05/08/2026
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب تم میں سے کوئی شخص مسجد میں نماز پڑھ لے تو اپنی نماز کا کچھ حصہ اپنے گھر کے لیے بھی رکھے، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس کی نماز کی وجہ سے اس کے گھر میں خیر پیدا فرماتا ہے۔"
حوالہ: صحیح مسلم، حدیث نمبر: 778
اس حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے گھر میں نفل نمازیں ادا کرنے کی فضیلت اور اس کے ذریعے گھر میں خیر و برکت پیدا ہونے کو بیان فرمایا ہے، یعنی مومن کو فرض نمازیں مسجد میں ادا کرنے کے ساتھ اپنی بعض نفل اور سنت نمازوں کو گھر میں بھی ادا کرنا چاہیے، کیونکہ گھر میں نماز پڑھنے سے اللہ تعالیٰ اس گھر میں خیر، برکت اور روحانی نور پیدا فرماتا ہے، اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ مومن کو اپنے گھر کو صرف دنیاوی مصروفیات کی جگہ نہیں بنانا چاہیے بلکہ اسے نماز، ذکر اور عبادت سے بھی آباد رکھنا چاہیے تاکہ گھر کا ماحول دینی اور بابرکت بنے، مثال کے طور پر اگر کوئی شخص فرض نماز مسجد میں ادا کرنے کے بعد اپنی سنت یا نفل نمازوں میں سے کچھ گھر آکر ادا کرے تو اس کے گھر والے بھی اسے عبادت کرتے دیکھیں گے اور گھر میں نماز اور اللہ تعالیٰ کے ذکر کا ماحول پیدا ہوگا، یہ حدیث ہمیں یہ یقین دلاتی ہے کہ گھر میں نماز ادا کرنا خیر و برکت کا ذریعہ ہے، اس لیے ہمیں اپنی سنت اور نفل نمازوں میں سے کچھ حصہ گھر میں ادا کرکے اپنے گھروں کو عبادت اور اللہ تعالیٰ کی یاد سے آباد رکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔