13/09/2026
ایک ملزم کو صبح سویرے پکڑا۔ وہ بے فکر ہو کر نشے میں دھت اپنے ڈیرے میں سویا ہوا تھا۔ اسے یقین تھا کہ کوئی کارروائی نہیں ہوگی۔ صبح 6 ستمبر کی تقریب ہونا تھی۔ پولیس نے راتوں رات کارروائی کی اور ملزمان پکڑے'
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق خیبرپختونخوا میں اپنی سروس کے دوران انہوں نے اس نوعیت کا واقعہ بہت کم دیکھا جس میں ملزمان کسی کے گھر میں داخل ہوئے ہوں اور وہاں موجود دو خواتین کو مبینہ زیاد۔۔تی کا نشانہ بنایا ہو۔ ان کے مطابق واقعے میں ملوث ملزمان آئس کے نشے میں تھے اور انہیں یہ احساس تھا کہ مکان میں رہنے والا خاندان ان کے زیر اثر ہے۔ ڈاکٹر میاں سعید احمد کہتے ہیں کہ ملزمان کرائے داروں کو محض کمزور اور بے بس سمجھتے تھے اور ان کا خیال تھا کہ وہ جو کہیں گے کرائے دار وہی کرنے پر مجبور ہوں گے۔ 'یہ سمجھتے تھے کہ یہ ان کی پراپرٹی ہے، یہ تو محض کرائے دار ہیں، جو کہیں گے مان جائیں گے اور کچھ بھی نہیں کر پائیں گے۔'
ان کے مطابق تحقیقات کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ ملزمان اس سے پہلے بھی اپنے بعض کرائے داروں کے ساتھ اسی نوعیت کا سلوک کر چکے تھے۔ متاثرہ خاندان سے مکان کا ماہانہ کرایہ صرف پانچ ہزار روپے لیا جاتا تھا۔
وہ بتاتے ہیں کہ واقعے کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملزمان نے گھر میں موجود والد اور ان کے میٹرک کے طالب علم بیٹے کو باندھ دیا تھا۔ اسی دوران کم عمر بچی کو بھی خوفزدہ کیا گیا اور ملزمان نے اس کے ساتھ بھی نازیبا حرکت کرنے کی کوشش کی تاہم ان کے ایک ساتھی کے روکنے پر وہ رک گئے۔
سی سی پی او کے مطابق متاثرہ خاندان کے لیے وہ رات ناقابل بیان خوف میں گزری۔ ان کے مطابق جب پولیس کو واقعے کی اطلاع ملی تو متاثرہ خاندان کی حالت دیکھ کر اہلکاروں کو اندازہ ہوا کہ یہ انتہائی غریب لوگ ہیں۔ واقعے کے بعد وہ پیدل پولیس اسٹیشن پہنچے۔ راستے بھر وہ بار بار پیچھے مڑ کر دیکھتے رہے کہ کہیں ملزمان ان کا پیچھا تو نہیں کر رہے۔ پولیس سٹیشن پہنچ کر خاندان نے اپنے ساتھ پیش آنے والے واقعے کی تفصیلات پولیس کو بتائیں، جس کے بعد پولیس نے فوری طور پر کارروائی شروع کردی۔
ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق کل 6 ستمبر کی صبح تھی۔ پولیس یوم دفاع کی تقریبات کی تیاری مکمل کر چکی تھی اور ایک تقریب بھی شیڈول تھی تاہم واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد ترجیحات بدل گئیں۔ 'صبح میں نے ایس ایس پی آپریشنز کو کہا کہ خود جائیں اور ڈی ایس پی آفس میں بیٹھ جائیں۔ چار ٹیمیں بنائیں، ان کو الگ الگ بھیجیں اور ان کو پکڑ لیں'
پولیس نے فوری طور پر مختلف ٹیمیں تشکیل دیں اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائی شروع کردی۔ کارروائی کے دوران ایک ملزم کو صبح سویرے ہی گرفتار کر لیا گیا۔ سی سی پی او کے مطابق حیران کن طور پر وہ اپنے ڈیرے پر سکون سے لیٹا ہوا تھا اور اسے ذرا بھی اندازہ نہیں تھا کہ پولیس اس تک پہنچ چکی ہے۔ دیگر تین ملزمان کو جب پولیس کارروائی کی اطلاع ملی تو انہوں نے فرار ہونے کی کوشش کی تاہم پولیس ٹیمیں پہلے ہی حرکت میں آ چکی تھیں اور انہیں بھی گرفتار کر لیا گیا۔
تاہم گرفتاری کے بعد بھی پولیس کے لیے واقعے کی تمام تفصیلات فوری طور پر واضح نہیں تھیں۔ سی سی پی او کے مطابق ابتدائی طور پر انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ ملزمان نے واقعی اتنا سنگین جرم کیا ہوگا لیکن جب ملزمان کا نشہ اترا اور ان سے الگ الگ تفتیش کی گئی تو صورتحال واضح ہونا شروع ہوگئی۔ 'میں نے اپنے آفس میں ایک ایک شخص کو بٹھا کر پوچھا اور اب نے اعتراف جرم کر لیا'
تفتیش کے دوران متاثرہ بچی نے بھی پولیس کو پورا واقعہ بیان کیا۔ سی سی پی او کے مطابق بچی نے جو کچھ بتایا اس کی تفصیلات انتہائی سنگین اور ناقابل بیان تھیں اس لیے انہیں عوام کے سامنے بیان نہیں کیا جا سکتا۔
گرفتاری کے بعد ملزمان کو جسمانی ریمانڈ پر لیا گیا تاکہ انہیں جائے وقوعہ پر لے جا کر مزید تفتیش اور نشاندہی کی جا سکے۔ ڈاکٹر میاں سعید احمد کے مطابق جب پولیس ملزمان کو جائے وقوعہ کی طرف لے کر جا رہی تھی تو راستے میں ان کے کچھ ساتھی آئے۔ ان لوگوں کا خیال تھا کہ ملزمان کو ان کے اثر و رسوخ کی وجہ سے پولیس کی گرفت سے چھڑایا جا سکتا ہے۔ سی سی پی او کے مطابق ملزمان کو بعض لوگ سرمایہ دار، بااثر اور طاقتور سمجھتے تھے کیونکہ ان کے پاس زمینیں، فارم ہاؤس اور دیگر وسائل موجود تھے۔ ان کے مطابق رات کے وقت ان افراد نے ملزمان کو چھڑانے کی کوشش کی تاہم صورتحال اس وقت مزید سنگین ہوگئی جب مزاحمت اور ہنگامے کے دوران حملہ آوروں نے اپنے ہی ساتھیوں پر فائرنگ کر دی اور وہ ہلا۔۔ک ہوگئے۔
سی سی پی او ڈاکٹر میاں سعید احمد بتاتے ہیں 'جرائم پیشہ عناصر کے لیے پیغام ہے۔۔ وہ میری زبان سمجھ جائیں گے۔ جب تک یہاں ہوں، انہیں سمجھنا چاہیے۔ جو پہلے کیا ہے، وہی کروں گا۔جرائم پیشہ افراد کے پاس اب بھی واپسی کا راستہ موجود ہے۔ یا تو وہ توبہ تائب ہو جائیں، اگر توبہ نہیں کرتے تو علاقہ چھوڑ جائیں۔ اگر علاقہ نہیں چھوڑتے تو انہیں پھر اپنے انجام کا علم ہے۔'
تدوین
ادیب یوسفزئی