S.I Shakeel Dewan

S.I Shakeel Dewan اپنے خیالات اور آراء کو احترام کے ساتھ شیئر کریں۔ تعمیری مباحثوں میں حصہ لیں اپنی سمجھ کو وسیع کریں

One person purchased the house with his hard-earned money, while the other acquired it with money obtained through quest...
06/11/2024

One person purchased the house with his hard-earned money, while the other acquired it with money obtained through questionable means.
The contrast between them is as clear as daylight: one owner is the son of a blacksmith and lacks formal education, while the other is the son of a chief engineer, educated in Britain.
I don’t wish to comment further, but Khawaja Asif often speaks in a disparaging manner.

28/10/2024

‏ریسرچ کے مطابق آج کل ذہنی دباؤ کی ایک بڑی وجہ اپنے اردگرد کے احمقوں سے نمٹنا ہے -
ایک دانا شخص سے کسی نے پوچھا کہ” آپ اتنے خوش کیسے رہتے ہیں ۔“
اُس نے کہا :”میں بیوقوف لوگوں سے بحث نہیں کرتا۔“
پوچھا ”پھر کیا کہتے ہیں ؟“
دانا شخص بولا میں انہیں جواب دیتا ہوں
‏کہ ” آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔“
پوچھنے والے نے کہا:”پھر بھی اپنی بات یا اپنا موقف منوانے کےلئے اسے قائل کرنے کے لئے آپ کو اسے کوئی دلیل کوئی جواز تو دینا چاہیے ۔“
اس پر اُس دانا شخص نے پوچھنے والے کو تاریخی جواب دیا ۔
”آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں “ ....

‏ *ہزاروں جھوٹ وقتی طور پر آپ کو کامیاب تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ اندرونی سکون اور ضمیر کی اطمینان چھین لیتے ہیں۔ بس ایک س...
02/10/2024

‏ *ہزاروں جھوٹ وقتی طور پر آپ کو کامیاب تو کر سکتے ہیں، لیکن وہ اندرونی سکون اور ضمیر کی اطمینان چھین لیتے ہیں۔
بس ایک سچ، چاہے آپ کو فوری طور پر نقصان پہنچائے، ہمیشہ ضمیر کو مطمئن رکھتا ہے اور انسان کو اندرونی طور پر مضبوط بناتا ہے۔ سچائی کی طاقت یہ ہے کہ وہ وقتی مشکلات کے بعد ہمیشہ عزت اور وقار کا سبب بنتی ہے، جبکہ جھوٹ ہمیشہ ایک بوجھ کی طرح دل پر سوار رہتا ہے۔*

*سچ بولنا ہی اصل فتح ہے، چاہے وقتی طور پر ہار ہی کیوں نہ ہو۔*💐🤍

ایک بوڑھی خاتون نے ریڈیو اسٹیشن فون کیا کہوہ کئ دنوں سے بهوکی ہے اور کئ دنوں سے صرف سوکھی روٹی اور پانی پر گزار کر رہی ہ...
30/09/2024

ایک بوڑھی خاتون نے ریڈیو اسٹیشن فون کیا کہ
وہ کئ دنوں سے بهوکی ہے اور کئ دنوں سے صرف سوکھی روٹی اور پانی پر گزار کر رہی ہے اور کہا کہ
اللہ کی راہ میں اسے کچھ کهانے کے لئیے دیا جائے....
ایک منکر خدا بهی اس کی گفتگو سن رہا تها اور اس کو ایک مذاق کی عادت سوجهی.
اس نے کهانے پینے کی اشیاء خریدیں اور اس بوڑهی عورت کا ایڈرس معلوم کرنے کے بعد اپنے نوکر سے بولا کہ جا کر اس بوڑهی عورت کو دے آؤ.
اور جب وہ پوچھے کہ کس نے بهیجا ہے تو بتانا یہ شیطان کی طرف سے تحفہ ہے.....
وہ بوڑھی عورت اتنے زیادہ کهانے کا سامان دیکھ کر بهت خوش ہوئ
اور جلدی اپنے گهر کے کونے میں وہ رکهنے لگی.
ایسے میں نوکر نے پوچھا کیا آپ معلوم نہیں کرنا چاہیں گی کہ یہ سامان کس نے بهیجا ہے؟؟
یہ سن کر وہ بولی......
"مجھے اس کی کوئ پرواہ نہیں کہ
کس نے بهیجا ہے
مگر اتنا معلوم ہے کہ جب میرے رب کا حکم آتا ہے
تو شیطان بهی حکم کی تعمیل کرتا ہے"!!!!

❤️❤️❤️

29/09/2024
ایک نوجوان نے ایک بزرگ سے پوچھاکہ : اللہ تعالٰی اپنے نافرمان بندوں سے اپنی نعمتیں چھین لیتا ہے لیکن میں نے دیکھا سب کےپا...
27/09/2024

ایک نوجوان نے ایک بزرگ سے پوچھاکہ : اللہ تعالٰی اپنے نافرمان بندوں سے اپنی نعمتیں چھین لیتا ہے لیکن میں نے دیکھا سب کےپاس پہننے اوڑھنے کوکھانے پینے کیلیۓ سب کچھ موجود ہوتا ہے اللہ تعالٰی توکسی سے کچھ بھی نہیں چھینتے. بزرگ مسکراۓ اورپوچھا:
کیاتمہاری نماز میں خشوع وخضوع ہے؟
نوجوان بولا: نہیں
کیا قرآن کی تلاوت کرتےوقت لذت محسوس ہوتی ہے؟
نوجوان بولا: نہیں
کیا پانچ وقت کی نماز پابندی سے پڑھتےہو؟
نوجوان بولا: نہیں
کیانیکی کرنےکیطرف دھیان جاتاہے؟
نوجوان بولا: نہیں
کیازبان اللہ کےذکر کی عادی ہے؟
نوجوان بولا: نہیں
تب بزرگ نے جواب دیا: یہی اللہ کی وہ نعمتیں جنھیں وہ اپنے نافرمانوں سے چھین لیتا ہے...
موجودہ دورمیں ہر مسلمان اللہ کی دی ہوئ مادی نعمتوں کوپا کرخودکو دنیاکا خوش قسمت ترین انسان سمجھتا ہے، کہ میرے پاس تواللہ کا دیا ہوا سب کچھ موجود ہے...جبکہ وہ نعمتیں ہماری آزمائش ہیں۔
اصل نعمتیں وہی ہیں جو ہمیں اللہ کے قریب لے جایئں اور اسکاعبادت گزاراور شکر گزار بندہ بنایئں.

27/09/2024

تمام امت مسلمہ کو میری طرف سے جمعہ مبارک ہو۔❤️🤲🥀

بھوک کا کوئی رنگ نہیں ہوتا، بیماری کی کوئی قوم نہیں ہوتی، بے بسی کی کوئی ثقافت نہیں ہوتی، دکھ کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا،...
26/09/2024

بھوک کا کوئی رنگ نہیں ہوتا،
بیماری کی کوئی قوم نہیں ہوتی،
بے بسی کی کوئی ثقافت نہیں ہوتی،
دکھ کا کوئی جغرافیہ نہیں ہوتا،
غربت کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ،
یہ جہاں بھی چلے جائیں سب کچھ سمیٹ لیتے ہیں۔___🥀

✍🥀💛📿🥀🍃💕🤍💕

ایک دن قطب الدین ایبک شکار کھیل رہے تھے، تیر چلایا اور جب شکار کے نزدیک گئے، دیکھا تو ایک نوجوان ان تیر سے گھائل گر پڑا ...
25/09/2024

ایک دن قطب الدین ایبک شکار کھیل رہے تھے،
تیر چلایا اور جب شکار کے نزدیک گئے، دیکھا تو ایک نوجوان ان تیر سے گھائل گر پڑا تڑپ رہا ہے...
کچھ ہی پل میں اس گھائل نوجوان کی موت ہوجاتی ہے پتہ کرنے پر معلوم ہوا کہ وہ پاس کے ہی ایک گاؤں میں رہنے والی بزرگ کا اکلوتا سہارا تھا.
اور جنگل سے لکڑیاں چن کر بیچتا اور جو ملتااسی سے اپنا اور اپنی ماں کا پیٹ بھرتا تھا

قطب الدین ایبک اس کی ماں کے پاس گیا، بتایا کہ اس کی تیر سے غلطی سے اس کے بیٹے کی موت ہوگئی ماں روتے روتے بے ہوش ہوگئی.
پھر قطب الدین نے خود کو قاضی کے حوالے کیا اور اپنا جرم بتاتے ہوئے اپنے خلاف مقدمہ چلانے کی آزادی دی

قاضی نے مقدمہ شروع کیا بوڑھی ماں کو عدالت میں بلایا اور کہا کہ تم جو سزا کہو گی وہی سزا اس مجرم کو دی جائے گی.
بوڑھی عورت نے کہا کہ ایسا بادشاہ پھر کہاں ملے گا جو اپنی ہی سلطنت میں اپنے ہی خلاف مقدمہ چلائےاس غلطی کے لئے جو اس نے جان بوجھ کر نہیں کی....

آج سے قطب الدین ہی میرا بیٹا ہے اور میں اسے معاف کرتی ہوں.

قاضی نے قطب الدین کو بری کیا
اور کہا کہ اے قطب الدین، اگر تم نے عدالت میں ذرا بھی اپنی بادشاہت دکھائی ہوتی تو میں خود ہی سخت سزا دیتا.۔
اس پر قطب الدین نے اپنی کمر سے خنجر نکال کر قاضی کو دکھاتے ہوئے کہا اگر تم نے مجھ سے مجرم کی طرح رویہ نہ اپنایا ہوتا اور میری بادشاہت کا خیال کیا ہوتا تومیں تمہیں اسی خنجر سے موت کے گھاٹ اتار دیتا

یہ ہے اصل حکمرانی بادشاہت و انصاف.اور
یہی ہے اسلام کی تعلیمات

*حضرت بہلول دانا(وہب بن عمرو) رحمۃ اللہ علیہ*خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں بغداد میں ایک درویش رہتے تھے۔ان درویش کا نام ...
24/09/2024

*حضرت بہلول دانا(وہب بن عمرو) رحمۃ اللہ علیہ*
خلیفہ ہارون الرشید کے دور میں بغداد میں ایک درویش رہتے تھے۔ان درویش کا نام بہلول دانا تھا ۔بہلول دانا بیک وقت ایک فلاسفر اور ایک تارک الدنیا درویش تھے ۔ان کا کوئی گھر ،کوئی ٹھکانہ نہیں تھا ۔وہ عموما شہر میں ننگے پاؤں پھرتے تھے اور جس جگہ تھک جاتے وہیں ڈیرہ ڈال لیتے۔ بعض لوگوں نے انہیں مجذوب لکھا ہے۔ کہ یہ اللہ کی تجلیات اور عشق میں مستغرق اور گم رہتے تھے۔اور اپنے اردگرد کے ماحول سے بے خبر ہوتے تھے۔ بہت کم لوگوں کی طرف التفات کرتے تھے۔ اور جب کبھی عوام الناس کی طرف منہ کرتے تو حکمت و دانائی کی بہت ہی عجیب و غریب باتیں کرتے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اللہ کے بہت بڑے ولی کامل تھے ۔ *ان کا ا صل نام وہب بن عمرو تھا۔*
مشہور واقعہ
ایک دن بہلول دریا کے کنارے بیٹھے ساحل کی گیلی ریت کو اپنے سامنے جمع کر کے اس کی ڈھیریاں بنا رہےتھے۔ اور ملکہ زبیدہ اپنے محل کے جھروکے سے بڑے انہماک سے ان کو یہ کام کرتے دیکھ رہی تھی وہ مٹّی کی ڈھیری بناتے اور پھر اپنے ہاتھ سے ہی اس کو مسمار کر دیتے ملکہ جھروکے سے اتر کر اپنی سہیلیوں کے ہمراہ دریا کے کنارے آ گئ اور بہلول سے پوچھا کیا کر رہے ہو بہلول ؟
بہلول نے ادائے بے نیازی سے کہا جنّت کے محل بنا رہا ہوں ،،
ملکہ نے سوال کیا اگر کوئی تم سے یہ محل خریدنا چاہے تو کیا تم کو اس کو فروخت کرو گے ،
بہلول نے کہا ہاں ہاں ! کیوں نہیں۔ میں بناتا بھی ہوں اور فروخت بھی کرتا ہوں
تو بتاؤ ایک محل کی قیمت کیا ہے ملکہ کے سوال کرتے ہی بہلول نے بے ساختہ کہا تین درہم ،
ملکہ زبیدہ نے اسی وقت اپنی کنیزوں کو حکم دیا کہ بہلول کو تین درہم ادا کئے جائیں ۔ اور ادا کردئیے گئے۔
یہ تمام واقعہ ملکہ نے اپنے شوہر خلیفہ ہارون الرشید کو بتایا۔خلیفہ نے اس واقعہ کو مذاق میں ٹال دیا۔
رات کو جب ہارون الرشیدسوئے تو انہوں نے خواب میں جنت کے مناظر دیکھے ، آبشاریں، مرغزاریں اور پھل پھول وغیرہ دیکھنے کے علاوہ بڑے اونچے اونچے خوبصورت محلات بھی دیکھے، ایک سرخ یاقوت کے بنے ہوئے محل پر انہوں نے زبیدہ کا نام لکھا ہوا دیکھا۔ ہارون الرشیدنے سوچا کہ میں دیکھوں تو سہی کیوں کہ یہ میری بیوی کا گھر ہے۔ وہ محل میں داخل ہونے کے لیئے جیسے ہی دروازے پر پہنچے تو ایک دربان نے انہیں روک لیا۔ ہارون الرشیدکہنے لگے ، اس پر تو میری بیوی کا نام لکھا ہوا ہے، اس لیئے مجھے اندرجانا ہے، دربان نے کہا نہیں، یہاں کا دستور الگ ہے، جس کا نام ہوتا ہے اسی کو اندر جانے کی اجازت ہوتی ہے، کسی اور کو اجازت نہیں ہوتی، لہذا آپ کو داخل ہونے کی اجازت نہیں ہے۔ جب دربان نے ہارون الرشید کو پیچھے ہٹایا تو ان کی آنکھ کھل گئی۔
بیدار ہونے پر فوراً خیال آیا کہ مجھے تو لگتا ہےکہ بہلول کی دعا زبیدہ کے حق میں اللہ رب العزت کے ہاں قبول ہوگئی، وہ ساری رات اسی افسوس میں کروٹیں بدلتے رہے۔
چنانچہ وہ شام کو بہلول کو تلاش کرتے ہوئے اِدھر اُدھر دیکھ رہے تھے کہ اچانک انہوں نے دیکھا کہ بہلول ایک جگہ بیٹھے اسی طرح مکان بنا رہے ہیں، ہارون الرشید نے اسلام وعلیکم کہا، بہلول نے جواب دیا وعلیکم سلام، ہارون الرشیدنے پوچھا، کیا کررہے ہیں؟ بہلول نے کہا، جنّت کے محل بنا رہا ہوں۔ ہارون الرشیدنے پوچھا ۔ بیچو گے ۔تو بہلول نے کہا ہاں ہاں ! کیوں نہیں۔ میں بناتا بھی ہوں اور فروخت بھی کرتا ہوں۔
تو بتاؤ ایک محل کی قیمت کیا ہے۔بہلول نے بے ساختہ کہا تیری پوری سلطنت۔
ہارون الرشیدنے کہا ، اتنی قیمت تو میں نہیں دے سکتا، کل تو آپ تین درہم کے بدلے دے رہے تھے، اور آج پوری سلطنت مانگ رہے ہیں؟ بہلول دانا نے کہا، خلیفہ! کل بن دیکھےمعاملہ تھا اور آج تم محل دیکھ کر آئے ہو۔ خلیفہ یہ سن کر گھٹنوں کے بل بہلول دانا کے سامنے مایوس ہوکر بیٹھ گئے۔ اور کہا حضرت آپ مجھ سے میری ساری سلطنت لے لیں۔ اور مجھے ایک محل دے دیں۔ جب بہلول دانا نے خلیفہ کی عاجزی دیکھی تو کہا ۔ کہ میں تمہاری اس سلطنت کا کیا کروں گا۔ اس دنیا کی محبت تو بہت سے گناہوں کی جڑ ہے۔جاؤ اپنی سلطنت اپنے پاس رکھو ۔اس محل کو بھی تمہارے لئے تین درہم میں فروخت کرتا ہوں۔
----------------------
ایک دن بہلول بازار میں بیٹھے ہوئے تھے کہ کسی شخص نے پوچھا بہلول کیا کر رہے ہو تو بہلول نے کہا کہ بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔
اس شخص نے کہا کہ پھر کیا بنا؟
بہلول نے کہا کہ اللہ تو مان رہا ہے لیکن بندے نہیں مان رہے۔
کچھ عرصہ بعد اسی شخص کا ایک قبرستان کے پاس سے گزر ہوا تو دیکھا بہلول قبرستان میں بیٹھے ہیں۔
قریب جا کر پوچھا بہلول کیا کر رہے ہو۔
بہلول نے کہا بندوں کی اللہ سے صلح کروا رہا ہوں۔
اس شخص نے کہا کہ پھر کیا بنا؟
بہلول نے کہا بندے تو مان رہے ہیں مگر آج اللہ نہیں مان رہا ہے۔

‏جس نے ان دانوں کو خ*ل میں ترتیب دیا، وہ تمہاری زندگی اور معاملات کو بھی سنبھالنے پر قادر ہے🤲🏻❤️🙏
21/09/2024

‏جس نے ان دانوں کو خ*ل میں ترتیب دیا، وہ تمہاری زندگی اور معاملات کو بھی سنبھالنے پر قادر ہے🤲🏻❤️🙏

21/09/2024

ہر بندہ فیس بک پر یہ پوسٹ شئیر کرتا پھر رہا ہے کہ اگر اس کی پروفائل سے کوئی گستاخی کی پوسٹ شئیر ہو تو سمجھ لیجیے گا کہ اس کا اکاؤنٹ ہیک ہو گیا ہے ۔۔ہر بندہ یہ صفائی دیتا پھر رہا ہے کہ وہ گستاخی کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا ۔۔
ہر بندہ پریشان ہے کہ کسی نے اس کی تصویر کے ساتھ جعلی پروفائل بنا دی ۔۔اس پر کوئی گھٹیا گری ہوئی گستاخانہ پوسٹ شئیر کر دی تو لوگ اس کی ایک نہیں سنیں گے اور اس کے خون سے ہولی کھیل کر ہی دم لیں گے۔۔۔چنانچہ ہر بندہ اپنے ایمان کی صفائیاں دیتا پھر رہا ہے ۔۔ ہر مسلمان بھائی دوسرے مسلمان بھائی سے خوفزدہ ہے کہ وہ مسلمان بھائی اس پر گستاخی کا الزام لگا کر اس کی اور اس کے خاندان کی زندگی نا برباد کر دے۔۔ مسلمان غیر مسلموں سے نہیں بلکہ اپنے ہی مسلمان بھائیوں سے خوفزدہ ہیں۔۔۔
آج پوری دنیا کے چھپن اسلامی ملکوں میں توہین مذہب کے کل ملا کر اتنے کیسز نہیں ہوتے جتنے پاکستان میں ہوتے ہیں۔۔

یہ انتہاء پسندی صرف اس لیے پھیلائی گئی ہے کہ لوگ خوفزدہ رہیں اور یہ سوال نا کر سکیں کہ ملک کس نے لوٹا ہے ۔۔مٹھی بھر کھرب پتی کیوں ہیں۔۔کروڑوں محروم و مفلوک الحال کیوں ہیں۔۔

09/09/2024

ہر وہ علم ہر وہ طاقت ہر وہ مقام جو انسانیت کو نیچا دکھانے کا سبب بنے فضول ہے بے وقعت ہے

کیا آپ جانتے ہیں  جنوبی ناروےمیں موسم گرما میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا۔یہ موسم گرما میں رات کے 12 بج رہے ہیں 😱
07/09/2024

کیا آپ جانتے ہیں جنوبی ناروےمیں موسم گرما میں سورج غروب ہی نہیں ہوتا۔
یہ موسم گرما میں رات کے 12 بج رہے ہیں 😱

02/09/2024

کَل تک جن لوگوں کی زبان عمران خان کو یہُودی ایجنٹ کہتے کہتے نہیں تھکتی تھی
آج انہی لوگوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی کے میل باکس کو صرف یہ کہ کر بھر دیا ہے کہ اِس کو چانسلر کے لئے نا اہل کیا جائے یہ سچا عاشقِ رسول (SAW)ہے کیونکہ اِس نے سلمان رشدی سے مِلنے سے انکار کر دِیا تھا


26/08/2024

کیا آپ نے یہ سوچا ہے کہ قرآن پاک میں اللہ نے یہ کیوں فرمایا کہ ہر ذی روح کو موت کا ذائقہ چکھنا ہے یہ کیوں نہیں کہا کہ ہر ذی روح کو موت آنی ہے

آپ نے کبھی اس لفظ "ذائقہ" جس کو انگلش میں TASTE کہتے ہیں پر غور کیا ہے۔۔؟؟؟
سائنس کہتی ہے کہ ہرانسان کی چکھنے کی حس مختلف ہوتی ہے، ‏اگر کسی کو کوئی چیز پسند ہی نہیں تو اسے اسکا ذائقہ برا ہی لگے گا چیز کا ذائقہ اس میں ڈالے گئے اجزاء پر منحصر ہوتا ہے اس لئے ہر شخص کی موت کا ذائقہ اسکے اعمال کے مطابق ہو گا اسکا ذائقہ دوسروں کی موت سے مختلف ہو گا۔۔۔
"یہ آپکی موت ہے تو اسکا ذائقہ بھی آپ ہی کو چکھنا ہو گا، ‏لہذا ابھی سے اپنے معاملات اور اعمال درست کر لیں تا کہ موت کا ذائقہ کڑوا نہ لگے....

Adresse

Oslo
34200

Varslinger

Vær den første som vet og la oss sende deg en e-post når S.I Shakeel Dewan legger inn nyheter og kampanjer. Din e-postadresse vil ikke bli brukt til noe annet formål, og du kan når som helst melde deg av.

Videoer

Del


Andre mediafirmaer i Oslo

Vis Alle