29/05/2026
تحریر: مفتی عبدالرشید امیر جے یو آئی ضلع باغ
انا للہ وانا الیہ راجعون۔
آج افسوسناک خبر آئی ہے کہ مولانا طیب کشمیری دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے۔
مولانا طیب کشمیری نصف صدی تک آزاد کشمیر بھر میں اور کراچی کی مختلف تحریکوں کے روح رواں رہے ہیں۔ 70 کی دہائی میں ان کی فراغت جامعہ علوم الاسلامیہ بنوری ٹاون کراچی سے ہوئی تقریبا پچاس سال تک کراچی کے وسط میں قائد اعظم کے مزار کے قریب سبیل والی مسجد میں انہوں نے امامت اور خطابت کی خدمات سرانجام دیں۔ ایک چھوٹی سی مسجد میں وہ براجمان ہوئے لیکن آج وہ مسجد کراچی کی بڑی مساجد میں شمار کی جاتی ہے۔ آپ کی خصوصیت تھی کہ تعلیمی دور میں علمی رسوخ حاصل کیا اور ان کے ساتھی جن میں بڑے بڑے آفیسران اور شیوخ الحدیث گزرے ہیں معترف ہیں کہ اللہ پاک نے مولانا کو جسم اور علم میں کمال عطا کیا تھا۔ فراغت کے بعد آپ نے آزاد کشمیر بھر میں اپنی خطابت کا لوہا منوایا وہ راسخ العلم ہونے کے ساتھ پہاڑی زبان پر عبور رکھتے تھے۔ مجمع کو خوش رکھنا نجی محافل میں لطیفوں کی بوچھاڑ کے ساتھ محفل میں قہقہوں کی فضا قائم کر دیتے تھے ظرافت طبع آپ کی خاص پہچان تھی۔ سیاسی میدان میں اول تا آخر انہوں نے جمعیت علماء اسلام سے وابستگی رکھی آزاد کشمیر میں اکابرین جمعیت کی خاص نظر ان پر تھی یہی وجہ ہے کہ آزاد کشمیر جمعیت علماء اسلام کے بلامقابلہ امیر منتخب ہوئے جس انتخاب میں شیخ الحدیث مولانا یوسف خان نے ان کے علم اور سیاسی بصیرت کو بھانپتے ہوئے منتخب کیا تھا۔ جمعیت علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے انہوں نے باقاعدہ جنرل لیکشن میں بھی حصہ لیا۔
کراچی قیام اور دیگر مصروفیات کے باعث آزاد کشمیر میں اس تسلسل کو برقرار نہ رکھ سکے۔ مولانا کی تحریکی خصوصیات میں پاکستان میں جب سواد اعظم نے ایک تحریک کا آغاز کیا تو اس تحریک کی تمام نقل و حرکت اور تحریری مواد آپ کی کاوش کے مرہون منت تھا آپ خطابت کے ساتھ مضمون نویسی میں بھی ید طولی رکھتے تھے یہی وجہ ہے کہ جامعہ بنوری ٹاون کی انتظامیہ نے مولانا یوسف لدھیانوی مرحوم کے ساتھ بینات مجلہ میں معاون خاص کے طور پر ان کی خدمات حاصل کیں۔ سینکڑوں مضامین ان کے قلم و فکر سے بینات رسالہ اور مختلف اخبارات میں محفوظ ہیں۔ آپ کی علمی حیثیت کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ کسی بھی نظریاتی اور فکری اختلاف میں اکابر کو مشکلات درپیش آتیں تو مہتمم بنوری ٹاون مفتی احمد الرحمن ، مولانا عبدالرزاق سکندر اور مولانا نظام الدین شامزئی اور ان کی ہم پلہ شخصیات مشکلات کے حل کے لئے سبیل والی مسجد کی طرف رجوع کرتے۔ جہاں مولانا کی کتب بینی سے مشکل ترین مسائل میں بھی راہ نکل آتی۔
کراچی جیسے شہر میں رہتے ہوئے انہوں نے ایک بڑی لائبریری کا قیام عمل میں لایا اور دنیا بھر کی نایاب کتب کا ذخیرہ سبیل والی مسجد سے لے کر آزاد کشمیر قاسم العلون نعمان پورہ تک موجود ہے۔ جو آزاد کشمیر کی منفرد لائبریری ہے۔ ان کے قلمی نسخے سینکڑوں کی تعداد میں ہیں اور بہت بڑا اثاثہ ان کی تحریروں کا اس لائبریری کی کتب کے حاشیوں پر تحریر شدہ ہے کاش کے کوئی صاحب ذوق اگر اسے زیور طبع سے آراستہ کرنے میں کامیاب ہو جائے تو فکری، نظریاتی اور علمی محاذ پر کئی جلدیں تحریر میں لائی جا سکتی ہیں۔
آپ کا ذوق کمال یہ تھا کہ عرب و عجم سے کوئی نایاب کتاب سامنے آتی اسے منگواتے اور اس کے اہم ابواب پر خصوصی نظر رکھ کر تعمیری اور تنقیدی جائزہ زیر قلم لاتے۔ آج سے چار سال قبل راقم نے خود ان کے پاس بیٹھ کر گزارش بھی کی کہ اپنی لکھی ہوئی تحریروں کو یکجا فرما لیں تو اہل علم کے لئے بڑا اثاثہ ہو گا لیکن انہوں نے ظرافت طبعی میں ارشاد فرمایا کہ بچپن اور پچپن برابر ہوتے ہیں اس لئے اب ہمت نہ ہے۔
آپ کہ سیاسی بصیرت کا لوہا آزاد کشمیر میں یوں بھی تسلیم کیا گیا ہے سردار عبدالقیوم خان، سکندر حیات، ممتاز راٹھور، سردار قمرالزمان، راجہ یسین، راجہ سبیل اور کرنل راجہ نسیم اور آزاد کشمیر کی اہم شخصیات کے ساتھ باتکلفانہ مجالس آپ کی شخصیت اور کردار کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ آپ ایک عرصہ تک اسلامی نظریاتی کونسل آزد جموں کشمیر کے ممبر رہے اور سب سے بڑی خصوصیت یہ تھی کہ آپ نے کراچی میں بیٹھ کر آزاد کشمیر، گلگت اور شمالی علاقہ جات اور پاکستان بھر کے طلبہ کی وہ خدمت کی جسے ان کی مداحوں کی تعداد پورے پاکستان میں اب بھی موجود ہے۔ آپ پہاڑ جیسا حوصلہ بھی رکھتے تھے آپ کے دوجواں سال بیٹوں کا یکے بعد دیگرے انتقال اور اہلیہ کی وفات پر آپکا حوصلہ دیدنی تھا۔ اس وقت آپ کے پسماندگان میں ان کے چار بیٹے، بھائی، بھتیجے موجود ہیں۔
دارلعلوم دیوبند کے فاضل مولانا امیر الزمان مرحوم آپ کے حقیقی چچا اور سسر تھے اور آپ کے مزاج پر فکری و نظریاتی چھاپ مولانا کی توجہات کا ثمر تھا۔ یہی وجہ ہے کہ کسی بھی نظریاتی اور فکری کجی پر سخت گرفت فرماتے تھے اور اپنے موقف میں لچک پیدا نہ کرتے تھی یہی وجہ ہے کہ آپ کو آزاد کشمیر میں ثانی غلام غوث ہزاروی بھی کہا جاتا تھا۔
مولانا امیر الزمان مرحوم کی رحلت کے بعد آپ کو قاسم العلوم نعمان پورہ کا مہتمم نامزد کیا گیا اور تا دم مرگ مہتمم رہے اور ادارے کی تعمیر اور اس کی ضروریات کو پورا کرتے رہے۔
بے شک ہر تدبیر پہ تقدیر غالب ہے ہم اس تقدیر پر راضی ہیں لیکن ایک حسین امتزاج اور متنوع مزاج شخصیت آج ہم سے جدا ہو گئی جس نے ہزاروں محافل اور اجتماعات میں دنیا کو ہنسایا لیکن آج اپنے مداحوں کو روتا ہوا چھوڑ کر اپنے آخرت کے سفر پر روانہ ہو گئے۔ اللہ پاک ان کے پسماندگان اور چاہنے والوں کو صبر عطا کرے۔ اور اکابر کے مشن پر اسقامت، نہ بکنے اور نہ جھکنے کے درس پر اللہ ہمیں استقامت عطا کرے اور ان کی مذہبی، سیاسی اور سماجی خدمات پر اللہ جنت الفردوں عطا کرے۔
اس اندوہناک خبر پر بے ساختہ شورش کا کلام یاد آ گیا جو انہوں نے ابوالکلام آزاد کی وفات پر کہا تھا میرے نزدیک مولانا بھی اس کلام کا بہترین مصداق ہیں۔
عجب قیامت کا حادثہ ہے کہ اشک ہیں، آستیں نہیں ہے
زمین کی رونق چلی گئی ہے، افق پہ مہرِ مبیں نہیں ہے
تری جدائی میں مرنے والے، وہ کون ہے جو حزیں نہیں ہے
مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
کئی دماغوں کا ایک انساں، میں سوچتا ہوں کہاں گیا ہے
قلم کی عظمت اجڑ گئی ہے، زباں سے زورِ بیاں گیا ہے
اتر گئے منزلوں کے چہرے، امید کیا، کارواں گیا ہے
مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے
یہ کون اٹھا کہ دیر و کعبہ شکستہ دل، خستہ گام پہنچے
جھکا کے اپنے دلوں کے پرچم، خواص پہنچے، عوام پہنچے
تری لحد پر خدا کی رحمت، تری لحد کو سلام پہنچے
مگر تری مرگِ ناگہاں کا مجھے ابھی تک یقیں نہیں ہے