Rafi ullah mukhlis

Rafi ullah mukhlis https://youtube.com/
subscribers my youtube

دعا🤲قائد، عوام کے خادم، انجینئر *امیر مقام خان صاحب* اس وقت بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں ہیں۔اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اپن...
09/09/2026

دعا🤲
قائد، عوام کے خادم، انجینئر *امیر مقام خان صاحب* اس وقت بیماری کی وجہ سے ہسپتال میں ہیں۔

اللہ پاک سے دعا ہے کہ وہ اپنے حبیب ﷺ کے صدقے قائد صاحب کو مکمل شفاء عطا فرمائے، انہیں لمبی عمر اور صحت عطا کرے۔
آپ سب سے گزارش ہے کہ اپنے دعاؤں میں انہیں ضرور یاد رکھیں۔

اللہ شافی، اللہ کافی 🤲

خاموشی کا مطلب کمزوری نہیں، بلکہ عزت اور تربیت ہے۔ہمیں ماں باپ نے ایسی تربیت دی ہے کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمج...
05/09/2026

خاموشی کا مطلب کمزوری نہیں، بلکہ عزت اور تربیت ہے۔
ہمیں ماں باپ نے ایسی تربیت دی ہے کہ ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں سمجھتے۔
کچھ لوگوں کو جواب دینے کے بجائے نظرانداز کرنا ہی بہتر سمجھتے ہیں، کیونکہ ہماری تربیت ہمیں ہر کسی کے معیار پر اترنے کی اجازت نہیں دیتی۔
خاموش ہیں تو صرف اپنے ظرف اور تربیت کی وجہ سے۔ 🖤
🫵
رفیع اللّٰہ مخلص سوشل ایکٹیویسٹ ضلع شانگلہ ✍️

صبح بخیر جو شخص صبح کی نماز جماعت کرتے ہیں اللّٰہ تعالیٰ آس کو اپنی حفظ و امان میں رکھتاہے اور اس کے رزق برکت ڈولتا ہیں ...
21/08/2026

صبح بخیر
جو شخص صبح کی نماز جماعت کرتے ہیں
اللّٰہ تعالیٰ آس کو اپنی حفظ و امان میں رکھتاہے
اور اس کے رزق برکت ڈولتا ہیں
رفیع اللّٰہ مخلص ✍️

ہمارا فیس بک پیچ ورلینگ میں ہے آپ لوگوں کی سپورٹ اور مدد کی ضرورت ہے
16/08/2026

ہمارا فیس بک پیچ ورلینگ میں ہے
آپ لوگوں کی سپورٹ اور مدد کی ضرورت ہے

چي مي پښتون پکښي په امن نه وي والله که داسی ملک ته زنده باد ووايم رفیع اللّٰہ مخلص سوشل ایکٹوسٹ ضلع ضلع شانگلہ
14/08/2026

چي مي پښتون پکښي په امن نه وي
والله که داسی ملک ته زنده باد ووايم
رفیع اللّٰہ مخلص سوشل ایکٹوسٹ ضلع ضلع شانگلہ

13/08/2026

Black day 14 August

دوستی چین کے ساتھ، بھائی چارہ ایران کے ساتھ، وفاداری امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ، دفاع سعودی عرب کا، مقابلہ بھارت کے ساتھ...
13/08/2026

دوستی چین کے ساتھ، بھائی چارہ ایران کے ساتھ، وفاداری امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ، دفاع سعودی عرب کا، مقابلہ بھارت کے ساتھ، دشمنی افغانستان کے ساتھ، نسل کشی پشتون اور بلوچ کی؛ باہر سے جمہوریت، اندر سے مارشل لا—اس مکس اچار کو پاکستان کہتے ہیں
رفیع اللّٰہ مخلص سوشل ایکٹوسٹ ضلع شانگلہ

12/08/2026

سانحہ بابڑہ (12 اگست 1948ء): پشتون تاریخ کا وہ خونی باب جسے فراموش نہیں کیا جا سکتا۔۔
قلم کار۔
12 اگست 1948ء کا دن صوبہ خیبر پختونخوا (سابقہ این ڈبلیو ایف پی) اور خصوصاً چارسدہ کی تاریخ میں ایک تاریک اور درددناک باب کی حیثیت رکھتا ہے۔ بابڑہ کے میدان میں پیش آنے والا یہ واقعہ آزاد پاکستان کی تاریخ میں پرامن مظاہرین پر ریاستی تشدد کا پہلا اور المناک ترین سانحہ تھا۔
واقعے کا پس منظر
قیامِ پاکستان کے فوراً بعد صوبہ سرحد میں سیاسی کشیدگی عروج پر تھی۔ باچا خان (خان عبدالغفار خان) کی قیادت میں خدائی خدمتگار تحریک ایک پرامن لیکن سرگرم سیاسی قوت کے طور پر موجود تھی۔ تاہم، اس وقت کی صوبائی حکومت (عبدالقیوم خان کاشمیر وال) اور خدائی خدمتگاروں کے درمیان شدید سیاسی اختلاف تھا۔
حکومت نے خدائی خدمتگار تحریک پر پابندی عائد کر دی اور باچا خان سمیت اہم رہنماؤں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری، املاک کی ضبطی اور سیاسی انتقام کے خلاف خدائی خدمتگاروں نے پرامن احتجاج کا راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ کیا۔
12 اگست 1948ء: بابڑہ کا میدان
12 اگست کو چارسدہ کے گاؤں بابڑہ کے کھلے میدان میں ہزاروں غیر مسلح خدائی خدمتگار، جن میں بچے، جوان اور بوڑھے شامل تھے، اپنے قائدین کی رہائی اور ریاستی جابرانہ اقدامات کے خلاف پرامن احتجاج کے لیے جمع ہوئے۔
خدائی خدمتگار تحریک کا بنیادی فلسفہ "عدم تشدد" (Non-Violence) تھا، اور اس دن بھی مظاہرین کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا، سوائے اپنے مقصد سے لگاؤ کے۔
قیوم خانی تشدد اور گولیوں کی بوچھاڑ
حکومت نے اس پرامن اجتماع کو منتشر کرنے کے لیے بات چیت یا پولیس کے روایتی طریقوں کے بجائے براہِ راست طاقت کے استعمال کا طریقہ اپنایا۔ صوبائی وزیراعلیٰ عبدالقیوم خان کے حکم پر پولیس نے بے گناہ اور غیر مسلح مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔
بے رحم فائرنگ: فائرنگ اتنی شدید تھی کہ مظاہرین کو سنبھلنے کا موقع نہ مل سکا۔
خواتین اور بچوں کی قربانی: روایت ہے کہ جب گولیاں چلنا شروع ہوئیں تو پشتون خواتین اپنے قرآن مجید سروں پر اٹھا کر آگے بڑھیں تاکہ فائرنگ روکی جا سکے، لیکن ریاستی جبر نے ان کا بھی احترام نہ کیا۔
جانی نقصان: سرکاری اعداد و شمار میں ہلاکتوں کی تعداد کم بتائی گئی، لیکن آزاد ذرائع اور تاریخی روایات کے مطابق اس دن 600 سے زائد پرامن شہری شہید ہوئے اور 1000 سے زائد زخمی ہوئے۔
سانحے کے اثرات اور تاریخی اہمیت
سانحہ بابڑہ صرف ایک سیاسی واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ عدم تشدد کے فلسفے پر قائم ایک تحریک کا خونیں امتحان تھا۔
سانحہ جلیانوالہ باغ سے تشبیہ: بابڑہ کے واقعے کو اکثر برطانوی دور کے "سانحہ جلیانوالہ باغ" سے تشبیہ دی جاتی ہے، فرق صرف اتنا تھا کہ یہاں اپنے ہی ملک کی پولیس نے اپنے شہریوں کا خون بہایا تھا۔
سیاسی بیگانگی: اس واقعے نے پشتون عوام کے دلوں میں شدید غم و غصہ اور سیاسی بیگانگی کا احساس پیدا کیا، جس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے گئے۔
عدم تشدد کی داستان: اس تمام تر ظلم و ستم کے باوجود خدائی خدمتگاروں نے بدلے میں تشدد کا راستہ نہیں اپنایا، جو ان کے عدم تشدد کے نظریے پر پختہ یقین کی دلیل ہے۔
حاصلِ کلام
سانحہ بابڑہ تاریخ کا وہ دردناک استعار ہے جو ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب ریاست اپنے شہریوں کے بنیادی حقوق، پرامن احتجاج اور جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو بلڈوز کرتی ہے، تو اس کے نتائج تاریخ کے صفحات پر بدنما داغ بن کر رہ جاتے ہیں۔ 12 اگست 1948ء کے ان تمام شہداء کی قربانی تاریخِ پاکستان اور بالخصوص پشتون تاریخ میں ہمیشہ احترام کے ساتھ یاد رکھی جائے گی۔
سوشل ایکٹوسٹ رفیع اللّٰہ مخلص

12/08/2026

TopFans

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Haji Baqi Khan, Muhammad Rehman
06/08/2026

Thanks for being a top engager and making it on to my weekly engagement list! 🎉 Haji Baqi Khan, Muhammad Rehman

Address

Besham Qala
20500

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Rafi ullah mukhlis posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Rafi ullah mukhlis:

Shortcuts

Share