25/08/2026
حضرت نوح علیہ السلام کشتی بنا رہے تھے تو گزرنے والے ہنستے تھے یہ خشکی پر اسے چلائیں گے
حضرت موسیٰ علیہ السلام لاٹھی سے سانپ بنا تے اور اللہ سے ڈراتے تھے تو فرعون کے چیلے مذاق اڑاتے تھے
نبی مہربان علیہ السلام طائف اور مکہ میں بات کرتے تھے تو خود چچا اور اس وقت کی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے چیلے مذاق اڑاتے تھے کہ یہ در یتیم بھلا کیا کر لے گا
مگر پھروقت نے بتایا کہ
کشتی نوح الہامی وژن کے ساتھ دور کی تیاری تھی کامیاب ہوئی
موسی کی لاٹھی سانپ بن کر مذاق اڑانے والوں کی رسیوں اور لاٹھیوں کو نگل گئی اور وہ خود سجدہ ریز ہو گئے
مکہ اور طائف کے مذاق اڑانے والے ہار گئے اور محض پچیس تیس برس بعد اسلام سپر پاور بن چکا تھا
آج حافظ نعیم تنہا اپنے مٹھی بھر کارکنوں کے ساتھ اپنے ان بڑوں کی پیروی میں ہانکے پکارے لوگوں کو حق کی طرف بلا رہا ہے ان میں جرات پیدا کر رہا ہے آج کے طاغوت کو چیلنج کر رہا ہے
اور آج بھی کچھ لوگ
ہنستے ہوئے گزر جاتے ہیں
مذاق اڑاتے ہیں
یہ چند لوگ کیا کر لیں گے ؟
مجھے یقین ہے کل ان شااللہ یہ چھوٹا سا آغاز بڑے انقلاب کی بنیاد بنے گا
آج کے ساحران فرعون حق کے سامنے سجدہ ریز ہوں گے
پیوستہ رہ شجر سے امید بہار رکھ