18/04/2026
*آل بلوچستان کنٹریکٹ ٹیچرز*
*کنٹریکٹ ٹیچرز کی مدت ملازمت میں توسیع ناگزیر ہے اساتذہ کی محنت سے بلوچستان کے اسکول دوبارہ آباد ہوئے حکومت فوری اقدام کرکے اساتذہ کے مستقبل کو محفوظ بنائے*
*میرٹ پر بھرتی اساتذہ تعلیم کی بہتری کی ضمانت ہیں کنٹریکٹ ختم ہونے سے تعلیمی نظام متاثر ہونے کا خدشہ وزیراعلیٰ بلوچستان اساتذہ کو مستقل کرکے بڑا فیصلہ کریں*
*کنٹریکٹ ٹیچرز آل بلوچستان کی جانب سے ایک پرخلوص اور دردمندانہ اپیل پیش خدمت ہے کہ موجودہ حکومت بلوچستان نے تعلیم کے شعبے میں جو عملی اقدامات اٹھائے ہیں وہ نہایت قابل ستائش ہیں بالخصوص میر سرفراز بگٹی صاحب کی قیادت میں میرٹ، شفافیت اور بہتری کے اصولوں کو فروغ دیا گیا، جس کے نتیجے میں صوبے بھر میں کنٹریکٹ اساتذہ کی بھرتیاں خالصتا میرٹ کی بنیاد پر ممکن ہوئیں, اسی طرح راحیلہ حمید درانی صاحبہ نے بطور وزیر تعلیم تعلیمی نظام کی بہتری، اساتذہ کی تعیناتی اور اسکولوں کی فعالیت میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ چیف سیکرٹری بلوچستان اور سیکرٹری تعلیم کی نگرانی میں اس پورے عمل کو مؤثر اور منظم انداز میں مکمل کیا گیا, آج یہ ایک واضح حقیقت ہے کہ انہی کنٹریکٹ ٹیچرز کی محنت، لگن اور قربانیوں کے باعث بلوچستان کے ہزاروں بند اسکول دوبارہ فعال ہوئے، جہاں پہلے ویرانی تھی وہاں اب بچوں کی آوازیں گونج رہی ہیں، دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ روزانہ طویل سفر طے کرکے اپنے فرائض سرانجام دے رہے ہیں، شدید موسمی حالات اور محدود وسائل کے باوجود وہ اپنے عزم میں ڈٹے ہوئے ہیں اور بچوں کو بہترین تعلیم فراہم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کی کاوشوں کے نتیجے میں نہ صرف داخلوں میں نمایاں اضافہ ہوا بلکہ تعلیمی معیار میں بھی بہتری دیکھنے میں آئی ہے, اسی تناظر میں نہایت ادب اور احترام کے ساتھ گزارش ہے کہ کنٹریکٹ فیز ون کے اساتذہ کی مدت ملازمت اب اپنے اختتام کے قریب ہے، جس سے ہزاروں اساتذہ شدید بے چینی اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں یہ وہ اساتذہ ہیں جنہوں نے اپنی محنت سے نظام تعلیم کو سہارا دیا اور حکومت کے وژن کو عملی شکل دی لہٰذا گزارش ہے کہ ان کے کنٹریکٹ کی مدت میں فوری توسیع کی جائے تاکہ تعلیمی سلسلہ بلا تعطل جاری رہ سکے اور اساتذہ کو ذہنی سکون حاصل ہو, مزید برآں، حکومت بلوچستان سے پرزور اپیل ہے کہ ان کنٹریکٹ ٹیچرز کے پرمنٹز کے لیے بھی سنجیدگی سے اقدامات کیے جائیں کیونکہ ایک مستحکم استاد ہی بہتر انداز میں اپنی ذمہ داریاں ادا کر سکتا ہے اور آنے والی نسلوں کی صحیح رہنمائی کر سکتا ہے۔ اگر ان اساتذہ کو مستقل کر دیا جائے تو نہ صرف ان کی زندگیوں میں استحکام آئے گا بلکہ پورے صوبے کا تعلیمی نظام مزید مضبوط بنیادوں پر استوار ہوگا, ہمیں یقین ہے کہ میر سرفراز بگٹی صاحب اور ان کی ٹیم اس مسئلے کی حساسیت کو سمجھتے ہوئے جلد مثبت فیصلہ کریں گے، تاکہ تعلیم دوست پالیسیوں کا یہ سفر جاری رہے اور بلوچستان کا ہر بچہ علم کی روشنی سے مستفید ہو سکے۔*