04/07/2026
السلام السلام السلام...
حق کے دلدار کو شاہِ ابرار کو،
میرے سرکار کو،
سب کے غمخوار کو...
السلام السلام السلام السلام...
ان کے رخسار پر،
زلفِ خمدار پر،
ان کی آنکھوں میں سرمے کی مقدار پر...
ان کے قدموں پہ،
اور دھیمی رفتار پر،
ان کے الفاظ کی پیاری مہکار پر...
ان کے اخلاق پر،
اعلیٰ کردار پر،
ان پہ لکھے گئے سارے اشعار پر...
ایسے اوصاف و عظمت کے مینار پر،
روز جاؤں میں قربان سرکار پر...
السلام السلام السلام السلام...
ان کے اطوار کو،
اعلیٰ کردار کو،
نرم گفتار کو،
تیز رفتار کو...
آمنہ مائی کو،
آپ کی دائی کو،
بوڑھی ہمسائی کو،
ہر شناسائی کو...
ماں کی ممتاؤں کو،
جنتی پاؤں کو،
پیار کی چھاؤں کو،
امتی ماؤں کو...
عشق کے فخر کو،
علم کے قصر کو،
پیکرِ صبر کو،
بنتِ ابو بکر کو...
ناز بردار کو،
ان کے غمخوار کو،
چار کے چار کو،
یعنی ہر یار کو...
ان کے دلدار کو،
عاشقِ زار کو،
زانوئےیار کو،
یارِ غار کو...
عدل کی آب کو،
ہوش کی تاب کو،
گوہرِ نایاب کو،
ابنِ خطاب کو...
مال کو، جان کو،
دستِ فیضان کو،
ابنِ عفان کو،
حضرت عثمان کو...
تیز تلوار کو،
فتح بردار کو،
عزمِ کرار کو،
ان کے گھر بار کو...
فکر و احساس کو،
ان کے الماس کو،
علم کی پیاس کو،
ابنِ عباس کو...
حبشی انداز کو،
اجلا آواز کو،
ایک سخندان کو،
ایک ثنا خواں کو...
نعت کی شان کو،
یعنی حسان کو،
شاہِ ذیشان کو،
شانِ قرآن کو...
حزبِ ایمان کو،
رب کے مہمان کو،
رب کے مہمان کو...
السلام السلام السلام السلام