Nasrullah Barodi

Nasrullah Barodi We will take you on tour of different most beautiful places of Pakis

Nasrullah Khan Barodi Abbasi brings videos about beautiful places & cultural heritage of Pakistan including beautiful valleys, lakes, ancient forts & hidden historical sites of Pakistan.

28/03/2026

ملوٹ قلعہ: قدرت اور انسان کا وہ اشتراک جو تاریخ کے صفحات سے مٹ رہا ہے
اس وی لاگ میں ہم آپ کو لے کر جائیں گے کوہِ نمک کی بلند ترین چوٹی پر واقع تاریخی ملوٹ قلعہ اور مہاراج شیو کے قدیم مندروں تک۔ جنجوعہ راجپوتوں کی دلچسپ داستان، بابر سے لے کر سکندر اعظم تک کے آثار، اور وہ فن تعمیر جو یونانی، کشمیری اور مقامی تہذیبوں کا سنگم ہے۔
اس ویڈیو میں:
✅ ملوٹ قلعے تک دو مختلف راستے (روایتی اور ایڈونچر)
✅ راجہ مل جنجوعہ کی پانڈووں سے محبت اور قنوج سے ہجرت
✅ پتھر تراشوں کا وہ ہنر جو آواز سن کر چٹانیں کاٹتا تھا
✅ بابر اور دولت خان لودھی کی آخری جنگ کا تاریخی مقام
✅ شیو مندر کا یونانی طرزِ تعمیر اور شیروں کی مورتیاں
✅ آثار قدیمہ کی غیرمعیاری مرمت اور ورثے کے تحفظ پر سوالیہ نشان
یہ صرف ایک قلعہ نہیں، یہ ہماری سرزمین کی ایک گمشدہ کہانی ہے۔ اگر آپ کو یہ کہانی پسند آئے تو ویڈیو لائک کریں، چینل سبسکرائب کریں اور اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں۔
📌 تاریخی حقائق بہتر معلومات کے لیے:
تزکِ بابری (بابر کی سوانح عمری)
مقامی جنجوعہ قبائل کی شجروں کی روایات
ڈاکٹر احمد حسن دانی کی تحقیق






#پوٹھوہار





#ملوٹ
#کلرکہار







🏷️ Hashtags – English



















05/03/2026
05/03/2026

🚂 بھیرہ ریلوے اسٹیشن: ماضی کی شان، حال کی بحالی

آپ کو یاد ہے وہ پرانا ریلوے اسٹیشن جو برسوں سے ویران پڑا تھا؟ جہاں بھینسیں بندھی تھیں اور کوڑا کرکٹ پڑا تھا؟ وہی اسٹیشن آج پھر سے زندہ ہو رہا ہے۔

1881ء میں بننے والا یہ اسٹیشن 2005ء میں بند ہوا اور پھر لوٹ مار کا شکار ہو کر کھنڈر میں تبدیل ہو گیا۔ مگر اب حکومت پاکستان نے اسے ثقافتی ورثہ قرار دے کر بحالی کے لیے فنڈ جاری کر دیے ہیں۔

اس ویڈیو میں دیکھیے:
✅ بھیرہ شہر کی 500 سالہ تاریخ
✅ ریلوے اسٹیشن کی تباہی اور بحالی
✅ کام کرتے مزدور اور مستری
✅ شیر شاہ سوری کی مسجد اور شہر کے دروازے

📽️ مکمل ڈاکومنٹری دیکھنے کے لیے لنک پر کلک کریں۔
👍 ویڈیو پسند آئے تو لائیک اور شیئر ضرور کریں۔

فارمیٹ 2: مختصر پوسٹ

🚂 بھیرہ ریلوے اسٹیشن - ملبے سے میوزیم تک

کبھی بھوت بنگلہ کہلانے والا یہ اسٹیشن آج پھر سے زندہ ہو رہا ہے۔ حکومت پاکستان نے اسے تاریخی میوزیم میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔پسنچ سو سالہ تاریخی شہر بھیرہ کی اس کہانی کو ضرور دیکھیے۔

#بھیرہ

🔖 ہیش ٹیگز (Hashtags):
#بھیرہ #سرگودھا #ڈاکومنٹری

20/02/2026

ضلع خانیوال کی تحصیل کبیروالا، ملتان روڈ پر ایک چھوٹا سا گاؤں ہے جسے آج ہم 'پانچ کسی' کے نام سے جانتے ہیں۔ مگر 1947 سے پہلے اس گاؤں کی ایک اور پہچان تھی، ایک پرانا نام 'جووند سنگھ والا'۔ یہ نام ایک سکھ سردار کا تھا جس نے اس بستی کو بسایا تھا۔ یہاں سکھ، ہندو اور مسلمان مل جل کر رہتے تھے۔

پھر انیس سو سینتالیس (1947) آیا اور سب کچھ بدل گیا۔ تقسیم صرف خطوں کی نہیں، دلوں اور گھروں کی بھی تھی۔ جودھا سنگھ والا کے سکھ اور ہندو خاندان بے گھر ہو گئے۔ انہوں نے اپنے گھر، اپنے کھیت اور اپنا شاندار گردوارہ چھوڑ دیا۔ وہ گردوارہ جو اس گاؤں کی روح تھا، جہاں صبح گربانی کی آوازیں آتی تھیں، خاموش ہو گیا۔

دوسری طرف، مشرقی پنجاب، دہلی اور ہریانہ سے مسلمان مہاجرین اٹھے، بے گھر اور بے یقین۔ وہ آئے اور جودھا سنگھ والا کے خالی گھروں میں بس گئے۔ گاؤں کا نام 'پانچ کسی' رکھا گیا۔ مہاجر اور مقامی لوگوں نے مل کر ایک نیا معاشرہ بنایا، ایک خوبصورت تہذیبی امتزاج جو پنجاب کی پہچان ہے۔

مگر پرانا گردوارہ آج بھی کھڑا ہے۔ 78 سال بعد، اس کے دروازے اکھڑ چکے ہیں، کھڑکیاں ٹوٹ چکی ہیں۔ جہاں کبھی پاک کلام پڑھا جاتا تھا، آج وہاں مویشی بندھے ہیں۔ جہاں دیے جلتے تھے، وہاں کوڑے کے ڈھیر ہیں۔ ایوکیوٹی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ خاموش ہے، اور اس خاموشی کے ساتھ ایک پوری تاریخ مٹ رہی ہے۔

یہ ویڈیو اس گردوارے کی کہانی ہے۔ یہ محرومیوں، صبر اور مشترکہ ورثے کی داستان ہے۔ کیا ہم اس عمارت سے گوبر ہٹا کر اس پر پھول چڑھا سکتے ہیں؟ کیا ہم اس میں واپس روشنی لا سکتے ہیں؟

دیکھیے جووند سنگھ والا کی مکمل کہانی، ایک گاؤں جس نے دو قوموں کو جنم دیا۔

#کبیروالا #خانیوال #1947 #گردوارہ
Tags:
جووند سنگھ والا, پانچ کسی, کبیروالا, خانیوال, ملتان روڈ, تقسیم ہند 1947, قیام پاکستان, پاکستان میں سکھ تاریخ, پاکستان میں گردوارے, ایوکیوٹی ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ, سکھ مندر, ہندو مسلم سکھ اتحاد, پاکستانی پنجاب کا ورثہ, مشترکہ ورثہ, مہاجرین

15/02/2026

ls, Burial Practices, Subcontinent History
برصغیر: پتھر سے دھات تک کا سفر | مکمل دستاویزی فلم
کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم سے پہلے برصغیر میں کون رہتا تھا؟ وادیٔ سندھ کی تہذیب سے پہلے؟ آریاؤں سے پہلے؟ کسی تحریری تاریخ سے پہلے؟
یہ دستاویزی فلم آپ کو 100,000 سال کے سفر پر لے جاتی ہے۔ پاکستان اور ہندوستان کے قدیم ترین ادوار کی کہانی، آثار قدیمہ کے شواہد اور تاریخی تحقیق کی بنیاد پر۔
🔹 عہد قدیم (Paleolithic Age): وہ دور جب انسان درختوں پر رہتا تھا، جنگلی جانوروں کا شکار کرتا تھا، اور آگ جلانا بھی نہیں جانتا تھا۔ یہ لوگ کون تھے؟ کہاں رہتے تھے؟ ان کی شکل کیسی تھی؟
🔹 عہد جدید (Neolithic Age): انقلاب کا دور۔ انسان نے کھیتی باڑی سیکھی، مویشی پالے، آگ جلانا سیکھی، مٹی کے برتن بنائے، اور غاروں کی دیواروں پر تصویریں بنائیں۔ پہلے گودام، پہلی کشتیاں۔
🔹 دھات کا زمانہ (Metal Age): تانبے، کانسی اور لوہے کی دریافت۔ وادیٔ سندھ کی عظیم تہذیب (موہن جو دڑو اور ہڑپہ) کا عروج۔ ویدک دور اور رگ وید کی تدوین۔
🔹 نسلی تقسیم: آریہ، دراوڑ، قبائلی لوگ... ان کی زبانیں، ان کی ثقافتیں، ان کے خدوخال۔
🔹 تدفین کے طریقے: قدیم لوگ اپنے مُردوں کو کیسے دفن کرتے تھے؟ مٹی کے برتنوں سے لے کر جلانے اور راکھ محفوظ کرنے تک۔
یہ دستاویزی فلم اصل تحقیق اور آثار قدیمہ کے شواہد پر مبنی ہے۔ یہ برصغیر کی گمشدہ تاریخ اور انسانی ارتقاء کی ناقابلِ یقین داستان بیان کرتی ہے۔
📍 مقامات:
وادیٔ سندھ (موہن جو دڑو، ہڑپہ)
سندھ، بلوچستان، خیبر پختونخوا
پنجاب کے پہاڑی علاقے
جنوبی ہند (دراوڑی سرزمین)
وسطی ہند کے جنگلات
📌 کلیدی الفاظ:
قدیم ہندوستان، پتھر کا دور پاکستان، عہد قدیم، عہد جدید، دھاتوں کا دور، وادیٔ سندھ کی تہذیب، موہن جو دڑو، ہڑپہ، آریہ، دراوڑ، تاریخ قدیم، آثار قدیمہ، انسانی ارتقاء، ویدک دور، رگ وید، تانبے کا دور، کانسی کا دور، لوہے کا دور، غاروں کی تصاویر، قدیم اوزار، تدفین کے طریقے، برصغیر کی تاریخ

Address

5 Islampura
Bhalwal
40410

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Nasrullah Barodi posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Nasrullah Barodi:

Share

Category