SHAMSinews

SHAMSinews تازہ اور جاندار خبروں کےلیے فالو کریں

07/06/2026
خیبرپختونخواہ لاء آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہونے پر محترم میاں عبدالماجد ایڈووکیٹ، اسسٹنٹ ڈسٹرک...
04/06/2026

خیبرپختونخواہ لاء آفیسرز ویلفیئر ایسوسی ایشن کے جوائنٹ سیکرٹری منتخب ہونے پر محترم میاں عبدالماجد ایڈووکیٹ، اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی ایبٹ آباد کو دلی مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
آپ کی انتھک محنت، پیشہ ورانہ صلاحیتوں اور قانون کے شعبے میں خدمات کا یہ اعزاز قابلِ ستائش ہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو مزید کامیابیاں، عزت اور اپنے فرائض کی بہترین ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے۔
منجانب میاں صلاح الدین بن ڈاکٹر میاں عبدالرحمن مرحوم ڈبریاں و جملہ خاندان میاں نور جمال ولی رحمتہ اللہ علیہ

04/06/2026
02/06/2026

بالاکوٹ شہدا کا مدفن بے۔۔۔ بے شمار شہداء ہیں۔۔۔ ہر شعبے کے شہدا ہیں۔۔۔ البتہ بالاکوٹ کو جن شہدا کی وجہ سے شہرت ملی۔۔۔ وہ علم و عمل کے آفتاب و ماہتاب ، تحریک جہاد بالاکوٹ کے سرخیل اور ہندوستان کے عظیم شہزادے تھے ۔۔۔ دنیا انہیں حضرت سید احمد شہید اور حضرت شاہ اسماعیل شہید کے نام سے جانتی ہے۔۔۔ معرکہ بالاکوٹ میں 400 سے زائد مجاہد شہید ہوئے۔۔۔ شہداء کی دوسری کھیپ جو یہاں مدفون ہے۔۔۔ وہ 2005 کے زلزلہ کے شہداء ہیں ۔۔۔ محتاط اندازے کے مطابق 2005 کے زلزلے میں ایک لاکھ سے زائد افراد روزے کی حالت میں شہید ہوئے ۔۔۔ تیسری قسم کے شہدا وہ ہیں جو ناموس عائشہ پر دیوانہ وار کٹ کر فردوس بریں کے مکیں ہوئے ۔۔۔ مشہور علمی و روحانی خاندان ،خاندان میاں جمال ولی المعروف خاندان گھنیلہ کے نڈر سپوت ڈبریاں بالاکوٹ کے رہائشی اور فقیہ وقت مفتی زر ولی خان مرحوم کے قابل فخر شاگرد مولانا قاری میاں عبدالشکور شہید جمعرات 12 جنوری 1995 کو کراچی تبلیغی مرکز کے شب جمعہ کے اجتماع میں دشمنان اصحاب رسول کی گولیوں کا نشانہ بنے۔۔۔ اس واقعہ میں کل چار عاشقان مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم شہادت کے منصب پر فائز ہوئے ۔۔۔ قاری صاحب نے وقت شہادت جو چادر زیب تن کر رکھی تھی اس پر گولیوں کے 40 سے زائد نشانات تھے وہ 2005 کے زلزلے تک ہمارے پاس محفوظ رہی۔۔۔ اس سے مسلسل خوشبو آتی رہی ۔۔۔جس کے سینکڑوں چشم دید گواہ ہیں۔۔۔ عبدالشکور شہید کے ساتھ شہید ہونے والے دوسرے شہید قاری عزیز الرحمن سیور ہنگرائ کے رہائشی تھے ۔کراچی میں پیش امام تھے ۔۔۔ اسی طرح 1994 میں شہید ہونے والے کمانڈر الیاس صدیقی شہید ریں بالاکوٹ کے رہائشی اور سنی علماء کونسل مانسہرہ کے نامور عالم دین مولانا شمس الرحمن طارق مرحوم کے چچا زاد بھائی تھے ۔۔۔الیاس صدیقی شہید کی جرات بہادری کے قصے زبان زد عام ہیں ۔۔۔چھے اکتوبر 2003 کو ممتاز پارلیمانی رہ نما مولانا اعظم طارق شہید کے ساتھ شہید ہونے والے ان کے حفاظتی دستے کے انچارج قاری میاں ضیاء الرحمان شہید کھلوتر سنگڑ (بستی ضیاء الرحمان شہید) بڈھوار کے رہنے والے تھے ۔۔۔موصوف حفظ و قرات کے عالمی مقابلے کے ایوارڈ یافتہ تھے ۔۔۔۔ 23 اگست 2013 کو کھنہ پل اسلام اباد میں شہید ہونے والے قاری عارف شہید کھولیاں بالاکوٹ کے رہائشی و سکونتی تھے ۔۔۔قاری صاحب سنی علماء کونسل راولپنڈی کے رہنما اور ممتاز عالم دین مفتی تنویر عالم فاروقی کے دست راست تھے ۔۔۔ قائدین اہل سنت بالاکوٹ کے دورے پر ہیں ۔۔۔مناسب سمجھا کہ شہداء بالاکوٹ کا مختصر تعارف ان کے گوش گزار کر دیا جائے۔۔۔

جلتا ہے جن کا خون چراغوں میں رات بھر
ان غم زدوں سے پوچھ کبھی قیمت سحر

میاں محمود الحسن بالاکوٹی

26/05/2026

خطبہ حج ، شیخ خذیفی اور ایک یادگار واقعہ۔۔۔

اس سال حج کا خطبہ مسجد نبوی کے سینیئر ترین امام و خطیب شیخ علی عبدالرحمن الحذیفی نے دیا۔۔۔
نظریاتی کارکنوں کو شیخ حذیفی کا تعارف کروانا ضروری ہے۔۔۔ شیخ علی عبدالرحمن الحذیفی طویل عرصے تک مسجد نبوی کے سینیئر ترین امام و خطیب رہے۔۔۔ ایک واقعے میں ان کے کلمہ حق نے انہیں عالم اسلام کا ہیرو بنا دیا۔۔۔ غالباً دو ہزار ایک یا دو کی بات ہے ۔۔۔ جمہوریہ ایران کے انجہانی صدر علی رفسنجانی سعودی عرب کے سرکاری دورے پر تھے ۔۔۔ شیخ حذیفی مہمان صدر کے پروٹوکول افیسر تھے ۔۔۔ شیڈول کے مطابق مہمان کی روضہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم حاضری ہوئی ۔۔۔ رفسنجانی نے تمام اخلاقی اور دینی روایات کو پس پشت ڈالتے ہوئے اور اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے ہوئے روزہ اطہر میں کھڑے ہو کر حضرات شیخین کریمین سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ اور سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالی عنہ پر لعنت کے الفاظ ادا کیے ۔۔۔
شیخ علی عبدالرحمن الحذیفی مہمان صدر کے یہ کفریہ الفاظ سن کر کانپ اٹھے ۔۔۔اور فورا وہاں سے چل دیئے ۔۔۔
اگلے روز جمعہ تھا شیخ حذیفی نے روایتی سرکاری خطبے کو چھوڑ کر فی البدیہہ خطبہ دیا ۔۔۔ جس میں اشارے کناے میں سارا واقعہ بھی بیان کیا اور ساتھ ساتھ ایسے بدبختوں کے عقائد و نظریات واشگاف الفاظ میں بیان کر دیے۔۔۔
خطبہ الہامی تھا ۔۔۔شیخ مسجد نبوی کے منبر پر زار و قطار رو رہے تھے۔۔۔
اس تقریر کی پاداش میں شیخ کو نہ صرف مسجد نبوی کی امامت سے معزول ہونا پڑا بلکہ انہیں قید تنہائی میں ڈال دیا گیا ۔۔۔شیخ کے خطبے نے عالم اسلام میں دھوم مچا دی ۔۔۔ عالم اسلام میں اس واقعے پر غم و غصہ بدیہی امر تھا ۔۔۔۔
بلا مبالغہ اس خطبے کی لاکھوں کیسٹیں کاپی ہو کر دنیا بھر میں فروخت ہوئیں ۔۔۔
تقریبا سات سال تک شیخ منظر عام سے غائب رہے ۔۔۔
طویل مدت کے بعد آزمائش کا دور ختم ہوا ۔۔۔
شیخ پھر اپنے منصب پر بحال ہوئے۔۔۔
اج شیخ کو خطبہ حج میں سنا تو ذہن ربع صدی قبل مسجد نبوی میں دیئے گئے خطبے کی طرف چلا گیا ۔۔۔

ابو سفیان بالاکوٹی
@ all

‎ *عید کا دن اور ایک اداس دل‎میاں صلاح الدین * ‎گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی جب ایامِ حج کی برکتیں اپنے عروج پر پہنچیں،...
26/05/2026

‎ *عید کا دن اور ایک اداس دل
‎میاں صلاح الدین
* ‎گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی جب ایامِ حج کی برکتیں اپنے عروج پر پہنچیں، میدانِ عرفات کے روح پرور مناظر نگاہوں کے سامنے آئے، حجاجِ کرام کی دعائیں، سجدے، تلبیہ کی صدائیں اور خطبۂ حج کی بازگشت دل میں اترتی گئی تو بے اختیار والدِ گرامی کی یاد نے آ گھیرا۔

‎ابو جان ان مبارک دنوں میں عبادت، ذکرِ الٰہی، تلاوتِ قرآن اور دعا میں اس قدر مشغول ہو جاتے تھے کہ گھر کا ماحول بھی روحانیت سے معطر ہو جاتا تھا۔ آج وہ مناظر صرف یادوں کا حصہ ہیں، مگر ان کی کمی دل کے ہر گوشے میں شدت سے محسوس ہوتی ہے۔

‎شاید صحت کی کمزوری، وقت کے بدلتے حالات اور اندر کی کسی خاموش تھکن نے مل کر ایسی کیفیت پیدا کر دی ہے کہ نہ عید کی خوشیاں دل کو چھو رہی ہیں اور نہ ہی معمول کی مصروفیات میں وہ کشش باقی رہی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر شے فاصلے پر کھڑی ہو؛ انسان، پرندے، درخت، موسم اور راستے بھی کچھ روٹھے روٹھے سے لگتے ہیں۔

‎اسی دوران ایک نہایت مخلص دوست کا پیغام موصول ہوا کہ "کل شام میرے ساتھ گزاریں"۔ اس مختصر سے جملے نے دل کو ایک لمحے کے لیے اپنائیت کا احساس دلایا اور یہ یاد دلا دیا کہ دنیا میں محبت کرنے والے لوگ اب بھی موجود ہیں۔

‎سچ تو یہ ہے کہ اس وقت نہ کسی کو عید مبارک کہنے کا حوصلہ ہو رہا ہے اور نہ ہی آنے والے پیغامات کا مناسب جواب دیا جا رہا ہے۔ دل کسی اور ہی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ ایک عجیب سی اکتاہٹ، ایک خاموش سی بے رغبتی اور اپنے مرحوم والد کے پاس جانے کی شدید خواہش دل میں موجزن ہے۔

‎مگر پھر یہ خیال بھی آتا ہے کہ اصل ملاقات تو تب ہی خوبصورت ہوگی جب ایمان سلامت ہو اور زادِ راہ کافی ہو۔ اسی لیے آج اپنے تمام دوستوں، احباب، شاگردوں اور بالخصوص اپنے اساتذۂ کرام سے ایک عاجزانہ درخواست ہے کہ میرے لیے دعا فرمائیں۔

‎دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ ایمان پر استقامت عطا فرمائے، دل کے بوجھ ہلکے فرمائے، والدِ محترم کی مغفرت اور درجات کی بلندی نصیب فرمائے، اور جب بھی اپنے حضور بلائے تو کامل ایمان، اپنی رضا اور رحمت کے ساتھ بلائے۔

‎آمین یا رب العالمین۔
‎ *میاں صلاح الدین ڈبریاں بالاکوٹ
*

Address

Balakot

Telephone

+923455281634

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SHAMSinews posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to SHAMSinews:

Share