Global Scholar

Global Scholar Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Global Scholar, Digital creator, Bajauri Koruna.

ایک چاقو، ایک وائسرائے، اور تاریخ کا ایک اہم واقعہ8 فروری 1872 کی شام پورٹ بلیئر (انڈمان جزائر) میں برطانوی ہند کے وائسر...
29/07/2026

ایک چاقو، ایک وائسرائے، اور تاریخ کا ایک اہم واقعہ

8 فروری 1872 کی شام پورٹ بلیئر (انڈمان جزائر) میں برطانوی ہند کے وائسرائے لارڈ میو اپنے سرکاری دورے کے بعد جہاز کی طرف واپس جا رہے تھے کہ قیدی شیر علی آفریدی نے اچانک ان پر چاقو سے حملہ کر دیا۔ شدید زخمی ہونے کے باعث لارڈ میو کچھ ہی دیر بعد دم توڑ گئے۔ وہ برطانوی ہند کے واحد وائسرائے تھے جو اپنے عہدۂ صدارت کے دوران قتل کیے گئے۔

شیر علی آفریدی کا تعلق تیراہ وادی کے کوکی خیل آفریدی قبیلے سے تھا۔ وہ برطانوی فوج اور پنجاب پولیس میں خدمات انجام دے چکے تھے اور 1857 کی بغاوت کے دوران بھی مختلف مقامات پر تعینات رہے۔ ان کی اچھی کارکردگی کے باعث انہیں برطانوی افسران کی جانب سے گھوڑا، پستول اور تعریفی سند بھی دی گئی تھی۔

1867 میں پشاور میں حیدر نامی شخص کے قتل کے مقدمے میں انہیں پہلے سزائے موت سنائی گئی، لیکن اپیل کے بعد سزا عمر قید میں تبدیل کر دی گئی اور انہیں سزا کاٹنے کے لیے انڈمان کے تعزیری کالونی (کالا پانی) بھیج دیا گیا۔ جیل میں اچھے رویے کی بنا پر انہیں نائی (Barber) کے طور پر کام کرنے کی اجازت دی گئی۔

8 فروری 1872 کو شیر علی آفریدی نے موقع پا کر لارڈ میو پر حملہ کیا۔ گرفتاری کے بعد انہوں نے کہا کہ انہوں نے یہ کام "اللہ کے حکم پر" کیا ہے۔ برطانوی تحقیقات کے مطابق اس قتل کے پیچھے کسی منظم سازش یا تنظیم کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔ بعض تاریخی حوالوں کے مطابق شیر علی اپنی سزا کو غیر منصفانہ سمجھتے تھے اور اسی احساس کے تحت وہ انتقام لینا چاہتے تھے۔

11 مارچ 1872 کو شیر علی آفریدی کو وائپر آئی لینڈ کی جیل میں پھانسی دے دی گئی۔

لارڈ میو کے قتل نے برطانوی حکومت کو شدید حیرت اور تشویش میں مبتلا کر دیا۔ اس کے بعد وائسرائے اور دیگر اعلیٰ برطانوی حکام کے حفاظتی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے۔ یہ واقعہ برطانوی راج کی تاریخ کے نمایاں واقعات میں شمار کیا جاتا ہے اور آج بھی پورٹ بلیئر، وائپر آئی لینڈ اور سیلولر جیل اس تاریخی باب کی یاد دلاتے ہیں۔

تاریخ میں شیر علی آفریدی کی شخصیت مختلف زاویوں سے دیکھی جاتی ہے۔ بعض انہیں ایک قاتل قرار دیتے ہیں، بعض انہیں مزاحمت کی علامت سمجھتے ہیں۔ تاہم ایک تاریخی حقیقت یہ ہے کہ 8 فروری 1872 کو ان کے ہاتھوں لارڈ میو کا قتل برطانوی ہند کی تاریخ کا ایک غیر معمولی اور منفرد واقعہ تھا، جس کے سیاسی اور انتظامی اثرات طویل عرصے تک محسوس کیے گئے۔

سیکنڈ شفٹ اساتذہ کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور حقائقتاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی طبقے نے اپنے جائز حقوق کی بات کی، تو اس کے ...
16/07/2026

سیکنڈ شفٹ اساتذہ کے خلاف منفی پروپیگنڈا اور حقائق

تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی کسی طبقے نے اپنے جائز حقوق کی بات کی، تو اس کے خلاف کردار کشی، افواہوں اور منفی پروپیگنڈے کا بازار گرم کر دیا گیا۔ افسوس کہ آج یہی صورتحال خیبر پختونخوا کے سیکنڈ شفٹ اساتذہ کو درپیش ہے۔ وہ اساتذہ جنہوں نے انتہائی کم معاوضے، محدود وسائل اور بے شمار مشکلات کے باوجود ہزاروں طلبہ و طالبات کے تعلیمی مستقبل کو سنوارنے میں اپنی زندگیاں کھپا دیں، آج انہی کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

حکومت خیبر پختونخوا نے 2022ء میں سیکنڈ شفٹ پروگرام کا آغاز کیا۔ مقصد واضح تھا کہ وہ ہزاروں طلبہ و طالبات جو سرکاری تعلیمی اداروں میں نشستوں کی کمی کی وجہ سے داخلوں سے محروم رہ جاتے تھے، انہیں بھی معیاری تعلیم کے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔ الحمدللہ، یہ پروگرام آج صوبے کے تقریباً تمام اضلاع میں کامیابی کے ساتھ جاری ہے۔ لاکھوں طلبہ اس سے مستفید ہو رہے ہیں اور کئی اداروں میں سیکنڈ شفٹ کے طلبہ نے بورڈ امتحانات میں ایسی شاندار کارکردگی دکھائی کہ باقاعدہ ریگولر اداروں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا۔

اس کامیابی کے پیچھے وہ اساتذہ کھڑے ہیں جن میں اکثریت ایم فل اور اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہی اساتذہ عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق طلبہ کی علمی، فکری اور اخلاقی تربیت کر رہے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جب نتائج اچھے آتے ہیں تو تعلیمی افسران اس پروگرام کو اپنی کامیابی قرار دیتے ہیں، تعریفی اسناد وصول کرتے ہیں اور اپنی کارکردگی کے دعوے کرتے ہیں، لیکن جب انہی اساتذہ کے جائز حقوق، بقایاجات یا ملازمت کے تحفظ کی بات آتی ہے تو سب سے پہلے انہی پر وار کیا جاتا ہے۔

حال ہی میں ضلع باجوڑ میں ضلعی تعلیمی انتظامیہ کی جانب سے سیکنڈری سکولوں میں دوبارہ بھرتیوں کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جو حکومت خیبر پختونخوا کی سیکنڈ شفٹ پالیسی کے برعکس قرار دیا گیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں ایسا کوئی اقدام دیکھنے میں نہیں آیا۔ اساتذہ نے بارہا نوٹیفکیشن واپس لینے کی درخواست کی، مگر ضلعی انتظامیہ اپنے فیصلے پر قائم رہی۔ بالآخر اساتذہ کے پرامن احتجاج اور اعلیٰ حکام کی مداخلت کے بعد یہ نوٹیفکیشن ختم کرنا پڑا۔ یہ واقعہ خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ مسئلہ کہاں تھا۔

یہاں ایک تلخ حقیقت کا ذکر بھی ضروری ہے۔ باجوڑ میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جو بھی نیا تعلیمی افسر آتا ہے، ابتدا میں قانون، میرٹ اور انصاف کی بات کرتا ہے، لیکن کچھ ہی عرصے بعد چند مفاد پرست، کرپٹ اور منافق عناصر کے حصار میں آ جاتا ہے۔ سرگوشیوں، ذاتی مفادات اور خوشامد کے ذریعے ایسے فیصلے کروائے جاتے ہیں جن سے نہ صرف ادارے متاثر ہوتے ہیں بلکہ افسران کی اپنی ساکھ بھی داؤ پر لگ جاتی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ 2022ء سے یہ نظام کامیابی کے ساتھ چل رہا ہے۔ نہ بھرتیوں پر کوئی سنجیدہ اعتراض سامنے آیا، نہ شفافیت پر کوئی سوال اٹھا۔ بھرتی کا پورا عمل ضلعی تعلیمی انتظامیہ کی نگرانی میں مکمل ہوا۔ آج بھی تعلیمی افسران، مانیٹرنگ ٹیمیں اور متعلقہ ادارے باقاعدگی سے اداروں کا دورہ کرتے ہیں۔ اگر کہیں کوئی بے ضابطگی ہوتی تو یقیناً اس کا نوٹس لیا جاتا۔

اصل مسئلہ اس وقت پیدا ہوا جب انہی اساتذہ نے اپنے بقایاجات کا مطالبہ کیا۔ 2024ء سے تقریباً ایک کروڑ ساٹھ لاکھ روپے کی رقم التوا کا شکار ہے۔ افسوس کہ جیسے ہی اساتذہ نے اپنے جائز حق کی بات کی، بعض حلقے بوکھلاہٹ کا شکار ہو گئے۔ دھمکیوں، دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ حالانکہ کسی بھی ملازم کا اپنے جائز حق کا مطالبہ کرنا نہ جرم ہے، نہ بغاوت، بلکہ آئین پاکستان، انسانی حقوق اور اسلامی تعلیمات بھی اس حق کی تائید کرتی ہیں۔

اب چند ٹک ٹاکرز، مفاد پرست ٹولے اور خود ساختہ سوشل میڈیا ایکٹوسٹ، سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ 2022ء کی بھرتیاں غلط تھیں اور انہیں ختم کر دینا چاہیے۔ ان حضرات سے صرف ایک سوال ہے: اگر یہ بھرتیاں غلط تھیں تو آپ چار سال کہاں تھے؟ کیا آپ 2022ء میں سو رہے تھے؟ کیا 2023ء، 2024ء اور 2025ء میں آپ کو یہ "غلطی" نظر نہیں آئی؟ آج اچانک چار سال بعد آپ کو حق و باطل کی تمیز کیسے یاد آ گئی؟ یہ سوال صرف ہم نہیں، ہر باشعور شہری پوچھنے کا حق رکھتا ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ ایسے وقت میں اٹھایا جا رہا ہے جب انہی اساتذہ نے نہایت کم معاوضے پر، صرف نو ماہ کی بنیاد پر، انتھک محنت، صبر اور خلوص کے ساتھ نظام کو کامیاب بنایا۔ اب جب حکومت کی جانب سے ان کے مسائل کے حل اور کسی ممکنہ ریلیف کی امید پیدا ہوئی تو کچھ مفاد پرست عناصر بے چین ہو گئے ہیں۔ انہیں اساتذہ کی خدمت، طلبہ کا مستقبل یا تعلیم کا معیار عزیز نہیں، بلکہ اپنے مفادات اور اپنے لوگوں کو نظام میں لانے کی فکر لاحق ہے۔ مگر یاد رکھنا چاہیے کہ جو عزائم انصاف، میرٹ اور پالیسی کے خلاف ہوں، ان کا انجام ہمیشہ رسوائی ہی ہوتا ہے۔

تعلیم کا میدان سیاسی انتقام، ذاتی مفادات اور سوشل میڈیا کی سستی شہرت کی نذر نہیں ہونا چاہیے۔ سیکنڈ شفٹ اساتذہ نے اس نظام کو اپنے خونِ جگر سے سینچا ہے۔ اگر آج ان کے جائز حقوق کی بات ہو رہی ہے تو یہ کسی پر احسان نہیں بلکہ انصاف کا تقاضا ہے۔

قوموں کے معماروں کو بدنام کرنے سے قومیں مضبوط نہیں ہوتیں۔ اگر واقعی تعلیم سے محبت ہے تو ان ہاتھوں کو مضبوط کیجیے جو قلم تھام کر مستقبل روشن کر رہے ہیں، نہ کہ ان پر الزامات کی بارش کیجیے۔ کیونکہ جب استاد کمزور ہوتا ہے تو دراصل پوری قوم کمزور ہو جاتی ہے، اور جب استاد کو انصاف ملتا ہے تو آنے والی نسلوں کا مستقبل
محفوظ ہو جاتا ہے-

06/07/2026

    ,
06/07/2026

,

2001 میں امریکہ نے بحیرہ عرب سے افغانستان کے مختلف علاقوں پر ٹوماہاک کروز مزائل فائر کیے جو بلوچستان کی حدود سے غائب ہو ...
26/04/2026

2001 میں امریکہ نے بحیرہ عرب سے افغانستان کے مختلف علاقوں پر ٹوماہاک کروز مزائل فائر کیے جو بلوچستان کی حدود سے غائب ہو گئے اور امریکہ نے پاکستان پر الزام لگایا کہ مزائل پاکستان آرمی نے اتارے ہیں لیکن پاکستان گورنمنٹ نے اس الزام کی تردید کی۔ اور اس الزام کو مسترد کیا ۔ اسکے کچھ سالوں بعد پاکستان نے ایک مزائل کا ٹیسٹ کیا ۔۔جسکا نام تھا Raad Missile۔۔اور وہ مزائل بلکل ٹاماہاک مزائل کی طرح کا تھا ۔اور ریورس انجینیرنگ کے بعد اس سے بھی بہتر تھا ۔ اب اس مزائل کا پاکستان کے پاس بہت بڑا ذخیرہ پڑا ہوا ہے اس مزائل کی دو سیریس ہیں۔Raad 1 جسکا رینج 370 کلو میٹر ہے اور Raad 2 کی رینج 600 کلو میٹر ہے ۔۔اسکو کہتے ہیں پاکستانی جگاڑ۔

19/04/2026
18/04/2026

فلیکسبل ہائرڈ لیکچرارز کا ایڈہاک بنیادوں پر کنورژن کا مطالبہ مکمل طور پر جائز اور قابلِ غور ہے۔ یہ اقدام ان کی خدمات کے اعتراف کے ساتھ تعلیمی نظام کے استحکام میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

     ,
18/04/2026

,

17/04/2026

فلیکسبل ہائرڈ لیکچررز ( ) کا معاملہ میرٹ، شفافیت اور تعلیمی استحکام کے تناظر میں فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ ان لیکچررز کی بھرتی کا طریقہ کار بڑی حد تک ایک باقاعدہ کمیشن کے معیار کے مطابق انجام دیا گیا، جس میں شفافیت اور انصاف کے اصولوں کو یقینی بنایا گیا۔

ابتدائی طور پر باقاعدہ اشتہار جاری کیا گیا، جس کے نتیجے میں تقریباً 36 ہزار امیدواروں نے درخواستیں جمع کرائیں۔ بعد ازاں تعلیمی کارکردگی کی بنیاد پر عارضی اور حتمی میرٹ لسٹس مرتب کی گئیں، جن کے بعد انٹرویوز اور ٹیچنگ ڈیمونسٹریشنز کا انعقاد کیا گیا۔ اس سخت اور مسابقتی عمل کے نتیجے میں کم و بیش 2000 لیکچررز کا انتخاب عمل میں آیا۔

مزید یہ کہ انٹرویو پینلز میں متعلقہ کالج کے اساتذہ کے بجائے بیرونی ماہرین شامل تھے، جس سے انتخابی عمل کی غیر جانبداری مزید مستحکم ہوئی۔ امیدواروں کو معیاری اور سخت سوالات کے ذریعے جانچا گیا، جو اس عمل کے اعلیٰ معیار کی عکاسی کرتا ہے۔

یہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ سیکرٹری ہائر ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی رہنمائی میں ایک گریوینسز کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، جس نے امیدواروں کی شکایات کا تفصیلی جائزہ لیا۔ اس کمیٹی کی کاوشوں سے بڑی حد تک شکایات کا ازالہ کیا گیا اور متعدد مسائل حل کیے گئے، جو اس پورے عمل کی شفافیت اور انصاف پسندی کا واضح ثبوت ہے۔

ان تمام مراحل کی روشنی میں یہ بات واضح ہے کہ فلیکسبل ہائرڈ لیکچررز کا انتخاب مکمل طور پر میرٹ پر کیا گیا۔

مزید برآں، اگرچہ میں خود اس پروگرام کا حصہ نہیں ہوں، تاہم میں ان لیکچررز کی قابلیت اور کوالیفکیشن کا معترف ہوں۔ ان میں اکثریت انتہائی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہے، جن میں بڑی تعداد پی ایچ ڈی، ایم فل جبکہ بعض پوسٹ ڈاکٹریٹ ڈگری ہولڈرز بھی شامل ہیں۔ اس تناظر میں یہ کہنا بجا ہے کہ یہ اساتذہ نہایت قابل، محنتی اور اپنی ذمہ داریوں کے اہل ہیں، اور ان کا یہ حق بنتا ہے کہ انہیں ایڈہاک بنیادوں پر کنورٹ کیا جائے تاکہ ان کی خدمات کا تسلسل برقرار رہے۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ یہ لیکچررز فوری ریگولرائزیشن کا مطالبہ نہیں کر رہے، بلکہ ان کا مطالبہ نہایت معقول اور جائز ہے:

ایک واضح اور منظم سروس اسٹرکچر کی تشکیل

اور کم از کم ایک سال کے لیے ایڈہاک بنیادوں پر توسیع/کنورژن تاکہ ملازمت کا تسلسل برقرار رہے

یہ اقدام نہ صرف ان قابل اور محنتی اساتذہ کے مستقبل کو محفوظ بنائے گا بلکہ سرکاری کالجوں میں تدریسی عمل کے تسلسل کو بھی یقینی بنائے گا۔

لہٰذا، معزز وزیر برائے ہائر ایجوکیشن, سے مؤدبانہ مگر پُرزور اپیل ہے کہ وہ فلیکسبل ہائرڈ لیکچررز کے اس جائز مطالبے پر سنجیدگی سے غور کرتے ہوئے ان کی ایڈہاک کنورژن کی منظوری دیں۔

یہ فیصلہ حکومت کی جانب سے میرٹ، انصاف اور اعلیٰ تعلیم کے فروغ کے عزم کا مظہر ثابت ہوگا۔

17/04/2026

گزشتہ روز خیبر پختونخوا اسمبلی میں فلیکسبل ہائرڈ لیکچررز کی ایڈہاک کنورژن کے حوالے سے توجہ دلاؤ نوٹس پیش کیا گیا۔

ہم اس موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہیں اور اس کی توسیع کرتے ہوئے مطالبہ کرتے ہیں کہ لیکچررز کو ان کی تعلیمی قابلیت اور میرٹ کی بنیاد پر ایڈہاک پر کنورٹ کیا جائے۔

Flexible Hired Lecturers, KP

Address

Bajauri Koruna

Telephone

03038262439

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Global Scholar posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Global Scholar:

Shortcuts

Share