22/12/2025
مکران میڈیکل کالج کے طلبہ کا 12 روزہ پرامن احتجاج، مطالبات منظور نہ ہونے پر تشویش
مکران میڈیکل کالج کے طلبہ گزشتہ 12 دنوں سے اپنے تعلیمی و انتظامی مسائل کے حل کے لیے پرامن احتجاج کر رہے ہیں۔ طلبہ کے مطابق احتجاج کا آغاز سی پیک روڈ پر کیا گیا تھا، جسے بعد ازاں ثالثی کے ذریعے کالج کی حدود میں منتقل کیا گیا، تاہم انتظامیہ کی جانب سے کیے گئے وعدے تاحال پورے نہیں ہو سکے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ مطالبات تسلیم کرنے کے بجائے انتظامیہ نے دباؤ، دھمکیوں اور پابندیوں کی کوششیں کیں، جس سے صورتحال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔ طلبہ نے واضح کیا ہے کہ ان کا احتجاج مکمل طور پر پرامن ہے اور وہ بات چیت کے ذریعے فوری حل چاہتے ہیں۔
احتجاجی طلبہ نے اپنے مطالبات میں چار طلبہ کے وائوا اور سپلیمنٹری نتائج کا غیرجانبدار اور شفاف قانونی جائزہ لینے اور ان کے لیے خصوصی سپلیمنٹری امتحانات منعقد کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ کسی کا تعلیمی سال ضائع نہ ہو۔
اسی طرح PMDC میں رجسٹریشن کے مسئلے کو فوری حل کرنے، چوتھی بیچ 2020–21 کے غیر رجسٹرڈ طلبہ اور تیسرے سال کے 33 طلبہ کی رجسٹریشن کے لیے 7 سے 14 دن میں ٹاسک فورس قائم کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔
طلبہ نے کالج کو ECFMG/USMLE کے لیے رجسٹر کروانے، تاخیر کا شکار اسکالرشپس (سالانہ 72 ہزار روپے) کی فوری ادائیگی، اور امتحانی نظام میں شفافیت لانے پر بھی زور دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ OSPE/OSCE، اندرونی اسسمنٹ، تھیوری و پریکٹیکل نمبروں اور وائوا پالیسی کو PMDC قواعد کے مطابق واضح اور غیرجانبدار بنایا جائے، جبکہ بدانتظامی، ذہنی ہراسانی اور دباؤ کے خلاف مؤثر شکایتی نظام قائم کیا جائے۔
مزید برآں طلبہ نے ایک آزاد، شفاف اور بااختیار تحقیقاتی کمیٹی کے فوری قیام کا مطالبہ کیا ہے، جس میں صوبائی محکمہ صحت، PMDC، طلبہ نمائندہ اور سول سوسائٹی کا غیرجانبدار رکن شامل ہو، اور جو 7 دن میں سفارشات مرتب کرے۔
طلبہ نے خبردار کیا ہے کہ اگر مقررہ مدت میں مطالبات منظور اور ان پر عملدرآمد نہ ہوا تو وہ آئندہ کے لیے پرامن مگر مؤثر اقدامات پر غور کرنے پر مجبور ہوں گے۔
احتجاجی طلبہ نے عوام، سول سوسائٹی اور میڈیا سے اپیل کی ہے کہ وہ ان کی آواز بنیں اور اس مسئلے کو اجاگر کریں