Balakot News Network

Balakot News Network ہمارا صفحہ علاقے اور ملک سے متعلق خبروں کے ساتھ ساتھ دیگر بامقصد موضوعات پر معلومات کا اہم ذریعہ ہے

بالاکوٹ نیوز نیٹورک، بالاکوٹ اور اس کے ساتھ متعلقہ علاقوں کی ایک آواز ہے جو آپ کے علاقائی مسائل کو اجاگر کرتے ہوئے آپ کی آواز بنے گا اور آپ کے مسائل متعلقہ اداروں تک پہنچائے گا۔ آپ سب سے گزارش ہے کہ آپ اپنے مسائل سے متعلق مصدقہ اور بامقصد معلومات وڈیو اور تصاویر ہمیں نیوز کی شکل میں بھیجیں ہم اپنے پیج پر شائع کریں گئے۔ علاوہ ازیں، علاقائی مفادات اور مفاد عامہ کے حوالے سے مواد بھی ترجیح بنیادوں پر

شائع کیا جائے گا۔ آپ بھی ہماری آواز بنیں ہمیں سپورٹ کریں اور اس کارخیر کا حصہ بنیں۔ اللہ ہم سب کا حامی و ناصر ہو۔

جزاک اللہ خیرا کثیرا۔

اس کے علاوہ ملکی اور عالمی تناظر میں بھی بامقصد موضوعات پر قارئین تک درست معلومات اور تجزئیے پہنچانا بھی ہماری ترجیحات ہیں۔

ان صفحات پر محض ریٹنگ کی خاطر لایعنی اور فضول مواد کی کوئی جگہ نہیں

یوم تکبیر کا پیغام یہ تصویر عظیم محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دل کے کرب، تنہائی اور احساسِ بےقدری کی عکاسی کرتی ...
28/05/2026

یوم تکبیر کا پیغام
یہ تصویر عظیم محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے دل کے کرب، تنہائی اور احساسِ بےقدری کی عکاسی کرتی ہے۔

جس شخصیت نے پاکستان کو ناقابلِ تسخیر دفاعی قوت عطا کی، اُسی کے لبوں پر شکوہ اور محرومی کے آثار نمایاں دکھائی دیتے ہیں۔

یہ محض شعر نہیں، بلکہ ہمارے اجتماعی رویّوں، قومی اقدار اور اپنے محسنوں کے ساتھ برتاؤ پر ایک گہرا سوالیہ نشان ہے

سیر سے پڑسِنگ بھاری  پاکستان کا بجلی نظام یا عوام پر مسلط عذاب؟مالی سال 2024-2025 میں پاکستان کے عوام نے بجلی کم، مگر  ب...
22/05/2026

سیر سے پڑسِنگ بھاری
پاکستان کا بجلی نظام یا عوام پر مسلط عذاب؟
مالی سال 2024-2025 میں پاکستان کے عوام نے بجلی کم، مگر بجلی تیار رکھنے کے پیسے زیادہ ادا کیے۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ:
اصل بجلی بنانے پر تقریباً 1200 ارب روپے خرچ ہوئے،
مگر صرف Capacity Payments یعنی پلانٹس کھڑے رکھنے کی مد میں تقریباً 1900 ارب روپے ادا کر دیے گئے۔
یعنی: کھانے سے زیادہ تھالی سجانے کے پیسے!
یہی تو وہ کیفیت ہے جسے عوامی زبان میں کہتے ہیں: سیر سے پڑسِنگ بھاری
غریب آدمی:
پنکھا چلانے سے پہلے میٹر دیکھتا ہے،
بچے گرمی میں سوتے ہیں،
دکان دار بجلی کے بل سے پریشان ہے،
سفید پوش طبقہ مہینے کے آخر میں بل اور راشن میں انتخاب کرتا ہے۔
مگر دوسری طرف:
سرمایہ داروں کے منافع محفوظ،
معاہدے ڈالر میں،
ادائیگیاں یقینی،
چاہے بجلی بنے یا نہ بنے۔

امیر طبقہ سولر لگا کر اس نظام سے نکل رہا ہے، مگر غریب آدمی اسی سنہری جال میں پھنسا ہوا ہے۔

عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں: آخر یہ نظام کس کے لیے بنایا گیا؟ ریاست کے لیے؟ عوام کے لیے؟ یا چند طاقتور حلقوں کے لیے؟

حیرت کی بات یہ بھی ہے کہ اس مسئلے پر کھل کر مسلسل آواز صرف جماعت اسلامی اٹھا رہی ہے جبکہ اکثر بڑی سیاسی قوتیں اور بااختیار حلقے بشمول عدلیہ سول ملٹری بیوروکریسی خاموش نظر آتے ہیں۔ یہی خاموشی عوام کے شکوک کو مزید بڑھاتی ہے کہ یہ سب بھی اس لوٹ مار کا براہ راست حصہ ہیں اور اس نظام سے ان کے مفادات اور کمیشن وابستہ ہیں

یہ صرف بجلی کا بحران نہیں، یہ انصاف، ترجیحات اور ریاستی احساس کا بحران ہے۔ ائیے سب مل کر اس لوٹ مار کے خاتمے تک اپنی جہدوجہد جاری رکھیں۔
تحریر و تحقیق: انوار القلم

21/05/2026

قدرت ہر روز یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت ہمیشہ عارضی ہے۔
ایک مخلوق دوسری پر غالب آتی ہے، پھر اُس پر کوئی اور غالب آ جاتا ہے۔ آخرکار سب ایک بڑی عظیم الشان طاقت کے سامنے بے بس ہیں۔
یہی سبق اُن سب زمینی خداؤں کے لیے ہے جو اپنی عارضی طاقت کو ابدی سمجھ کر دوسروں کا حق کھاتے ہیں اور مخلوقِ خدا پر ظلم کرتے ہیں…
چاہے وہ دفتروں میں ہوں، گھروں میں، بازاروں میں یا کسی بھی مقام پر۔
قدرت خاموش رہتی ہے، مگر اُس کا انصاف کبھی خاموش نہیں رہتا۔ بقول شاعر
نہ جا اس کے تحمل پر کہ ہے اب ڈھب گرفت اس کی
ڈر اس کی دیر گیری سے کہ ہے سخت انتقام اس کا۔
انوارِ القلم

ناران اور بٹہ کنڈی اراضی کیس میں کچھ لوگ پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ سے محض اپیل منظور ہونے کو ایسے پیش کر رہے ہیں جی...
21/05/2026

ناران اور بٹہ کنڈی اراضی کیس میں کچھ لوگ پشاور ہائی کورٹ ایبٹ آباد بینچ سے محض اپیل منظور ہونے کو ایسے پیش کر رہے ہیں جیسے قیامت کا آخری فیصلہ آ گیا ہو، حالانکہ قانون میں اپیل کا منظور ہونا صرف سماعت کا مرحلہ ہوتا ہے، انصاف کا آخری دروازہ نہیں۔ اصل بات وہ تفصیلی فیصلہ ہوتا ہے جس میں عدالت اپنی قانونی وجوہات لکھتی ہے، اس لیے تھوڑا صبر بھی کر لیں اور فیصلے کا انتظار بھی۔

یہ بھی تاریخ کا حصہ ہے کہ محترم سید مزمل حسین شاہ صاحب نے اپنے سیاسی اثر و رسوخ اور وزارت کے زور پر محکمہ مال کے ملازمین سے جعلی انتقالات کروائے، ریکارڈ میں ردوبدل ہوا، اور بعد میں اسی معاملے کی محکمانہ انکوائری میں یہ انتقالات جعلی قرار پائے۔ صوبائی حکومت نے نوٹیفیکیشن کے ذریعے ان انتقالات کو کالعدم بھی کیا۔ اب اگر کوئی یہ سمجھے کہ صرف اپیل منظور ہونے سے ساری تاریخی و محکمانہ حقیقتیں دھل گئی ہیں تو یہ قانونی منطق سے زیادہ سیاسی خوش فہمی معلوم ہوتی ہے۔ یاد رہے کہ اس تاریخی جعل سازی کا انکشاف کرتے ہوئے ان کا اپنا بیٹا سید اختر حسین شاہ صاحب بذریعہ اشتہارات زمینداروں کے حقوق کو تسلیم کر چکا ہے۔

قانون ابھی ختم نہیں ہوا، اور اگر زمینداروں کو انصاف نہ ملا تو Supreme Court of Pakistan بھی موجود ہے۔ اس لیے جشن کم اور تحمل زیادہ مناسب ہے، کیونکہ بعض فیصلے اوپر جا کر ایک دن بھی نہیں ٹھہرتے۔

اب بڑے شاہ صاحب کو بھی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونے سے پہلے حقائق کو پوری دیانت اور وضاحت کے ساتھ عوام کے سامنے رکھ دیں۔ اس سے نہ صرف اُن کے خاندان کی سیاسی ساکھ اور وقار میں اضافہ ہوگا بلکہ اصل حقداروں کا حق تسلیم کرنے کی صورت میں اس دیرینہ مسئلے کا منصفانہ اور پُرامن حل بھی آسانی سے نکل آئے گا۔

BNN

مطالعہ کو موبائل کے برابر وقت دیں۔جتنا وقت آپ سکرین کو دیتے ہیں، اُس کا آدھا وقت بھی کتاب کو مل جائے تو زندگی کا زاویہ ب...
20/05/2026

مطالعہ کو موبائل کے برابر وقت دیں۔
جتنا وقت آپ سکرین کو دیتے ہیں، اُس کا آدھا وقت بھی کتاب کو مل جائے تو زندگی کا زاویہ بدل سکتا ہے۔

ایک قربانی پورے گھرانے کی طرف سے  سنتِ نبوی ﷺ اور ائمہ کرام کی آراءجمہور ائمہ کرام یعنی:امام مالکامام شافعیامام احمد بن ...
19/05/2026

ایک قربانی پورے گھرانے کی طرف سے سنتِ نبوی ﷺ اور ائمہ کرام کی آراء
جمہور ائمہ کرام یعنی:
امام مالک
امام شافعی
امام احمد بن حنبل
اور اہلِ حدیث علماء کے نزدیک ایک قربانی پورے گھرانے کی طرف سے کافی ہو جاتی ہے، خواہ گھر میں متعدد صاحبِ حیثیت افراد موجود ہوں۔
اس موقف کی بنیاد صحیح احادیث اور نبی کریم ﷺ کے مبارک عمل پر ہے۔
حضرت ابو ایوب انصاریؓ فرماتے ہیں:
“نبی ﷺ کے زمانے میں ایک آدمی اپنی طرف سے اور اپنے گھر والوں کی طرف سے ایک بکری قربان کرتا تھا۔”
حوالہ:
امام ترمذی جامع ترمذی، حدیث: 1505
امام ابن ماجہ سنن ابن ماجہ، حدیث: 3147
اسی طرح نبی اکرم ﷺ خود بھی اپنی امت کی طرف سے قربانی فرمایا کرتے تھے۔
حدیث میں ہے:
“اے اللہ! یہ محمد ﷺ کی طرف سے اور محمد ﷺ کی امت میں سے ان لوگوں کی طرف سے ہے جنہوں نے قربانی نہیں کی۔”
حوالہ:
امام مسلم — صحیح مسلم
لہٰذا اگر کوئی مسلمان جمہور فقہاء اور صحیح احادیث پر عمل کرتے ہوئے پورے گھرانے کی طرف سے ایک قربانی کرے تو اسے کافی اور احسن سمجھنا چاہیے، کیونکہ اس کی واضح دلیل رسول اللہ ﷺ کے مبارک عمل سے ثابت ہے۔
البتہ فقہِ حنفی میں یہ موقف پایا جاتا ہے کہ اگر گھر میں متعدد صاحبِ نصاب افراد ہوں تو ہر ایک پر الگ قربانی واجب ہوتی ہے۔ یہ بھی ایک معتبر فقہی اجتہاد ہے، جس کا احترام ضروری ہے۔
البتہ جمہور ائمہ کرام اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کی روشنی میں پورے گھرانے کی طرف سے ایک قربانی بھی کافی ہے۔
تحقیق و تدوین: انوار القلم

17/05/2026

"نورانی چہرہ والے یقین کی اکلوتی خوب صورت بیٹی امید! یہ خدائی روشنی تیرے ہی ساتھ ہے۔
تو ہی ہماری مصیبت کے وقتوں میں ہم کو تسلی دیتی ہے۔
تو ہی ہمارے آڑے وقتوں میں ہماری مدد کرتی ہے۔
تیری ہی بدولت نہایت دور دراز خوشیاں ہم کو نہایت ہی پاس نظر آتی ہیں۔
تیرے ہی سہارے سے زندگی کی مشکل مشکل گھاٹیاں ہم طے کرتے ہیں۔
تیرے ہی سبب سے ہمارے خوابیدہ خیال جاگتے ہیں۔
تیر ی ہی برکت سے خوشی، خوشی کے لیے نام آوری، نام آوری کے لیے بہادری، بہادری کے لیے فیاضی، فیاضی کے لیے محبت، محبت کے لیے نیکی، نیکی، نیکی کے لیے تیار ہے۔
انسان کی تمام خوبیاں اور ساری نیکیاں تیری ہی تابع اور تیری ہی فرماں بردار ہیں۔"
سرسید احمد خان کے مضمون "امید کی خوشی سے اقتباس'
انتخاب: انوار القلم

وقت کی چند ساعتیں تارڑ لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو ۔۔!  تب میری عمر بیس سال سے کم ہوگی ۔۔تارڑ صاحب کے تمام سفر نامے ، شمال ...
15/05/2026

وقت کی چند ساعتیں تارڑ
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو ۔۔! تب میری عمر بیس سال سے کم ہوگی ۔۔تارڑ صاحب کے تمام سفر نامے ، شمال کے سفر ، اندلس کے قصے ، پیار کا پہلا شہر کی پاسکل ، ٹوبہ ٹیک سنگھ سے دیس ہوئے پردیس اور نہ جانے کیا کیا ۔۔۔
ایک دیوانگی تھی ، ایک عشق تھا ایک جنون تھا ۔۔۔
تارڑ صاحب کی تحریروں کے بعد راتوں کو خواب بھی انہی وادیوں کے آیا کرتے تھے ۔۔
2000 کے بعد والی نسل شاید اس بابے کو جانتی بھی نہ ہو ۔۔لیکن تصویر میں نظر انیوالا یہ بابا پاکستان نہیں بلکہ معلوم دنیا کے ایک بڑے حصے کا باباء سیاحت ہے ۔۔۔
لیکن اس بابے کی سیاحت میں نہ ٹک ٹاک تھی نہ فیس بک ، نہ انسٹا گرام اور نہ ہی یو ٹیوب ۔۔۔لیکن پھر بھی اس بابے کے چاہنے والے لاکھوں کی تعداد میں آج بھی موجود ہیں ۔۔
لائبریریوں کا دور ہوتا تھا ۔۔ہر گلی محلے میں لائیبریری اور لائیبریری میں تارڑ صاحب کا ریک ہونا لازم و ملزوم ہوا کرتے تھے ۔۔
بعض اوقات ایک ایک مہینہ تک ان کی کتاب کا انتظار کرنا پڑتا تھا ۔۔۔
چھ چھ کتب کا سیٹ آتا اور ایک بھی نہ ملتی ۔۔۔
مجھے آج بھی یاد ہے شاید 1986 یا 1987 میں ہندوستانی اداکار امیتابھ بچن کی شہنشاہ فلم آئ تھی جس کا کیسٹ اس وقت پچاس اور سو روپے کرایہ پر بھی نہ ملتا تھا ۔۔۔
لیکن ہمارا بابا اس سے پہلے ہی کھڑکی توڑ چلا آرہا تھا ۔۔۔
کاش بابے کو پتہ ہوتا کہ آنے والی دہائیوں میں سیاحت بربادی کا سبب بنے گی تو بابا کبھی اتنی بڑی تحریک کا موجب نہ بنتا ۔۔۔
روزانہ صبح سکول سے لیٹ ہوکر ماؤں کی گالیاں اور سکول جاکر استانیوں کے الٹے ہاتھ پر ڈنڈے ۔۔۔لیکن اسی کی دہائی کے بچے یہ گالیاں شوق سے سنتے اور ڈنڈے خوش دلی سے کھاتے ۔۔۔
وجہ صرف ایک تھی بابا جی کی محبت ۔۔۔
آج بیس سال بعد تارڑ صاحب کو دوبارہ سکردو کی فضاؤں میں دیکھ کر بے اختیار آنکھیں بھیک گئیں ۔۔
یہ آنسو دکھ کے بھی نہ تھے ۔۔۔
نہ ہی خوشی کے ۔۔۔
شاید ان آنسوؤں اور ان کیفیات کے لیے اردو زبان میں کوئ لفظ موجود نہ ہو ۔۔
شاید کسی زبان میں موجود نہ ہو ۔۔۔
فقط یہی ۔۔۔

وقت کی چند ساعتیں ساغر
لوٹ آئیں تو کیا تماشا ہو ۔۔۔!

نوید اشرف خان

الحمدللہ! ایک اور بڑا سنگِ میل عبور کر لیا گیا۔ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پاکستان کے جدید ترین اور مضبوط اداروں میں شمار ...
11/05/2026

الحمدللہ! ایک اور بڑا سنگِ میل عبور کر لیا گیا۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن (HEC) پاکستان کے جدید ترین اور مضبوط اداروں میں شمار ہوتا ہے، جہاں جدید ڈیٹا سینٹرز، طاقتور نیٹ ورک اور آن لائن سہولیات موجود ہیں۔
اب HEC نے ڈگری ویریفکیشن کے نظام کو مکمل طور پر “پیپر لیس” بنا دیا ہے۔
یعنی اب شہری گھر بیٹھے آسانی سے اپنی ڈگری اور دستاویزات کی تصدیق کرا سکیں گے، بغیر دفتر جانے یا غیر ضروری مشکلات کے۔
یہ پاکستان کے تعلیمی شعبے میں ای گورننس اور ڈیجیٹل تبدیلی کی جانب ایک اہم اور تاریخی قدم ہے۔ 🇵🇰

میں گھر وچ توں عرشاں تے کلہا ریندافرشی  بندہ  مار  مکایا  وے  رباکنکاں پِچھے جنّت تیری چھڈ دِتّیفیر اساں پنجاب وسایا وے ...
09/05/2026

میں گھر وچ توں عرشاں تے کلہا ریندا
فرشی بندہ مار مکایا وے ربا

کنکاں پِچھے جنّت تیری چھڈ دِتّی
فیر اساں پنجاب وسایا وے ربا

خاکی ڈاکو بار نوں لُٹ کے کھا گئے
بوٹے پٹ کے ظلم کمایا وے ربا

ردا فاطمہ

09/05/2026

Address

Balakot
21230

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Balakot News Network posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share