27/04/2026
مولانا بہار علی صاحب پر الزمات (حافظ ابراہیم کی ردعمل )
مفتی بہارعلی صاحب پر آج کل بے بنیاد الزامات اور افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مفتی صاحب نے اپنی زندگی میں بے شمار تکالیف، آزمائشیں اور مشکلات دیکھی ہیں۔ ایک وقت ایسا بھی تھا کہ ان کے سامنے کوئی آواز اٹھانے کی ہمت نہیں کرتا تھا، مگر آج کچھ لوگ بغیر تحقیق ان کی شخصیت اور کردار پر سوال اٹھا رہے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ مفتی بہارعلی صاحب کو اپنے دادا کی طرف سے تقریباً دو سو کنال زمین وراثت میں ملی تھی۔ اسی زمین میں سے کچھ حصہ فروخت کرکے انہوں نے دبئی، متحدہ عرب امارات میں اپنا جائز کاروبار قائم کیا۔ ان کے ایک بھائی پراپرٹی کے کاروبار سے وابستہ ہیں جبکہ ایک بھائی سعودی عرب میں محنت مزدوری کر رہے ہیں۔ یہی ان کے خاندان کا ذریعۂ معاش اور کل ترکہ ہے۔
میں ذاتی طور پر انہیں جانتا ہوں کیونکہ وہ میرے ننھیال سے تعلق رکھتے ہیں، اور میں پورے یقین سے کہتا ہوں کہ وہ ایک صاف ستھرے، باعزت، دیندار اور نیک خاندان سے تعلق رکھنے والے انسان ہیں۔ ان کی دینی خدمات، کردار اور شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔
آخر سوال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی موروثی زمین بیچ کر حلال کاروبار کرے، اپنے خاندان کے لیے بہتر مستقبل بنائے، تو کیا یہ جرم ہے؟
کاروبار کرنا کوئی گناہ نہیں بلکہ رزقِ حلال کمانا باعثِ عزت ہے۔
لہٰذا ایسی جھوٹی افواہوں پر کان نہ دھریں جو مفتی صاحب کی شخصیت یا ان کی دینی وقار کے بارے میں شکوک پیدا کریں۔ بغیر تحقیق کسی پر الزام لگانا نہ انصاف ہے اور نہ ہی دین کی تعلیم۔
حافظ ابراہیم خان
چیف ایڈئٹر بنوں پریس نیوز
Bannu Press Tv
Bannu Press HD
Bannu Press News