21/04/2026
ملتان کے مزارات کا تقدس اور ٹک ٹاکرز کی بے راہ روی
کیا 'ویوز' کی ہوس مزارات کے تقدس سے زیادہ اہم ہو گئی ہے؟
ملتان کو 'مدینۃ الاولیاء' کہا جاتا ہے—وہ شہر جہاں کی ہواؤں میں بھی روحانیت ہے۔ لیکن آج کل کچھ ٹک ٹاکرز نے اسے محض ایک 'شوٹنگ سیٹ' سمجھ لیا ہے۔
حالیہ وائرل ویڈیوز نے ہر پاکستانی کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ حضرت شاہ رکن عالمؒ کا مزار، جو پوری دنیا کے لیے عقیدت کا مرکز ہے، وہاں گانوں پر رقص اور غیر مناسب ویڈیوز بنانا کیا ہماری اخلاقی پستی کی انتہا نہیں؟
سوال یہ ہے کہ والڈ سٹی اتھارٹی اور سیکیورٹی عملہ اس وقت کہاں ہوتا ہے؟
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب اس بے حرمتی کا فوری نوٹس لیں۔
یہ مقامات اینٹ اور پتھر نہیں، ہماری تاریخ اور پہچان ہیں۔ سستی شہرت کے لیے اپنی اقدار کا جنازہ نکالنا بند ہونا چاہیے۔
مزارات دعا اور سکون کی جگہ ہیں، ڈانس فلور نہیں !
مزارات پر ٹک ٹاک بنانے والوں پر مکمل پابندی ہونی چاہیے یا نہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں بتائیں۔