12/08/2026
اس تصویر کا تعلق بینش فاطمہ(ڈی پی او لودھراں) کی زندگی کے ایک اہم باب سے ہے۔ 2018 میں شائع ہونے والی Mag The Weekly کی Wedding Bliss رپورٹ کے مطابق بینش فاطمہ کی شادی عذیر عارف سے ہوئی۔ ان کے شوہر عذیر عارف، سابق انسپکٹر جنرل پولیس پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کے صاحبزادے ہیں، جبکہ بینش فاطمہ کے والد جسٹس قاضی محمد امین ہیں۔ شادی کی تقریب اسلام آباد اور ولیمہ لاہور میں منعقد ہوا تھا، جس میں ملک کی اہم سیاسی، عدالتی، انتظامی اور پولیس شخصیات نے شرکت کی۔
لودھراں کے لیے ایک اہم انتظامی تبدیلی کے تحت بینش فاطمہ کو ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر لودھراں تعینات کیا گیا ہے۔
بینش فاطمہ کا تعلق Police Service of Pakistan (PSP) سے ہے اور وہ پولیسنگ کے میدان میں ایک نمایاں اور باصلاحیت خاتون افسر کے طور پر اپنی شناخت بنا چکی ہیں۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق وہ 45th Common Training Programme کی PSP افسر ہیں اور 2023 میں BS-18 افسر کے طور پر وفاقی تحقیقاتی ادارے (FIA) میں خدمات انجام دے رہی تھیں۔
بینش فاطمہ کو پنجاب پولیس کی تاریخ میں آرگنائزڈ کرائم یونٹ کی سربراہی کرنے والی پہلی خاتون افسر ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔
ان کی قیادت میں متعدد خطرناک جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف کارروائیاں ہوئیں،
جبکہ جدید تفتیشی ٹیکنالوجی، نئے تفتیش کاروں کی بھرتی اور پولیسنگ میں اصلاحات کے لیے بھی انہوں نے کام کیا۔
وہ راولپنڈی کی پہلی خاتون چیف ٹریفک آفیسر (CTO) بھی رہ چکی ہیں۔
2024 میں انہیں بین الاقوامی سطح پر IACP 40 Under 40 Award سے بھی نوازا گیا، جہاں وہ پاکستان کی واحد خاتون پولیس افسر تھیں جنہیں اس اعزاز کے لیے منتخب کیا گیا۔
لہذا اب یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ لودھراں کو اب ایسی خاتون پولیس افسر کی قیادت ملنے جا رہی ہے
جس کا پولیس سروس میں مضبوط پیشہ ورانہ پس منظر، اعلیٰ سطح کی تربیت، جرائم کے خلاف عملی تجربہ اور بین الاقوامی سطح پر حاصل کیا گیا اعزاز بھی اس کے کیریئر کا حصہ ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ بینش فاطمہ لودھراں کی پولیسنگ میں کیا تبدیلیاں لاتی ہیں اور ضلع کے عوام ان کی قیادت کو کس طرح محسوس کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ وقت کرے گا۔
#