Tahir Nekukara

Tahir Nekukara نام جس کا روشنی تھا
اس نے مجھے تاریکیاں دی ہیں

یہ میری غزلیں یہ میری نظمیں
تمام تیری حکایتیں ہیں
یہ تذکرے تیرے لطف کے ہیں
یہ شعر تیری شکایتیں ہیں
میں سب تری نذر کر رہا ہوں
یہ ان زمانوں کی ساعتیں ہیں

جو زندگی کے نئے سفر میں
تجھے کسی وقت یاد آئیں
تو ایک اک حرف جی اٹھے گا
پہن کے انفاس کی قبائیں
اداس تنہائیوں کے لمحوں
میں ناچ اٹھیں گی یہ اپسرائیں
مجھے ترے درد کے علاوہ بھی
اور دکھ تھے یہ مانتا ہوں
ہزار غم تھے جو زندگی کی
تلاش میں تھے یہ جانتا ہوں
مجھے خبر تھی کہ تیرے آنچل میں
درد کی ریت چھانتا ہوں
مگر ہر اک بار تجھ کو چھو کر
یہ ریت رنگ حنا بنی ہے
یہ زخم گلزار بن گئے ہیں
یہ آہ سوزاں گھٹا بنی ہے
یہ درد موج صبا ہوا ہے
یہ آگ دل کی صدا بنی ہے
اور اب یہ ساری متاع ہستی
یہ پھول یہ زخم سب ترے ہیں
یہ دکھ کے نوحے یہ سکھ کے نغمے
جو کل مرے تھے وہ اب ترے ہیں
جو تیری قربت تری جدائی
میں کٹ گئے روز و شب ترے ہیں
وہ تیرا شاعر ترا مغنی
وہ جس کی باتیں عجیب سی تھیں
وہ جس کے انداز خسروانہ تھے
اور ادائیں غریب سی تھیں
وہ جس کے جینے کی خواہشیں بھی
خود اس کے اپنے نصیب سی تھیں
نہ پوچھ اس کا کہ وہ دوانہ
بہت دنوں کا اجڑ چکا ہے
وہ کوہ کن تو نہیں تھا لیکن
کڑی چٹانوں سے لڑ چکا ہے
وہ تھک چکا تھا اور اس کا تیشہ
اسی کے سینے میں گڑ چکا ہے

20/08/2026

تمہیں بھولنے کی کوشش میں یہ معلوم ہوا کہ کچھ لوگ یاد نہیں رہتے، دل میں رہ جاتے ہیں۔۔؀

21/07/2026

کچھ کیفیتیں ایسی ہوتی ہیں جو لفظوں کے ترازو میں نہیں تولی جا سکتیں۔ جب انسان اندر سے ٹوٹ کر کرچی کرچی ہو رہا ہو تو وضاحتیں دینے کی ہمت بھی ختم ہو جاتی ہے۔ بس دل چاہتا ہے کہ کوئی بغیر پوچھے، بغیر کچھ کہے، میرے دل کا حال سمجھ لے۔

میرا درد شاید دنیا کے لیے صرف ایک اداس چہرہ ہے، ایک خاموش انسان ہے، ایک معمول کی سی کہانی ہے... مگر وہ شخص جسے میں اپنا سمجھتا تھا، وہ جانتا تھا کہ میری خاموشی کے پیچھے کیا ہے، میری مسکراہٹ کے پیچھے کتنی اذیت ہے، اور میری آنکھوں میں چھپے آنسوؤں کی وجہ کیا ہے۔

وہ مجھے چھوڑ کر اپنی نئی زندگی میں خوش ہے، مگر میرا دل آج بھی وہیں کھڑا ہے جہاں اس نے مجھے تنہا چھوڑا تھا۔ وقت گزر گیا، لوگ بدل گئے، زندگی آگے بڑھ گئی... مگر میرے اندر کچھ بھی آگے نہیں بڑھ سکا۔

کبھی کبھی دل اس سے شکوہ کرتا ہے کہ تم نے مجھے اتنی آسانی سے کیسے بھلا دیا؟ تم کیسے اپنی زندگی میں خوش ہو گئے؟ کیا کبھی تمہیں میری یاد نہیں آتی؟ کیا کبھی تمہیں یہ خیال نہیں آتا کہ تمہارے جانے کے بعد میں کس حال میں ہوں؟

اور ہاں... دل یہ بھی جانتا ہے کہ وہ اب لوٹ کر نہیں آئے گا۔ شاید وہ کبھی میری طرف واپس دیکھے بھی نہ، شاید اسے میری کمی کبھی محسوس نہ ہو... یہ حقیقت جانتے ہوئے بھی دل اس کا انتظار کرتا ہے۔

کاش وہ ایک بار واپس آئے اور میرے قریب بیٹھ کر میرے دل کو محسوس کرے... وہ درد جو میں نے اس کے جانے کے بعد ہر لمحہ جھیلا ہے۔ کاش وہ میری آنکھوں میں دیکھ کر سمجھ سکے کہ اس کے بغیر میں نے کیسے خود کو ہر روز ٹوٹتے دیکھا ہے۔

کیونکہ میرے اس درد کو شاید دنیا کبھی نہ سمجھ سکے... میرے دل کی اس خاموش چیخ کو شاید کوئی نہ سن سکے... **یہ درد صرف وہی محسوس کر سکتا ہے جس نے مجھے یہ درد دیا ہے۔**

اور شاید یہی سب سے بڑا دکھ ہے... کہ جس شخص سے مجھے سب سے زیادہ شکوہ ہے، جس سے مجھے سب سے زیادہ محبت ہے، جسے آج بھی میرے دل کی ہر دھڑکن پکارتی ہے... وہ جانتے ہوئے بھی واپس نہیں آئے گا۔

پھر بھی نہ جانے کیوں... یہ دل آج بھی اسی بے وفا کا منتظر ہے۔

15/07/2026

کبھی کبھی سوچتا ہوں...
آخر زندگی نے مجھ سے ایسی کون سی دشمنی نبھائی ہے؟

میں نے تو صرف محبت کی تھی۔
بدلے میں مجھے خاموش راتیں، بےشمار آنسو، بےنام درد اور ایک ایسا خالی پن ملا جو ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔

میرے چہرے پر جو مسکراہٹ نظر آتی ہے، وہ صرف دنیا کے لیے ہے۔
میرے اندر تو برسوں سے ایک ایسا شور برپا ہے جسے کوئی سن ہی نہیں سکتا۔

لوگ کہتے ہیں وقت سب کچھ بدل دیتا ہے۔
مگر وقت نے میرے لیے صرف یہ بدلا کہ درد میری عادت بن گیا۔
اب آنسو بھی خاموشی سے بہتے ہیں اور دل بھی بغیر آواز کے ٹوٹتا ہے۔

کبھی کبھی زندگی سے شکوہ کرتا ہوں...
اگر میرے نصیب میں سکون لکھنا ہی نہیں تھا، تو پھر اتنی امیدیں کیوں دیں؟
اگر آخر میں تنہائی ہی میرا مقدر تھی، تو راستے میں محبت کا خواب کیوں دکھایا؟
اگر ہر دعا ادھوری رہنی تھی، تو ہاتھ اٹھانے کی عادت کیوں ڈالی؟

آج بھی دل میں ایک آگ جلتی ہے۔
ایسی آگ جسے نہ وقت بجھا سکا، نہ فاصلے، نہ مصروفیت، نہ دنیا کی کوئی خوشی۔

پھر اچانک یاد آتا ہے...
اس بربادی کو شروع ہوئے دس سال گزر چکے ہیں۔

دس سال...
اور اب بھی کچھ زخم ایسے ہیں جنہیں چھوا جائے تو ایسا لگتا ہے جیسے ابھی ابھی لگے ہوں۔

میں اب کسی سے نفرت بھی نہیں کرتا۔
بس تھک گیا ہوں۔
اتنا تھک گیا ہوں کہ کبھی کبھی اپنے ہی وجود کا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔

ہر صبح سورج تو نکل آتا ہے،
مگر میرے اندر کی رات کبھی ختم نہیں ہوتی۔
دن بھر لوگوں کے درمیان رہ کر بھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے میں ایک ایسے صحرا میں کھڑا ہوں جہاں میری آواز سننے والا کوئی نہیں۔

عجیب بات ہے...
جس محبت کو میں نے اپنی دعا سمجھا تھا،
وہی میری آزمائش بن گئی۔
جس ہاتھ کو تھام کر عمر گزارنے کے خواب دیکھے تھے،
اسی ہاتھ کی جدائی نے میری زندگی کو ویران کر دیا۔

کاش ٹوٹنے کی بھی کوئی آواز ہوتی،
تاکہ لوگ جان سکتے کہ خاموش رہنے والے انسان کے اندر کتنا شور ہوتا ہے۔
کاش دل کے زخم بھی نظر آتے،
تاکہ کوئی یہ نہ کہتا کہ "تم تو بالکل ٹھیک لگتے ہو۔"

میں نے لوگوں کو کھونا نہیں سیکھا تھا،
مگر زندگی نے مجھے ایک ہی لمحے میں سب کچھ کھو دینا سکھا دیا۔
اعتماد، خوشی، سکون، خواب...
سب ایک ایک کرکے مجھ سے جدا ہوتے گئے۔

آج بھی جب تنہائی میرے پاس بیٹھتی ہے،
تو وہ پرانی یادوں کی کتاب کھول دیتی ہے۔
ہر صفحہ ایک درد سناتا ہے،
ہر لفظ ایک ادھورا خواب بن کر آنکھوں میں اتر آتا ہے،
اور ہر یاد دل سے یہی سوال کرتی ہے کہ آخر محبت کا انجام اتنا بےرحم کیوں ہوتا ہے؟

اب نہ کسی سے کوئی شکوہ باقی ہے،
نہ کسی سے کوئی گلہ۔
بس زندگی سے ایک سوال ہے...
کیا ہر سچے دل کا نصیب یہی ہوتا ہے؟
کیا ہر وفادار انسان کو آخرکار تنہائی ہی ملتی ہے؟

میں اب پہلے جیسا انسان نہیں رہا۔
میں ہنستا ضرور ہوں،
مگر وہ ہنسی میرے ہونٹوں تک محدود رہتی ہے۔
میرا دل تو برسوں سے خاموش بیٹھا ہے،
جیسے اسے یقین ہو گیا ہو کہ اب کوئی خوشی اس کے دروازے پر دستک نہیں دے گی۔

شاید کچھ کہانیاں ختم نہیں ہوتیں،
وہ صرف خاموش ہو جاتی ہیں...
اور ان کے کردار زندگی بھر مسکراتے ہوئے بھی اندر سے روتے رہتے ہیں۔

اور شاید میری کہانی بھی انہی کہانیوں میں سے ایک ہے...
جہاں محبت ختم ہو گئی،
مگر اس کی دی ہوئی تکلیف آج بھی ہر دھڑکن کے ساتھ زندہ ہے۔

طاہر نیکوکارہ

09/07/2026

مرہم نہ بن سکے گی کبھی معذرت تیری۔۔؀

کچھ خسارے قہقہوں کے دوران بھی یاد آتے ہیں۔۔؀
03/07/2026

کچھ خسارے قہقہوں کے دوران بھی یاد آتے ہیں۔۔؀

29/06/2026

‏میں نے جب اس سے دور جانے کا ارادہ باندھا تو میں نے ہر چیز اٹھا لی سوائے اپنے دل کے۔ وہ میرے سارے سامان سے بھاری تھا۔۔؀

28/06/2026

تُم سوچتی ہوگی کہ تُم بہت دور جا چکی ہو، لیکن تُم یہیں کہیں میرے سینے میں پھنسی دیمک کی طرح میری جوانی کے اوراق چاٹے جا رہی ہو۔۔؀

28/06/2026

لوگ اب بھی مجھے تیرا سمجھتے ہیں، تو ان کو آ کر بتا، اب ہم ساتھ نہیں رہے۔ گلی کے موڑ پہ جب بھی میرا ذکر آتا ہے، لوگ تیری محبت کا حوالہ دیتے ہیں، میرے نام کے ساتھ اب بھی تیرا نام جوڑتے ہیں، اور میں خاموش کھڑا رہتا ہوں، جیسے وقت کے کسی ویران چوراہے پر اپنی ہی کہانی کا آخری کردار بن گیا ہوں۔ وہ پوچھتے ہیں، "کیسی ہے وہ؟" میں مسکرا دیتا ہوں، حالانکہ میری مسکراہٹ کے پیچھے بچھڑنے کے کئی موسم دفن ہیں۔ میں کیا بتاؤں کہ اب ہمارے درمیان صرف یادوں کا ایک لمبا صحرا ہے، جہاں نہ ملاقاتوں کے پھول کھلتے ہیں اور نہ امید کی کوئی بارش ہوتی ہے۔ لوگ اب بھی سمجھتے ہیں کہ تم میری دعاؤں میں شامل ہو، میرے دن تمہارے نام سے روشن ہوتے ہیں، اور راتیں تمہارے خیال میں گزرتی ہیں۔ کاش وہ جانتے کہ کچھ رشتے سانس لیتے ہوئے بھی مر جاتے ہیں، اور کچھ لوگ دل میں رہ کر بھی زندگی سے نکل جاتے ہیں۔ اگر ممکن ہو تو ایک بار آؤ، اور ان سب کو بتا دو کہ وہ قصہ جسے لوگ آج بھی محبت سمجھتے ہیں، اس کا اختتام بہت پہلے ہو چکا ہے۔ بتا دو کہ اب نہ وہ وعدے باقی ہیں، نہ وہ خواب، نہ وہ راستے جن پر ہم ساتھ چلا کرتے تھے۔ مگر شاید تم نہ آؤ، کیونکہ تم تو کب کے اپنی نئی دنیا میں کھو چکے ہو۔ اس لیے میں ہی سچ کا بوجھ اٹھائے پھرتا ہوں، میں ہی ہر سوال پر خاموشی اوڑھ لیتا ہوں۔ لوگ اب بھی مجھے تیرا سمجھتے ہیں، اور میں اب بھی کسی حد تک تیرا ہوں، مگر صرف اتنا جتنا خزاں کے بعد درخت پر ایک سوکھا ہوا پتہ باقی رہ جاتا ہے۔ جتنا کسی پرانی کتاب میں رکھا ہوا پھول اپنی خوشبو کا آخری نشان چھوڑ جاتا ہے۔ ہاں، لوگ اب بھی مجھے تیرا سمجھتے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہم ایک دوسرے کی یاد تو ہیں، مگر اب ایک دوسرے کے ساتھ نہیں رہے۔

27/02/2026

تم سوچتے ہوگے تم بہت دور جا چکے ہو ،لیکن تم یہی کہیں میری پسلیوں میں پھنسے دیمک کی طرح میری جوانی کے اوراق چاٹے جا رہے ہو

03/01/2026

کچھ باتیں دل سے…

یہ بات میں کسی شکوے کے طور پر نہیں لکھ رہا،
بس دل کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے لکھ رہا ہوں۔
کیونکہ کچھ درد ایسے ہوتے ہیں
جو لفظوں میں نہ ڈالے جائیں
تو انسان اندر ہی اندر مرنے لگتا ہے۔

دنیا نے پوچھا تھا…
ہاں، مانتا ہوں،
لوگوں نے حال بھی پوچھا،
خیریت بھی جتائی،
کسی نے تسلی دی، کسی نے مشورہ۔
مگر عجیب بات یہ ہے
کہ ان سب سوالوں کے باوجود
دل خالی ہی رہا۔

کیونکہ میں جس ایک سوال کا منتظر تھا
وہ سوال دنیا سے نہیں تھا۔

میں تو بس اُس ایک انسان سے سننا چاہتا تھا
جس سے محبت کی ہے
تم کیسے ہو؟

مگر وہ خاموش رہا۔

یہ خاموشی چیختی ہے…
یہ خاموشی راتوں کو سونے نہیں دیتی۔
یہ خاموشی دن کے اجالے میں بھی
اندھیرا کر دیتی ہے۔

میں نے کسی سے بہت کم توقع رکھی تھی،
بس اتنی کہ
اگر میں ٹوٹ جاؤں
تو وہ پوچھ لے کہ
میں کیسا ہوں۔

مگر شاید محبت میں
یہ توقع بھی بہت بڑی ہوتی ہے۔

مجھے اس بات نے توڑا
کہ میں دنیا کے لیے قابلِ سوال تھا،
مگر اس کے لیے قابلِ فکر نہیں۔
سب نے حال جانا،
مگر جس نے جان لینا تھا
وہ بے نیاز رہا۔

میں نے عشق کیا تھا،
سودا نہیں۔
میں نے دل دیا تھا،
حساب نہیں رکھا۔
اور شاید یہی میری سب سے بڑی غلطی تھی۔

آج نہ چین ہے،
نہ سکون۔
دن رات ایک سی اذیت ہے۔
راتیں جاگتے ہوئے گزرتی ہیں
اور دن خود سے لڑتے ہوئے۔

میں ہنستا ہوں
تو لوگ سمجھتے ہیں سب ٹھیک ہے،
مگر کوئی نہیں جانتا
کہ یہ ہنسی
بس تھکن چھپانے کا ہنر ہے۔

میں برباد اس بات پر نہیں ہوں
کہ محبت ناکام ہو گئی،
میں برباد اس بات پر ہوں
کہ جس کے لیے سب کچھ وار دیا
اسی نے پلٹ کر نہیں پوچھا۔

آج میں ٹوٹا ہوا ہوں،
ختم سا ہوں،
اور شاید خاموش بھی۔
لیکن اس خاموشی کے پیچھے
ایک ایسا دل ہے
جو اب بھی صرف
اسی ایک سوال کا منتظر ہے
جو کبھی آیا ہی نہیں۔

یہ تحریر کسی الزام کے لیے نہیں،
بس ایک دل کی سچی بات ہے—
کیونکہ کبھی کبھی
سب سے زیادہ درد
اسی سے ملتا ہے
جس سے محبت کی ہو۔

Address

Bahawalpur

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Tahir Nekukara posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Tahir Nekukara:

Shortcuts

Share