25/06/2026
*امام حسینؑ کے کربلا کے خطبات - مکمل جامع تشریح*
*1. خطبہِ ورودِ کربلا - 2 محرم 61 ہجری*
*سیاق:* امامؑ قافلے سمیت کربلا پہنچے۔ حر بن یزید ریاحی نے راستہ روک لیا۔ امامؑ نے اسے اور اس کے لشکر کو جمع کیا۔
*مکمل عربی متن:*
"ایھا الناس ان رسول اللہ ﷺ قال: من رای سلطانا جائرا مستحلا لحرم اللہ ناکثا لعھد اللہ مخالفا لسنۃ رسول اللہ یعمل فی عباد اللہ بالاثم و العدوان فلم یغیر علیہ بقول و لا بفعل کان حقا علی اللہ ان یدخلہ مدخلہ"
*لفظ بہ لفظ ترجمہ:*
اے لوگو! رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص ظالم حکمران کو دیکھے جو اللہ کی حرمتوں کو حلال کر رہا ہو، اللہ کے عہد کو توڑ رہا ہو، رسول کی سنت کی مخالفت کر رہا ہو، اور اللہ کے بندوں پر گناہ و زیادتی کر رہا ہو، پھر وہ قول سے یا فعل سے اسے نہ روکے، تو اللہ پر حق ہے کہ اسے بھی اسی جگہ داخل کرے جہاں وہ ظالم جائے گا۔
*وضاحت + مصائب:*
امؑ نے پہلے دن ہی یزید کے خلاف قیام کی شرعی دلیل دے دی۔ فرمایا خاموش رہنا بھی گناہ ہے۔ حر کا لشکر 1000 کا تھا، مگر کوئی جواب نہ دے سکا۔ یہاں سے حجت شروع ہو گئی۔
*2. خطبہِ پانی بندی - 7 محرم*
*سیاق:* عمر بن سعد کے حکم سے فرات پر قبضہ کر لیا گیا۔ بچے پیاس سے بلک رہے تھے۔ امامؑ خیمے میں آ کر دعا کے انداز میں خطبہ دیا۔
*مکمل عربی متن:*
"اللھم انت ثقتی فی کل کرب و انت رجائی فی کل شدة و انت لی فی کل امر نزل بی ثقۃ و عدة کم من ھم یضعف فیہ الفؤاد و تقل فیہ الحیلۃ و یخذل فیہ القریب و یشمت فیہ العدو انزلتہ بک و شکوتہ الیک رغبۃ منی الیک عمن سواک"
*ترجمہ:*
اے اللہ! تو ہی میرا بھروسہ ہے ہر غم میں، تو ہی میری امید ہے ہر سختی میں، تو ہی ہر نازل شدہ امر میں میرا سہارا اور ذخیرہ ہے۔ کتنے ہی غم ہیں جن میں دل کمزور پڑ جاتا ہے، تدبیر کم ہو جاتی ہے، قریبی چھوڑ دیتا ہے، دشمن خوش ہوتا ہے۔ میں نے وہ تیرے سپرد کیا اور تجھ سے شکایت کی، تیرے سوا سب سے بے رغبت ہو کر۔
*وضاحت + مصائب:*
3 دن پانی بند۔ 6 ماہ کے علی اصغرؑ پیاس سے تڑپ رہے تھے۔ امامؑ نے شکایت نہیں کی، اللہ سے راز و نیاز کیا۔ یہ خطبہ صبر کی انتہا ہے۔
*3. خطبہِ شبِ عاشور - 9 محرم کی رات*
*سیاق:* عمر بن سعد نے حملے کی دھمکی دی۔ امامؑ نے رات کی مہلت لی۔ اصحاب کو جمع کر کے آخری خطبہ دیا۔
*مکمل عربی متن:*
"انی لا اعلم اصحابا اوفی و لا خیرا من اصحابی و لا اھل بیت ابر و لا اوصل من اھل بیتی فجزاکم اللہ عنی خیرا۔ الا و انی اظنہ الیوم الاخر منا و منکم الا و انی قد اذنت لکم فانطلقوا جمیعا فی حل لیس علیکم منی ذمام ھذا اللیل فاتخذوہ جملا و لیاخذ کل رجل منکم بید رجل من اھل بیتی ثم تفرقوا فی سوادکم و مدائنکم"
*ترجمہ:*
میں اپنے اصحاب سے زیادہ وفادار و بہتر، اور اپنے اہلِ بیت سے زیادہ نیک و صلہ رحمی والا کوئی نہیں جانتا۔ اللہ تمہیں جزا دے۔ خبردار! میں سمجھتا ہوں آج ہمارا اور تمہارا آخری دن ہے۔ میں نے تمہیں اجازت دی، سب چلے جاؤ۔ تم پر میرا کوئی حق باقی نہیں۔ یہ رات ہے، اسے اونٹ بنا کر سواری کرو۔ ہر آدمی میرے اہلِ بیت میں سے ایک کا ہاتھ پکڑے اور اندھیرے میں منتشر ہو جاؤ۔
*جوابِ اصحاب:*
عباسؑ، زہیر، حبیب، بریر، مسلم بن عوسجہ سب کھڑے ہوئے: "واللہ لا نفارقک ابدا حتی یعلم اللہ انا حفظنا غیبہ نبیہ فی غیبتہ" - خدا کی قسم ہم تجھے کبھی نہ چھوڑیں گے یہاں تک کہ اللہ جان لے کہ ہم نے نبی کی غیر موجودگی میں اس کی امانت کی حفاظت کی۔
*وضاحت + مصائب:*
یہ سب سے بڑی قربانی تھی۔ امامؑ نے سب کو آزاد کر دیا تاکہ قیامت میں کوئی یہ نہ کہے "ہمیں زبردستی رکھا گیا"۔ پھر بھی ایک بھی نہ گیا۔ زینبؑ نے بھی کہا "بھیا مجھے چھوڑ کر نہ جاؤ"۔
*4. خطبہِ صبحِ عاشور - 10 محرم*
*سیاق:* جنگ شروع ہونے سے پہلے امامؑ میدان میں اکیلے گئے۔ دشمن کا لشکر 30 ہزار تھا۔ آخری حجت تمام کی۔
*مکمل عربی متن:*
"ویحکم یا شیعۃ آل ابی سفیان ان لم یکن لکم دین و کنتم لا تخافون المعاد فکونوا احرارا فی دنیاکم و ارجعوا الی احسابکم ان کنتم عربا۔ انا ابن من؟ انا ابن فاطمۃ الزھراء بنت رسول اللہ، انا ابن علی المرتضی، انا ابن سید الوصیین، انا ابن اول من آمن و صدق رسول اللہ"
*ترجمہ:*
افسوس تم پر اے آلِ ابی سفیان کے پیروکارو! اگر تمہارا کوئی دین نہیں اور قیامت سے نہیں ڈرتے تو کم از کم دنیا میں آزاد رہو اور اگر عرب ہو تو اپنی غیرت کی طرف لوٹ آؤ۔ میں کس کا بیٹا ہوں؟ میں فاطمہ زہرا بنت رسول اللہ کا بیٹا ہوں، میں علی مرتضی کا بیٹا ہوں، میں سید الوصیین کا بیٹا ہوں، میں پہلے ایمان لانے والے کا بیٹا ہوں۔
*وضاحت + مصائب:*
امؑ نے 3 بار اپنا نسب پڑھا تاکہ کوئی جہالت کی وجہ سے نہ لڑے۔ شمر نے کہا "ہم تجھے نہیں پہچانتے"۔ امامؑ نے فرمایا "اگر میری بات نہیں مانتے تو میرے نانا کی بات مان لو"۔ پھر بھی تیر چلا دیے۔
*5. خطبہِ آخری سجدہ - 10 محرم عصر*
*سیاق:* جب سب شہید ہو گئے، امامؑ اکیلے رہ گئے۔ تیر لگنے کے بعد سجدے میں گرے۔
*مکمل عربی متن:*
"بسم اللہ و باللہ و فی سبیل اللہ و علی ملۃ رسول اللہ۔ صدق اللہ و رسوله ما شاء اللہ لا حول و لا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔ ھون ما نزل بی انہ بعین اللہ"
*ترجمہ:*
اللہ کے نام سے، اللہ کے ساتھ، اللہ کی راہ میں، رسول اللہ کے دین پر۔ اللہ اور اس کے رسول نے سچ کہا۔ جو اللہ چاہے۔ اللہ کے سوا کوئی طاقت و قوت نہیں۔ جو مصیبت مجھ پر آئی وہ ہلکی ہے کیونکہ وہ اللہ کی نظر میں ہے۔
*وضاحت + مصائب:*
سر کٹنے کے بعد بھی لب ہل رہے تھے۔ آخری سانس تک "اللہ" کہتے رہے۔ یہ خطبہ بغیر زبان کے تھا - عمل کا خطبہ۔
---
*جامع نچوڑ - 4 اصول:*
1. *دلیل*: ہر خطبے میں قرآن و سنت سے بات کی
2. *مہلت*: دشمن کو بار توبہ کا موقع دیا
3. *آزادی*: اپنوں کو بھی زبردستی نہیں رکھا
4. *مقصد*: "انما خرجت لطلب الاصلاح فی امۃ جدی" - صرف دین بچانے