26/09/2026
کاروباری طبقہ لینے سے انکاری کیوں
میرے پاس 375 روپے کے 5 نوٹ تھے، ہوٹل والے، پٹرول پمپ اور بیکری والے نے لینے سے انکار کر دیا حتیٰ کہ بینک کی کیش مشین نے بھی واپس کر دیے اور اچنبھے کی بات کہ 50-50 کے دو نوٹ وصول کر لیے، شیل پمپ کے کیشئر والے کا شکریہ جس نے وصول کر لیے۔ سوچیں اگر کروڑوں عوام میں سے ہر ایک کے پاس ایک ایک نوٹ بھی اسی طرح جیب میں پھنسا ہو تو اربوں روپے مارکیٹ سے غائب ہیں۔
جب اسٹیٹ بینک خود کہتا ہے کہ یہ نوٹ بند نہیں تو پھر حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ دکاندار حضرات کو اسے لینے کا پابند کرے، ورنہ یہ یادگار نہیں عوام کا معاشی نقصان ہے۔ جو بندہ لے کر پھرتا رہے تو عام آدمی یہی سمجھے گا کہ یہ نوٹ یا تو بند ہو گیا ہے یا شاید مستند ہی نہیں، جبکہ ایسا بالکل بھی نہیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ اس پیغام کو عام فہم نہیں بنایا گیا، عام عوام کو آگاہی ہی نہیں کہ یہ نوٹ باقی نوٹوں کی طرح مستند ہے اور استعمال ہو سکتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کو چاہیے کہ سوشل میڈیا پر بھرپور کمپین چلائے تاکہ
دکانداروں اور عوام کو اس بارے میں آگاہی حاصل ہو۔