Urdu Facts

Urdu Facts Learn with fun

اسلام علیکماب آپ کے شہر بھیرہ میں U Microfinance Bank کی برانچ نے کام شروع کر دیا ہے. جہاں آپ با آسانی سونے (Gold) کے عو...
22/07/2023

اسلام علیکم
اب آپ کے شہر بھیرہ میں U Microfinance Bank کی برانچ نے کام شروع کر دیا ہے. جہاں آپ با آسانی سونے (Gold) کے عوض قرض حاصل کر سکتے ہیں .ایک تولے کے عوض 170000روپے قرض اور کاروبار گھر کے لیے سولر لون آسان شرائط پر مزید معلومات کے لیے ان نمبر پر رابطہ کریں
03001001063
یا یو مائیکرو فنانس بنک کی برانچ بھیرہ میں تشریف لے آئیں شکریہ۔

درست عمل  ۔ ۔ ۔ اگر آپ ترقی چاہتے ہیں  ۔ تو اپنے گیٹ کی سیڑھیاں  ۔ گلی میں لگانے کی بجائے اپنے ایریا میں لگائیں  ۔ جس دن...
05/06/2023

درست عمل ۔ ۔ ۔ اگر آپ ترقی چاہتے ہیں ۔ تو اپنے گیٹ کی سیڑھیاں ۔ گلی میں لگانے کی بجائے اپنے ایریا میں لگائیں ۔ جس دن تمام لوگوں نے ایسا کر لیا ۔ تو سمجھنا کہ ہم ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو چکے ہیں

سیبر طیارہ!یہ وہی طیارہ "تھا" جس کی مدد سے ایم ایم عالم نے 65 کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کو ناکوں چنے چبوائے تھے اور فضائی...
13/05/2023

سیبر طیارہ!
یہ وہی طیارہ "تھا" جس کی مدد سے ایم ایم عالم نے 65 کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کو ناکوں چنے چبوائے تھے اور فضائی جنگ میں ایسا ریکارڈ قائم کیا تھا کہ نصف صدی گزرنے کے باوجود آج بھی جنگی ماہرین اپنی انگلیاں دانتوں میں دبا لیتے ہیں کہ کیا شان ہے اس طیار کی اور کیسا مہان وہ سوار ہے جن کا آج بھی ذکر آتا ہے تو ان کی عظمت کے آگے لوگوں کے سر جھک جاتے ہیں حتی کہ بھارتی سینا بھی ان کی عظمت اور سراہنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ غیرت مند قومیں اپنے ایسے اثاثوں پر فخر کرتی ہیں اور ان کی جان سے بڑھ کر حفاظت کرتی ہیں۔

03/05/2023
گۓ دنوں کی ایک خوب صورت یاد*ونگار*اک رسم تھی کہ پیار کا بہانہ تھا۔ وِنگار جسے پنجاب میں "ونگار " پختون علاقوں  میں "بلان...
03/05/2023

گۓ دنوں کی ایک خوب صورت یاد

*ونگار*

اک رسم تھی کہ پیار کا بہانہ تھا۔

وِنگار جسے پنجاب میں "ونگار " پختون علاقوں میں "بلاندرہ" اور"اشر" کےنام سے بھی جانا جاتا ھے۔ ونگار کالفظی مطلب
جو میں سمجھا ھوں کہ بلا معاوضہ اجتماعی کام ( مفتا)
جب جدید زرعی آ لات نہیں تھے ۔ کھیتی باڑی کے کام مینوئلی ھوتے تھے۔ھمارےعلاقہ میں اونٹوں کے ذریعے ھل چلائےجاتے (نالی پھیرنا) کھیت کو ھموار کرنا۔ تال وغیرہ۔ گندم اور چنےکی بوائی، کٹائی اور گہائی کا مرحلہ ھوتا، پڑ پکائے جاتے۔ کباڑ ،جڑی بوٹیاں (بھوکل) وغیرہ تلف کی جاتیں۔ یہ سارے کام چونکہ مشقت طلب تھے اور زیادہ افرادی قوت کی ضرورت ھوتی تو سب کاشتکار مل کر باری باری ایک دوسرےکے کام کرتے تھے ۔
اس کے علاوہ جب کچے مکانات کی چھتوں کی مرمت کی جاتی مٹی اور گارا چڑھایا جاتا یا نئی چھت ڈالنے کا بھاری کام ھوتاتواس موقعےپر بھی وِنگار برپا کیا جاتا تھا ۔
یہ سارے کام سب لوگ خوشی، جوش و ولولے سے انجام دیتے تھے ۔ ایسے موقعوں پر کبھی کبھی ڈھول اور شہنائی والے کو بھی بلایا جاتا تھا۔ اور کام کے دوران منچلوں کا رقص وغیرہ بھی ھوتا تھا اور ڈھول کی تھاپ پر درانتی بھی چلائی جاتی تھی۔
نوجوان، (کچھ بزرگ بھی) کام کرتے ھوئے مذاق میں ایک دوسرے پرفقرے کستے اور ھنسی مذاق کے ساتھ بخوشی سارا کام ھو جاتا تھا ۔
اب بھی کہیں کہیں یہ رواج موجود ھے لیکن کم کم۔ کیونکہ جدید زرعی آلات اور زمانے کی ترقی نے ان سارے کاموں کو آسان بنا دیا ھے۔
ایک وقت تھا کہ جیسے ہی مرغ نے اذان دے کر طلوع سحرکا اعلان کیا۔ اور مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوئیں تو گھروں میں بندھے اونٹوں کے گلوں میں لٹکتی گھنٹیاں بجنے لگتیں۔
ہر گھر سے جفاکش، محنتی کاشتکار اپنے اونٹ لے کر گاؤں، محلہ کے چوک میں جمع ہوتے، پھر ایک سیدھی لائن میں کھیتوں کی جانب رواں دواں، ایک کاشتکار کے کھیت میں پہنچ کر سب ہل جوت لیتے۔ یہ سلسلہ ’’ونگار‘‘ کہلاتا تھا۔۔۔
ونگار کے یہ مناظر ہمیں آج سے دو تین دہائی قبل تھل کےسب دیہاتوں میں عام طور پر نظر آتے تھے۔ جہاں کبھی کام اور دکھ درد سانجھے ہوتے تھے۔
کھیتوں کی تیاری، گندم اورچنےکی کٹائی، گہائی، شادی بیاہ کی تقریبات، علاقہ کے فلاحی کام جیسےکنوے کی صفائی وغیرہ سب مل جل کر ونگار جیسی رسموں سے نمٹائے جاتے تھے۔
جس شخص نے ونگار لینا ہوتی وہ شام کو ہی اطلاع کر دیتا کہ صبح اس کا کونسا کام ہے۔ کوئی فرد انکار نہیں کرتا تھا اور سب لوگ خوشی خوشی صبح اجتماعی طور پر کام کے لیے چلے جاتے تھے جس سے دنوں کاکام لمحوں میں ہوجاتا تھا اور اتفاق، اتحاد اور محبت بھی قائم رہتی۔
ونگار والے دن ونگاریوں کا ناشتہ، لنچ ونگار لینے والے کے ذمہ ہوتا۔
خواتین عموماً ونگار میں کام تو نہیں کرتی تھیں لیکن ونگار میں شامل لوگوں کے لیے خالص دیسی مزیدار کھانے پکاتی تھیں۔ ھم بچوں کے ذمہ کھانا کھیت میں پہنچانا ھوتا تھا۔ پانی گروٹ کے ٹھنڈے مٹی والے گھڑوں میں اونٹوں کے کچاوے میں رکھ کر علی الصبح ھی روانہ کر دیا جاتا اور یہ ھم بچوں کی ڈیوٹی ھوتی کہ چھوٹی جھاڑیوں کے سائے میں رکھے گھڑوں کو پانی گرائے بنا کیسے سائے کی طرف سرکاتے رھنا ھے۔ اتنا ٹھنڈا اور مذیدار پانی کہ برف اور واٹر فلٹر کی کوئی بھی ضرورت نہیں تھی۔
ھمارے فرائض منصبی میں ایندھن اکٹھا کر کے حقہ بھرنا بھی شامل تھا۔
کھانا ہمیشہ روائتی اور دیسی ہوتا تھا جس میں تندوری گداز روٹی، چاٹی کی لسی، مکھن کے ساتھ گڑ یا شکر لازمی شامل ہوتے۔ کچھ لوگوں کی ونگار میں چٹنی اضافی آ ئٹم تھا۔ دوپہر کو اکثر لوگ مسی روٹیاں ( چنے کی روٹی) پکاتے اس روٹی کے آٹے میں پیاز آلو اور دیگر لوازمات شامل کیے جاتےجس سےونگار والے کام کے ساتھ ساتھ لذیذ مزیدار کھانے سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے۔
یہ وہ دور تھا جب دلوں میں خلوص، لہجوں میں اپنائیت، اور رشتوں میں محبت باقی تھی۔ جب بڑوں میں شفقت اور چھوٹوں میں ادب کی خوبصورت عادت تھی۔
جدید گلوبلائزیشن کی اہمیت و افادیت اپنی جگہ لیکن ان کے فوائد سے بھی انکار ممکن نہیں لیکن ہم اپنائیت سے دور ہوتے جارہے ہیں۔
اcopied

26/04/2023

گندم کا کیا ریٹ چل رہاہے آپ کے علاقے میں؟؟؟؟

‏اہل عرب بابا جی کو بلا رہے ہیں !!‏پندرہ سال اس نے اجرت پر بکریاں ‏چرائی سالانہ جو کچھ ملتا ‏وہ جمع کرتا رہتا پھر پاسپور...
25/04/2023

‏اہل عرب بابا جی کو بلا رہے ہیں !!
‏پندرہ سال اس نے اجرت پر بکریاں
‏چرائی سالانہ جو کچھ ملتا
‏وہ جمع کرتا رہتا پھر پاسپورٹ بنوایا
‏میرے رب کا نظام کہ پانچ سال مزید عمرہ کی تیاری نہ ہو سکی اور پاسپورٹ ختم ہو گیا
‏پھر پاسپورٹ بنوایا
‏پھر کرونا کی وجہ سے سفر کی پابندیاں لگنے کے بعد یہ سفر نہ کر سکے ۔
‏پھر تیاری شروع کی تو اپنی جمع پونجی پندرہ بکریاں بیچی اور بغیر کسی گروپ وغیرہ کے
‏حرمین الشریفین کے مقدس سفر پر
‏یہ روانہ ھو گئے ۔۔۔۔۔۔۔۔نہ ہوٹل کا انتظام نہ کھانے کی فکر ،
‏فکر ایک ہی کہ بس انکے در پر پہنچ جاؤ ۔۔۔۔۔۔۔
‏بکریاں چرانا انبیاء علیہم الصلاۃ والسلام والا
‏جب یہ مدینہ منورہ کی مقدس سرزمین پر پہنچے
‏قربان جاؤں جہاں ملائکہ بھی بڑے ادب سے حاضر ھوتے ھیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏یہ مہمان رسول صلی اللہ علیہ وسلم سادہ لباس
‏پہنے اس در پر آ چکے تھے جہاں سے کوئی محروم نہیں جاتا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏اللہ تبارک وتعالیٰ نے ایک ذریعہ وڈیو کی صورت میں پوری دنیا میں پھیلا دیا ۔۔
‏کہ یہ انسان ھے یا فرشتہ ۔۔۔۔
‏پوری دنیا متوجہ ھوئی یہ سوتا کہاں ھے رھتا کہاں ھے آیا کہاں سے ھے ۔۔ ؟؟
‏کسی کو کچھ معلوم نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
‏مگر کسی کو کیا پتہ یہ اخلاص والا سچا عاشق رسول کیسے بھلا اس در پر بھوکا سو سکتا ھے ۔۔
‏کیا عرب کیا عجم سب دیوانہ وار چلے آ رہے ہیں خدمت کے لیے ۔۔۔۔
‏اللہ اللہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔معلوم ھوا یہ نہ فرشتہ ھے نہ خاندان صحابہ کا فرد ۔۔
‏بلکہ یہ پاکستان کی سر زمین بلوچستان جیسے پسماندہ علاقے سے تعلق رکھنے والا
‏ایک چرواہا ھے ۔۔۔۔۔۔۔
‏جو سچا عاشق رسول صلی اللہ علیہ وسلم ھے ۔۔۔۔۔۔۔
‏اللہ اکبر کبیرا ۔۔۔۔۔۔۔۔
‏جب عشق سچا ھو تو رب العالمین خود انتظام فرماتے ہیں ۔۔۔۔
‏اب اس بابا جی کو اہل عرب کی جانب سے
‏حج کے لیے بلوایا جا رہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏کیا نصیب ہیں کیا شان ھے ۔۔۔۔۔
‏یہ صدقہ ھے مدینہ منورہ کا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
‏میں تو پھر یہی کہتا ہوں ۔۔۔۔۔۔۔
‏ارے آج بلوچستان کا ایک چرواہا بابا شکل و صورت محمد الرسول صلی اللہ علیہ وسلم
‏جیسی بنا کر انکے عشاق صحابہ کرام کی لسٹ میں اپنا نام لکھوا لیتا ھے ۔۔
‏دنیا اسکی عزت کرتی ہے ۔۔۔۔۔۔
‏دنیا دیکھ کر رشک کرتی ھے ۔۔۔
‏بتاؤ نہ پھر میرے پیغمبر کے صحابہ کیسے ھوں گئے ۔
‏انکا مقام و مرتبہ کیا لفظوں میں بیان کرنا ممکن ھے ۔۔؟
‏نہیں وہ تو صحابہ ہیں ۔۔۔۔
‏صحابہ کون ہیں ۔۔۔
‏جنہیں میرے رب نے سرٹیفکیٹ دے دیا
‏رضی اللّٰـــــهُ تعالیٰ عنہ
‏میں آپ سے راضی آپ مجھ سے راضی ۔
‏اور پھر صحابہ کے عشاق نے اپنی جانیں ان پر وار کر کہا۔
‏اے اصحاب پیغمبر
‏آپ کا سب کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر قربان
‏ہمارا سب کچھ آپ پر قربان ۔۔۔۔۔۔
‏دعا فرمائیں حق تعالیٰ ہم سب کو اخلاص کی دولت سے مالا مال فرما کر
‏اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی غلامی نصیب کرے ۔۔۔
‏آمین یا رب العالمین

دل دکھانے والی تصویر معصوم بچے نے میت دیکھ کر لوگوں سے کہا "شور نہ کریں میرے ابو سو رہے ہیں"
23/04/2023

دل دکھانے والی تصویر
معصوم بچے نے میت دیکھ کر لوگوں سے کہا "شور نہ کریں میرے ابو سو رہے ہیں"

22/04/2023

Eid Mubarak

03/04/2023

PTI walon tayar ho Election k leay???

محبت کی اک عظیم داستان۔یہ بندہ رات کے اس پہر تقریباً 1:30 بجے کا ٹائم ہے اور ہاسپٹل میں اپنے چھوٹے سے بچے کا ہاتھ پکڑے ہ...
06/01/2023

محبت کی اک عظیم داستان۔

یہ بندہ رات کے اس پہر تقریباً 1:30 بجے کا ٹائم ہے اور ہاسپٹل میں اپنے چھوٹے سے بچے کا ہاتھ پکڑے ہوئے ہے کہیں میرا بچہ اپنے ہاتھ سے اپنا کوئی نقصان نہ کر لے حالانکہ یہ بچہ 18 دن سے بےہوش ہے اور یہ بندہ 18 دن سے ایسے ہی دن رات اپنے بیٹے کے اوپر بیٹھا ہے اور یہ ننھا سا بچہ بے ہوشی کی حالت میں لیٹا ہوا ہے۔اسکا باپ دن رات اسی امید پہ بیٹھا ہے کہ کب میرا بیٹا آنکھے کھول کے مجھے دیکھے مجھے پکارے۔
میرے نزدیک محبت کی یہ آخری حد ہے کہ ایک بے بس باپ اپنے بیٹے کی اک نظر دیکھنے کو ترس رہا ہو اور اسے دن رات کا خیال ہی نہ ہو۔نہ اسے اپنی فکر نہ اپنی نیند کی فکر نہ اپنی صحت کی فکر۔۔۔بس فکر ہے تو اپنے ننھے سے بیٹے کی فکر ہے جو بے بس لیٹا ہوا ہے۔

کیا آپ کے نزدیک اس سے بڑھ کر بھی کوئ محبت ہوتی ہے؟

اللہ پاک سے دعا ہے کہ اس ننھے سی جان کو جلد صحت یاب کرے اور اس کے والدین کو اسکا اجر عطا فرمائے۔آمین❤❤

Address

Bhalwal

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Urdu Facts posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share