18/09/2026
الحمدللہ۔ میں روڈز پر سویا ہوں مگر ۔ میرا دوسرا گھر عمان ہے 🇴🇲✅️🇵🇰🥰
الحمدللہ My second Home Oman
سعودی عرب میں اونٹ چرانے والا پاکستانی نوجوان جمالا وطن واپس پہنچ گیا
سعودی عرب میں مشکل حالات میں اونٹ چرانے پر مجبور ہونے والے پاکستانی نوجوان جمالا کی وطن واپسی ہوگئی ہے۔ اس سے پہلے سوشل میڈیا پر یہ اطلاعات گردش کر رہی تھیں کہ سعودی پولیس نے اسے گرفتار کرکے جیل منتقل کردیا ہے۔
جمالا کی سامنے آنے والی تازہ ویڈیو کے مطابق، اس نے سعودی عرب میں اپنے ساتھ پیش آنے والے حالات کے بارے میں اپنے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو شیئر کی تھی۔ جمالا کا دعویٰ ہے کہ اسی ویڈیو کی بنیاد پر سعودی عرب کی سی آئی ڈی نے اسے صحرا میں رات کے وقت اس وقت حراست میں لیا جب وہ سو رہا تھا۔
جمالا کے مطابق، دورانِ حراست اس سے کئی دن تک سخت پوچھ گچھ کی گئی اور اسے انتہائی مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑا۔ حکام نے ترجمانوں کے ذریعے اس کی یوٹیوب ویڈیو کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔
اس کا کہنا ہے کہ ویڈیو میں سعودی عرب یا کسی سعودی شہری کے خلاف کوئی نامناسب بات نہیں کی گئی تھی۔ جمالا کے مطابق، پوچھ گچھ کے دوران ایک پاکستانی، ایک بنگلہ دیشی اور ایک فلپائنی مترجم بھی موجود تھے۔
جمالا کا الزام ہے کہ پاکستانی مترجم نے اس کے بیان کا ترجمہ کرتے ہوئے بات کو اپنی طرف سے بڑھا چڑھا کر پیش کیا اور اس کے خلاف سخت کارروائی کی کوشش کی۔ تاہم، اس کے بقول بنگلہ دیشی اور فلپائنی مترجم نے اس کے حق میں نوٹس تحریر کیے، جس کے نتیجے میں وہ بڑی سزا سے بچ گیا۔
جمالا بتاتا ہے کہ تقریباً 26 دن بعد اسے رہائی ملی، تاہم اس کے بعد بھی تقریباً ایک ہفتہ مزید حراست میں رکھا گیا۔ بعد ازاں قانونی کارروائی مکمل ہونے پر اسے پاکستان واپس جانے کی اجازت دے دی گئی۔
وطن واپس پہنچنے کے بعد جمالا نے اپنی خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس مشکل زندگی سے نکلنے پر بہت مطمئن ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اب وہ پاکستان میں کم آمدنی کے ساتھ سادہ زندگی گزارنا پسند کرے گا، لیکن صرف زیادہ پیسے کمانے کے لیے دوبارہ ایسے خطرات مول نہیں لے گا۔
جمالا کے مطابق، بیرونِ ملک زیادہ کمائی کی خواہش میں انسان کو اپنی سلامتی اور آزادی کو داؤ پر نہیں لگانا چاہیے۔