Bannu Media HD.

Bannu Media HD. ہر خبر پر نظر بے لوث خدمت

ایک ملزم کو صبح سویرے پکڑا۔ وہ بے فکر ہو کر نشے میں دھت اپنے ڈیرے میں سویا ہوا تھا۔ اسے یقین تھا کہ کوئی کارروائی نہیں ہ...
13/09/2026

ایک ملزم کو صبح سویرے پکڑا۔ وہ بے فکر ہو کر نشے میں دھت اپنے ڈیرے میں سویا ہوا تھا۔ اسے یقین تھا کہ کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ صبح 6 ستمبر کی تقریب ہونا تھی۔ پولیس نے راتوں رات کارروائی کی اور ملزمان پکڑے'

سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق خیبرپختونخوا میں اپنی سروس کے دوران انہوں نے اس نوعیت کا واقعہ بہت کم دیکھا جس میں ملزمان کسی کے گھر میں داخل ہوئے ہوں اور وہاں موجود دو خواتین کو مبینہ زیاد۔۔تی کا نشانہ بنایا ہو۔ ان کے مطابق واقعے میں ملوث ملزمان آئس کے نشے میں تھے اور انہیں یہ احساس تھا کہ مکان میں رہنے والا خاندان ان کے زیر اثر ہے۔ ڈاکٹر میاں سعید احمد کہتے ہیں کہ ملزمان کرائے داروں کو محض کمزور اور بے بس سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ جو کہیں گے کرائے دار وہی کرنے پر مجبور ہوں گے۔ 'یہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کی پراپرٹی ہے، یہ تو محض کرائے دار ہیں، جو کہیں گے مان جائیں گے اور کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔'

ان کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمان اس سے پہلے بھی اپنے بعض کرائے داروں کے ساتھ اسی نوعیت کا سلوک کر چکے تھے۔ متاثرہ خاندان سے مکان کا ماہانہ کرایہ صرف پانچ ہزار روپے لیا جاتا تھا۔

وہ بتاتے ہیں کہ واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملزمان نے گھر میں موجود والد اور ان کے میٹرک کے طالب علم بیٹے کو باندھ دیا تھا۔ اسی دوران کم عمر بچی کو بھی خوفزدہ کیا گیا اور ملزمان نے اس کے ساتھ بھی نازیبا حرکت کرنے کی کوشش کی تاہم ان کے ایک ساتھی کے روکنے پر وہ رک گئے۔

سی سی پی او کے مطابق متاثرہ خاندان کے لیے وہ رات ناقابل بیان خوف میں گزری۔ ان کے مطابق جب پولیس کو واقعے کی اطلاع ملی تو متاثرہ خاندان کی حالت دیکھ کر اہلکاروں کو اندازہ ہوا کہ یہ انتہائی غریب لوگ ہیں۔ واقعے کے بعد وہ پیدل پولیس اسٹیشن پہنچے۔ راستے بھر وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتے رہے کہ کہیں ملزمان ان کا پیچھا تو نہیں کر رہے۔ پولیس سٹیشن پہنچ کر خاندان نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات پولیس کو بتائیں، جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر کارروائی شروع کردی۔

ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق کل 6 ستمبر کی صبح تھی۔ پولیس یوم دفاع کی تقریبات کی تیاری مکمل کر چکی تھی اور ایک تقریب بھی شیڈول تھی تاہم واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ترجیحات بدل گئیں۔ 'صبح میں نے ایس ایس پی آپریشنز کو کہا کہ خود جائیں اور ڈی ایس پی آفس میں بیٹھ جائیں۔ چار ٹیمیں بنائیں، ان کو الگ الگ بھیجیں اور ان کو پکڑ لیں'

پولیس نے فوری طور پر مختلف ٹیمیں تشکیل دیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی۔ کارروائی کے دوران ایک ملزم کو صبح سویرے ہی گرفتار کر لیا گیا۔ سی سی پی او کے مطابق حیران کن طور پر وہ اپنے ڈیرے پر سکون سے لیٹا ہوا تھا اور اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ پولیس اس تک پہنچ چکی ہے۔ دیگر تین ملزمان کو جب پولیس کارروائی کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس ٹیمیں پہلے ہی حرکت میں آ چکی تھیں اور انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔

تاہم گرفتاری کے بعد بھی پولیس کے لیے واقعے کی تمام تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں تھیں۔ سی سی پی او کے مطابق ابتدائی طور پر انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ملزمان نے واقعی اتنا سنگین جرم کیا ہوگا لیکن جب ملزمان کا نشہ اترا اور ان سے الگ الگ تفتیش کی گئی تو صورتحال واضح ہونا شروع ہوگئی۔ 'میں نے اپنے آفس میں ایک ایک شخص کو بٹھا کر پوچھا اور اب نے اعتراف جرم کر لیا'

تفتیش کے دوران متاثرہ بچی نے بھی پولیس کو پورا واقعہ بیان کیا۔ سی سی پی او کے مطابق بچی نے جو کچھ بتایا اس کی تفصیلات انتہائی سنگین اور ناقابل بیان تھیں اس لیے انہیں عوام کے سامنے بیان نہیں کیا جا سکتا۔

گرفتاری کے بعد ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر لیا گیا تاکہ انہیں جائے وقوعہ پر لے جا کر مزید تفتیش اور نشاندہی کی جا سکے۔ ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق جب پولیس ملزمان کو جائے وقوعہ کی طرف لے کر جا رہی تھی تو راستے میں ان کے کچھ ساتھی آئے۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ ملزمان کو ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس کی گرفت سے چھڑایا جا سکتا ہے۔ سی سی پی او کے مطابق ملزمان کو بعض لوگ سرمایہ دار، بااثر اور طاقتور سمجھتے تھے کیونکہ ان کے پاس زمینیں، فارم ہاؤس اور دیگر وسائل موجود تھے۔ ان کے مطابق رات کے وقت ان افراد نے ملزمان کو چھڑانے کی کوشش کی تاہم صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب مزاحمت اور ہنگامے کے دوران حملہ آوروں نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر دی اور وہ ہلا۔۔ک ہوگئے۔

سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد بتاتے ہیں 'جرائم پیشہ عناصر کے لیے پیغام ہے۔۔ وہ میری زبان سمجھ جائیں گے۔ جب تک یہاں ہوں، انہیں سمجھنا چاہیے۔ جو پہلے کیا ہے، وہی کروں گا۔جرائم پیشہ افراد کے پاس اب بھی واپسی کا راستہ موجود ہے۔ یا تو وہ توبہ تائب ہو جائیں، اگر توبہ نہیں کرتے تو علاقہ چھوڑ جائیں۔ اگر علاقہ نہیں چھوڑتے تو انہیں پھر اپنے انجام کا علم ہے۔'

تدوین
ادیب یوسفزئی

👇جس گھر میں شادی کے بعد بیٹیاں آنا جانا بند کر دیں تو سمجھ جانا،اس گھر میں کسی گرے ہوئے خاندان کی بیٹی بہو بن کر آئی ہے؟
12/09/2026

👇
جس گھر میں شادی کے بعد بیٹیاں آنا جانا بند کر دیں تو سمجھ جانا،
اس گھر میں کسی گرے ہوئے خاندان کی بیٹی بہو بن کر آئی ہے؟

11/09/2026

اس موقع سے ہر بندہ فائدہ اٹھا سکتا ہے،

دوستی سے انکار پر قتل شدہ اس بچے کو انصاف مل جائے گا؟؟؟؟؟
10/09/2026

دوستی سے انکار پر قتل شدہ اس بچے کو انصاف مل جائے گا؟؟؟؟؟

رات کے دو بج رہے تھے۔ مالک مکان نے سوچا کرائے دار غریب ہے اور پولیس کو کچھ نہیں کہہ سکے گا۔ یوں وہ رات کے اندھیرے میں دی...
10/09/2026

رات کے دو بج رہے تھے۔ مالک مکان نے سوچا کرائے دار غریب ہے اور پولیس کو کچھ نہیں کہہ سکے گا۔ یوں وہ رات کے اندھیرے میں دیگر ملزمان کے ہمراہ دیوار پھلانگ کر اپنے کرائے دار کے گھر میں داخل ہوا اور ان کی دو بیویوں کو گن پو۔۔ ائنٹ پر زیاد۔۔تی کا نشانہ بنا دیا۔ اسی دوران ملزمان نے گھر میں موجود کم عمر بیٹی کو بھی ہرا۔ساں کیا اور اس کی قمیض۔۔۔

پولیس کے مطابق یہ واقعہ 6 ستمبر کو تھانہ رحمان بابا کی حدود میں اس وقت پیش آیا جب چار مسلح افراد رات کے دو بجے دیوار پھلانگ کر کرائے دار کے مکان میں داخل ہوئے۔ ان میں مالک مکان بھی شامل تھا۔ ان کا خیال تھا کہ کرائے دار اس ظلم پر خاموشی اختیار کر جائے گا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ گھر میں کرائے دار اپنی دو بیویوں، ایک بیٹے اور ایک بیٹی کے ساتھ رہتا تھا۔ دونوں خواتین کی عمریں بالترتیب 22 اور 27 سال بتائی گئی ہیں۔

ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان اور ایس ایس پی انویسٹیگیشن ڈاکٹر محمد سمیع ملک نے پریس کانفرنس میں واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ چاروں ملزمان ا۔۔سلحے سے لیس تھے اور انہوں نے اہل خانہ کو گن پو۔۔ائنٹ پر یرغمال بنایا۔ پہلے کرائے دار کو ایک کمرے میں بند کیا گیا اور پھر ان کے بیٹے کو ان کے ساتھ ہی وہاں باندھ دیا گیا۔ اس کے بعد ملزمان نے دونوں خواتین کو زیا۔۔ دتی کا نشانہ بنایا۔ ایک خاتون کے ساتھ تین افراد جبکہ چھوٹی بیوی کے ساتھ ایک شخص نے زیادتی کی۔ پولیس حکام کے مطابق واقعے کے دوران خواتین نے ملزمان سے رحم کی اپیل کی۔ 'وہ گڑگڑا رہی تھیں کہ ہمیں معاف کر دیں یہ ظلم نہ کریں لیکن ملزمان کو کوئی ترس نہ آیا'

پولیس کے مطابق ملزمان کو اس کے بعد بھی کوئی ترس نہ آیا اور بچی کی قیمض اوپر کی گئی اور اسے ہر۔اساں کیا جاتا رہا تاہم کچھ دیر بعد اسے اس کے والد کے ساتھ باندھ دیا گیا۔ ستم یہ کہ ملزمان اس گھر سے موبائل اور دیگر ساز و سامان بھی لوٹ کر فرار ہوئے۔ واقعے کے بعد متاثرہ خاندان نے اسی رات پولیس سے رابطہ کیا۔ متاثرہ خاندان پیدل تھانہ رحمان بابا پہنچا اور تقریباً صبح چار بجے وہاں پولیس کے سامنے واقعے کی تفصیل بتائی۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اطلاع ملتے ہی مقدمہ درج کیا گیا اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے چار خصوصی ٹیمیں تشکیل دی گئیں۔

ایس ایس پی آپریشنز فرحان خان نے پریس کانفرنس میں اس واقعے کو انتہائی افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کے لیے بھی یہ ایک ایسا واقعہ ہے جس کا تصور کرنا مشکل ہے۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران چاروں ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا اور ان کے قبضے سے اسلحہ بھی برآمد کیا گیا جبکہ لوٹے گئے موبائل فون اور دیگر اشیا بھی برآمد کر لی گئی ہیں۔ پولیس کے مطابق تفتیش کے دوران گرفتار افراد نے اعتراف جرم کر لیا ہے۔

ایس ایس پی آپریشنز کے مطابق ملزمان اور متاثرہ خاندان کے درمیان مکان مالک اور کرایہ دار کا تعلق تھا۔ پولیس کے بقول ملزمان نے شاید یہ سمجھا کہ مالک ہونے اور خاندان کو خوفزدہ کرنے کی وجہ سے متاثرین پولیس سے رابطہ نہیں کریں گے لیکن متاثرہ خاندان نے واقعے کے چند ہی گھنٹوں بعد پولیس سے رابطہ کیا جس کے بعد کارروائی شروع کی گئی۔

ایس ایس پی انویسٹیگیشن ڈاکٹر محمد سمیع ملک کے مطابق متاثرہ خواتین سے تفتیش کے دوران خصوصی احتیاط برتی گئی۔ان کے مطابق خواتین پولیس افسران نے متاثرہ خواتین کے بیانات اور تفتیشی کارروائی میں حصہ لیا جبکہ کسی مرد افسر کو ان کے قریب نہیں جانے دیا گیا۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کے لیے ماہر نفسیات کا سیشن بھی کروایا گیا تاکہ واقعے کے بعد انہیں درپیش ذہنی دباؤ اور صدمے سے نمٹنے میں مدد دی جا سکے۔

پولیس کے مطابق جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا چکے ہیں ہیں اور واقعے کی فرانزک تحقیقات بھی جاری ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری کی مدد بھی لی جا رہی ہے تاکہ جائے وقوعہ سے حاصل ہونے والے شواہد کا سائنسی تجزیہ کیا جا سکے۔ پولیس کے مطابق متاثرہ خواتین کے بیانات عدالت کے سامنے بھی ریکارڈ ہو چکے ہیں۔

ادیب یوسفزئی

ہم اکثر یہ سنتے آئے ہیں کہ آج کل کچھ خوبصورت لڑکیاں صرف امیر مردوں کی تلاش میں رہتی ہیں، خاص طور پر ایسے مرد جو عمر میں ...
10/09/2026

ہم اکثر یہ سنتے آئے ہیں کہ آج کل کچھ خوبصورت لڑکیاں صرف امیر مردوں کی تلاش میں رہتی ہیں، خاص طور پر ایسے مرد جو عمر میں بڑے ہوں، کاروبار رکھتے ہوں اور انہیں ایک بہتر مستقبل دے سکیں۔
لیکن اس تصویر اور اس سے جڑی کہانی نے کم از کم میرا نظریہ ضرور بدل دیا۔

سوشل میڈیا پر بیان کی گئی معلومات کے مطابق، اس شخص کی پہلے سے **دو شادیاں** ہیں، جبکہ اس کے ساتھ بیٹھی ہوئی خوبصورت لڑکی نے مبینہ طور پر خود اس شخص سے شادی کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ وہ اسے بہت پسند کرتی ہیں۔

اس شخص کے مطابق اس نے لڑکی کو یہ بھی بتایا کہ وہ پہلے سے دو شادی شدہ ہے، حالات بھی بہت سادہ ہیں اور اگر وہ ان حالات میں رہ سکتی ہیں تو ہی یہ فیصلہ کریں۔

مگر لڑکی کا جواب تھا کہ **آپ جس حال میں رکھیں گے، میں رہ لوں گی، لیکن شادی آپ ہی سے کرنی ہے۔**

اب ذرا اس معاملے کو صرف خوبصورتی اور پیسے کے زاویے سے نہیں بلکہ انسانی پسند اور جذبات کے زاویے سے دیکھیں۔

اس شخص کا رہن سہن، لباس اور مالی حالات دیکھ کر یہ کہنا مشکل ہے کہ لڑکی نے صرف دولت یا آسائش کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا ہوگا۔

اور یہی وہ بات ہے جس نے مجھے سوچنے پر مجبور کیا کہ کیا واقعی آج کی ہر خوبصورت لڑکی صرف پیسے والے مرد کی تلاش میں ہوتی ہے؟

**یقیناً نہیں۔**

ہر انسان کی پسند، ترجیحات اور محبت کی وجہ مختلف ہو سکتی ہے۔ کچھ لوگ دولت دیکھتے ہیں، کچھ شخصیت، کچھ عزت، کچھ رویہ اور کچھ صرف دل کی پسند کو اہمیت دیتے ہیں۔

اس لیے چند واقعات کی بنیاد پر تمام خواتین یا تمام مردوں کے بارے میں رائے قائم کرنا بھی درست نہیں۔

شاید اصل دولت **بینک بیلنس نہیں بلکہ انسان کا کردار، رویہ اور وہ محبت ہے جس کی وجہ سے کوئی شخص مشکل حالات میں بھی آپ کا ساتھ قبول کرنے پر تیار ہو۔**

آپ کے خیال میں اس کہانی سے کیا سبق ملتا ہے؟

بنوں میں حبس بے جاء میں رکھے گئے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر رحمت اللہ کو عدالتی بیلف نے 5 روز بعد پولیس لائن کے کمرے سے بازیاب ...
09/09/2026

بنوں میں حبس بے جاء میں رکھے گئے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹر رحمت اللہ کو عدالتی بیلف نے 5 روز بعد پولیس لائن کے کمرے سے بازیاب کرالیا۔ معاملے کے حوالے سے پولیس افسران نے مکمل خاموشی اختیار کر لی ہے۔

09/09/2026

میاں رفیق صاحب کے ذہن میں خیبر کمیٹی سنٹر کے حوالے سے موجود سوالات کے تسلی بخش جوابات۔

06/09/2026

جب پردیس میں مقیم شخص کا ویزا اچانک کینسل ہو جاتا ہے اور وہ خالی ہاتھ وطن واپس لوٹنے پر مجبور ہوتا ہے، تو اپنوں اور گھر والوں کا رویہ کیوں بدل جاتا ہے؟

06/09/2026

🏍️ موٹرسائیکل جیتنے والا خوش نصیب ممبر 🎉
الحمدللہ! ہماری 20 ماہ کی آسان کمیٹی میں ہر ماہ 4 شفاف قرعہ اندازیاں کی جاتی ہیں۔
🔹 کل مدت: 20 ماہ
🔹 کل ممبران: 85
🔹 ہر ماہ: 4 قرعہ اندازیاں
🔹 شفاف، منظم اور تسلی بخش نظام
🔹 سود اور جوئے سے پاک کمیٹی

اپنی پسند کی موٹرسائیکل آسان اقساط میں حاصل کرنے کے لیے آج ہی رابطہ کریں۔

📞 کال اینڈ واٹس ایپ: 03183444245
📞 صرف کال: 03302381259

📍 پتہ: دکان نمبر 10، خواجہ مد پلازہ، بیرون منڈان گیٹ، بنوں

خیبر کمیٹی سنٹر — آسان اقساط، شفاف نظام، آپ کا اعتماد ہماری ترجیح۔

Address

دکان نمبر 10 خواجہ مد پلازہ بیرون منڈان گیٹ
Bannu
28100

Telephone

+923324157938

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Bannu Media HD. posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share

Category