ENJOY REELS

ENJOY REELS Digital creator

سیکس، حکمت عملی اور طاقت کی داستان خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رخ دیا۔اوڈیسی محض بہادری اور کارناموں کی ایک سا...
27/07/2026

سیکس، حکمت عملی اور طاقت کی داستان خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رخ دیا۔

اوڈیسی محض بہادری اور کارناموں کی ایک سادہ کہانی نہیں بلکہ سیکس، حکمت عملی اور طاقت کے پیچیدہ تعلقات کی ایک ایسی داستان ہے، جو آج بھی اپنی معنویت اور کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یونانی شاعر ہومر کی 2800 سال پرانی نظم، ’اوڈیسی‘ جسے کرسٹوفر نولین نے اب بڑی سکرین کے لیے ڈھالا ہے، محض بہادری کی ایک سادہ کہانی نہیں۔

اس کا مرکزی کردار اوڈیسیئس اگرچہ ایک مرد ہیرو ہے، لیکن اس کی داستان اُن خواتین، حوروں، جادوگرنیوں، دیویوں اور پراسرار کرداروں کی چالاکیوں، تدبیروں اور کشش سے تشکیل پاتی ہے، جن سے وہ اپنے سفر کے دوران ملتا ہے۔ یہی عناصر اس کہانی کو غیر معمولی طور پر انسانی اور حقیقت کے قریب محسوس کرواتے ہیں۔

یونانی نظم اوڈیسی افسانوی یونانی جنگجو اوڈیسیئس کی اس جدوجہد کی داستان بیان کرتی ہے، جس میں وہ ٹروجن جنگ میں برسوں لڑنے کے بعد اپنی سلطنت ایتھاکا واپس پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔

گھر واپسی کا یہ خطرناک سفر ایک دہائی پر محیط ہے اور اسے بے شمار آزمائشوں، خطرات اور مہمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی داستان کو معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولان نے بڑی سکرین کے لیے ڈھالا ہے، جس میں میٹ ڈیمن سمیت متعدد مشہور اداکار شامل ہیں۔

اس میں مرکزی کردار اگرچہ ایک مرد ہے، لیکن اوڈیسی بنیادی طور پر ایسی داستان ہے جس میں خواتین کا کردار غالب نظر آتا ہے۔ اپنے وطن واپس لوٹنے اور اپنی سلطنت دوبارہ حاصل کرنے کی اوڈیسیئس کی جدوجہد ہر موڑ پر ان خواتین، حوروں اور دیویوں کی تدبیروں، چالاکیوں اور کشش سے متاثر ہوتی ہے، جن سے اس کی راستے میں ملاقات ہوتی ہے۔

اوڈیسی محض بہادری اور کارناموں کی ایک سادہ کہانی نہیں، بلکہ سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کے پیچیدہ تعلقات کی ایک ایسی داستان ہے، جو آج بھی اپنی معنویت اور کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔

نظم اوڈیسی کا آغاز ’ان میڈیا ریس‘ کے انداز میں ہوتا ہے، یعنی کہانی بیچ سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت اوڈیسیئس جزیرۂ اوگیجیا کے ساحل پر بیٹھا رو رہا ہے، جہاں وہ گذشتہ سات برس سے حور کالیپسو کے ساتھ مقیم ہے۔

اگرچہ اوڈیسیئس نے ٹروجن جنگ کے میدان میں اپنی بہادری کا لوہا منوایا تھا، لیکن اس مرحلے پر وہ مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتا ہے۔ اس تاثر کو یہ حقیقت مزید مضبوط بناتی ہے کہ اسے جزیرے سے رہائی دلانے کے لیے دیوتاؤں کی ایک کونسل کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔

لیکن اوڈیسیئس دراصل کالیپسو کا اتنا قیدی نہیں جتنا اپنے آپ کا ہے۔ ایک جدید قاری بجا طور پر اس کی اِس کیفیت، یعنی آگے بڑھنے اور اپنے وطن واپس پہنچنے میں ناکامی کو جنگی صدمے کی علامت کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔

تاہم اس سے کالیپسو کے اس پر اثرورسوخ کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ اوڈیسیئس خود حور کے سامنے اعتراف کرتا ہے کہ خوبصورتی کے اعتبار سے اس کی بیوی پینیلوپی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی، کیونکہ پینیلوپی محض ایک فانی انسان ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ پینیلوپی ایک ایسا ’متحرک ہدف‘ ہے جس کی کامیابی یا ناکامی براہِ راست اوڈیسیئس کی اس صلاحیت پر اثر ڈالتی ہے کہ آیا وہ واپس آ کر اپنی بادشاہت دوبارہ حاصل کر سکے گا یا نہیں۔
اوڈیسیئس کی بیوی پینیلوپی اپنے شوہر کی طویل غیر موجودگی کے دوران ہرگز ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی نہیں رہی۔ اس نے بہادری اور غیر معمولی ذہانت کے ساتھ ان 108 خواستگاروں کی پیش قدمی کا مقابلہ کیا، جو اس سے شادی کرکے ایتھاکا کا نیا بادشاہ بننا چاہتے تھے اور اسی مقصد کے لیے محل میں جمع ہو گئے تھے۔

اپنے سسر لائرٹیز کے لیے کفن بُننے اور پھر رات کے وقت اسی بُنے ہوئے کپڑے کو ادھیڑ دینے کا پینیلوپی کا منصوبہ اس نظم کے سب سے یادگار واقعات میں شامل ہے۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے وہ خواستگاروں کو مسلسل ٹالتی رہی اور وقت حاصل کرتی رہی۔

۔ مردوں کو بہکانے والی‘ جل پریوں کی افسانوی کہانی کیسے شروع ہوئی

۔ہرکیولیس کی کہانی: گود لیا بھالو جو بین الاقوامی سٹار بنا اور اپنے مالک کے پہلو میں دفن ہے

۔غیات الدین بلبن: اس غلام کی کہانی جو دلی کا سلطان بنا

۔محبت کی وہ کہانی جو ایک ڈراؤنی گیم سے شروع ہوئی

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دیوتاؤں میں اوڈیسیئس کی سب سے بڑی حامی ایک دیوی ایتھینا ہے، جو حکمتِ عملی اور دانش کی دیوی ہے، ٹرائے کی جنگ میں بھی اس کی مدد کرتی رہی اور اسی نے اس کی وطن واپسی کی کوششوں کا آغاز کیا۔

بعد ازاں جب اوڈیسیئس فیاشیئنز کی سرزمین پر انتہائی کمزور حالت میں پہنچتا ہے، تو ایتھینا بڑی چابک دستی سے اس کی نجات کا انتظام کرتی ہے۔ وہ نہ صرف اس کی کمزوری کو چھپاتی ہے بلکہ اس کے حلیے کو بھی زیادہ پرکشش اور باوقار بنا دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ کسی دیوتا جیسا دکھائی دینے لگتا ہے اور ان کی مشہور مہمان نوازی کا مستحق محسوس ہوتا ہے۔

یہی مدد اوڈیسیئس کو سمندری سفر میں ماہر فیاشیئنز کا اعتماد جیتنے میں کامیاب بناتی ہے۔ بعد میں وہ اسے پناہ دیتے ہیں، قیمتی تحائف فراہم کرتے ہیں اور ایتھاکا واپس پہنچنے کے لیے ایک محفوظ سفر کا انتظام بھی کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایتھینا جب بھی اوڈیسیئس یا اس کے بیٹے ٹیلیماکس کے سامنے ظاہر ہوتی ہے، تو اکثر مرد کا بھیس اختیار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ ایتھاکا کے ایک دوست بادشاہ مینٹیز اور فیاشیئنز کے ایک مرد ایلچی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

ایتھینا یہ بخوبی جانتی ہے کہ زمین پر ظاہری اقتدار مردوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے، لیکن واقعات کی سمت کا تعین اکثر خواتین اپنی ذہانت، تدبیر اور پردے کے پیچھے اختیار کی جانے والی حکمتِ عملیوں کے ذریعے کرتی ہیں۔

فیاشیئنز کی سرزمین پر پہنچنے کے بعد اوڈیسیئس اپنے شاہی میزبانوں کو اب تک پیش آنے والی مہمات کی داستان سناتا ہے، جن میں لوٹس کھانے والوں سے لے کر سائیکلوپس تک کے واقعات شامل ہیں۔ تاہم ان سفرناموں میں جن افسانوی خواتین سے اس کی ملاقات ہوتی ہے، ان کی کہانیاں اکثر سب سے زیادہ پراسرار اور خوف انگیز محسوس ہوتی ہیں، کیونکہ ان کی ظاہری شکل و صورت بظاہر خطرناک نہیں ہوتی۔

اس کے سفر میں موجود خواتین کرداروں پر ایک نظر ڈالنا ہی کافی ہے۔ بظاہر نرم، دلکش یا بےضرر دکھائی دینے کے باوجود ان میں سے کئی کردار غیر معمولی طاقت اور اثرورسوخ رکھتے ہیں اور اوڈیسیئس کی تقدیر پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی تضاد ان خواتین کی موجودگی کو اوڈیسی کی سب سے دلچسپ اور پُراسرار خصوصیات میں سے ایک بنا دیتا ہے۔

مثال کے طور پر اوڈیسیئس اپنے میزبانوں کو کھلے دل سے بتاتا ہے کہ وہ سائرنز کا نغمہ سننے کے لیے بے تاب تھا۔ سائرنز مغربی سمندر میں ایک دور افتادہ اور خطرناک چٹانی جزیرے پر رہتی تھیں

بعد کی روایات اور یونانی فن میں سائرنز کو کبھی پرندہ نما خواتین اور کبھی جل پریوں کی صورت میں دکھایا گیا، لیکن اوڈیسیئس ان کی ظاہری شکل کے بجائے ان کے شہد جیسی میٹھی آواز کا ذکر کرتا ہے، جس میں ایسی کشش تھی کہ وہ مردوں کو اپنی طرف کھینچ کر بالآخر ان کی ہلاکت کا سبب بن جاتی تھیں۔

سائرنز کے سامنے ایک وسیع سبزہ زار پھیلا ہوا تھا، جہاں ان بے شمار مردوں کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں جو ماضی میں ان کا نغمہ سننے کے لیے رکے تھے۔ اوڈیسیئس اس خطرے کا سامنا کرنے پر آمادہ تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اسے جہاز کے مستول سے باندھ دیں تاکہ وہ اس پراسرار اور مسحور کن موسیقی کے تعاقب میں سمندر میں نہ کود سکے۔

سائرنز کی آواز جتنی دلکش اور حسین تھی، وہ اتنی ہی جان لیوا بھی تھیں۔

سرسے ایک اور دلکش مگر خطرناک کردار تھیں۔ جو لوگ پہلی بار ان سے ملتے، وہ شاید انھیں خطرہ نہ سمجھتے، لیکن سائرنز کی طرح ان کی نرم اور دل فریب شخصیت کے پیچھے غیر معمولی جادوئی طاقتیں چھپی ہوئی تھیں۔ ہومر نے انھیں ایک جادوگرنی کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے پاس ایسی جڑی بوٹیاں اور معجونیں تھیں، جن کی مدد سے وہ اوڈیسیئس کے ساتھیوں کو سوروں میں تبدیل کر دیتی تھیں۔

تاہم اوڈیسیئس کے سفر میں نظر آنے والی دیگر بہت سی عجیب و غریب مخلوقات کی طرح سرسے صرف رکاوٹ نہیں بنتیں بلکہ مدد بھی فراہم کرتی ہیں۔ اگرچہ وہ اوڈیسیئس کو اپنا عاشق بنا لیتی ہیں، لیکن یہی سرسے انھیں عالمِ ارواح تک جانے کے قابل بھی بناتی ہیں، جہاں ان کی ملاقات پیش گو ٹائریسیاس سے ہوتی ہے۔

ٹائریسیاس اوڈیسیئس کو ایتھاکا واپسی کے سفر کے بارے میں اہم مشورے اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اس داستان کا مستقل پیغام یہ ہے کہ ان نسوانی عفریتوں اور دلکش حوروں کو محض نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے اوڈیسیئس کو ایک حد تک ان کے اثر کو قبول کرنا پڑتا ہے، لیکن اتنا نہیں کہ وہ مکمل طور پر ان کے قابو میں آ جائے۔

سفر کے دوران اس سے ملنے والے کردار بار بار اس کے عزم، خود پر قابو پانے کی صلاحیت اور اعتدال پسندی کے امتحان لیتے ہیں۔ اعتدال وہ خوبی تھی، جسے قدیم یونانی تہذیب میں نہایت اہم اور قابلِ ستائش سمجھا جاتا تھا۔

جو قارئین اوڈیسیئس کی مہمات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ محض اس کی گھڑی ہوئی کہانیاں تھیں، ایسی داستانیں جو اس نے فیاشیئنز کو متاثر کرنے اور انہیں اپنے وطن واپس پہنچانے پر آمادہ کرنے کے لیے سنائیں، وہ غالباً اس علامتی تعبیر کو سب سے زیادہ قبول کریں گے۔

شاید اوڈیسیئس درحقیقت جسمانی عفریتوں سے نہیں لڑ رہا تھا، بلکہ اپنے ہی اندر کے خوف، کمزوریوں اور نفسیاتی کشمکش کا سامنا کر رہا تھا۔ اور ان میں سے بہت سی اندرونی برائیاں اور آزمائشیں بظاہر جتنی بے ضرر دکھائی دیتی تھیں، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور پیچیدہ ثابت ہوتی تھیں۔

جیسا کہ ایملی ولسن نے اپنے ترجمے میں لکھا ہے، اوڈیسیئس ’ایک پیچیدہ انسان‘' ہے۔ وہ پیچیدہ اور گرفت میں نہ آنے والا اس لیے ہے کیونکہ وہ فریب اور چالاکی کا ماہر ہے۔ حالات کے مطابق وہ اپنی کہانی بھی بدل لیتا ہے اور اپنی شناخت بھی۔

ڈیزی ڈن ایک ایوارڈ یافتہ کلاسیکی علوم کی ماہر اور مصنفہ ہیں۔ ان کی کتابوں میں دا مسنگ تھریڈ اور دا لیڈی برڈ ایکسپرٹ بُک آن ہومر شامل ہیں۔

اوڈیسیئس کی یہی صلاحیت، حقیقت اور افسانے، سچ اور فریب، بہادری اور کمزوری کے درمیان حرکت کرنا، اسے روایتی ہیروز سے مختلف بناتی ہے اور اسی وجہ سے آج بھی ادب کے سب سے انسانی اور دلچسپ کرداروں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔

ذہین، تخلیقی اور خامیوں سے بھرپور، اوڈیسیئس بالآخر قدیم یونانی دنیا کا سب سے زیادہ انسانی ہیرو بن کر سامنے آتا ہے۔ خواتین کی دلکشی اور فیاشیئنز جیسی شاندار دنیاؤں کی کشش سے متاثر ہونے کی اس کی فطرت ہی اس کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی

یہی وجہ ہے کہ اس کا کردار آج بھی ہمارے دل و دماغ سے بات کرتا ہے اور اتنی صدیاں گزرنے کے باوجود اپنی معنویت برقرار رکھ
_____________________________________________۔

اوڈیسی خلاصہ

اوڈیسی: ہومر کی لازوال داستانِ سفرہومر کی لکھی ہوئی "اوڈیسی" محض ایک کہانی نہیں، بلکہ انسانی عزم، حوصلے اور لازوال محبت کی ایک شاندار رزمیہ داستان ہے۔ یہ کہانی جنگِ ٹرائے کے عظیم یونانی ہیرو اور ایتھاکا کے بادشاہ، اوڈیسیئس کے گرد گھومتی ہے، جسے جنگ جیتنے کے بعد اپنے وطن واپس پہنچنے میں پورے دس سال لگ گئے۔جنگ ختم ہوتے ہی اوڈیسیئس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ وطن کا رخ کیا، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ راستے میں سمندری دیوتا پوسائڈن کی ناراضگی نے ان کا راستہ روک لیا۔ سمندر کی بپھری ہوئی لہروں نے انہیں منزل سے دور اجنبی جزیروں پر بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اس طویل اور پرخطر سفر کے دوران اوڈیسیئس کا سامنا انسانی تاریخ کے خوفناک ترین جادوئی کرداروں سے ہوا۔ اس نے ایک آنکھ والے آدم خور دیو "سائکلوپس" کو اپنی ذہانت سے اندھا کیا، جادوگرنی "سرسی" کے سحر کو توڑا جو انسانوں کو جانور بنا دیتی تھی، اور "سائرنز" کی ان جادوئی آوازوں سے خود کو بچایا جو ملاحوں کو موت کے کنویں میں دھکیل دیتی تھیں۔دوسری طرف، اوڈیسیئس کے اپنے وطن ایتھاکا میں حالات انتہائی کشیدہ تھے۔ اس کی غیر موجودگی کو بیس سال گزر چکے تھے اور سب نے اسے مردہ فرض کر لیا تھا۔ محل پر خودغرض اور لالچی سرداروں نے قبضہ کر رکھا تھا، جو اوڈیسیئس کی وفادار بیوی "پینلوپی" سے زبردستی شادی کرنا اور تخت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پینلوپی نے کمالِ ذہانت سے کام لیا اور انہیں ٹالنے کے لیے ایک کفن بننا شروع کیا، جسے وہ دن بھر بنتی اور رات کو چپکے سے ادھیڑ دیتی۔ ادھر ان کا بیٹا "ٹیلیماکس" اپنے باپ کی تلاش میں سمندروں کی خاک چھان رہا تھا۔آخر کار، دیوتاؤں کے رحم و کرم پر اوڈیسیئس کے مصائب کا خاتمہ ہوا اور وہ تن تنہا، اپنے تمام ساتھیوں کو کھو کر، ایک فقیر کے بھیس میں اپنے وطن واپس پہنچا۔ محل میں اس نے اپنی شناخت چھپائے رکھی۔ پینلوپی نے پیچھا چھڑانے کے لیے سرداروں کے سامنے ایک شرط رکھی کہ جو کوئی اوڈیسیئس کی بھاری کمان پر چلہ چڑھا کر بارہ کلہاڑیوں کے سوراخوں سے تیر گزارے گا، وہ اسی سے شادی کرے گی۔ تمام دعویدار ناکام رہے، لیکن فقیر کے بھیس میں موجود اوڈیسیئس نے کمان اٹھائی اور ایک ہی وار میں نشانہ سادھ لیا۔اس کے بعد اوڈیسیئس نے اپنے بیٹے ٹیلیماکس کے ساتھ مل کر تمام غاصب سرداروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، محل پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کیا اور بیس سال کے طویل ترین انتظار کے بعد اپنی وفادار بیوی پینلوپی سے ملا۔ یہ داستان ثابت کرتی ہے کہ انسان کتنا ہی بے بس کیوں نہ ہو، اگر اس کے پاس ارادہ، ذہانت اور امید ہو، تو وہ کائنات کی بڑی سے بڑی بلا اور بدترین حالات کو بھی شکست دے سکتا ہے۔

#سیکسسیکس، حکمت عملی اور طاقت کی داستان خواتین نے اوڈیسی کی کہانی کو کیسے نیا رخ دیا۔

اوڈیسی محض بہادری اور کارناموں کی ایک سادہ کہانی نہیں بلکہ سیکس، حکمت عملی اور طاقت کے پیچیدہ تعلقات کی ایک ایسی داستان ہے، جو آج بھی اپنی معنویت اور کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔

یونانی شاعر ہومر کی 2800 سال پرانی نظم، ’اوڈیسی‘ جسے کرسٹوفر نولین نے اب بڑی سکرین کے لیے ڈھالا ہے، محض بہادری کی ایک سادہ کہانی نہیں۔

اس کا مرکزی کردار اوڈیسیئس اگرچہ ایک مرد ہیرو ہے، لیکن اس کی داستان اُن خواتین، حوروں، جادوگرنیوں، دیویوں اور پراسرار کرداروں کی چالاکیوں، تدبیروں اور کشش سے تشکیل پاتی ہے، جن سے وہ اپنے سفر کے دوران ملتا ہے۔ یہی عناصر اس کہانی کو غیر معمولی طور پر انسانی اور حقیقت کے قریب محسوس کرواتے ہیں۔

یونانی نظم اوڈیسی افسانوی یونانی جنگجو اوڈیسیئس کی اس جدوجہد کی داستان بیان کرتی ہے، جس میں وہ ٹروجن جنگ میں برسوں لڑنے کے بعد اپنی سلطنت ایتھاکا واپس پہنچنے کی کوشش کرتا ہے۔

گھر واپسی کا یہ خطرناک سفر ایک دہائی پر محیط ہے اور اسے بے شمار آزمائشوں، خطرات اور مہمات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی داستان کو معروف ہدایت کار کرسٹوفر نولان نے بڑی سکرین کے لیے ڈھالا ہے، جس میں میٹ ڈیمن سمیت متعدد مشہور اداکار شامل ہیں۔

اس میں مرکزی کردار اگرچہ ایک مرد ہے، لیکن اوڈیسی بنیادی طور پر ایسی داستان ہے جس میں خواتین کا کردار غالب نظر آتا ہے۔ اپنے وطن واپس لوٹنے اور اپنی سلطنت دوبارہ حاصل کرنے کی اوڈیسیئس کی جدوجہد ہر موڑ پر ان خواتین، حوروں اور دیویوں کی تدبیروں، چالاکیوں اور کشش سے متاثر ہوتی ہے، جن سے اس کی راستے میں ملاقات ہوتی ہے۔

اوڈیسی محض بہادری اور کارناموں کی ایک سادہ کہانی نہیں، بلکہ سیکس، حکمتِ عملی اور طاقت کے پیچیدہ تعلقات کی ایک ایسی داستان ہے، جو آج بھی اپنی معنویت اور کشش برقرار رکھے ہوئے ہے۔

نظم اوڈیسی کا آغاز ’ان میڈیا ریس‘ کے انداز میں ہوتا ہے، یعنی کہانی بیچ سے شروع ہوتی ہے۔ اس وقت اوڈیسیئس جزیرۂ اوگیجیا کے ساحل پر بیٹھا رو رہا ہے، جہاں وہ گذشتہ سات برس سے حور کالیپسو کے ساتھ مقیم ہے۔

اگرچہ اوڈیسیئس نے ٹروجن جنگ کے میدان میں اپنی بہادری کا لوہا منوایا تھا، لیکن اس مرحلے پر وہ مکمل طور پر بے بس دکھائی دیتا ہے۔ اس تاثر کو یہ حقیقت مزید مضبوط بناتی ہے کہ اسے جزیرے سے رہائی دلانے کے لیے دیوتاؤں کی ایک کونسل کو مداخلت کرنا پڑتی ہے۔

لیکن اوڈیسیئس دراصل کالیپسو کا اتنا قیدی نہیں جتنا اپنے آپ کا ہے۔ ایک جدید قاری بجا طور پر اس کی اِس کیفیت، یعنی آگے بڑھنے اور اپنے وطن واپس پہنچنے میں ناکامی کو جنگی صدمے کی علامت کے طور پر دیکھ سکتا ہے۔

تاہم اس سے کالیپسو کے اس پر اثرورسوخ کی اہمیت کم نہیں ہوتی۔ اوڈیسیئس خود حور کے سامنے اعتراف کرتا ہے کہ خوبصورتی کے اعتبار سے اس کی بیوی پینیلوپی اس کا مقابلہ نہیں کر سکتی، کیونکہ پینیلوپی محض ایک فانی انسان ہے۔

یوں کہا جا سکتا ہے کہ پینیلوپی ایک ایسا ’متحرک ہدف‘ ہے جس کی کامیابی یا ناکامی براہِ راست اوڈیسیئس کی اس صلاحیت پر اثر ڈالتی ہے کہ آیا وہ واپس آ کر اپنی بادشاہت دوبارہ حاصل کر سکے گا یا نہیں۔
اوڈیسیئس کی بیوی پینیلوپی اپنے شوہر کی طویل غیر موجودگی کے دوران ہرگز ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی نہیں رہی۔ اس نے بہادری اور غیر معمولی ذہانت کے ساتھ ان 108 خواستگاروں کی پیش قدمی کا مقابلہ کیا، جو اس سے شادی کرکے ایتھاکا کا نیا بادشاہ بننا چاہتے تھے اور اسی مقصد کے لیے محل میں جمع ہو گئے تھے۔

اپنے سسر لائرٹیز کے لیے کفن بُننے اور پھر رات کے وقت اسی بُنے ہوئے کپڑے کو ادھیڑ دینے کا پینیلوپی کا منصوبہ اس نظم کے سب سے یادگار واقعات میں شامل ہے۔ اس حکمتِ عملی کے ذریعے وہ خواستگاروں کو مسلسل ٹالتی رہی اور وقت حاصل کرتی رہی۔

۔ مردوں کو بہکانے والی‘ جل پریوں کی افسانوی کہانی کیسے شروع ہوئی

۔ہرکیولیس کی کہانی: گود لیا بھالو جو بین الاقوامی سٹار بنا اور اپنے مالک کے پہلو میں دفن ہے

۔غیات الدین بلبن: اس غلام کی کہانی جو دلی کا سلطان بنا

۔محبت کی وہ کہانی جو ایک ڈراؤنی گیم سے شروع ہوئی

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ دیوتاؤں میں اوڈیسیئس کی سب سے بڑی حامی ایک دیوی ایتھینا ہے، جو حکمتِ عملی اور دانش کی دیوی ہے، ٹرائے کی جنگ میں بھی اس کی مدد کرتی رہی اور اسی نے اس کی وطن واپسی کی کوششوں کا آغاز کیا۔

بعد ازاں جب اوڈیسیئس فیاشیئنز کی سرزمین پر انتہائی کمزور حالت میں پہنچتا ہے، تو ایتھینا بڑی چابک دستی سے اس کی نجات کا انتظام کرتی ہے۔ وہ نہ صرف اس کی کمزوری کو چھپاتی ہے بلکہ اس کے حلیے کو بھی زیادہ پرکشش اور باوقار بنا دیتی ہے، یہاں تک کہ وہ کسی دیوتا جیسا دکھائی دینے لگتا ہے اور ان کی مشہور مہمان نوازی کا مستحق محسوس ہوتا ہے۔

یہی مدد اوڈیسیئس کو سمندری سفر میں ماہر فیاشیئنز کا اعتماد جیتنے میں کامیاب بناتی ہے۔ بعد میں وہ اسے پناہ دیتے ہیں، قیمتی تحائف فراہم کرتے ہیں اور ایتھاکا واپس پہنچنے کے لیے ایک محفوظ سفر کا انتظام بھی کرتے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ایتھینا جب بھی اوڈیسیئس یا اس کے بیٹے ٹیلیماکس کے سامنے ظاہر ہوتی ہے، تو اکثر مرد کا بھیس اختیار کرتی ہے۔ مثال کے طور پر وہ ایتھاکا کے ایک دوست بادشاہ مینٹیز اور فیاشیئنز کے ایک مرد ایلچی کی صورت میں سامنے آتی ہے۔

ایتھینا یہ بخوبی جانتی ہے کہ زمین پر ظاہری اقتدار مردوں کے ہاتھ میں ہوتا ہے، لیکن واقعات کی سمت کا تعین اکثر خواتین اپنی ذہانت، تدبیر اور پردے کے پیچھے اختیار کی جانے والی حکمتِ عملیوں کے ذریعے کرتی ہیں۔

فیاشیئنز کی سرزمین پر پہنچنے کے بعد اوڈیسیئس اپنے شاہی میزبانوں کو اب تک پیش آنے والی مہمات کی داستان سناتا ہے، جن میں لوٹس کھانے والوں سے لے کر سائیکلوپس تک کے واقعات شامل ہیں۔ تاہم ان سفرناموں میں جن افسانوی خواتین سے اس کی ملاقات ہوتی ہے، ان کی کہانیاں اکثر سب سے زیادہ پراسرار اور خوف انگیز محسوس ہوتی ہیں، کیونکہ ان کی ظاہری شکل و صورت بظاہر خطرناک نہیں ہوتی۔

اس کے سفر میں موجود خواتین کرداروں پر ایک نظر ڈالنا ہی کافی ہے۔ بظاہر نرم، دلکش یا بےضرر دکھائی دینے کے باوجود ان میں سے کئی کردار غیر معمولی طاقت اور اثرورسوخ رکھتے ہیں اور اوڈیسیئس کی تقدیر پر گہرا اثر ڈالتے ہیں۔ یہی تضاد ان خواتین کی موجودگی کو اوڈیسی کی سب سے دلچسپ اور پُراسرار خصوصیات میں سے ایک بنا دیتا ہے۔

مثال کے طور پر اوڈیسیئس اپنے میزبانوں کو کھلے دل سے بتاتا ہے کہ وہ سائرنز کا نغمہ سننے کے لیے بے تاب تھا۔ سائرنز مغربی سمندر میں ایک دور افتادہ اور خطرناک چٹانی جزیرے پر رہتی تھیں

بعد کی روایات اور یونانی فن میں سائرنز کو کبھی پرندہ نما خواتین اور کبھی جل پریوں کی صورت میں دکھایا گیا، لیکن اوڈیسیئس ان کی ظاہری شکل کے بجائے ان کے شہد جیسی میٹھی آواز کا ذکر کرتا ہے، جس میں ایسی کشش تھی کہ وہ مردوں کو اپنی طرف کھینچ کر بالآخر ان کی ہلاکت کا سبب بن جاتی تھیں۔

سائرنز کے سامنے ایک وسیع سبزہ زار پھیلا ہوا تھا، جہاں ان بے شمار مردوں کی ہڈیاں بکھری پڑی تھیں جو ماضی میں ان کا نغمہ سننے کے لیے رکے تھے۔ اوڈیسیئس اس خطرے کا سامنا کرنے پر آمادہ تھا۔ اس نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ اسے جہاز کے مستول سے باندھ دیں تاکہ وہ اس پراسرار اور مسحور کن موسیقی کے تعاقب میں سمندر میں نہ کود سکے۔

سائرنز کی آواز جتنی دلکش اور حسین تھی، وہ اتنی ہی جان لیوا بھی تھیں۔

سرسے ایک اور دلکش مگر خطرناک کردار تھیں۔ جو لوگ پہلی بار ان سے ملتے، وہ شاید انھیں خطرہ نہ سمجھتے، لیکن سائرنز کی طرح ان کی نرم اور دل فریب شخصیت کے پیچھے غیر معمولی جادوئی طاقتیں چھپی ہوئی تھیں۔ ہومر نے انھیں ایک جادوگرنی کے طور پر پیش کیا ہے۔ ان کے پاس ایسی جڑی بوٹیاں اور معجونیں تھیں، جن کی مدد سے وہ اوڈیسیئس کے ساتھیوں کو سوروں میں تبدیل کر دیتی تھیں۔

تاہم اوڈیسیئس کے سفر میں نظر آنے والی دیگر بہت سی عجیب و غریب مخلوقات کی طرح سرسے صرف رکاوٹ نہیں بنتیں بلکہ مدد بھی فراہم کرتی ہیں۔ اگرچہ وہ اوڈیسیئس کو اپنا عاشق بنا لیتی ہیں، لیکن یہی سرسے انھیں عالمِ ارواح تک جانے کے قابل بھی بناتی ہیں، جہاں ان کی ملاقات پیش گو ٹائریسیاس سے ہوتی ہے۔

ٹائریسیاس اوڈیسیئس کو ایتھاکا واپسی کے سفر کے بارے میں اہم مشورے اور رہنمائی فراہم کرتا ہے۔

اس داستان کا مستقل پیغام یہ ہے کہ ان نسوانی عفریتوں اور دلکش حوروں کو محض نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کامیابی حاصل کرنے کے لیے اوڈیسیئس کو ایک حد تک ان کے اثر کو قبول کرنا پڑتا ہے، لیکن اتنا نہیں کہ وہ مکمل طور پر ان کے قابو میں آ جائے۔

سفر کے دوران اس سے ملنے والے کردار بار بار اس کے عزم، خود پر قابو پانے کی صلاحیت اور اعتدال پسندی کے امتحان لیتے ہیں۔ اعتدال وہ خوبی تھی، جسے قدیم یونانی تہذیب میں نہایت اہم اور قابلِ ستائش سمجھا جاتا تھا۔

جو قارئین اوڈیسیئس کی مہمات کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ یہ محض اس کی گھڑی ہوئی کہانیاں تھیں، ایسی داستانیں جو اس نے فیاشیئنز کو متاثر کرنے اور انہیں اپنے وطن واپس پہنچانے پر آمادہ کرنے کے لیے سنائیں، وہ غالباً اس علامتی تعبیر کو سب سے زیادہ قبول کریں گے۔

شاید اوڈیسیئس درحقیقت جسمانی عفریتوں سے نہیں لڑ رہا تھا، بلکہ اپنے ہی اندر کے خوف، کمزوریوں اور نفسیاتی کشمکش کا سامنا کر رہا تھا۔ اور ان میں سے بہت سی اندرونی برائیاں اور آزمائشیں بظاہر جتنی بے ضرر دکھائی دیتی تھیں، حقیقت میں اس سے کہیں زیادہ خطرناک اور پیچیدہ ثابت ہوتی تھیں۔

جیسا کہ ایملی ولسن نے اپنے ترجمے میں لکھا ہے، اوڈیسیئس ’ایک پیچیدہ انسان‘' ہے۔ وہ پیچیدہ اور گرفت میں نہ آنے والا اس لیے ہے کیونکہ وہ فریب اور چالاکی کا ماہر ہے۔ حالات کے مطابق وہ اپنی کہانی بھی بدل لیتا ہے اور اپنی شناخت بھی۔

ڈیزی ڈن ایک ایوارڈ یافتہ کلاسیکی علوم کی ماہر اور مصنفہ ہیں۔ ان کی کتابوں میں دا مسنگ تھریڈ اور دا لیڈی برڈ ایکسپرٹ بُک آن ہومر شامل ہیں۔

اوڈیسیئس کی یہی صلاحیت، حقیقت اور افسانے، سچ اور فریب، بہادری اور کمزوری کے درمیان حرکت کرنا، اسے روایتی ہیروز سے مختلف بناتی ہے اور اسی وجہ سے آج بھی ادب کے سب سے انسانی اور دلچسپ کرداروں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔

ذہین، تخلیقی اور خامیوں سے بھرپور، اوڈیسیئس بالآخر قدیم یونانی دنیا کا سب سے زیادہ انسانی ہیرو بن کر سامنے آتا ہے۔ خواتین کی دلکشی اور فیاشیئنز جیسی شاندار دنیاؤں کی کشش سے متاثر ہونے کی اس کی فطرت ہی اس کی طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی

یہی وجہ ہے کہ اس کا کردار آج بھی ہمارے دل و دماغ سے بات کرتا ہے اور اتنی صدیاں گزرنے کے باوجود اپنی معنویت برقرار رکھے ہوئے ہے۔

BBC URDU
_____________________________________________۔

اوڈیسی خلاصہ

اوڈیسی: ہومر کی لازوال داستانِ سفرہومر کی لکھی ہوئی "اوڈیسی" محض ایک کہانی نہیں، بلکہ انسانی عزم، حوصلے اور لازوال محبت کی ایک شاندار رزمیہ داستان ہے۔ یہ کہانی جنگِ ٹرائے کے عظیم یونانی ہیرو اور ایتھاکا کے بادشاہ، اوڈیسیئس کے گرد گھومتی ہے، جسے جنگ جیتنے کے بعد اپنے وطن واپس پہنچنے میں پورے دس سال لگ گئے۔جنگ ختم ہوتے ہی اوڈیسیئس نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ وطن کا رخ کیا، لیکن قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ راستے میں سمندری دیوتا پوسائڈن کی ناراضگی نے ان کا راستہ روک لیا۔ سمندر کی بپھری ہوئی لہروں نے انہیں منزل سے دور اجنبی جزیروں پر بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیا۔ اس طویل اور پرخطر سفر کے دوران اوڈیسیئس کا سامنا انسانی تاریخ کے خوفناک ترین جادوئی کرداروں سے ہوا۔ اس نے ایک آنکھ والے آدم خور دیو "سائکلوپس" کو اپنی ذہانت سے اندھا کیا، جادوگرنی "سرسی" کے سحر کو توڑا جو انسانوں کو جانور بنا دیتی تھی، اور "سائرنز" کی ان جادوئی آوازوں سے خود کو بچایا جو ملاحوں کو موت کے کنویں میں دھکیل دیتی تھیں۔دوسری طرف، اوڈیسیئس کے اپنے وطن ایتھاکا میں حالات انتہائی کشیدہ تھے۔ اس کی غیر موجودگی کو بیس سال گزر چکے تھے اور سب نے اسے مردہ فرض کر لیا تھا۔ محل پر خودغرض اور لالچی سرداروں نے قبضہ کر رکھا تھا، جو اوڈیسیئس کی وفادار بیوی "پینلوپی" سے زبردستی شادی کرنا اور تخت حاصل کرنا چاہتے تھے۔ پینلوپی نے کمالِ ذہانت سے کام لیا اور انہیں ٹالنے کے لیے ایک کفن بننا شروع کیا، جسے وہ دن بھر بنتی اور رات کو چپکے سے ادھیڑ دیتی۔ ادھر ان کا بیٹا "ٹیلیماکس" اپنے باپ کی تلاش میں سمندروں کی خاک چھان رہا تھا۔آخر کار، دیوتاؤں کے رحم و کرم پر اوڈیسیئس کے مصائب کا خاتمہ ہوا اور وہ تن تنہا، اپنے تمام ساتھیوں کو کھو کر، ایک فقیر کے بھیس میں اپنے وطن واپس پہنچا۔ محل میں اس نے اپنی شناخت چھپائے رکھی۔ پینلوپی نے پیچھا چھڑانے کے لیے سرداروں کے سامنے ایک شرط رکھی کہ جو کوئی اوڈیسیئس کی بھاری کمان پر چلہ چڑھا کر بارہ کلہاڑیوں کے سوراخوں سے تیر گزارے گا، وہ اسی سے شادی کرے گی۔ تمام دعویدار ناکام رہے، لیکن فقیر کے بھیس میں موجود اوڈیسیئس نے کمان اٹھائی اور ایک ہی وار میں نشانہ سادھ لیا۔اس کے بعد اوڈیسیئس نے اپنے بیٹے ٹیلیماکس کے ساتھ مل کر تمام غاصب سرداروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا، محل پر دوبارہ اپنا کنٹرول قائم کیا اور بیس سال کے طویل ترین انتظار کے بعد اپنی وفادار بیوی پینلوپی سے ملا۔ یہ داستان ثابت کرتی ہے کہ انسان کتنا ہی بے بس کیوں نہ ہو، اگر اس کے پاس ارادہ، ذہانت اور امید ہو، تو وہ کائنات کی بڑی سے بڑی بلا اور بدترین حالات کو بھی شکست دے سکتا ہے۔

#سیکس

*💦 A British Romantic Drama Film**🍿 Lady Chatterley's Lover (2022)*🎧 Hindi English Dual Audio📚 IMDb Rating: 6.6 / 10----...
17/07/2026

*💦 A British Romantic Drama Film*

*🍿 Lady Chatterley's Lover (2022)*
🎧 Hindi English Dual Audio
📚 IMDb Rating: 6.6 / 10
----------------------------------------
یہ 2022 کی ایک رومانوی ڈرامہ فلم ہے، جو برطانوی ادیب ڈی۔ ایچ۔ لارنس کے شہرۂ آفاق ناول پر مبنی ہے۔
فلم کی ہدایت کاری لورا ڈی کلرمونٹ-ٹونیر نے کی ہے، جبکہ مرکزی کرداروں میں ایما کورن اور جیک او کونل نے یادگار اداکاری کی ہے۔
یہ فلم محبت، تنہائی، جذباتی آزادی اور سماجی پابندیوں جیسے موضوعات کو نہایت خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔

کہانی کونسٹینس (کونی) چیٹرلے کی ہے، جو ایک امیر مگر جذباتی طور پر تنہا عورت ہے۔ اس کے شوہر سر کلفورڈ چیٹرلے جنگ سے معذور ہو کر واپس آتے ہیں، جس کے بعد ان کی ازدواجی زندگی سرد مہری کا شکار ہو جاتی ہے۔

اسی دوران کونی کی ملاقات اپنے شوہر کی جاگیر کے جنگلوں کی دیکھ بھال کرنے والے اولیور میلرز سے ہوتی ہے۔ ابتدا میں دونوں کے درمیان صرف چند ملاقاتیں ہوتی ہیں، مگر وقت کے ساتھ یہ تعلق ایک گہری محبت میں بدل جاتا ہے۔
میلرز کی سادگی، خلوص اور فطرت سے قربت کونی کی زندگی میں نئی روشنی لے آتی ہے۔

لیکن ایک امیر گھرانے کی خاتون اور ایک عام ملازم کے درمیان یہ رشتہ اُس دور کے سماجی اصولوں کے خلاف تھا۔ جب ان کی محبت کی خبر پھیلتی ہے تو کونی کو اپنی عزت، شادی اور معاشرتی مقام کے درمیان ایک مشکل فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔

فلم کا اختتام امید اور محبت کا پیغام دیتا ہے، جہاں دونوں کردار تمام رکاوٹوں کے باوجود ایک نئی زندگی کی امید کے ساتھ اپنے مستقبل کی طرف قدم بڑھاتے ہیں۔

بالی ووڈ میں کچھ اداکار ایسے ہوتے ہیں جو ہر فلم میں آتے ہیں اور فلم ختم ہونے کے بعد آپ کو یاد رہ جاتے ہیں، بومن ایرانی ا...
09/07/2026

بالی ووڈ میں کچھ اداکار ایسے ہوتے ہیں جو ہر فلم میں آتے ہیں اور فلم ختم ہونے کے بعد آپ کو یاد رہ جاتے ہیں، بومن ایرانی ایسے ہی اداکار ہیں۔ 2 دسمبر 1959 کو ممبئی کے ایک پارسی زرتشتی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ باپ کا انتقال بومن کی پیدائش سے چھ مہینے پہلے ہو گیا تھا، یعنی زندگی نے پہلا دھکہ پیدا ہونے سے بھی پہلے دے دیا۔ تین بڑی بہنیں شیریں، شناز اور روشن تھیں اور ماں نے اکیلے سب کو پالا۔

سینٹ میری اسکول ممبئی سے پڑھے اور مِتھی بائی کالج سے گریجویشن کی۔ بچپن سے ہی بومن میں ڈسلیکسیا یعنی لکھنے پڑھنے کی دشواری، ADHD اور تتلاہٹ تھی۔ اسکول میں بچے مذاق اڑاتے تھے لیکن انہوں نے ہار نہیں مانی اور انہی کمزوریوں پر کام کر کے اتنی زبانیں سیکھیں کہ آج انگریزی، ہندی، مراٹھی، گجراتی اور بنگالی روانی سے بولتے ہیں۔ کالج کے بعد 1982 سے 1985 تک لائف انشورنس کارپوریشن آف انڈیا میں کام کیا۔ ساتھ میں داراد میں ایک "انکل چپس" فرنچائز بھی کھولی لیکن وہ نقصان میں گئی۔ پھر تاج محل پیلس ہوٹل میں بطور ویٹر کام کیا اور وہاں ملنے والی ٹِپس سے کیمرہ خریدا اور فوٹوگرافی شروع کی۔ اسکولوں میں فٹ بال اور کرکٹ میچوں کی تصویریں کھینچتے اور 20 سے 30 روپے میں بیچتے۔

فوٹوگرافی کے ساتھ ساتھ اداکاری کا شوق بھی تھا اور 1981 سے 1983 تک اداکاری کے استاد ہنسراج سدھیا سے باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ برطانوی تھیٹر کا گہرا مطالعہ کیا اور مختلف لہجے سیکھے۔ شادی کی کہانی بھی بہت دلچسپ ہے۔ ایک بار چپس خریدنے گئے تو وہاں زینوبیا سے ملاقات ہوئی اور یہ ملاقات 1985 میں شادی میں بدل گئی۔ دو بیٹے ہیں، دانیش اور کیوز ایرانی، اور کیوز خود اداکار بن چکے ہیں۔

پہلی فلم 2001 میں "ایوری باڈی سیز آئی ایم فائن" تھی لیکن اصل دھماکہ 2003 میں "منا بھائی ایم بی بی ایس" سے ہوا جس میں **ڈاکٹر جے سی استھانا** کا کردار ادا کیا جو میڈیکل کالج کا سخت ڈین تھا۔ یہ وہ ڈین ہے جو اتنا سخت ہے کہ دیکھتے ہی ریڑھ کی ہڈی سیدھی ہو جاتی ہے لیکن جب منا بھائی اسے "جادو کی جھپی" دیتا ہے تو اس پتھر میں بھی انسان نظر آتا ہے۔ اس فلم میں پہلا فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین مزاح اداکار ملا اور یہاں ایک حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ جب بومن ایرانی نے "منا بھائی ایم بی بی ایس" میں کام کیا تو وہ 44 سال کے تھے یعنی انہوں نے 44 سال کی عمر میں بالی ووڈ میں اپنی پہچان بنائی۔ یہ بات ہر اس شخص کے لیے سبق ہے جو سوچتا ہے کہ بہت دیر ہو گئی۔

اس کے بعد "مین ہوں نا"، "ویر زارا"، "لکشیا" سبھی 2004 میں آئیں۔ 2005 میں "نو انٹری" اور 2006 میں "لگے رہو منا بھائی" میں ایک بار پھر یادگار کردار ادا کیا۔ اسی سال "ڈان" آئی جس میں مکمل ولن کا کردار کیا اور "کھوسلہ کا گھوسلا" میں ایک ایسے ولن کا کردار کیا جو کامیڈی بھی ہے اور ڈرامائی بھی۔ 2009 میں "تھری ایڈیٹس" آئی جس میں **ڈاکٹر ویرو ساہستراbuddhe** کا کردار ادا کیا جنہیں طلبہ طنز سے وائرس کہتے تھے اور جو انجینئرنگ کالج کے سخت گیر ڈائریکٹر تھے۔ یہ کردار منا بھائی والے ڈاکٹر استھانا سے بالکل الگ تھا، یہاں ایک ایسا شخص تھا جس کی سختی کے پیچھے ایک ٹوٹا ہوا باپ چھپا ہوا تھا اور جب یہ راز کھلتا ہے تو دیکھنے والے کا دل بھر آتا ہے۔ اس فلم کے لیے فلم فیئر بہترین معاون اداکار کا ایوارڈ ملا۔

2011 میں "ڈان 2"، 2013 میں "جولی ایل ایل بی"، 2014 میں "پی کے" اور "ہیپی نیو ایئر" جس میں شاہ رخ خان کے ساتھ رہے، 2015 میں "دلوالے"، 2018 میں "سنجو"، 2022 میں سوراج بڑجاتیہ کی "اونچائی" جس میں بہت پختہ اور اثرانگیز اداکاری کی اور 2023 میں شاہ رخ خان کی "دنکی" میں بھی نظر آئے۔ 2025 میں انہوں نے اپنی پہلی فلم "دی مہتا بوائز" ڈائریکٹ کی جس میں خود بھی کردار ادا کیا اور فلم تنقیدی حلقوں میں بہت سراہی گئی۔ جنوری 2019 میں اپنی پروڈکشن کمپنی "ایرانی موویٹون" بھی قائم کی۔

بومن ایرانی کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ انہوں نے کبھی صرف ایک کردار کو اپنی پہچان نہیں بنایا۔ سخت ڈین بھی کیا، مزاحیہ والد بھی، خوفناک ولن بھی اور سنجیدہ معاون کردار بھی۔ ایک اداکار جس نے ویٹر کی نوکری سے، فوٹوگرافی سے، ڈسلیکسیا اور تتلاہٹ کو شکست دے کر 44 سال کی عمر میں پہچان بنائی اور پھر 100 سے زیادہ فلموں میں وہ کمال دکھایا جو بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے،

ڈوئل آڈیو  ہندی انگلش  ہر تیسری خبر مجھے اس فلم کی مل رہی ہے تو حیرانی کے عالم میں مجھے گوگل کا سہارا لینا پڑا کہ آخر ای...
03/07/2026

ڈوئل آڈیو
ہندی انگلش

ہر تیسری خبر مجھے اس فلم کی مل رہی ہے تو حیرانی کے عالم میں مجھے گوگل کا سہارا لینا پڑا کہ آخر ایسا کیا ہے جو ہر کوئی اسکی بات کر رہا ہے مگر گوگل سے جو انفارمیشن مجھے ملی اسکے بعد میں بھی دنگ رہ گیا ۔۔۔۔۔۔
اس فلم کو ایک ملین ڈالرز کے بجٹ میں بنایا گیا ہے جو پاکستانی قریباً ستائیس کروڑ روپے بنتے ہیں اور اس فلم نے اپنے بیس دن میں قریباً ڈیڑھ سو ملین ڈالرز کا ریکارڈ پھاڑ بزنس کرلیا ہے یعنی اپنے بجٹ سے ڈیڑھ سو گنا زیادہ منافع کما لیا ہے یہ ڈیڑھ سو ملین ڈالرز پاکستانی قریباً چار ہزار کروڑ روپے سے بھی زیادہ بنتے ہیں ۔ ہے ناں شاکنگ نیوز ؟؟
ایک اور بات یہ بھی کہ اس فلم کی جتنی ہائپ بن چکی ہے اس کو ابھی تک تھیٹر سے ہٹایا نہیں گیا گوگل کی مانیں تو یہ فلم اپنے او ٹی ٹی رلیز سے پہلے ایک سو ملین ڈالرز مزید کمائی کرے گی اور مزے کی بات یہ کوئی مصالحہ فلم نہیں ہے بلکہ ایک ہارر مووی ہے جسکی ریٹنگ بھی چھپر پھاڑ ہے اور کمائی بھی ۔

اس فلم کی ترقی سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اگر آپ کم اثاثوں میں اچھا مال تیار کرنے والے کاریگر ہیں تو آپ کو فلم کے پروموشن کے لئے کروڑوں خرچ نہیں کرنے پڑتے بلکہ لوگ خود اس فلم کو وہ مقام دلاتے ہیں کہ تھیٹر والے اس فلم کو ہٹانے کا سوچ بھی نہیں سکتے ۔

*"ہیما مالنی"**کس شاعر کی غزل، ڈریم گرل!**کسی جھیل کا کنول، ڈریم گرل!*کبھی کبھی کسی فلمی شخصیت پر لکھنا بہت ہی مشکل ہو ج...
24/06/2026

*"ہیما مالنی"*
*کس شاعر کی غزل، ڈریم گرل!*
*کسی جھیل کا کنول، ڈریم گرل!*

کبھی کبھی کسی فلمی شخصیت پر لکھنا بہت ہی مشکل ہو جاتا ہے۔۔۔ جب کسی ایک ہی شخصیت کے ڈھیروں روپ سامنے ہوں تو تحریر کو کہاں سے شروع کریں۔۔۔؟؟ یہ فیصلہ کرنا کافی دشوار ہوتا ہے!!

جب چھوٹے تھے تو "ہیما مالنی" کو بس ایک اچھی اداکارہ ہی مانتے تھے۔۔۔ وقت کے ساتھ پتا چلا کہ جس کو محض ایک اداکارہ سمجھتے ہیں، وہ تو ڈائریکٹر بھی ہے، پروڈیوسر بھی ہے، ایک لکھاری بھی ہے، ایک سیاستدان بھی ہے اور بھرت ناٹیم کلاسیکی رقص کا ایک انسٹیٹیوٹ بھی ہے!!!

کہتے ہیں کے شری راج کپور نے ہیما مالنی جیسے ہیرے کو 1968 میں فلم "سپنوں کے سوداگر" میں متعارف کروایا اور ہیما مالنی نے فلم "دل آشنا ہے" میں بولی ووڈ کے بادشاہ "شاہ رخ خان" کو دنیا کے آگے پیش کرکے اس بات کا حق اد کر دیا!!
1992 میں ہیما مالنی نے بطور ڈائریکٹر اپنی پہلی فلم "دل آشنا ہے" بنائی اور شاہ رخ خان کی قابلیت پر بھروسہ کرتے ہوئے ان کو بطور ہیرو کاسٹ کیا!!
ان دنوں میں شاہ رخ خان کی واحد شناخت صرف دور دھرشن ڈرامہ "فوجی" ہی تھا۔۔۔

یہ قصہ تو بہت مشہور ہوا تھا جب ہیما مالنی نے "فوجی" ڈرامہ دیکھنے کے بعد یہ کہا کہ،
"شاہ رخ خان مجھے بہت کیوٹ لگا ہے، اور میں اسے اپنی فلم میں ہیرو کاسٹ کروں گی۔۔۔ "
پہلی بار جب ہیما مالنی نے شاہ رخ خان کو فون کرکے کہا کہ،
"میں ہیما مالنی بات کر رہی ہوں"
تو شاہ رخ نے ایک دم سے ہنستے ہوئے کہا،
"میڈم کیوں مجھ سے مذاق کر رہی ہیں؟"

فلم "دل آشنا ہے" کے بعد بھی ہیمامالنی نے دو اور فلموں کی ہدایتکاری دی:
"موہنی 1995"
"ٹیل می او خدا 2011"

فلم "موہنی" کی ہیروئن فلم اسٹار "مدھو" تھی، جو کہ ہیما مالنی کی بھانجی بھی ہیں۔
فلم "موہنی" کے گیت بہت خوبصورت تھے جو موسیقار "رویندر جین" نے بنائے تھے!!

ہیما مالنی کا ایک اور روپ بھی ہے، جو بہت سے دوستوں کو شاید پتا نہ ہو کہ وہ ساؤتھ انڈین کلاسیکل رقص "بھرت ناٹیم" کی ماہر ہیں۔۔۔ اور باقاعدہ تربیت یافتہ ہیں۔۔۔ وہ نہ صرف اس رقص کی ماہر ہیں بلکہ ایک اسکول / اکیڈمی کی مالکن بھی ہیں جہاں وہ سالوں سے اس رقص کی تربیت دیتی آ رہی ہیں!!
ان کی بیٹیاں ایشا دیول اور اہانا دیول بھی اس اکیڈمی چلانے میں ہیما مالنی کا ساتھ دیتی ہیں، اور وہ بھی مکمل طور پر تربیت یافتہ ہیں۔۔۔
کئی بار ان تینوں نے مل کر ایک ساتھ اسٹیج پر کلاسیکل رقص پیش کیا ہے
اوپر لکھا تھا کہ ہیما مالنی ایک سیاستدان بھی رہ چکی ہیں، تو وہ کوئی ہوا میں تیر نہیں چھوڑا تھا بلکہ یہ بات بھی سچ ہے!!
وہ BJP کی ٹکٹ پر دو بار رکن پارلیمان منتخب ہو چکی ہیں۔
1972 کی فلم "سیتا اور گیتا" تو سب کو یاد ہوگی!!
یہ فلم دلیپ کمار کی "رام اور شیام" کی طرز پر بنی تھی، جس میں ہیما مالنی نے ڈبل رول نبھایا تھا اور وہ بھی حقیقی زندگی میں اپنے دو چاہنے والوں "دھرمیندر" اور "سنجیو کمار" کے مدمقابل. اس فلم کے لیے انھیں بہترین اداکارہ کا فلم فيئر ایوارڈ ملا جو ان کا واحد فلم فیئر ایوارڈ رہا، جبکہ وہ گیارہ بار فلم فیئر ایوارڈ کے لیے نامزد ہوئیں تھیں۔۔۔
انڈیا کی معروف فلمی جوڑیوں میں ان کی دھرمیندر کے ساتھ جوڑی سب سے کامیاب مانی گئی اور سنہ 1969 والی فلم "تم حسین میں جوان" سے لے کر شرافت، نیا زمانہ، راجہ رانی، پتھر اور پائل، دوست، شعلے، چرس، جگنو، آزاد، رضیہ سلطان اور دل لگی تک کل 28 فلموں میں ایک ساتھ کام کیا۔

ہیما مالنی کے چاہنے والوں کی ایک لمبی فہرست ہو سکتی ہے لیکن ان میں سنجیو کمار، دھرمیندر ، فیروز خان اور جیتندر کا نام سرفہرست ہے۔

ہیما مالنی نے جیتندر سے شادی کرنے کا اصولی فیصلہ تو کر دیا تھا۔۔۔ پر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔۔۔ اور آخرکار انھوں نے اپنی گرو ماں کے مشورے پر 1980 میں دھرمیندر سے شادی کر لی!!
حالانکہ دھرمیندر بھی جیتندر کی طرح پہلے سے شادی شدہ تھے اور پہلی بیوی سے ان کے چار بچے بھی تھے!!

ہیما مالنی ان چند خوشنصیب ستاروں میں سے ایک ہیں، جن کی زندگی اور کامیابیوں پر مشہور مصنفین کی طرف سے تین کتابیں لکھی جا چکی ہیں:

1. Malini : Diva Unveiled in 2005
Written by: Ram Kamal Mukherjee

2. Hema Malini: The Authorized Biography in 2007
Written by: Bhawana Somaaya

3. Hema Malini: Beyond the Dream Girl in 2017
Written by: Ram Kamal Mukherjee
ہیما مالنی نی ایک سو سے زیادہ فلموں میں کام کیا لیکن IMDB نے ان کی بہترین 15 فلموں کی جو لسٹ نشر کی تھی، وہ میں آپ کے ساتھ بھی شیئر کرنا چاہوں گا:
شعلے، سیتا اور گیتا، باغبان، نصیب، جونی میرا نام، ستے پہ ستہ، کرانتی، ترشول، میرا، خوشبو، کنارا، پریم نگر، رہائی، پرتگیہ، تیرے میرے سپنے
ہیما مالنی جیسے چمکتے ستارے کا مکمل فنی کیرئیر ایک تحریر میں سمیٹنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہے۔۔۔ پر جہاں سے آغاز کیا تھا اسی بات پر اختتام کروں گا!!

76 سال کی عمر میں بھی اگر "ڈریم گرل" کا تصور کسی کے ساتھ منسلک ہے تو وہ ہیما مالنی ہیں!!
کسی شاعر کی غزل، ڈریم گرل!!
کسی جھیل کا کنول، ڈریم گرل!!

Address

Bahawalpur
Ahmadpur East
63100

Telephone

+923082566363

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when ENJOY REELS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to ENJOY REELS:

Shortcuts

Share