27/05/2026
اُس نے اپنی بیوی کی کلائی کو آخری دفعہ پکڑ کر یہ یقین کرنا چاہا تھا کہ واقعی اُس کی دھڑکن رُک چکی ہے۔
اِس بار ٹھنڈی پڑتی خاموش کلائی نے جہاں اُس کے سارے جہان کو خاموش کر دیا تھا وہاں اُس کی ساری ذمہ داریاں بھی شاید دم توڑ چکی تھیں۔
ٹی بی کے مرض نے جہاں گاؤں کے تقریبا ہر گھر میں تباہی مچائی تھی وہاں اِس کے لیے یہ وبا کچھ زیادہ ہی تکلیف دہ ثابت ہوئی تھی۔
دونوں میاں بیوی پسند کی شادی کرنے کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کے یہاں آ بسے تھے۔ اُن کے دل میں ایک امید تھی، زندگی کو نیا موڑ دینے کی، ایک ایسی زندگی بنانے کی جہاں وہ اپنی ساری خوشیاں لا سکیں۔ ایک نئی زندگی کو جنم دے سکیں۔ لوگوں کے طعنوں سے بچ کے رہ سکیں۔
لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ قدرت کے فیصلے بڑے بے رحم ہوتے ہیں۔ یہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اِن کے سامنے کسی کی ایک نہیں چلتی۔
اُن کے گاؤں میں آنے کے بعد افواہ پھیلی تھی کہ شہر میں تب دق کی وبا پھیل چکی ہے۔ لوگ کھانسنے لگتے ہیں تو اتنا کھانستے ہیں کہ پھر کبھی چپ ہی نہیں ہوتے۔ اور کھانستے کھانستے ہی اِس جہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں۔
میاں بیوی تک بھی جب یہ بات پہنچی تو وہ بھی دوسروں کی طرح سہمے، ڈرے ہوئے ایک دوسرے کے پاس رہنے لگے۔ وہ باہر بھی بلاوجہ نہ نکلتے تھے کیونکہ جو دنیا باہر تھی اُس کو تو وہ خیرباد کہہ آئے تھے۔
ہفتے گزرا، دو گزرے، مہینے میں تبدیل ہو گئے۔ اور ایک دن کسی انجانی چیز نے اُن کے دروازے پہ آن دستک دی۔ کسی ایسی چیز نے جسے پہلے کسی نے نہ دیکھا تھا۔ بس لوگوں نے محسوس کیا تھا۔ خوف کھایا تھا۔ اور چلے گئے تھے۔ انجانی راہ پہ۔
ایک دِن اُس کو کھانسی ہوئی۔ اور ایسی ہوئی کہ پھر کبھی نہ رُکی۔ وہ ساری ساری رات کھانستے ہوئے گزار دیتی تھی۔ ہلکی سی مسکراہٹ چند لمحوں کے لیے اگر اُس کے چہرے پر پھیلتی تھی تو اگلے لمحے وہ کسی انجانی چیز کو پھیپھڑوں سے ہوا کی صورت میں نکالتے ہوئے غائب ہو جاتی تھی۔
وہ مسکرانا چاہتی تھی۔ اُس کو خوشیاں دینا چاہتی تھی۔ ایک نئی زندگی کو جنم دینا چاہتی تھی۔ لیکن اب اُس کی طبیعت ساتھ دینا چھوڑ رہی تھی۔
ہر گزرتا دن اسے کمزور کر رہا تھا۔ اُس کے اندر کی طاقت زائل کر رہا تھا۔ اُس کا جسم لاغر ہوتا جا رہا تھا۔
دوسری طرف، اُس کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا وہ شخص کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا۔ اپنی ساری جمع پونجی جو اُس نے اپنی خوشگوار زندگی کے لیے بنائی تھی وہ ساری لگ چکی تھی۔
گھر کی ضرورت کی چیزیں آہستہ آہستہ بکنے لگی تھیں۔ ایک ایک کر کے سب کچھ گھر سے جانے لگا۔ کبھی کسی طبیب کے بارے مشہور ہوتا کہ اُس نے تپ دق کا علاج دریافت کر لیا ہے تو وہ اُس کے طب خانے جا پہنچتا۔
کبھی کسی حکیم کی پڑیا شفا کی وجہ ٹھہرتی۔ تو گھر کے برتن بیچ کر وہ پڑیا خرید لاتا۔ لیکن طبیعت تھی کہ بہلتی نہ تھی۔ بس بگڑنے پہ زور تھا۔
اُس رات ساتھ والے گھر سے کسی نے پیغام بھیجا کہ فلاں حکیم کی دوا سے اُس کی بیوی ٹھیک ہو گئی تھی۔ اِس خدا کے بندے نے صبح کا انتظار کیے بغیر روانہ ہونا بہتر سمجھا۔ وہ پیتل کا ڈول جو اُس کے ہاتھ میں تھا وہ آخری برتن تھا جس میں وہ پانی بھر کے پی لیتا تھا۔
لیکن امید بندے کو ہر کام کرواتی ہے۔ یہ اُس کی آخری امید تھی۔ وہ وہاں پہنچا تو معلوم پڑا کہ کوئی جدید دوا بنائی گئی ہے جو تپ دق سے بندے کو آزادی دلا دیتی ہے۔ انسان بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے۔
بازار میں وہ ڈول بیچنے کے بعد وہ اُس طبیب کے مطب پہ جا پہنچا جہاں سے وہ دوا ملنا تھی۔ وہ دوائی وہاں سے پکڑنے کے۔ بعد وہ واپسی کے لیے روانہ ہوا تھا کہ پیچھے سے کسی نے تھپکی دی۔۔۔
سِم جیسیک
جاری ہے