Digital Saint

Digital Saint Be Happy

‏دُور تک ساتھ دیا کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں اُن کا...تُو نے دیکھے ہیں کبھی گاؤں سے جاتے ہوئے لوگ... ممتاز گورمانی
18/07/2023

‏دُور تک ساتھ دیا کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ آنکھیں اُن کا...
تُو نے دیکھے ہیں کبھی گاؤں سے جاتے ہوئے لوگ...

ممتاز گورمانی

16/06/2023
خوابوں میں ملوں گی نہ خیالوں میں ملوں گی میں  تم کو محبت کے حوالوں میں ملوں گی کیوں ڈھونڈ تے رہتے ہو 'مجھے اہل زمین میں ...
16/06/2023

خوابوں میں ملوں گی نہ خیالوں میں ملوں گی
میں تم کو محبت کے حوالوں میں ملوں گی

کیوں ڈھونڈ تے رہتے ہو 'مجھے اہل زمین میں
میں عکس ہوں اور چاند کے ہالوں میں ملوں گی

محسوس کرو گے تو سدا پاؤ گے '' ہمراہ
راتوں میں کبھی دن کے اجالوں میں ملوں گی

تم بات بدل دو گے مرے ذکر پہ لیکن
ہر بار زمانے کے سوالوں میں ملوں گی

وعدہ ہے مرا مجھ کو قضا لے بھی گئی تو
'''پا کیزہ محبت'' کی مثالوں میں ملوں گی

16/06/2023

‏شبنم ہے کہ دھوکا ہے کہ جھرنا ہے کہ تم ہو
دل دشت میں اک پیاس تماشہ ہے کہ تم ہو

اک لفظ میں بھٹکا ہوا شاعر ہے کہ میں ہوں
اک غیب سے آیا ہوا مصرع ہے کہ تم ہو

دروازہ بھی جیسے مری دھڑکن سے جڑا ہے
دستک ہی بتاتی ہے پرایا ہے کہ تم ہو

اک دھوپ سے الجھا ہوا سایہ ہے کہ میں ہوں
اک شام کے ہونے کا بھروسہ ہے کہ تم ہو

میں ہوں بھی تو لگتا ہے کہ جیسے میں نہیں ہوں
تم ہو بھی نہیں اور یہ لگتا ہے کہ تم ہو

احمد سلمان

‏میں  نے  پہچان  لیا  دور  سے، گھر  تیرا  ہے...پھول لپٹے ہوئے دیکھے جہاں دیوار کےساتھ...عدیم ہاشمی
16/06/2023

‏میں نے پہچان لیا دور سے، گھر تیرا ہے...
پھول لپٹے ہوئے دیکھے جہاں دیوار کےساتھ...

عدیم ہاشمی

15/06/2023

‏چاند سے چہرے کا صدقہ بھی اُتارا کیجے
مشورہ ہے یہ میری جان! گوارا کیجے

ہم تُمہیں ایک نَظَر بھی نہیں اچھّے لگتے
ارے کیجئے جان یہی بات دوبارا کیجے

روشنی دِن کی اندھیروں میں سِمَٹ جاتی ہے
گھر کے آنگن میں نہ یُوں بال سنوارا کیجے

ہم تو یہ جان ہتھیلی پہ لئے پِھرتے ہیں
بَس کِسی دِن ہمیں ہلکا سا اِشارا کیجے

آپ تو مَحل نشِیں نرم مُلائم سے ہیں
جھونپڑی ہے یہ غریبوں کی گُزارا کیجے

ہم تو راہوں میں لیے پھرتے ہیں کاسہِ دِل
حال کیسا ہے کِسی روز نظارا کیجے...

شاعر: افضل عاجز

15/06/2023

اب اُس نے وقت نکالا ہے حال سننے کو
بیان کرنے کو جب کوئی داستاں بھی نہیں

وہ دل سے سرسری گزرا، کرم کیا اُس نے
کہ رہنے کا متحّمل تو یہ مکاں بھی نہیں

زمیں پیروں سے نکلی تو یہ ہوا معلوم
ہمارے سر پہ کئی دن سے آسماں بھی نہیں

سفر میں چلتے نہیں عام زندگی کے اُصول
وہ ہم قدم ہے مرا جو مزاج داں بھی نہیں

نہیں پسند کوئی بے توجہی اُس کو
اور اپنے چاہنے والوں پہ مہرباں بھی نہیں

جمالؔ احسانی

Address

Bahawalpur
63100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Digital Saint posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Digital Saint:

Share