا وجہ ہوسکتی ہے؟ یہ بہت حساس مسئلہ ہے۔
(یہ ڈراپ سائٹ کی اسٹوری ہے۔ جنرل باجوہ نے امریکہ کو ایٹمی پروگرام تک رسائی کی یقین دہانی کرائی تھی لیکن اس وقت یہ ان کے کنٹرول میں نہیں تھا۔ )
اب یہ کنٹرول 27ویں آئینی ترمیم میں عاصم منیر کے ہاتھ میں آ گیا ہے۔ اور عاصم منیر بھی ڈونلڈ ٹرمپ کے پسندیدہ بندے بن گئے ہیں۔
---
نوٹ؛ اگر آپ کے پاس ڈراپ سائٹ کی پوری اسٹوری پڑھنے کا وقت نہیں ہے، تو کم از کم شہزاد اکبر کے بلاگ کے آخری دس منٹ تو سن لیں۔