Molana Bahar Ali Haqani

Molana Bahar Ali Haqani 🌹 مفتی بہارعلی حقانی صاحب کے اصلاحی بیانات کا آفیشل پیج

دین، اصلاح اور نصیحت پر مبنی بیانات کے لیے پیج کو فالو کریں۔ جزاکم اللہ خیراً۔

19/08/2026

انسان دنیا میں ہمیشہ کے لیے نہیں آیا

انسان! ذرا ٹھہر کر سوچ، تو دنیا میں آنے سے پہلے کہاں تھا؟ اور ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ تو اس دنیا سے چلا جائے گا۔ یہ دنیا نہ کسی کے لیے ہمیشہ رہی ہے، نہ ہمیشہ رہے گی۔

کتنے لوگ اس دنیا میں آئے، بڑے بڑے محلات بنائے، دولت جمع کی، نام و شہرت کمائی، طاقت اور اقتدار حاصل کیا؛ مگر آج ان میں سے اکثر کے نام بھی صرف تاریخ کے صفحات میں رہ گئے ہیں۔ جن ہاتھوں نے کبھی خزانے گنے تھے، وہ آج مٹی کے نیچے ہیں۔ جن قدموں سے بڑے بڑے راستے طے کیے جاتے تھے، وہ آج قبر میں بے حرکت ہیں۔

قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور آخرت ہی اصل زندگی ہے۔

ہم دن رات دنیا کے لیے دوڑ رہے ہیں، مگر کبھی یہ نہیں سوچتے کہ جس دنیا کے لیے ہم اتنی محنت کر رہے ہیں، اس میں ہمارا قیام کتنا ہے؟ چند سال، چند عشرے، پھر اچانک ایک آواز آئے گی: اب واپس چلنے کا وقت ہے۔

موت نہ عمر دیکھتی ہے، نہ مال، نہ عہدہ، نہ شہرت۔ بادشاہ بھی جاتا ہے اور فقیر بھی، عالم بھی جاتا ہے اور جاہل بھی، جوان بھی جاتا ہے اور بوڑھا بھی۔

اصل کامیاب وہ نہیں جس نے دنیا میں بہت کچھ جمع کیا؛ اصل کامیاب وہ ہے جو دنیا سے جاتے ہوئے اپنے ساتھ ایمان، نیک اعمال، صدقہ، نماز، قرآن، خدمتِ خلق اور اللہ کی رضا لے جائے۔

آج ہمارے پاس موقع ہے۔
آج توبہ کا دروازہ کھلا ہے۔
آج نماز پڑھ سکتے ہیں۔
آج کسی کا دل خوش کر سکتے ہیں۔
آج کسی مظلوم کی مدد کر سکتے ہیں۔
آج کسی سے معافی مانگ سکتے ہیں۔
آج اللہ کو راضی کر سکتے ہیں۔

لیکن یاد رکھیں، ایک دن ایسا ضرور آئے گا جب ہم کہیں گے:

یا اللہ! مجھے تھوڑا سا اور وقت دے دے، میں اپنی زندگی بدل دوں گا۔

مگر اس وقت مہلت نہیں ہوگی۔

اس لیے دنیا کو چھوڑنا نہیں، بلکہ دنیا کو آخرت بنانے کا ذریعہ بنانا ہے۔ مال ہو تو اللہ کی راہ میں خرچ کرو، علم ہو تو آگے پہنچاؤ، طاقت ہو تو کمزور کا سہارا بنو، اختیار ہو تو انصاف کرو، اور زندگی ملی ہے تو اسے اللہ کی رضا میں گزارو۔

ہم دنیا کے مالک بننے نہیں آئے، ہم دنیا سے گزرنے آئے ہیں۔

دنیا ایک مسافر خانہ ہے، قبر اگلا مرحلہ ہے، اور آخرت ہماری ہمیشہ کی منزل ہے۔

اے انسان!
اپنے گھر کو سنوارنے سے پہلے اپنی قبر کو یاد کر،
اپنا بینک بیلنس دیکھنے سے پہلے اپنا اعمال نامہ دیکھ،
لوگوں کی نظروں میں عزت حاصل کرنے سے پہلے اللہ کے ہاں اپنی حیثیت دیکھ۔

دنیا چند دن ہے، موت یقینی ہے، قبر تنہائی ہے، اور آخرت ہمیشہ کی زندگی ہے۔

پس آج ہی اپنے رب کی طرف لوٹ آؤ، کیونکہ معلوم نہیں کہ کل ہمیں یہ موقع دوبارہ ملے یا نہ ملے۔

یا اللہ! ہماری باقی زندگی اپنی رضا کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرما، موت ایمان پر نصیب فرما، قبر کو ہمارے لیے جنت کا باغ بنا دے، اور آخرت میں اپنی رحمت سے کامیاب فرما۔ آمین۔

مفتی عثمان البدری صاحب — علم، اخلاص اور خطابت کا حسین امتزاجبعض شخصیات سے تعلق صرف دوستی کا نہیں ہوتا، بلکہ ان کی محبت، ...
16/08/2026

مفتی عثمان البدری صاحب — علم، اخلاص اور خطابت کا حسین امتزاج

بعض شخصیات سے تعلق صرف دوستی کا نہیں ہوتا، بلکہ ان کی محبت، اخلاص، علم اور کردار دل میں ایک خاص مقام بنا لیتا ہے۔ مفتی عثمان البدری صاحب ٹانک بھی ایسی ہی باوقار اور قابلِ احترام شخصیت ہیں، جن سے میرا تعلق محض رسمی نہیں بلکہ قلبی محبت، اعتماد اور خلوص پر قائم ہے۔

مفتی عثمان البدری صاحب میرے نہایت قریبی دوست ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں علمِ دین کے ساتھ ساتھ اخلاص، سادگی، بہترین اخلاق اور دعوت و اصلاح کا ذوق عطا فرمایا ہے۔ وہ حضرت مفتی مختارالدین شاہ صاحب کربوغہ شریف کے خلیفۂ مجاز ہیں، جو ان کی علمی و روحانی نسبت کی اہمیت کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

ان کی ایک بڑی خدمت یہ ہے کہ انہوں نے ایک عظیم دینی ادارے کی بنیاد رکھی، جہاں درسِ نظامی عربی زبان میں پڑھایا جاتا ہے۔ یہ ایک قابلِ قدر دینی و علمی کاوش ہے، کیونکہ آج کے دور میں ایسے اداروں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے جو طلبہ کو مضبوط علمی بنیاد، عربی زبان اور دینی شعور کے ساتھ تیار کریں۔

مفتی عثمان البدری صاحب صرف مدرس اور منتظم ہی نہیں بلکہ جنوبی اضلاع کے بہترین اور مؤثر خطباء میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں علم بھی ہے، درد بھی، حکمت بھی اور اصلاح کا جذبہ بھی۔ ان کا اندازِ بیان دلوں تک پہنچتا ہے اور سامع کو سوچنے پر مجبور کرتا ہے۔

مجھے ان کی شخصیت میں سب سے زیادہ جو چیز متاثر کرتی ہے وہ ان کا علم کے ساتھ اخلاص اور تعلقات میں وفا ہے۔ ایسے دوست اللہ تعالیٰ کی نعمت ہوتے ہیں جن کے ساتھ انسان دینی، علمی اور قلبی اعتبار سے خود کو مطمئن محسوس کرتا ہے۔

اللہ تعالیٰ میرے عزیز دوست مفتی عثمان البدری صاحب کو صحت، عافیت، اخلاص اور استقامت عطا فرمائے، ان کے ادارے کو دن دوگنی رات چوگنی ترقی دے، ان کی علمی و دعوتی خدمات کو شرفِ قبول بخشے اور ان کے ذریعے ہزاروں لوگوں کو دین کا نفع پہنچائے۔

مفتی عثمان البدری صاحب! آپ جیسے مخلص، باعلم اور باکردار دوست پر مجھے فخر ہے۔ اللہ تعالیٰ ہماری اس محبت اور دوستی کو دنیا میں بھی قائم رکھے اور آخرت میں بھی اپنی رحمت کے سائے میں جمع فرمائے۔ آمین۔

15/08/2026
😭😭😭😢😭😭😭😥😭😭😭
14/08/2026

😭😭😭😢😭😭😭😥😭😭😭

🌹 قطعۂ تعلق کرنے والوں کے نام ایک خاموش مگر اہم پیغام 🌹رشتے صرف خون کے نام پر نہیں بنتے،کچھ رشتے اخلاص، اعتماد، قربانی، ...
11/08/2026

🌹 قطعۂ تعلق کرنے والوں کے نام ایک خاموش مگر اہم پیغام 🌹

رشتے صرف خون کے نام پر نہیں بنتے،
کچھ رشتے اخلاص، اعتماد، قربانی، وفاداری اور مشکل وقت میں ساتھ دینے سے بنتے ہیں۔

افسوس!
آج معمولی سی ناراضی، ایک غلط فہمی، کسی تیسرے شخص کی بات، یا انا کی ایک چنگاری برسوں کے تعلق کو راکھ کر دیتی ہے۔

کبھی اپنے دل سے پوچھیں…

جس شخص نے آپ کے مشکل وقت میں آپ کا ہاتھ تھاما تھا،
جس نے آپ کے دکھ کو اپنا دکھ سمجھا تھا،
جس نے آپ کی عزت کی حفاظت کی تھی،
جس نے آپ کی کمزوریوں کو لوگوں کے سامنے ظاہر کرنے کے بجائے پردہ رکھا تھا…

کیا اسے صرف ایک اختلاف کی وجہ سے زندگی سے نکال دینا انصاف ہے؟

اختلاف ہونا فطری ہے،
گلہ ہونا بھی فطری ہے،
مگر قطعۂ تعلق کو عادت بنا لینا انسان کے اپنے ظرف کو ظاہر کرتا ہے۔

بڑے لوگ رشتے نہیں توڑتے،
بلکہ رشتوں کی دراڑیں بھرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اگر کوئی آپ سے ناراض ہے تو ایک قدم آپ بڑھا لیں؛
اگر کوئی غلط سمجھ بیٹھا ہے تو وضاحت کر دیں؛
اگر کسی سے غلطی ہوگئی ہے تو معاف کر دیں۔

کیونکہ زندگی بہت مختصر ہے اور انسان بہت کمزور۔

آج جس شخص سے آپ روٹھے ہوئے ہیں،
ضروری نہیں کہ کل وہ آپ کے پاس موجود ہو۔

اور یاد رکھیں…

مخلص انسان ہر موڑ پر نہیں ملتے۔

کچھ لوگ ہماری زندگی میں اللہ کی نعمت بن کر آتے ہیں،
ہم ان کی قدر نہیں کرتے،
انہیں اپنی انا کی نذر کر دیتے ہیں،
اور جب وہ خاموشی سے دور ہوجاتے ہیں تو پھر ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم نے کیا کھو دیا۔

رشتے توڑنے والے شاید یہ بھول جاتے ہیں کہ:

دل توڑنے کی آواز نہیں ہوتی،
مگر اس کی تکلیف بہت دور تک جاتی ہے۔

ہم کسی سے بدلہ نہیں چاہتے،
کسی کے لیے بددعا نہیں کرتے،
بس اللہ سے دعا ہے:

🤲 یا اللہ! ہمارے دلوں سے کینہ، بغض، حسد اور انا نکال دے۔
ہمیں رشتوں کی قدر کرنے والا بنا۔
ہمیں معاف کرنے کا حوصلہ دے۔
اور اگر کسی کے دل میں ہمارے لیے ناراضی ہے تو اس کے دل کو بھی سکون عطا فرما۔

کیونکہ آخر میں انسان کے پاس مال، منصب اور شہرت سے زیادہ
مخلص دلوں کی دعائیں اور پاکیزہ رشتے رہ جاتے ہیں۔

🌿 رشتے توڑنے میں نہیں، نبھانے میں عظمت ہے۔
اور معاف کرنے میں شکست نہیں، انسان کی اصل بڑائی ہے۔ 🌿

10/08/2026

یااللہ امت مسلمہ کے گناہوں کو معاف فرما😭😭

10/08/2026

فجرکی نماز باجماعت پڑھنے والو اسلام علیکم

🌹 انتہائی اہم اور فکر انگیز تحریر 🌹خلوت کے گناہ اور اہلِ علم کی ذمہ داریگناہ جب کسی عام انسان سے سرزد ہوتا ہے تو نقصان ا...
09/08/2026

🌹 انتہائی اہم اور فکر انگیز تحریر 🌹

خلوت کے گناہ اور اہلِ علم کی ذمہ داری

گناہ جب کسی عام انسان سے سرزد ہوتا ہے تو نقصان اپنی جگہ، لیکن جب ایک صاحبِ علم، داعی یا دینی رہنما اسی گناہ میں مبتلا ہو جائے تو معاملہ کہیں زیادہ سنگین ہو جاتا ہے؛ کیونکہ لوگ اس کے قول کو سنتے اور اس کے کردار سے متاثر ہوتے ہیں۔

سب سے خطرناک چیز صرف گناہ نہیں، بلکہ گناہ کو معمولی سمجھ لینا ہے۔

انسان لوگوں سے اپنی حقیقت چھپا سکتا ہے، مگر اللہ تعالیٰ سے نہیں چھپا سکتا۔
محفل میں تقویٰ کا لباس پہن لینا آسان ہے، اصل امتحان اُس وقت ہوتا ہے جب انسان تنہائی میں ہو اور اسے دیکھنے والا بظاہر کوئی نہ ہو۔

اسی لیے اہلِ علم کو سب سے زیادہ ضرورت خلوت کی اصلاح کی ہے۔

لوگ تعریف کریں یا تنقید، انسان کو اپنے نفس کا محاسبہ کرتے رہنا چاہیے۔
کیونکہ مسلسل تعریف کبھی کبھی انسان کو اس مقام تک پہنچا دیتی ہے جہاں وہ اپنے عیوب دیکھنا چھوڑ دیتا ہے۔

اور جب انسان اپنے عیب سے بے خبر ہو جائے تو اصلاح کا دروازہ خود اپنے ہاتھ سے بند کر دیتا ہے۔

یاد رکھیں!

علم صرف کتابوں کا نام نہیں،
علم کا اصل اثر دل کی خشیت، کردار کی پاکیزگی اور تنہائی میں اللہ تعالیٰ کا خوف ہے۔

اگر زبان پر وعظ ہو مگر خلوت میں گناہ جاری ہو،
اگر محفل میں تقویٰ ہو مگر تنہائی میں بے خوفی ہو،
اگر لوگ عزت کریں مگر انسان اپنے رب کے سامنے شرمندہ نہ ہو—

تو اسے اپنے مقام پر نہیں، اپنے انجام پر غور کرنا چاہیے۔

اہلِ علم ہی نہیں، ہم سب کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے:

ہم لوگوں کی نظروں میں کیسے ہیں، یہ کم اہم ہے؛
ہم اللہ تعالیٰ کی نظر میں کیسے ہیں، اصل سوال یہ ہے۔

آئیے آج دوسروں کے عیوب تلاش کرنے کے بجائے اپنے دل کا محاسبہ کریں۔

جو گناہ لوگوں سے چھپا ہوا ہے، اسے اللہ سے چھپانے کی کوشش نہ کریں۔
سچی توبہ کریں، خلوت سنواریں، نگاہوں کی حفاظت کریں، دل کو پاک کریں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کریں۔

کیونکہ انسان کی اصل حقیقت اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ تنہا ہوتا ہے۔

🤲 اے اللہ! ہماری جلوت کو بھی پاک فرما اور ہماری خلوت کو بھی، ہمارے ظاہر کو بھی سنوار دے اور ہمارے باطن کو بھی، اور ہمیں ایسا بنا دے کہ ہم لوگوں کے سامنے بھی تیرے ہوں اور تنہائی میں بھی تیرے ہی رہیں۔ آمین۔

Address

نزد تھانہ میریان میریان روڈ نورڑ بنوں
Bannu Cantonment
WG8R+5P,NURAR,BANNU,KHYBERPAKHTUNKHWA

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Molana Bahar Ali Haqani posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share