سِم جیسیک

سِم جیسیک تجھے نہ آئیں گی مفلس کی مشکلات سمجھ
(1)

28/05/2026
اُس نے اپنی بیوی کی کلائی کو آخری دفعہ پکڑ کر یہ یقین کرنا چاہا تھا کہ واقعی اُس کی دھڑکن رُک چکی ہے۔ اِس بار ٹھنڈی پڑتی...
27/05/2026

اُس نے اپنی بیوی کی کلائی کو آخری دفعہ پکڑ کر یہ یقین کرنا چاہا تھا کہ واقعی اُس کی دھڑکن رُک چکی ہے۔

اِس بار ٹھنڈی پڑتی خاموش کلائی نے جہاں اُس کے سارے جہان کو خاموش کر دیا تھا وہاں اُس کی ساری ذمہ داریاں بھی شاید دم توڑ چکی تھیں۔

ٹی بی کے مرض نے جہاں گاؤں کے تقریبا ہر گھر میں تباہی مچائی تھی وہاں اِس کے لیے یہ وبا کچھ زیادہ ہی تکلیف دہ ثابت ہوئی تھی۔

دونوں میاں بیوی پسند کی شادی کرنے کی خاطر اپنا گھر بار چھوڑ کے یہاں آ بسے تھے۔ اُن کے دل میں ایک امید تھی، زندگی کو نیا موڑ دینے کی، ایک ایسی زندگی بنانے کی جہاں وہ اپنی ساری خوشیاں لا سکیں۔ ایک نئی زندگی کو جنم دے سکیں۔ لوگوں کے طعنوں سے بچ کے رہ سکیں۔

لیکن قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ قدرت کے فیصلے بڑے بے رحم ہوتے ہیں۔ یہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اِن کے سامنے کسی کی ایک نہیں چلتی۔

اُن کے گاؤں میں آنے کے بعد افواہ پھیلی تھی کہ شہر میں تب دق کی وبا پھیل چکی ہے۔ لوگ کھانسنے لگتے ہیں تو اتنا کھانستے ہیں کہ پھر کبھی چپ ہی نہیں ہوتے۔ اور کھانستے کھانستے ہی اِس جہاں سے روانہ ہو جاتے ہیں۔

میاں بیوی تک بھی جب یہ بات پہنچی تو وہ بھی دوسروں کی طرح سہمے، ڈرے ہوئے ایک دوسرے کے پاس رہنے لگے۔ وہ باہر بھی بلاوجہ نہ نکلتے تھے کیونکہ جو دنیا باہر تھی اُس کو تو وہ خیرباد کہہ آئے تھے۔

ہفتے گزرا، دو گزرے، مہینے میں تبدیل ہو گئے۔ اور ایک دن کسی انجانی چیز نے اُن کے دروازے پہ آن دستک دی۔ کسی ایسی چیز نے جسے پہلے کسی نے نہ دیکھا تھا۔ بس لوگوں نے محسوس کیا تھا۔ خوف کھایا تھا۔ اور چلے گئے تھے۔ انجانی راہ پہ۔

ایک دِن اُس کو کھانسی ہوئی۔ اور ایسی ہوئی کہ پھر کبھی نہ رُکی۔ وہ ساری ساری رات کھانستے ہوئے گزار دیتی تھی۔ ہلکی سی مسکراہٹ چند لمحوں کے لیے اگر اُس کے چہرے پر پھیلتی تھی تو اگلے لمحے وہ کسی انجانی چیز کو پھیپھڑوں سے ہوا کی صورت میں نکالتے ہوئے غائب ہو جاتی تھی۔

وہ مسکرانا چاہتی تھی۔ اُس کو خوشیاں دینا چاہتی تھی۔ ایک نئی زندگی کو جنم دینا چاہتی تھی۔ لیکن اب اُس کی طبیعت ساتھ دینا چھوڑ رہی تھی۔

ہر گزرتا دن اسے کمزور کر رہا تھا۔ اُس کے اندر کی طاقت زائل کر رہا تھا۔ اُس کا جسم لاغر ہوتا جا رہا تھا۔

دوسری طرف، اُس کو بچانے کی ہر ممکن کوشش کرتا وہ شخص کسی بھی حد تک جانے کو تیار تھا۔ اپنی ساری جمع پونجی جو اُس نے اپنی خوشگوار زندگی کے لیے بنائی تھی وہ ساری لگ چکی تھی۔

گھر کی ضرورت کی چیزیں آہستہ آہستہ بکنے لگی تھیں۔ ایک ایک کر کے سب کچھ گھر سے جانے لگا۔ کبھی کسی طبیب کے بارے مشہور ہوتا کہ اُس نے تپ دق کا علاج دریافت کر لیا ہے تو وہ اُس کے طب خانے جا پہنچتا۔

کبھی کسی حکیم کی پڑیا شفا کی وجہ ٹھہرتی۔ تو گھر کے برتن بیچ کر وہ پڑیا خرید لاتا۔ لیکن طبیعت تھی کہ بہلتی نہ تھی۔ بس بگڑنے پہ زور تھا۔

اُس رات ساتھ والے گھر سے کسی نے پیغام بھیجا کہ فلاں حکیم کی دوا سے اُس کی بیوی ٹھیک ہو گئی تھی۔ اِس خدا کے بندے نے صبح کا انتظار کیے بغیر روانہ ہونا بہتر سمجھا۔ وہ پیتل کا ڈول جو اُس کے ہاتھ میں تھا وہ آخری برتن تھا جس میں وہ پانی بھر کے پی لیتا تھا۔

لیکن امید بندے کو ہر کام کرواتی ہے۔ یہ اُس کی آخری امید تھی۔ وہ وہاں پہنچا تو معلوم پڑا کہ کوئی جدید دوا بنائی گئی ہے جو تپ دق سے بندے کو آزادی دلا دیتی ہے۔ انسان بالکل ٹھیک ہو جاتا ہے۔

بازار میں وہ ڈول بیچنے کے بعد وہ اُس طبیب کے مطب پہ جا پہنچا جہاں سے وہ دوا ملنا تھی۔ وہ دوائی وہاں سے پکڑنے کے۔ بعد وہ واپسی کے لیے روانہ ہوا تھا کہ پیچھے سے کسی نے تھپکی دی۔۔۔

سِم جیسیک
جاری ہے

اِس پوسٹ کا موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے 😅
27/05/2026

اِس پوسٹ کا موجودہ صورتحال سے کوئی تعلق نہیں ہے 😅

💔 ہوٹل والے نے صرف چار گھنٹے کے کمرے کا بل پینتیس ہزار بنا دیا تھا… مگر اُسے اندازہ نہیں تھا کہ سامنے بیٹھی سفید بالوں و...
26/05/2026

💔 ہوٹل والے نے صرف چار گھنٹے کے کمرے کا بل پینتیس ہزار بنا دیا تھا… مگر اُسے اندازہ نہیں تھا کہ سامنے بیٹھی سفید بالوں والی خاتون زندگی کے سارے حساب اُس سے بہتر جانتی ہے۔ 😄

ایک عمر رسیدہ میاں بیوی گاڑی میں کیلیفورنیا سے نیویارک جا رہے تھے۔

گیارہ گھنٹے مسلسل سفر کے بعد دونوں اتنے تھک چکے تھے کہ مزید گاڑی چلانا ممکن نہیں رہا۔

انہوں نے راستے کے ایک بڑے ہوٹل میں صرف چند گھنٹے آرام کرنے کا فیصلہ کیا۔

“چار گھنٹے سو کر نکل جائیں گے…” بزرگ آدمی نے استقبالیہ پر کہا۔

رات گزری۔

صبح دونوں نیند پوری کر کے نیچے آئے تو کاؤنٹر پر موجود کلرک نے بل اُن کے سامنے رکھ دیا۔

350 ڈالر۔

بزرگ آدمی کی آنکھیں پھیل گئیں۔

“چار گھنٹے کے؟”

کلرک نہایت سکون سے بولا:

“سر، یہ ہمارے ہوٹل کا standard rate ہے۔”

بزرگ شخص غصے میں آ گیا۔

“بھئی، ہم نے نہ تمہارا سوئمنگ پول استعمال کیا، نہ conference hall، نہ کوئی شو دیکھا، نہ کوئی سہولت!”

اتنے میں مینیجر بھی آ گیا۔

اس نے بڑی شائستگی سے کہا:

“سر، لیکن یہ سب سہولتیں یہاں موجود تھیں… آپ چاہیں تو استعمال کر سکتے تھے۔”

بزرگ آدمی ہر بار یہی کہتا رہا:

“مگر ہم نے استعمال تو نہیں کیا!”

اور مینیجر ہر بار مسکرا کر یہی جواب دیتا:

“لیکن سہولت موجود تھی۔”

آخرکار تھک ہار کر بزرگ نے کہا:

“ٹھیک ہے، بل دے دیتے ہیں۔”

پھر اُس نے اپنی بیوی کی طرف دیکھا۔

“چیک لکھ دو۔”

بزرگ خاتون نے پرس کھولا، نہایت سکون سے چیک لکھا اور مینیجر کے ہاتھ میں دے دیا۔

مینیجر نے چیک دیکھا تو چونک گیا۔

صرف 50 ڈالر۔

“میڈم، یہ تو صرف پچاس ڈالر ہیں!”

بزرگ خاتون نے عینک درست کی، ہلکا سا مسکرائیں اور بولیں:

“جی، باقی تین سو ڈالر میں نے آپ پر charge کیے ہیں… میرے ساتھ رات گزارنے کے۔”

مینیجر کا منہ کھل گیا۔

“لیکن… میں نے تو ایسا کچھ نہیں کیا!”

خاتون نے فوراً جواب دیا:

“مگر موقع تو موجود تھا نا… آپ کر سکتے تھے۔”

چند لمحے پورا لابی خاموش رہی…

پھر اُن کے شوہر اتنا زور سے ہنسے کہ ہاتھ سے چھڑی گر گئی۔ 😄

جب موسم ٹھنڈا ہو، تو یہ کولر بہترین کام کرتے ہیں لیکن جب موسم ذرا سا بھی گرم ہو تو خیر سے گرم ہوا اور حبس پیدا کرنے میں ...
25/05/2026

جب موسم ٹھنڈا ہو، تو یہ کولر بہترین کام کرتے ہیں
لیکن جب موسم ذرا سا بھی گرم ہو تو خیر سے گرم ہوا اور حبس پیدا کرنے میں ان کا کوئی ثانی نہیں

اس لیے جس نے بھی ان کولرز کے بارے قصیدے پڑے تھے، یقینا اب اس کے استعمال کے بعد خود ٹھنڈے پڑ گئے ہوں گے

اس کا حل اے سی ہے 😁
جو ہم اور آپ افورڈ نہیں کر سکتے

لیکن اگر چاہیں، تو اپنی زندگیوں میں کچھ نہ کچھ تبدیلیاں لا سکتے ہیں، جیسے... گھر بناتے وقت ایک کمرہ کچا رہنے دیں
اس کمرے کی کھڑکیاں بڑی بڑی رکھوائیں
بیڈ اور فوم کی جگہ بان کی چارپائیاں ڈالیں
زمین پر پانی کا چھڑکاؤ کریں، جھاڑو دیں، مفت میں سونی سونی خوشبو سونگھیں
اور ٹھنڈک کا احساس پائیں گے
مٹی کے کمرے اس تپتی دوپہروں میں ٹھنڈے ہوتے ہیں
گاؤں والے گھر میں ایک کچے کمرے کی وجہ سے یہ بات پوری گارنٹی سے کر رہا ہوں

سائرہ فاروق کی وال سے

25/05/2026

میرا ایک شاگرد ہے وہ پچھلے مہینے پانچ کروڑ بنا گیا۔عمر صرف ستائیس سال۔نہ ہارورڈ،نہ آکسفورڈ،نہ کوئی فارن ڈگری حتیٰ کہ بی ایس بھی بمشکل پاس کی تھی۔پہلی تنخواہ؟ پینتیس ہزار اور اب پانچ کروڑ۔جاننے والے حیران تھے کہ آخر ایسا کیا کر لیا؟ کیا کوئی کامیاب اسٹارٹ اپ بنا لیا یا بزنس کھڑا کر دیا؟۔ اس کی کہانی پرکشش ضرور ہے لیکن اتنی رومانوی نہیں۔

اس نے بس یہ کیا کہ اپنیCV اپڈیٹ کرنا چھوڑ دی۔ نوکریوں کے لیے اپلائی کرنا بند کر دیا اور والد مرحوم کی زرعی زمین بیچ دی۔

مہدی بخاری

لبرل لوگوں کی بھی کیا نست زندگی ہے۔ سارا سال مرغی کی نسلیں ختم کرتے ہیں، مچھلیوں کے پورے پورے فارم کھا جاتے ہیں، بکروں ک...
25/05/2026

لبرل لوگوں کی بھی کیا نست زندگی ہے۔ سارا سال مرغی کی نسلیں ختم کرتے ہیں، مچھلیوں کے پورے پورے فارم کھا جاتے ہیں، بکروں کا گوشت تلاش کرتے ان کی گاڑی میں پیٹرول ختم ہو جاتا ہے

لیکن قربانی سے دس دن پہلے اِن کے اندر کا رحم دل انسان جاگ جاتا ہے۔ بکرے کا گوشت دنیا کا آخری گناہ سمجھا جاتا ہے۔

اور مزے کی بات۔ انہوں نے سارا سال لاکھوں کروڑوں کی چیزیں خریدنی ہیں لیکن وہاں غریب غربا یاد نہیں آئیں گے۔

ناران کا ٹوور کرتے ہوئے اِن کو ہمسائے کی بھوک نظر نہیں آئے گی۔ لیکن اِن دس دنوں میں اِن کا ر*ڈی رونا نہیں ختم ہوگا۔

باقی ہر چیز ایک طرف، جو مزہ اِن کو اس موسم میں چڑانے کا آتا ہے وہ پھر پورا سال نہیں آتا۔

آپ کی اس بارے کیا رائے ہے؟

ہنی ٹریپ کا زمانہ چل رہا ہے۔ اگر لاہور کی سڑکوں پہ کوئی دوشیزہ آپ کی گاڑی کی کھڑکی پر دستک دے کر لفٹ مانگے تو آپ نے دِل ...
25/05/2026

ہنی ٹریپ کا زمانہ چل رہا ہے۔ اگر لاہور کی سڑکوں پہ کوئی دوشیزہ آپ کی گاڑی کی کھڑکی پر دستک دے کر لفٹ مانگے تو آپ نے دِل کے تار ملانے کی بجائے دماغ کے گھوڑے دوڑانے ہیں۔

اور خاتون کے لباس اور لاہور شہر کی آب و ہوا میں بہک کر خود کو شہزادہ سلیم اور اُس کو انارکلی نہیں سمجھ لینا۔

قرآن پاک نے ہمیں خبر دی کہ بانجھ بڑھیا حاملہ ہو گئی، کنواری عورت نے بچہ جنا، چھری نے ذبح نہیں کیا، آگ نے جلایا نہیں، مچھ...
24/05/2026

قرآن پاک نے ہمیں خبر دی کہ بانجھ بڑھیا حاملہ ہو گئی، کنواری عورت نے بچہ جنا، چھری نے ذبح نہیں کیا، آگ نے جلایا نہیں، مچھلی نے نگل لیا مگر ہضم نہیں کیا، پتھر سے اونٹنی نکلی، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، شیر خوار بچے نے بات کی، سمندر پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اُس ناممکنات کے رب سے تم کیسے یہ گمان کر سکتے ہو کہ وہ تمہاری ممکن حاجات پوری نہیں کرے گا۔

14/08/2024

اسلام علیکم! آپ کا تعلق کس شہر سے ہے؟

Address

Bahawalpur
63100

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when سِم جیسیک posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to سِم جیسیک:

Share