SHAN EDITZ

SHAN EDITZ Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from SHAN EDITZ, Media/News Company, District, Baghdad.

11/08/2026

بھکر لاری اڈا لڑائی کی اطلاع

اللّٰہ پاک رحم کریں 🤲

بھکر جھنگ موڑ کے قریب کلمہ چوک کا خوبصورت منظر کبھی آپ یہاں سے گزرے ہیں ؟
09/08/2026

بھکر جھنگ موڑ کے قریب کلمہ چوک کا خوبصورت منظر کبھی آپ یہاں سے گزرے ہیں ؟

08/08/2026

صدر انجمن تاجران ضلع بھکر رانا محمد اشرف خاں نے ایم این اے رانا حیات خاں، صوبائی وزیرِ تعلیم رانا سکندر حیات خاں، رانا خضر حیات خاں اور رانا فیصل حیات خاں سے خصوصی ملاقات

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ضلع بھکر کی عدالتوں میں ہر روز کی طرح بے شمار لوگ اپنے مقدمات کی تاریخیں بھگتنے اور انصاف کی امید لی...
08/08/2026

ایک دفعہ کا ذکر ہے، ضلع بھکر کی عدالتوں میں ہر روز کی طرح بے شمار لوگ اپنے مقدمات کی تاریخیں بھگتنے اور انصاف کی امید لیے آ جا رہے تھے۔ کوئی وکیل سے مشورہ کر رہا تھا، کوئی ضمانت کی درخواست لکھوا رہا تھا، تو کوئی خاموشی سے بینچ پر بیٹھا اپنی باری کا انتظار کر رہا تھا۔

انہی لوگوں کے درمیان تقریباً بارہ تیرہ سال کا ایک دبلا پتلا بچہ بھی داخل ہوا۔

اس کے جسم پر میلا کچیلا، جگہ جگہ سے پھٹا ہوا کرتا تھا، پاؤں میں ٹوٹے ہوئے جوتے تھے، کندھے پر جوتے پالش کرنے کا پرانا تھیلا لٹک رہا تھا، جس میں صرف دو برش، دو ڈبیاں پالش، ایک پرانا کپڑا اور جوتے چمکانے والا فوم رکھا ہوا تھا۔

چہرہ دھول سے اٹا ہوا تھا، لیکن آنکھوں میں امید کی ایک آخری کرن باقی تھی۔

وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا ایک وکیل کے چیمبر کے سامنے رکا۔

چیمبر کے اندر انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ صاحب اپنی کرسی پر بیٹھے اپنے ایک کلائنٹ سے مقدمے کی بات کر رہے تھے۔

بچہ خاموشی سے دروازے کے پاس کھڑا ہو گیا۔

کلائنٹ کے جانے کے بعد اس نے دونوں ہاتھ باندھ لیے اور دھیمی آواز میں بولا…

“السلام علیکم جناب…”

“وعلیکم السلام بیٹا، اندر آ جاؤ۔”

وہ آہستہ آہستہ چلتا ہوا اندر آیا، مگر کچھ بول نہ سکا۔

وکیل صاحب نے محسوس کیا کہ اس کے ہونٹ کانپ رہے ہیں۔

انہوں نے کرسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا،

“بیٹا، پہلے بیٹھ جاؤ۔”

مگر بچہ بیٹھنے کے بجائے ہاتھ باندھے کھڑا رہا۔

وکیل صاحب نے اپنے معاون سے کہا،

“پہلے اس بچے کے لیے ایک گلاس ٹھنڈا پانی لاؤ۔”

بچے نے پانی پیا تو جیسے اس کی ہمت واپس آ گئی۔

وکیل صاحب نے نہایت شفقت سے پوچھا،

“بیٹا، بتاؤ کیا بات ہے؟ کیا گھر والے مارتے ہیں؟ کیا کھانے کے لیے پیسے نہیں ملتے؟ یا کوئی اور مسئلہ ہے؟ بے جھجھک مجھے بتاؤ۔”

یہ سنتے ہی بچے کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔

اس نے کانپتی ہوئی آواز میں کہا،

“نہیں جناب… ایسی کوئی بات نہیں۔ نہ میری ماں زندہ ہے، نہ میرے والد، نہ دنیا میں میرا کوئی اور سہارا ہے۔ میرا صرف ایک بڑا بھائی تھا…”

وہ چند لمحے خاموش رہا، پھر بولا،

“جناب، میرے بھائی نے کوئی جرم نہیں کیا۔ محلے کے بااثر لوگوں نے اپنے آدمی کو بچانے کے لیے میرے بھائی پر جھوٹا مقدمہ درج کروا دیا۔ آج وہ بے گناہ جیل میں بند ہے۔”

“وہی میرا سہارا تھا… وہی مجھے کھانا کھلاتا تھا… آج میں سڑکوں پر سوتا ہوں، کبھی بازار میں، کبھی کسی دکان کے تھڑے پر رات گزار دیتا ہوں، اور لوگوں کے جوتے پالش کر کے دو وقت کی روٹی کماتا ہوں۔”

یہ کہتے ہوئے اس نے اپنا پرانا تھیلا زمین پر رکھا اور اس میں سے مٹھی بھر نوٹ نکالے۔

“جناب… میرے پاس صرف چار سو پچاس روپے ہیں۔ کئی مہینوں سے تھوڑے تھوڑے کر کے جمع کیے ہیں۔ میرے پاس آپ کو دینے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں۔ لیکن اگر آپ میرے بھائی کو رہا کروا دیں تو میں قسم کھاتا ہوں، جب تک زندہ رہوں گا، روز آپ کے جوتے مفت میں پالش کرتا رہوں گا۔”

یہ الفاظ سن کر پورا کمرہ خاموش ہو گیا۔

وکیل صاحب کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

انہوں نے وہ چار سو پچاس روپے بچے کے ہاتھ میں واپس رکھتے ہوئے کہا،

“بیٹا، اپنے پیسے سنبھال کر رکھو۔ انصاف خریدنے کی چیز نہیں ہوتا۔ اگر تمہارا بھائی واقعی بے گناہ ہے تو میں پوری کوشش کروں گا کہ اسے انصاف ملے۔”

اسی دن انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ صاحب نے مقدمے کی تمام فائلیں منگوائیں، گواہوں کے بیانات پڑھے، جیل جا کر خود اس نوجوان سے ملاقات کی اور ایک ایک ثبوت کی باریک بینی سے جانچ شروع کر دی۔

کئی دنوں کی محنت، مسلسل پیروی اور مضبوط دلائل کے بعد عدالت میں یہ ثابت ہو گیا کہ نوجوان کو جھوٹے مقدمے میں پھنسایا گیا تھا۔

آخرکار جج نے فیصلہ سنایا:

“ملزم بے گناہ ہے، اسے فوری طور پر رہا کیا جاتا ہے۔”

یہ سنتے ہی وہ چھوٹا بچہ دوڑتا ہوا اپنے بھائی سے لپٹ گیا۔

دونوں بھائی دیر تک ایک دوسرے کو گلے لگا کر روتے رہے۔

عدالت میں موجود کئی لوگوں کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں۔

چند دن بعد صبح سویرے وہی بچہ دوبارہ وکیل صاحب کے چیمبر پہنچا۔

اس نے خاموشی سے برش نکالا اور وکیل صاحب کے جوتے پالش کرنے لگا۔

وکیل صاحب مسکرائے اور بولے،

“بیٹا، اب اس کی ضرورت نہیں۔”

بچہ بولا،

“جناب، میں غریب ضرور ہوں، مگر اپنا وعدہ نہیں توڑتا۔”

وکیل صاحب نے اس کا ہاتھ پکڑا، برش ایک طرف رکھا اور کہا،

“مجھے مفت کی پالش نہیں چاہیے… مجھے تمہارا روشن مستقبل چاہیے۔ آج سے تم سڑکوں پر نہیں، اسکول جاؤ گے، اور تمہارے بھائی کے لیے روزگار کا بندوبست کرنا میری ذمہ داری ہے۔”

یہ سن کر بچے کی آنکھوں سے خوشی کے آنسو بہنے لگے۔

اس دن عدالت کے باہر کھڑے لوگوں نے ایک بات ضرور محسوس کی…

قانون صرف کتابوں میں نہیں ہوتا، بلکہ کچھ لوگوں کے کردار میں بھی زندہ ہوتا ہے۔

نوٹ:
مقصد انسانیت، محبت اور انصاف کی اہمیت کو اجاگر کرنا ہے۔ چند روز قبل بھی انعام الحق چڈو ایڈووکیٹ صاحب نے ایک بوڑھی اماں کے بے گناہ بیٹے کی ضمانت بھی کروائی تھی
(تحریر باقر بُخاری)

ریلوے روڈ، بھکر پر آج ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے دل کو چھو لیا۔ ایک محنت کش ریڑھی بان نے اپنی ریڑھی پر پاکستانی پ...
07/08/2026

ریلوے روڈ، بھکر پر آج ایک ایسا منظر دیکھنے کو ملا جس نے دل کو چھو لیا۔ ایک محنت کش ریڑھی بان نے اپنی ریڑھی پر پاکستانی پرچم نصب کر رکھا تھا۔ شاید اس کے پاس دولت نہ ہو، آسائشیں نہ ہوں، لیکن اپنے وطن سے محبت کا خزانہ ضرور ہے۔

یہ منظر اس حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ وطن سے سب سے زیادہ محبت اسی کی عام عوام کرتی ہے۔ وہ لوگ جو صبح سے شام تک رزقِ حلال کے لیے محنت کرتے ہیں، وہی اپنے دل میں پاکستان کی محبت بھی سب سے زیادہ سنبھالے رکھتے ہیں۔

یہ پرچم صرف کپڑے کا ایک ٹکڑا نہیں، بلکہ امید، قربانی، اتحاد اور اس سرزمین سے بے لوث محبت کی علامت ہے۔ ایسے محنت کش ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ پاکستان کی اصل طاقت نہ بلند عمارتیں ہیں اور نہ ہی بڑے بڑے دعوے، بلکہ وہ لوگ ہیں جو پسینہ بہا کر اپنی روزی کماتے ہیں اور ہر حال میں اپنے وطن سے وفاداری کا اظہار کرتے ہیں۔

سلام ہے ایسے محنت کش پاکستانیوں کو، جو اپنے کردار سے یہ پیغام دیتے ہیں کہ پاکستان سے محبت صرف الفاظ سے نہیں، بلکہ احساس، عمل اور جذبے سے ہوتی ہے۔

🇵🇰 پاکستان زندہ باد

06/08/2026

ضلع بھکر کے تمام نجی (پرائیویٹ) اسکولوں سے ایک سوال!

کیا ضلع بھکر کے کسی بھی پرائیویٹ اسکول کے کسی طالب علم نے کوئی پوزیشن حاصل کی ہے؟

جھنگ روڈ بھکر پر نصب یہ سائیں بورڈ  خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہوّا
05/08/2026

جھنگ روڈ بھکر پر نصب یہ سائیں بورڈ خوبصورتی میں اضافہ کرتا ہوّا

04/08/2026

Jaloos 20 Safar al Muzafar Bhakkar

جھنگ روڈ پر واقع سائن بورڈ  خوبصورت منظر پیش کرتے ہوئے جس پر لکھا ہے سرائے مہاجر 19 کلو میٹر اور منکیرہ 43 کلو میٹر
04/08/2026

جھنگ روڈ پر واقع سائن بورڈ خوبصورت منظر پیش کرتے ہوئے جس پر لکھا ہے سرائے مہاجر 19 کلو میٹر اور منکیرہ 43 کلو میٹر

03/08/2026

آپ کے خیال میں مہنگائی کی وجہ کیا ہے ؟

Address

District
Baghdad

Telephone

+923107054006

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when SHAN EDITZ posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share