Bazme jam

Bazme jam Bazm-e-jam (بزم جام) is an Urdu literary (Adabi) page on Facebook
We present Urdu Classical Poetry

03/01/2026
‏امن شہزادی کی غزل اچھا خواب دکھایا تم نے خواب دکھانے والوں میںایسی بات کہاں ہوتی تھی اس سے پہلے والوں میںدروازے پر تالا...
03/01/2026

‏امن شہزادی کی غزل

اچھا خواب دکھایا تم نے خواب دکھانے والوں میں
ایسی بات کہاں ہوتی تھی اس سے پہلے والوں میں

دروازے پر تالا ہو تو پھر بھی دستک دے دینا
نام تو شامل ہوجائے گا دستک دینے والوں میں

جو بھی شخص برا لگتا ہے صاف برا کہہ دیتے ہیں
یہ بھی اچھی بات ہے تجھ کو اچھا کہنے والوں میں

سرگوشی بھی کرنی ہو تو زور سے کرنا پڑتی ہے
کس نے آن بٹھایا مجھ کو اونچا سننے والوں میں

جتنے آنسو بہہ جاتے ہیں روزانہ اس دھرتی پر
دریا دوسرے نمبر پر آئے گا بہنے والوں میں

آدھے لوگ یہیں سے اپنے گھر کو واپس لوٹیں گے
آگے کی باتیں پہنچی ہیں پیچھے آنے والوں میں

دیکھ تَو دِل کہ جاں سے اُٹھتا ہےیہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے گور کِس دِل جَلے کی ہے یہ فَلَکشُعلہ اِک صُبح یاں سے اُٹھ...
03/01/2026

دیکھ تَو دِل کہ جاں سے اُٹھتا ہے
یہ دُھواں سا کہاں سے اُٹھتا ہے

گور کِس دِل جَلے کی ہے یہ فَلَک
شُعلہ اِک صُبح یاں سے اُٹھتا ہے

خانۂ دِل سے زِینہار نہ جا
کوئی ایسے مَکاں سے اُٹھتا ہے

نالہ سُر کھینچتا ہے جَب میرا
شَور اِک آسماں سے اُٹھتا ہے

لَڑتی ہے اُس کی چَشمِ شَوخ جہاں
ایک آشوب واں سے اُٹھتا ہے

سِدھ لے گَھر کی بھی شُعلۂ آواز
دُود کُچھ آشیاں سے اُٹھتا ہے

بیٹھنے کون دے ہے پِھر اُس کو
جو تِرے آستاں سے اُٹھتا ہے

یُوں اُٹھے آہ اُس گَلی سے ہَم
جیسے کوئی جہاں سے اُٹھتا ہے

عِشق اِک میرؔ بھاری پَتَّھر ہے
کَب یہ تُجھ ناتواں سے اُٹھتا ہے۔۔۔!

میرتقی میرؔ

لگی   تھی   عمر   پرندوں  کو   گھر  بناتے  ہوئےکسی   نے  کیوں  نہیں سوچا  شجر  گراتے  ہوئےیہ   زندگی   تھی   کہ  دھتکارت...
03/01/2026

لگی تھی عمر پرندوں کو گھر بناتے ہوئے
کسی نے کیوں نہیں سوچا شجر گراتے ہوئے

یہ زندگی تھی کہ دھتکارتی رہی مجھ کو
میں بات کرتا رہا اس سے مسکراتے ہوئے

بدن تھا چور مرا ہجر کی مشقت سے
سو نیند آئی مجھے درد کو سلاتے ہوئے

کوئی تو اُس پہ قیامت گزر گئی ہو گی
کہ آپ بیتی وہ رونے لگا سناتے ہوئے

عجیب نیند میں تھا خواب گاہِ ہستی کی
میں اِس جہاں سے ترے اُس جہاں میں جاتے ہوئے

کہانی گو کے ہر اک لفظ میں تھی جادو گری
رُلا دیا تھا ہر اک شخص کو ہنساتے ہوئے

نہ میری چشمِ تمنا میں جچ سکی دنیا
پلٹ کے دیکھتا کیسے اسے میں جاتے ہوئے

میں جل اٹھا تھا ترے ہی خیال کی لو سے
تجھے خیال نہ آیا مجھے بجھاتے ہوئے

جناب احمد عرفان

پسندیدہ ترین غزل بزبانِ شاعر : سلیم کوثر میں  خیال  ہوں  کسی اور کا مجھے سوچتا  کوئی اور ہےسر   آئینہ  مرا   عکس   ہے   ...
03/01/2026

پسندیدہ ترین غزل
بزبانِ شاعر : سلیم کوثر

میں خیال ہوں کسی اور کا مجھے سوچتا کوئی اور ہے
سر آئینہ مرا عکس ہے پس آئینہ کوئی اور ہے

میں کسی کے دست طلب میں ہوں تو کسی کے حرف دعا میں ہوں
میں نصیب ہوں کسی اور کا مجھے مانگتا کوئی اور ہے

عجب اعتبار و بے اعتباری کے درمیان ہے زندگی
میں قریب ہوں کسی اور کے مجھے جانتا کوئی اور ہے

مری روشنی ترے خد و خال سے مختلف تو نہیں مگر
تو قریب آ تجھے دیکھ لوں تو وہی ہے یا کوئی اور ہے

تجھے دشمنوں کی خبر نہ تھی مجھے دوستوں کا پتا نہیں
تری داستاں کوئی اور تھی مرا واقعہ کوئی اور ہے

وہی منصفوں کی روایتیں وہی فیصلوں کی عبارتیں
مرا جرم تو کوئی اور تھا پہ مری سزا کوئی اور ہے

کبھی لوٹ آئیں تو پوچھنا نہیں دیکھنا انہیں غور سے
جنہیں راستے میں خبر ہوئی کہ یہ راستہ کوئی اور ہے

جو مری ریاضت نیم شب کو سلیمؔ صبح نہ مل سکی
تو پھر اس کے معنی تو یہ ہوئے کہ یہاں خدا کوئی اور ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟

عبث ہیں وہ ریاضتیں، جو یار کو نہ منا سکیںوہ  ڈھول، تھاپ، بانسری، وہ ہر دھمال مسترد
03/01/2026

عبث ہیں وہ ریاضتیں، جو یار کو نہ منا سکیں
وہ ڈھول، تھاپ، بانسری، وہ ہر دھمال مسترد

‏پردہ نشــیں رہتا نہیں کوئــی بھی عمــر بھــروقت کی رفتار سے اترتے ہیں نقاب لوگوں کے
03/01/2026

‏پردہ نشــیں رہتا نہیں کوئــی بھی عمــر بھــر
وقت کی رفتار سے اترتے ہیں نقاب لوگوں کے

گردشِ وقت نے چھیڑا نہیں ترتیب کے ساتھ  ہے وہیں دل کی اداسی وہیں آنکھوں کی تھکن
03/01/2026

گردشِ وقت نے چھیڑا نہیں ترتیب کے ساتھ
ہے وہیں دل کی اداسی وہیں آنکھوں کی تھکن

پیر نصیر الدین نصیرؒ دین   سے   دور،  نہ  مذہب  سے  الگ بیٹھا ہوںتیری  دہلیز   پہ  ہوں،  سب  سے  الگ بیٹھا ہوںڈھنگ  کی  ...
03/01/2026

پیر نصیر الدین نصیرؒ

دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں

ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھی
مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں

بزمِ احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں

غیر سے دور، مگر اُس کی نگاہوں کے قریں
محفلِ یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں

یہی مسلک ہے مرا اور یہی میرا مقام
آج تک خواہشِ منصب سے الگ بیٹھا ہوں

عمر کرتا ہوں بسر گوشہ ء تنہائی میں
جب سے وہ روٹھ گئے، تب سے الگ بیٹھا ہوں

میرا انداز نصیر اہلِ جہاں سے ہے جدا
سب میں شامل ہوں، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں

03/01/2026

Alishba Sehar Bazme jam The Following Friends Urdu Virsa Zafar Jam Iqbal

خالد علیگؔ کے مجموعہ کلام "غزالِ دشتِ سگاں" سے انتخاب) با  ادب  آئے  گا ،  دعا  لے  گاہم فقیروں سے ورنہ کیا لے گاسارے جگ...
03/01/2026

خالد علیگؔ کے مجموعہ کلام "غزالِ دشتِ سگاں" سے انتخاب)

با ادب آئے گا ، دعا لے گا
ہم فقیروں سے ورنہ کیا لے گا

سارے جگ کا وہی ہے پالن ہار
وہ نہ پالے تو کون پالے گا

اس نوازش کا کیا ٹھکانہ ہے
آگ مانگے گا اور عصا لے گا

پالنے ہی سے جو گواہی دے
دار سے کم وہ کیا صلہ لے گا

مانگنے والے اپنا ظرف بھی دیکھ
سر کٹائے گا کربلا لے گا

(کاپیڈ فرام اردو ورثہ)

بہت گم صم سے بیٹھے تھےکسی تصویر جیسے تھےاگر میں سچ کہوں جاناںمری تعبیر جیسے تھے💕جہاں پر تم نے کاغذ کی بہت چھوٹی سی ناؤ ک...
02/01/2026

بہت گم صم سے بیٹھے تھے
کسی تصویر جیسے تھے
اگر میں سچ کہوں جاناں
مری تعبیر جیسے تھے💕
جہاں پر تم نے کاغذ کی بہت چھوٹی سی ناؤ کو
بڑی چاہت سے، ہمت سے
سمندر میں اتارا تھا ✨
بہت دلکش نظارہ تھا
تمہارے حوصلے پہ کس قدر حیران یہ لہریں
تمہیں حیرت سے تکتیں تھیں
بپھرتی تھیں ، مچلتی تھیں
مگر تم ان سے بےپرواہ
بس اپنی سوچ میں گم تھے
ہماری آنکھ میں تم تھے 🖤
تمہیں کچھ یاد ہے
ساحل پے ہم نے گیت
گایا تھا
تمہیں دل میں بسایا تھا
جہاں ہم تم ملے تھے💕
اور پھر آنکھوں ہی آنکھوں میں
کئی صدیاں گزاری تھیں
مری سانسیں تمہاری تھیں
ابھی تو سال گزرا ہے🍁
کہ جب تم میرے شانوں پر اچانک ہاتھ رکھ کر
چپکے چپکے مجھ سے کہتی تھیں
محبت تو عبادت ہے ، محبت تو سعادت ہے❤️
محبت فیض کا چشمہ جسے دن رات بہنا ہے
ہمیں اک ساتھ رہنا ہے، یہ دکھ سکھ ساتھ سہنا ہے
ابھی کچھ دیر ہی پہلے
تمہاری آنکھ کے جھل مل ستارے
ہم سے کہتے تھے
ہمارا نام لیتے تھے ، ہمیں پیغام دیتے تھے
تمہارا ساتھ نہ چھوٹے ، ہمارا خواب نہ ٹوٹے
مگر یہ سال کیسا ہے
کسی نے بھی نہیں پوچھا
ہمارا حال کیسا ہے😢
وہی ساحل ، وہی موسم ، وہی رستے، وہی قصّے
وہی سب کچھ تو ہے جاناں
مگر اب تم نہیں میرے
بس اک احساس رہتا ہے
گیا وقت لمحے لمحے آنسوؤں کے ساتھ بہتا ہے
ہمیں اک بات کہتا ہے
تمہارا ساتھ کیوں چھوٹا ؟💔
ہمارا خواب کیوں ٹوٹا ؟
!ابھی تو سال گزرا تھا 🥀

Address

1
Bahawalnagar
62300

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bazme jam posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Bazme jam:

Share

Category