27/08/2026
بہاولپور صوبہ تھا — تاریخ کو پروپیگنڈا نہ بنائیں!
جو لوگ یہ پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں کہ “بہاولپور کبھی صوبہ تھا ہی نہیں، یہ صرف ایک نوابی ریاست تھی”، اُن کے لیے ایک سادہ سا تاریخی جواب ہے:
جی ہاں، بہاولپور 1947 سے پہلے ایک Princely State تھا۔
لیکن پاکستان بننے کے بعد تاریخ وہیں ختم نہیں ہوئی۔
30 اپریل 1951 کو ریاست بہاولپور اور حکومتِ پاکستان کے درمیان Supplementary Instrument of Accession ہوا، جس کے نتیجے میں بہاولپور کو صوبائی امور میں وہ حیثیت دی گئی جو اُس وقت پاکستان کے دیگر صوبوں کو حاصل تھی۔ (Independent Urdu)
پھر کیا ہوا؟
✅ بہاولپور میں صوبائی اسمبلی قائم ہوئی۔
✅ عام انتخابات ہوئے اور منتخب وزارت وجود میں آئی۔
✅ اپنا صوبائی سیکرٹریٹ اور انتظامی ادارے موجود تھے۔
✅ صوبائی بجٹ پیش ہوتا تھا۔
✅ 1954 کے آئینی خاکے میں بھی بہاولپور کو صوبے کے طور پر شامل کیا گیا تھا۔ (Independent Urdu)
اور پھر 14 اکتوبر 1955 کو ون یونٹ کے قیام کے ساتھ بہاولپور کی یہ صوبائی حیثیت ختم کر دی گئی اور اسے مغربی پاکستان میں ضم کر دیا گیا۔ (Independent Urdu)
لہٰذا اصل تاریخی ترتیب یہ ہے:
ریاستِ بہاولپور → پاکستان سے الحاق → 1951 میں صوبائی حیثیت → 1952 کے انتخابات → صوبائی ادارے → 1955 ون یونٹ → صوبائی حیثیت کا خاتمہ
اب اگر کوئی صرف یہ کہہ کر بات ختم کرنا چاہتا ہے کہ
“بہاولپور تو صرف ریاست تھی”
تو اسے پوری تاریخ پڑھنی چاہیے، صرف ایک حصہ نہیں۔
اور اگر کوئی بہاولپور کے تاریخی صوبائی تشخص کو سرائیکی صوبے کے نام پر مٹانے کی کوشش کرے تو ہمارا جواب نفرت نہیں، دستاویز اور تاریخ ہے۔
ملتان کی اپنی تاریخ، سرائیکی خطے کی اپنی شناخت اور بہاولپور کی اپنی تاریخی حیثیت ہے۔
کسی ایک شناخت کو ثابت کرنے کے لیے دوسری تاریخ کو جھٹلانا علمی دیانت نہیں۔
ہم تاریخ تبدیل نہیں کرنا چاہتے — ہم تاریخ کو درست طور پر یاد رکھنا چاہتے ہیں۔
📌 حوالہ جات:
• Supplementary Instrument of Accession — 30 April 1951
• Government of India Act, 1935 کے تحت صوبائی انتظامی فریم ورک
• 1952 Bahawalpur Legislative Assembly elections
• 1954 constitutional arrangements
• One Unit Scheme — 14 October 1955
• Independent Urdu، Dawn اور تحقیقی مطالعات
تاریخ جانیں، پروپیگنڈا نہیں۔
بہاولپور — اپنی شناخت، اپنا حق، اپنی آواز۔