Ghani Abad Official

Ghani Abad Official غنی آباد سے متعلق تمام مسائل، مستند خبروں اور حالات حاضرہ سے متعلق تجزیوں پر مشتمل پلیٹ فارم

01/06/2026
تحریر: مفتی عبدالرشید امیر جے یو آئی ضلع باغانا للہ وانا الیہ راجعون۔آج افسوسناک خبر آئی ہے کہ مولانا طیب کشمیری دار فان...
29/05/2026

تحریر: مفتی عبدالرشید امیر جے یو آئی ضلع باغ

انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آج افسوسناک خبر آئی ہے کہ مولانا طیب کشمیری دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے۔
مولانا طیب کشمیری نصف صدی تک آزاد کشمیر بھر میں اور کراچی کی مختلف تحریکوں کے روح رواں رہے ہیں۔ 70 کی دہائی میں ان کی فراغت جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاون کراچی سے ہوئی تقریبا پچاس سال تک کراچی کے وسط میں قائد اعظم کے مزار کے قریب سبیل والی مسجد میں انہوں نے امامت اور خطابت کی خدمات سرانجام دیں۔ ایک چھوٹی سی مسجد میں وہ براجمان ہوئے لیکن آج وہ مسجد کراچی کی بڑی مساجد میں شمار کی جاتی ہے۔ آپ کی خصوصیت تھی کہ تعلیمی دور میں علمی رسوخ حاصل کیا اور ان کے ساتھی جن میں بڑے بڑے آفیسران اور شیوخ الحدیث گزرے ہیں معترف ہیں کہ اللہ پاک نے مولانا کو جسم اور علم میں کمال عطا کیا تھا۔ فراغت کے بعد آپ نے آزاد کشمیر بھر میں اپنی خطابت کا لوہا منوایا وہ راسخ العلم ہونے کے ساتھ پہاڑی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ مجمع کو خوش رکھنا نجی محافل میں لطیفوں کی بوچھاڑ کے ساتھ محفل میں قہقہوں کی فضا قائم کر دیتے تھے ظرافت طبع آپ کی خاص پہچان تھی۔ سیاسی میدان میں اول تا آخر انہوں نے جمعیت علماء اسلام سے وابستگی رکھی آزاد کشمیر میں اکابرین جمعیت کی خاص نظر ان پر تھی یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر جمعیت علماء اسلام کے بلامقابلہ امیر منتخب ہوئے جس انتخاب میں شیخ الحدیث مولانا یوسف خان نے ان کے علم اور سیاسی بصیرت کو بھانپتے ہوئے منتخب کیا تھا۔ جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے انہوں نے باقاعدہ جنرل لیکشن میں بھی حصہ لیا۔
کراچی قیام اور دیگر مصروفیات کے باعث آزاد کشمیر میں اس تسلسل کو برقرار نہ رکھ سکے۔ مولانا کی تحریکی خصوصیات میں پاکستان میں جب سواد اعظم نے ایک تحریک کا آغاز کیا تو اس تحریک کی تمام نقل و حرکت اور تحریری مواد آپ کی کاوش کے مرہون منت تھا آپ خطابت کے ساتھ مضمون نویسی میں بھی ید طولی رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ جامعہ بنوری ٹاون کی انتظامیہ نے مولانا یوسف لدھیانوی مرحوم کے ساتھ بینات مجلہ میں معاون خاص کے طور پر ان کی خدمات حاصل کیں۔ سینکڑوں مضامین ان کے قلم و فکر سے بینات رسالہ اور مختلف اخبارات میں محفوظ ہیں۔ آپ کی علمی حیثیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی نظریاتی اور فکری اختلاف میں اکابر کو مشکلات درپیش آتیں تو مہتمم بنوری ٹاون مفتی احمد الرحمن ، مولانا عبدالرزاق سکندر اور مولانا نظام الدین شامزئی اور ان کی ہم پلہ شخصیات مشکلات کے حل کے لئے سبیل والی مسجد کی طرف رجوع کرتے۔ جہاں مولانا کی کتب بینی سے مشکل ترین مسائل میں بھی راہ نکل آتی۔
کراچی جیسے شہر میں رہتے ہوئے انہوں نے ایک بڑی لائبریری کا قیام عمل میں لایا اور دنیا بھر کی نایاب کتب کا ذخیرہ سبیل والی مسجد سے لے کر آزاد کشمیر قاسم العلون نعمان پورہ تک موجود ہے۔ جو آزاد کشمیر کی منفرد لائبریری ہے۔ ان کے قلمی نسخے سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور بہت بڑا اثاثہ ان کی تحریروں کا اس لائبریری کی کتب کے حاشیوں پر تحریر شدہ ہے کاش کے کوئی صاحب ذوق اگر اسے زیور طبع سے آراستہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو فکری، نظریاتی اور علمی محاذ پر کئی جلدیں تحریر میں لائی جا سکتی ہیں۔
آپ کا ذوق کمال یہ تھا کہ عرب و عجم سے کوئی نایاب کتاب سامنے آتی اسے منگواتے اور اس کے اہم ابواب پر خصوصی نظر رکھ کر تعمیری اور تنقیدی جائزہ زیر قلم لاتے۔ آج سے چار سال قبل راقم نے خود ان کے پاس بیٹھ کر گزارش بھی کی کہ اپنی لکھی ہوئی تحریروں کو یکجا فرما لیں تو اہل علم کے لئے بڑا اثاثہ ہو گا لیکن انہوں نے ظرافت طبعی میں ارشاد فرمایا کہ بچپن اور پچپن برابر ہوتے ہیں اس لئے اب ہمت نہ ہے۔
آپ کہ سیاسی بصیرت کا لوہا آزاد کشمیر میں یوں بھی تسلیم کیا گیا ہے سردار عبدالقیوم خان، سکندر حیات، ممتاز راٹھور، سردار قمرالزمان، راجہ یسین، راجہ سبیل اور کرنل راجہ نسیم اور آزاد کشمیر کی اہم شخصیات کے ساتھ باتکلفانہ مجالس آپ کی شخصیت اور کردار کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آپ ایک عرصہ تک اسلامی نظریاتی کونسل آزد جموں کشمیر کے ممبر رہے اور سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے کراچی میں بیٹھ کر آزاد کشمیر، گلگت اور شمالی علاقہ جات اور پاکستان بھر کے طلبہ کی وہ خدمت کی جسے ان کی مداحوں کی تعداد پورے پاکستان میں اب بھی موجود ہے۔ آپ پہاڑ جیسا حوصلہ بھی رکھتے تھے آپ کے دوجواں سال بیٹوں کا یکے بعد دیگرے انتقال اور اہلیہ کی وفات پر آپکا حوصلہ دیدنی تھا۔ اس وقت آپ کے پسماندگان میں ان کے چار بیٹے، بھائی، بھتیجے موجود ہیں۔
دارلعلوم دیوبند کے فاضل مولانا امیر الزمان مرحوم آپ کے حقیقی چچا اور سسر تھے اور آپ کے مزاج پر فکری و نظریاتی چھاپ مولانا کی توجہات کا ثمر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی نظریاتی اور فکری کجی پر سخت گرفت فرماتے تھے اور اپنے موقف میں لچک پیدا نہ کرتے تھی یہی وجہ ہے کہ آپ کو آزاد کشمیر میں ثانی غلام غوث ہزاروی بھی کہا جاتا تھا۔
مولانا امیر الزمان مرحوم کی رحلت کے بعد آپ کو قاسم العلوم نعمان پورہ کا مہتمم نامزد کیا گیا اور تا دم مرگ مہتمم رہے اور ادارے کی تعمیر اور اس کی ضروریات کو پورا کرتے رہے۔
بے شک ہر تدبیر پہ تقدیر غالب ہے ہم اس تقدیر پر راضی ہیں لیکن ایک حسین امتزاج اور متنوع مزاج شخصیت آج ہم سے جدا ہو گئی جس نے ہزاروں محافل اور اجتماعات میں دنیا کو ہنسایا لیکن آج اپنے مداحوں کو روتا ہوا چھوڑ کر اپنے آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ اللہ پاک ان کے پسماندگان اور چاہنے والوں کو صبر عطا کرے۔ اور اکابر کے مشن پر اسقامت، نہ بکنے اور نہ جھکنے کے درس پر اللہ ہمیں استقامت عطا کرے اور ان کی مذہبی، سیاسی اور سماجی خدمات پر اللہ جنت الفردوں عطا کرے۔
اس اندوہناک خبر پر بے ساختہ شورش کا کلام یاد آ گیا جو انہوں نے ابوالکلام آزاد کی وفات پر کہا تھا میرے نزدیک مولانا بھی اس کلام کا بہترین مصداق ہیں۔
عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہیں، آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہرِ مبیں نہیں ہے
تری جدائی میں مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
کئی دماغوں کا ایک انساں، میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے، زباں سے زورِ بیاں گیا ہے
اتر گئے منزلوں کے چہرے، امید کیا، کارواں گیا ہے
مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
یہ کون اٹھا کہ دیر و کعبہ شکستہ دل، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم، خواص پہنچے، عوام پہنچے
تری لحد پر خدا کی رحمت، تری لحد کو سلام پہنچے
مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے

28/05/2026

مولانا طیب کشمیری مرحوم کی نماز جنازہ بروز جمعة المبارک صبح نو بجے قاسم العلوم نعمان پورہ کے مقام پر ادا کی جائیگی۔
کسی ایمرجنسی کی صورت میں وقت مقررہ سے قبل بھی نماز کی ادائیگی ممکن ہے۔
احباب وقت مقررہ سے قبل پہنچنے کی کوشش فرمائیں۔

*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ* 📢 *اہم اطلاع برائے آئی کیمپ* غنی آباد میڈیکل سنٹر میں منعقد ہونے والےفری آئی کیمپ (12...
10/05/2026

*السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ*
📢 *اہم اطلاع برائے آئی کیمپ*
غنی آباد میڈیکل سنٹر میں منعقد ہونے والے
فری آئی کیمپ (12، 13، 14 مئی 2026) کی ٹائمنگ اور شیڈول درج ذیل ہے:
⏰ *ٹائمنگ:*
✔️ صبح 8 بجے ٹوکن کا اجرا شروع ہوگا
✔️ صبح 9 بجے سے ڈاکٹر حضرات چیک اپ شروع کریں گے
✔️ ٹوکن صرف دوپہر 12 بجے تک دیے جائیں گے
🏥 *آپریشن شیڈول:*
✔️ جن مریضوں کا آپریشن تجویز ہوگاان کے آپریشن
شام 3 یا 4 بجے کے بعد کیے جائیں گے
*دنوں کی ترتیب:*
✔️ *پہلے دو دن (12، 13 مئی):* چیک اپ+دوائیاں +عینکیں+ آپریشن
✔️ *تیسرا دن (14 مئی):* صرف چیک اپ +دوائیاں +عینکیں
🎁 *مکمل سہولیات بالکل مفت:*
✔️ آنکھوں کا مکمل چیک اپ
✔️ عینک کی فراہمی
✔️ ادویات
✔️ آپریشن
👨‍⚕️ اس کیمپ کیلئے سینئر اور تجربہ کار ڈاکٹر حضرات تشریف لا رہے ہیں
اور تقریباً 1500 مریضوں کے معائنے کا انتظام کیا گیا ہے۔

📌 تمام حضرات سے گزارش ہے کہ وقت کی پابندی کریں اوربروقت تشریف لائیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

*جزاکم اللہ خیراً*

السلام عليكم ورحمة الله وبركاتهاہم اعلانمورخہ 11 مئی بروز پیر دن 12 بجےجامعہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا للبنات غنی آباد میں ا...
10/05/2026

السلام عليكم ورحمة الله وبركاته

اہم اعلان

مورخہ 11 مئی بروز پیر دن 12 بجےجامعہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا للبنات غنی آباد میں اصلاحی و تربیتی نشست کا اہتمام کیا گیا ہے۔ جس میں ناظم تعلیمات فیض القرآن بیس بگلہ مولانا شاہد افضل صاحب بیان فرمائیں گے۔

خواتین و حضرات سے بھر پور شرکت کی اپیل ہے۔

مختصر بیان ہو گا اس لیے
بروقت پہنچنے کی کوشش کریں۔

منجانب: انتظامیہ جامعہ ام سلمہ للبنات غنی آباد

23/04/2026

خبر غم
غنی آباد
اشفاق راجپوت کا بیٹا انتقال کر گیا ہے نماز جنازہ عصرکی نماز کے بعد غنی آباد میں ادا کی جائے گی

Address

Jhir Ganiabad
Bagh
12502

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Ghani Abad Official posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share