01/01/2026
موٹیویشن کے نام پر بسااوقات ایسی ایسی کہانیاں گھڑ لی جاتی ہیں کہ سمجھ نہیں آتا بندہ مسکرائے یا روئے۔
اب اس وائرل کاپی شدہ تحریر کو دیکھئے۔
((لندن میں ایک پاکستانی کئی برسوں سے رہ رہا تھا۔ ایک مرتبہ اس نے بتایا کہ وہ وہاں ایک مقامی انگریز جوڑے کے ساتھ رہتا تھا۔
ایک دن انہوں نے مجھ سے پوچھا: “کل آپ کی کیا مصروفیت ہے؟”
انہوں نے بتایا: “ہمیں ایک نہایت ضروری کام کے سلسلے میں شہر سے باہر جانا ہے۔ اگر آپ کی چھٹی ہے اور آپ گھر میں موجود ہیں تو ہم اپنے بیٹے (ڈگلس) کو ساتھ نہیں لے جا سکتے۔ مہربانی کر کے آپ ڈگلس کا خیال رکھ لیجیے گا۔”
بچہ وہ صوفے پر بیٹھا لیپ ٹاپ پر کچھ کر رہا تھا۔ میں نے اسے گڈ مارننگ کہا، اس نے مسکرا کر جواب دیا۔
میں نے پوچھا: “ناشتہ کیا ہے؟”
اس نے انکار کیا۔ میں سیدھا کچن میں چلا گیا جہاں ناشتہ تیار رکھا تھا۔ میں ٹرے لے آیا اور اس کے سامنے رکھ دی۔ اس نے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھا اور ناشتہ کرنے لگا۔ ناشتہ کرنے کے بعد اس نے ٹرے میں رکھا دودھ کا گلاس اٹھایا، جو اس کے ہاتھ سے پھسل کر نیچے گر گیا اور ٹوٹ گیا۔
میں نے شیشے کے ٹکڑے اکٹھے کر کے شاپر میں ڈالے، فرش صاف کیا اور ٹوٹے ہوئے گلاس کے ٹکڑے باہر کچرے میں پھینک دیے۔ پھر میں اپنے حصے میں گیا، وہاں سے بالکل ایسا ہی ایک گلاس لے آیا اور کچن میں رکھ دیا۔
ڈگلس اب بھی شرمندہ تھا۔ میں نے اس سے کہا: “پریشان نہ ہو، میں نے اسی جیسا گلاس رکھ دیا ہے، کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں۔”
پھر ہم سارا دن کھیلتے رہے۔ شام کو اس کے والدین واپس آ گئے۔ انہوں نے میرا شکریہ ادا کیا اور کہا: “آج ہمارے ساتھ ڈنر کریں، پھر جانا۔”
ڈنر کے دوران وہ مسلسل میرے لیے اچھے الفاظ استعمال کرتے رہے۔ بعد میں میں ان سے الوداع کہہ کر اپنے پورشن میں چلا آیا۔
اگلی صبح چھ بجے میرے دروازے پر ڈگلس کے والدین کھڑے تھے۔ میں حیران رہ گیا۔ انہوں نے کہا: “مسٹر ظفر! آپ ایک اچھے انسان ہیں، ہمیں کبھی آپ سے کوئی شکایت نہیں ہوئی، لیکن اب آپ اپنے لیے کوئی اور گھر تلاش کریں اور ہمارا گھر جلد خالی کر دیں۔”
میں نے کہا: “اتنی جلدی کیوں؟ میں نے کیا کیا ہے؟”
انہوں نے جواب دیا: “مسٹر ظفر! آپ نیک انسان ہیں، لیکن کل آپ نے ہمارے بیٹے کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دی۔ اسی وجہ سے ہم آپ کو خود سے الگ کرنے پر مجبور ہیں۔”
میں نے پوچھا: “کون سا جھوٹ؟”
انہوں نے کہا: “گلاس ٹوٹ گیا، یہ کوئی بڑی بات نہیں تھی، لیکن آپ نے ہمارے بیٹے سے کہا کہ اس بات کا کسی سے ذکر نہ کرے۔ ہم اپنے بیٹے کو ہمیشہ سچ بولنا سکھاتے ہیں۔ اس نے ہمیں ساری بات بتا دی ہے۔
اب ہمیں ڈر ہے کہ کہیں آپ کے ساتھ رہتے ہوئے ہمارے بچے پر جھوٹ کا اثر نہ پڑ جائے، اس لیے براہِ کرم کسی اور جگہ اپنا بندوبست کریں۔ شکریہ۔”))
بھئی اگر اس "کہانی" کو سچ مان ہی لیا جائے تو اس میں جھوٹ بولنے کی ترغیب کہاں دی گئی؟
سچ چھپانا اور جھوٹ بولنا دو بالکل الگ فعل ہیں۔
"کسی کو کچھ بتانے کی ضرورت نہیں" سے جھوٹ بولنےکی ترغیب کیسے دی گئی؟ کسی کی خاص کر بچوں کی"غلطی" پر پردہ ڈالنا، کوشش کرنا کہ بچہ والدین کے سامنے شرمندہ نہ ہو، ڈانٹ ڈپٹ سے محفوظ رہے، ایسا عمل نہیں ہے کہ اسے منفی معنوں میں لیا جائے۔
بے ضرر سچ کو راز رکھ لینا کیسے جرم ہوا؟ سچ چھپانا جرم تب ہوجب وہ معاشرے میں بگاڑ کا سبب بنے۔
گلاس ٹوٹ گیا۔ اٹس او۔کے والدین کو بتا دیں۔ کوئی ڈرامہ نہیں۔ یہ زیادہ بہتر عمل ہے۔ اور اگر۔۔۔۔
نہیں بتانا۔ بچے کو شرمندگی سے بچانا مقصود ہے تو بھی اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔
موٹیویشن یا ہماری "ٹھگیوں" کومورد الزام ٹھہرانے کے لیے اور بھی کہانیاں گھڑی جاسکتی ہیں
😂