Naseeb Ali N

Naseeb Ali N Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Naseeb Ali N, Jeddah.

اَسْتَغْفِرُاللّٰہَ الَّذِیْ لَآ اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ الْحَیُّ الْقَیُّوْمُ وَاَتُوْبُ اِلَیْہِ...
I Seek forgiveness from ,ALLAH, the Living, the Sustainer of the universe, and I repent to Him.

Post of the day      ゚
05/06/2026

Post of the day

   ゚
01/06/2026


✨ معجزہ! ✨حالات ہمیشہ ہمارے حق میں نہیں ہوتے،لیکن دل اور گمان ہمیشہ اُس پر ہیںکہ میرے نصیب میں معجزے بہت مختلف اور خوبصو...
01/06/2026

✨ معجزہ! ✨
حالات ہمیشہ ہمارے حق میں نہیں ہوتے،
لیکن دل اور گمان ہمیشہ اُس پر ہیں
کہ میرے نصیب میں معجزے بہت مختلف اور خوبصورت ہوں گے۔
(ان شاء اللہ)
🌸 یقین رکھیں، ہر دن نئی خوشیاں اور امکانات لے کر آئے گا۔

       ゚
01/06/2026



30/05/2026

I got over 100 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

قذافی کی آمریت کی چند جھلکیاں ۔۔یہ شخص لیبیا کا صدر تها اس کا نام معمر محمد أبو منيار القذافي تها اگر آج یہ شخص زندہ ہوت...
08/02/2026

قذافی کی آمریت کی چند جھلکیاں ۔۔
یہ شخص لیبیا کا صدر تها اس کا نام معمر محمد أبو منيار القذافي تها اگر آج یہ شخص زندہ ہوتا تو شاید مسلمانوں کی پہچان ہی کچھ اور ہوتی اس نے 1969 سے لے کر 2011 تک لیبیا میں حکومت کی اور 20 اکتوبر 2011 میں اسے امریکہ نے ففتھ جنریشن وار کا ہتھیار استعمال کرکے مروا دیا،لیکن کیوں مروایا اس کی بہت سی وجوہات ہیں لیکن ایک سب سے بڑی وجہ پیٹرو ڈالر تهی.اس کا ذکر پھر کبھی صحیح فی الحال اس پوسٹ میں آپ سب کو ان قوانین کے بارے میں بتایا جائے گا جو معمر قذافی نے اپنی حکومت میں قائم کیے تهے.

1۔ لیبیا میں بجلی مفت تهی، پورے لیبیا میں کہیں بجلی کا بل نہیں بھیجا جاتا تها._*

2۔ سود پر قرض نہیں دیا جاتا، تمام بینک ریاست کی ملکیت تھے اور صفر فیصد سود پر شہریوں کو قرض کی سہولت دیتے تھے۔
3۔ اپنا گھر لیبیا میں انسان کا بنیادی حق سمجھا جاتا تھا اور اس کے لئے حکومت شہریوں کو مکمل مالی مدد فراہم کرتی تھی۔

4۔ تمام نئے شادی شدہ جوڑوں کو اپنا نیا گھر بنانے کی مد میں حکومت پچاس ہزار ڈالرز مفت فراہم کرتی تھی۔

5۔ پڑھائی اور علاج کی سہولتیں لیبیا کے تمام شہریوں کو بنا پیسوں کے حاصل تھیں۔ قذافی سے پہلے 25 فیصد لوگ پڑھے لکھے تھے جبکہ آج 83 فیصد لوگ تعلیم کے زیور سے آراستہ ہیں۔

6۔ کسانوں کو زرعی آلات، بیج اور زرعی زمین مفت میں فراہم کی جاتی تھی۔

7۔ اگر کسی باشندے کو لیبیا میں علاج معالجے یا تعلیم کی صحیح سہولت میسر نہیں تو حکومت بنا کسی خرچے کے بیرون ملک بھجواتی تھی۔

8۔ لیبا میں اگر کوئی شخص اپنی گاڑی خریدنا چاہتا تو حکومت 50 فیصد سبسڈی فراہم کرتی تھی۔

9۔ پیٹرول کی قیمت 0.14$ فی لیٹر تھی۔

10۔ لیبیا پر کوئی بیرونی قرضہ نہیں تھا اور لیبیا کے اثاثوں کی کل مالیت تقریبا 150$ ارب ڈالر سے زائد تھے، جن پر اب مغربی ممالک کا قبضہ ہے۔

11۔ اگر کوئی باشندہ گریجویشن کرنے کے بعد بھی نوکری حاصل نہیں کر پائے تو حکومت اسے اسکی تعلیمی استعداد کے مطابق مفت تنخواہ ادا کرتی تھی تا وقت کہ اس باشندے کی ملازمت لگ جائے۔

12۔ ملک کے تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی کا ایک مخصوص حصہ تمام لیبیائی باشندوں کے بینک اکاؤنٹوں میں جمع کروا دیا جاتا تھا۔

13۔ ماں کو ہر بچے کی پیدائش پر حکومت کی طرف سے 5000$ ڈالر مفت فراہم کئے جاتے تھے۔

14۔ قذافی نے ملک کی صحرائی آبادی کے پیش نظر دنیا کا سب سے بڑا مصنوعی دریا بنانے کا پروجیکٹ بھی شروع کیا تھا ، تا کہ پورے ملک میں صاف پانی کی فراہمی یقینی بنائی جاسکے۔

یہ ان مظالم میں سے کچھ کی تفصیل ہے جو قذافی نامی ڈکٹیٹر نے لیبیا کی عوام پر ڈھائے ۔

ان مظالم کے علاوہ قذافی نے تین بہت بڑے گناہ اور بھی کیے تھے ۔

پہلا کہ پاکستان کو ایٹمی پروگرام کے لیے 100 ملین ڈالر کی رقم اس وقت فراہم کی جب پاکستان پر ہر طرح کی پابندیاں تھیں ۔ اسی رقم سے پاکستان نے اپنا ایٹمی پروگرام شروع کیا تھا ۔

دوسرا اس نے ہمیشہ مسلمان ممالک کو اکھٹا کر کے انکا ایک بلاک بنانے کی کوشش کی۔ کبھی افریقی ممالک کا بلاک کبھی عرب ممالک کا ۔ لیکن ہمارے مسلمان ممالک قذافی کی اس " چال " میں نہیں آئے اور آپس میں ہی لڑنے مرنے پر متفق رہے ۔

تیسری چیز میں تو اسنے حد ہی کر دی جب اس نے سونے اور چاندی کے سکوں میں لین دین کرنے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا کہ پیپر کرنسی جعلی کرنسی ہے۔

ان کے ان کرتوتوں کی بدولت ہی امریکہ نے قذافی کو قتل کروا دیا تاکہ لیبیا کے عوام کو ایک ظالم ڈکٹیٹر سے نجات دلائی جا سکے۔

اب لیبیا میں مکمل جمہوریت آچکی اور اپنے ہی اثاثوں سے محروم اور مقروض لیبیا جمہوریت کے مزے لے رہا ہے۔

قابل فخر پاکستانی ہیرو ____سچا واقع پچھلے دنوں سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شدید بارشیں ہوئیں ۔ جس کی وجہ سے معمولات زندگ...
15/01/2026

قابل فخر پاکستانی ہیرو ____سچا واقع

پچھلے دنوں سعودی عرب کے مشرقی صوبے میں شدید بارشیں ہوئیں ۔ جس کی وجہ سے معمولات زندگی بری طرح متاثر ہوکر رہ گئی تھیں کچھ دن تو لوگ گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے تھے
انہی دنوں کے دوران الخریف کمپنی کے ایک پاکستانی یحیی منصور نامی کی قسمت جاگ اٹھی اللہ جب آپ کو زمین سے اٹھا کر آسمان پر لے جائے تو اسمیں ذرا برابر بھی دیری نہیں لگتی____ ہوا کچھ یوں انہی شدید بارشوں کے دوران یہ پاکستانی ڈرائیور جو واٹر ٹینکر چلاتا ہے کمپنی کا کام نمٹا کر واپس آفس کے رستے پر تھا اسی رستے پر گاڑیوں کا ایکسیڈنٹ دیکھ کر یہ بھی باقی لوگوں کی طرح وہاں رک گیا ۔ اس کے جائے حادثہ پر پہنچنے سے کچھ ہی دیر پہلے ایک گاڑی سے زخمی خاتون کو بحفاظت باہر نکال لیا گیا لیکن اس کے خاوند، بھائی یا باپ کو سعودی اور عجمی سبھی گاڑی سے نکالنے کے سر توڑ کوشش کر رہے تھے کے اسے اثنا میں گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی ____ گاڑی کو آگ لگنے کی دیر تھی کہ جائے حادثہ پر موجود سب کے سب لوگ بھاگنے لگے اس سارے واقعہ سے پہلے یہ پاکستانی ڈرائیور تھوڑا سا دور اپنی گاڑی کے پاس کھڑا تھا گاڑی کو آگ لگنے کے فورا بعد اس نے نا آو دیکھا نا تاو دیکھا اپنے واٹر ٹینکر کو فورا سے پہلے ریورس کرکے آگ بجانے لگ گیا اس دوران اطراف میں کھڑا ہر شخص اس کی ویڈیو بنا رہا تھا لیکن کسی کو اتنی ہمت نا ہوئی کہ وہ اس کے قریب آکر آگ بجھانے میں اس کی مدد کرتا _____آخرکار اسکی سر توڑ کاوش نتیجہ خیر ثابت ہوئی اور یہ اکیلا ہی آگ پر قابو پانے میں کامیاب ہوگیا اور گاڑی کے اندر پھنسے ڈرائیور کی زندگی بچانے میں کامیاب ہوگیا
اطراف کی دونوں سڑکیں مکمل بلاک ہوچکی تھیں ہر شخص اس کو گلے لگا کر مبارک بادیں اور شکریہ ادا کر رہا تھا___ موقع پر موجود ٹریفک پولیس اور جنرل پولیس کے اہلکاروں نے اس کے کوائف اس سے اکٹھے کیے اسکا شکریہ ادا کیا اور اپنی اپنی راہ لی
اس ڈرائیور کو کیا علم تھا کہ کل صبح کا سورج اس کیلئے کیا نوید لیکر طلوع ہوگا ____ دوران ڈیوٹی اسے ٹریفک پولیس کے آفس سے کال آئی کے آپکو ابھی آفس طلب کیا جاتا ہے اس کے ساتھ ہی میرا کزن جو اسی کمپنی میں انجینئر ہے اس سے بولا بھائی پولیس کی کال آئی ہے اور میں ڈر رہا ہوں کے مجھے کچھ کہیں نا خیر جلد ہی یہ ڈرائیور ٹریفک پولیس کے آفس میں جانے پر رضامند ہوگیا ___ آفس پہنچتے ہی دمام ٹریفک پولیس کے سب سے بڑے مدیر نے اسکا ویلکم کیا اسکو گلے لگایا شکریہ ادا کیا اور 1000 ریال انعام کے طور پر اسے دے دیا
کچھ ہی دن کے بعد یہ خبر جنگل میں آگ کے طرح شہر میں پھیل گئ اور یہ خبر عربی، اردو اور انگریزی اخبارات کی زینت بننے لگے ____ کچھ ہی دنوں کے بعد اس شخص کو منسٹری آف واٹر کے آفس میں طلب کیا گیا اور اسکی خوب داد رسی کے ساتھ ساتھ انعامات سے نوازا گیا
لیکن شاید اللہ نے اسکے حق میں کچھ اور ہی فیصلہ کیا ہوا تھا____ دو دن قبل اس بندے کو گورنر شرقیہ پرنس منصور بن نائف نے اسے اپنے آفس میں بلایا اس موقع پر شرقیہ ریجن کے تمام اعلی سرکاری عہدیداران بھی موقع پر موجود تھے گورنر شرقیہ نے اس کو انعام کے طور پر 10000 ریال کے ساتھ ساتھ حکومتی خرچ پر حج کروانے کا حکم نامہ جاری کیا بعد ازاں اس کی کمپنی سے اس کا پاسپورٹ بھی طلب کر لیا گیا، وہ کس مقصد کیلئے یہ وقت ہی بتائے گا
واقع بیان کرنے کا مقصد صرف یہ ہے کہ جب اللہ آپکو نوازنا چاہئے تو وہ خود آپکے لئے مواقع بھی پیدا کر دیتا ہے اور اسباب بھی، لیکن اس کے لئے اللہ کی ذات پر آپ کا یقین محکم ہونا اولین و آخر شرط ضرور ہے اور یہ شخص اپنے تقوی اور ایمانداری میں بھی اپنی مثال آپ ہے
اس میں کوئی دو رائے نہیں کے پاکستانی قربانی کے جذبہ سے سرشار ہیں لیکن افسوس ایسے بیسیوں واقعات پاکستان میں ہونے کے باوجود کسی ایک واقع کے بعد کسی بھی فرد واحد کو آج تک حکومتی سطح پر پذیرائی نہیں دی گئی لیکن پردیس اور بلخصوص سعودی عرب میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقع نہیں جسمیں کسی پاکستانی نے پورے پاکستان کا سر فخر سے بلند کر دیا بلکہ کئی ایسے واقعات ہوکر گزرے ہیں جنمیں بیشتر پاکستانیوں نے اپنی جان کی قربانی دے کر دوسروں کی زندگیاں بچائی ہیں اور یقین مانیں انسانیت کی خاطر انہی بے لوث قربانیوں نے آج ہمیں یہ لوگ باعزت باوقار پاکستانی قوم مانتے ہیں اور دل و جاں سے عزت بھی کرتے
ہیں
Copi

🤍❤️🤍The history of   🤍🥀✍️began with the discovery of two critical principles: The first is camera obscura image projecti...
29/12/2025

🤍❤️🤍


The history of 🤍🥀✍️
began with the discovery of two critical principles: The first is camera obscura image projection, the second is the discovery that some substances are visibly altered by exposure to light[2]. There are no artifacts or descriptions that indicate any attempt to capture images with light sensitive materials prior to the 18th century.
View from the Window at Le Gras 1826 or 1827, believed to be the earliest surviving camera photograph.[1] Original (left) and colorized reoriented enhancement (right).
Around 1717, Johann Heinrich Schulze used a light-sensitive slurry to capture images of cut-out letters on a bottle. However, he did not pursue making these results permanent. Around 1800, Thomas Wedgwood made the first reliably documented, although unsuccessful attempt at capturing camera images in permanent form. His experiments did produce detailed photograms, but Wedgwood and his associate Humphry Davy found no way to fix these images.
In 1826, Nicéphore Niépce first managed to fix an image that was captured with a camera, but at least eight hours or even several days of exposure in the camera were required and the earliest results were very crude. Niépce's associate Louis Daguerre went on to develop the daguerreotype process, the first publicly announced and commercially viable photographic process. The daguerreotype required only minutes of exposure in the camera, and produced clear, finely detailed results. On August 2, 1839 Daguerre demonstrated the details of the process to the Chamber of Peers in Paris. On August 19 the technical details were made public in a meeting of the Academy of Sciences and the Academy of Fine Arts in the Palace of Institute. (For granting the rights of the inventions to the public, Daguerre and Niépce were awarded generous annuities for life.)[3][4][5] When the metal based daguerreotype process was demonstrated formally to the public, the competitor approach of paper-based calotype negative and salt print processes invented by William Henry Fox Talbot was already demonstrated in London (but with less publicity).[5] Subsequent innovations made photography easier and more versatile. New materials reduced the required camera exposure time from minutes to seconds, and eventually to a small fraction of a second; new photographic media were more economical, sensitive or convenient. Since the 1850s, the collodion process with its glass-based photographic plates combined the high quality known from the Daguerreotype with the multiple print options known from the calotype and was commonly used for decades. Roll films popularized casual use by amateurs. In the mid-20th century, developments made it possible for amateurs to take pictures in natural color as well as in black-and-white.
The commercial introduction of computer-based electronic digital cameras in the 1990s soon revolutionized photography. During the first decade of the 21st century, traditional film-based photochemical methods were increasingly marginalized as the practical advantages of the new technology became widely appreciated and the image quality of moderately priced digital cameras was continually improved. Especially since cameras became a standard feature on smartphones, taking pictures (and instantly publishing them online) has become a ubiquitous everyday practice around the world.
!

💯  The Ancient 4,500-Year-Old Tunic at the Egyptian Museum.                                        💯   The Ancient 4,500...
27/12/2025

💯


The Ancient 4,500-Year-Old Tunic at the Egyptian Museum.

💯



The Ancient 4,500-Year-Old Tunic at the Egyptian Museum.


Address

Jeddah
24231

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Naseeb Ali N posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share