01/09/2025
سنہری مسجد پشاور
تاریخی پس منظر
آغاز تعمیر: 1942 یا 1946 میں مسجد کی بنیاد رکھی گئی۔
تاخیر کی وجوہات: مالی مشکلات، سیکورٹی مسائل اور بدلتے حالات کی وجہ سے یہ منصوبہ کئی دہائیوں تک رکا رہا۔
تکمیل: بالآخر 1992 میں مسجد مکمل ہوئی اور باضابطہ طور پر نمازیوں کے لیے کھولی گئی۔
مقصد: پشاور کینٹ کے علاقے میں ایک مرکزی اور نمایاں عبادت گاہ قائم کرنا۔
معمارانہ حسن (آرکیٹیکچر)
طرز تعمیر: مغل دور کے انداز پر مبنی، لاہور کی بادشاہی مسجد سے متاثر لیکن پشاور کے ماحول کے مطابق ڈھالا گیا۔
مواد: سرخ اینٹوں اور سفید سنگ مرمر کا امتزاج۔
گنبد: بڑے بڑے گنبد جن پر سنہری رنگ کی جھلک انہیں "سنہری مسجد" کا نام عطا کرتی ہے۔
مینار: 128 فٹ بلند مینار، جن سے اذان کی آواز دور دور تک جاتی ہے۔
رقبہ و گنجائش: 18,000 مربع فٹ رقبے پر محیط، ایک وقت میں تقریباً 6,000 نمازیوں کی گنجائش۔
داخلی دروازے: کئی داخلی راستے جو مسجد کو کشادہ اور پرسکون بناتے ہیں۔
اندرونی حسن: دیواروں پر قرآنی آیات کی خطاطی، محراب اور منبر پر روایتی کٹائی۔
مذہبی و سماجی اہمیت
سنہری مسجد صرف ایک عبادت گاہ نہیں بلکہ اہل پشاور کی شناخت اور مذہبی اجتماع کی علامت ہے۔
یہاں روزانہ کی باجماعت نمازیں، جمعہ کے اجتماعات اور عیدین کی بڑی نمازیں ادا کی جاتی ہیں۔
مسجد کا محل وقوع (صدر بازار کے قریب) اسے ایک مرکزی مقام بناتا ہے، جہاں مختلف طبقہ فکر کے لوگ جمع ہوتے ہیں۔
یہ مسجد کئی دہائیوں سے پشاور میں دینی تعلیمات، تبلیغی بیانات اور خیراتی سرگرمیوں کا بھی مرکز رہی ہے۔
خواتین کے لیے انتظامات
ابتدا میں خواتین کے لیے اوپر کی منزل مخصوص کی گئی تھی جہاں وہ نماز اور جمعہ کا خطبہ سن سکتی تھیں۔
1996 میں سیکیورٹی حالات اور سماجی دباؤ کے باعث خواتین کے داخلے پر پابندی لگا دی گئی۔
مارچ 2020 میں ایک نئے اقدام کے تحت دوبارہ خواتین کے لیے جمعہ اور عیدین کی نماز کے انتظامات بحال کیے گئے۔
خواتین کی گنجائش تقریباً 150 نمازیوں کی ہے۔
یہ اقدام خواتین کے لیے بڑی سہولت اور خوشی کا باعث بنا۔
اردگرد کا علاقہ
مسجد پشاور کینٹ کے صدر بازار کے قریب واقع ہے، جو شہر کا مصروف ترین علاقہ ہے۔
قریب ہی تجارتی مراکز، مارکیٹیں، اور کھانے پینے کے مشہور مقامات موجود ہیں۔
سنہری مسجد کی بلند میناریاں اور گنبد بازار سے گزرتے ہوئے فوراً نظر آ جاتے ہیں، جو اس علاقے کو روحانی اور تاریخی وقار بخشتے ہیں۔
پہلو تفصیلات
مقام پشاور کینٹ، صدر بازار کے قریب
آغاز تعمیر 1942 / 1946
تکمیل 1992
رقبہ 18,000 مربع فٹ
گنجائش 6,000 نمازی
مینار 128 فٹ بلند
طرز تعمیر مغل طرز، بادشاہی مسجد سے متاثر
خواتین کی گنجائش 150 نمازی
خواتین کا انتظام 1996 تک اجازت → 2020 میں دوبارہ بحال