29/07/2026
ایک چاقو، ایک وائسرائے، اور تاریخ کا ایک اہم واقعہ
8 فروری 1872 کی شام پورٹ بلیئر (انڈمان جزائر) میں برطانوی ہند کے وائسرائے لارڈ میو اپنے سرکاری دورے کے بعد جہاز کی طرف واپس جا رہے تھے کہ قیدی شیر علی آفریدی نے اچانک ان پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ شدید زخمی ہونے کے باعث لارڈ میو کچھ ہی دیر بعد دم توڑ گئے۔ وہ برطانوی ہند کے واحد وائسرائے تھے جو اپنے عہدۂ صدارت کے دوران قتل کیے گئے۔
شیر علی آفریدی کا تعلق تیراہ وادی کے کوکی خیل آفریدی قبیلے سے تھا۔ وہ برطانوی فوج اور پنجاب پولیس میں خدمات انجام دے چکے تھے اور 1857 کی بغاوت کے دوران بھی مختلف مقامات پر تعینات رہے۔ ان کی اچھی کارکردگی کے باعث انہیں برطانوی افسران کی جانب سے گھوڑا، پستول اور تعریفی سند بھی دی گئی تھی۔
1867 میں پشاور میں حیدر نامی شخص کے قتل کے مقدمے میں انہیں پہلے سزائے موت سنائی گئی، لیکن اپیل کے بعد سزا عمر قید میں تبدیل کر دی گئی اور انہیں سزا کاٹنے کے لیے انڈمان کے تعزیری کالونی (کالا پانی) بھیج دیا گیا۔ جیل میں اچھے رویے کی بنا پر انہیں نائی (Barber) کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔
8 فروری 1872 کو شیر علی آفریدی نے موقع پا کر لارڈ میو پر حملہ کیا۔ گرفتاری کے بعد انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ کام "اللہ کے حکم پر" کیا ہے۔ برطانوی تحقیقات کے مطابق اس قتل کے پیچھے کسی منظم سازش یا تنظیم کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ بعض تاریخی حوالوں کے مطابق شیر علی اپنی سزا کو غیر منصفانہ سمجھتے تھے اور اسی احساس کے تحت وہ انتقام لینا چاہتے تھے۔
11 مارچ 1872 کو شیر علی آفریدی کو وائپر آئی لینڈ کی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔
لارڈ میو کے قتل نے برطانوی حکومت کو شدید حیرت اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اس کے بعد وائسرائے اور دیگر اعلیٰ برطانوی حکام کے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے۔ یہ واقعہ برطانوی راج کی تاریخ کے نمایاں واقعات میں شمار کیا جاتا ہے اور آج بھی پورٹ بلیئر، وائپر آئی لینڈ اور سیلولر جیل اس تاریخی باب کی یاد دلاتے ہیں۔
تاریخ میں شیر علی آفریدی کی شخصیت مختلف زاویوں سے دیکھی جاتی ہے۔ بعض انہیں ایک قاتل قرار دیتے ہیں، بعض انہیں مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں۔ تاہم ایک تاریخی حقیقت یہ ہے کہ 8 فروری 1872 کو ان کے ہاتھوں لارڈ میو کا قتل برطانوی ہند کی تاریخ کا ایک غیر معمولی اور منفرد واقعہ تھا، جس کے سیاسی اور انتظامی اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے گئے۔