24/08/2026
سرحد یونیورسٹی کے سٹوڈنٹس کے بقول میڈم کو کوئی بات ناگوار گزری انہوں نے اپنے باوردی شوہر کو بلایا جنہوں نے آتے ساتھ ہی 3،4 لڑکوں کو ڈنڈے مارے جس پر سٹوڈنٹس نے انہیں روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے ہتھیار نکال لیا اور سٹوڈنٹس پر تان دیا یہاں تک کہ ٹانگوں پر 2 بار چلا دی پھر 2 بار ہوا میں اور للکارتے ہوئے پچھلے کمرے میں چلے گئے ہم نے پولیس کو بہت کہا کہ انہیں سٹوڈنٹس پر چلانے کے جرم میں گرفتار کریں پولیس نے کچھ نہیں کیا سب تماشا دیکھتے رہے ہمیں انصاف چاہئے ہماری آواز بنیں..... سٹوڈنٹس
کچھ سوالات:
1. کیا باوردی افسر کا یونیورسٹی میں ہتھیار سمیت آنا جرم نہیں?
2. کیا سٹوڈنٹس پر ڈنڈے برسنا جرم نہیں?
3. کیا پولیس کا وہاں ہوتے ہوئے بھی اسے گرفتار نہ کرنا جرم نہیں?
سیاست گئی بھاڑ میں، طلباء اس قوم کا مستقبل ہیں، ان پر ہاتھ اٹھانا سیاستدانوں پر ہاتھ اٹھانے جیسا نہیں، میری نظر میں یہ GHQ حملے جتنا ہی بڑا جرم ہے 9 مئی کی تو سی سی ٹی وی ریکارڈنگ نہیں مل سکی لیکن اسکی تو پوری ریکارڈنگ قوم نے دیکھ لی ہے لہٰذا کورٹ مارشل سے کم پر بات نہیں بنے گی. دیکھنا یہ ہے کہ آیا فوج کا بہترین میریٹ والا نظام اپنے اس افسر کو پھر بھی بچانے کی کوشش کرے گا یا پھر ادارے کے انتظام کو.