Zikr-e-Taiba

Zikr-e-Taiba ✨ Zikre-Taiba ✨
Naat, Seerat & Islamic Poetry 🕊️
Love for Prophet ﷺ ❤️
📍 Spreading Noor & Peace
www.youtube.com/-e-Taiba-4

04/07/2026

السلام السلام السلام...
حق کے دلدار کو شاہِ ابرار کو،
میرے سرکار کو،
سب کے غمخوار کو...

السلام السلام السلام السلام...

ان کے رخسار پر،
زلفِ خمدار پر،
ان کی آنکھوں میں سرمے کی مقدار پر...

ان کے قدموں پہ،
اور دھیمی رفتار پر،
ان کے الفاظ کی پیاری مہکار پر...

ان کے اخلاق پر،
اعلیٰ کردار پر،
ان پہ لکھے گئے سارے اشعار پر...

ایسے اوصاف و عظمت کے مینار پر،
روز جاؤں میں قربان سرکار پر...

السلام السلام السلام السلام...

ان کے اطوار کو،
اعلیٰ کردار کو،
نرم گفتار کو،
تیز رفتار کو...

آمنہ مائی کو،
آپ کی دائی کو،
بوڑھی ہمسائی کو،
ہر شناسائی کو...

ماں کی ممتاؤں کو،
جنتی پاؤں کو،
پیار کی چھاؤں کو،
امتی ماؤں کو...

عشق کے فخر کو،
علم کے قصر کو،
پیکرِ صبر کو،
بنتِ ابو بکر کو...

ناز بردار کو،
ان کے غمخوار کو،
چار کے چار کو،
یعنی ہر یار کو...

ان کے دلدار کو،
عاشقِ زار کو،
زانوئےیار کو،
یارِ غار کو...

عدل کی آب کو،
ہوش کی تاب کو،
گوہرِ نایاب کو،
ابنِ خطاب کو...

مال کو، جان کو،
دستِ فیضان کو،
ابنِ عفان کو،
حضرت عثمان کو...

تیز تلوار کو،
فتح بردار کو،
عزمِ کرار کو،
ان کے گھر بار کو...

فکر و احساس کو،
ان کے الماس کو،
علم کی پیاس کو،
ابنِ عباس کو...

حبشی انداز کو،
اجلا آواز کو،
ایک سخندان کو،
ایک ثنا خواں کو...

نعت کی شان کو،
یعنی حسان کو،
شاہِ ذیشان کو،
شانِ قرآن کو...

حزبِ ایمان کو،
رب کے مہمان کو،
رب کے مہمان کو...

السلام السلام السلام السلام

کان کا دردقُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ تین(3) مرتبہ پڑھ کر  ایک چمچہ پانی یا دودھ پر دم کر کے پلائیں۔
01/07/2026

کان کا درد

قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ تین(3) مرتبہ پڑھ کر ایک چمچہ پانی یا دودھ پر دم کر کے پلائیں۔

مدینہ منورہ میں روضہ رسول ؐ کے اندر  نبی کریم ؐ کی قبر مبارک کے بارے میں اہم معلومات : ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی آپ ﷺ کی...
27/06/2026

مدینہ منورہ میں روضہ رسول ؐ کے اندر نبی کریم ؐ کی قبر مبارک کے بارے میں اہم معلومات : ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی آپ ﷺ کی قبر انور تک نہیں جا سکا۔۔۔۔
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ظاہری وصال ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے حجرہ مبارک میں ہوا تھا اور وہیں آپ کی تدفین ہوئی اس کے بعد پھر حضرت ابوبکر اور عمر رضی اللہ تعالی عنہما بھی وہاں مدفون ہوئے اس طرح روضہ شریف کے اندر اس وقت تین آرام گاہ ہیں۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبرِمبارک کی کوئی تصویر دنیا میں موجود نہیں ہے اس لیے کہ گزشتہ ساڑھے پانچ صدیوں میں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک تک نہیں جا سکا ہے۔ وہ حجرہ شریف جس میں آپ اور آپ کے دو اصحاب کے قبریں ہیں اس کے گرد ایک چار دیواری ہے، اس چار دیواری سے متصل ایک اور دیوار ہے جو پانچ دیواروں پر مشتمل ہے یہ پانچ کونوں والی دیوار حضرت عمر بن عبد العزیز رحمۃ اللہ علیہ نے بنوائی تھی۔ اور اس کے پانچ کونے رکھنے کا مقصد اسے خانہ کعبہ کی مشابہت سے بچانا تھا۔ اس پنج دیواری کے گرد ایک اور پانچ دیواروں والی فصیل ہے۔ اس پانچ کونوں والی فصیل پر ایک بڑا سا پردہ یا غلاف ڈالا گیا ہے۔ یہ سب دیواریں بغیر دروازے کے ہیں، لہذا کسی کے ان دیواروں کے اندر جانے کا کوئی امکان نہیں ہے۔ روضہ رسول ﷺ کی اندر سے زیارت کرنے والے بھی اس پانچ کونوں والی دیوار پر لٹکے ہوئے پردے تک ہی جا پاتے ہیں۔روضہ رسول ﷺ پر سلام عرض کرنے والے عام زائرین جب سنہری جالیوں کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں تو جالیوں کے سوراخوں سے انہیں بس وہ پردہ ہی نظر آ سکتا ہے، جو حجرہ شریف کی پنج دیواری پر ہے۔ اس طرح سلام پیش کرنے والے زائرین اور آنحضور صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی قبر اطہر کے درمیان گو کہ چند گز کا فاصلہ ہوتا ہے لیکن درمیان میں کل چار دیواریں حائل ہوتی ہیں۔ ایک سنہری جالیوں والی دیوار، دوسری پانچ کونوں والی دیوار، تیسری ایک اور پنج دیواری، اور چوتھی وہ چار دیواری جو کہ اصل حجرے کی دیوار تھی۔ گزشتہ تیرہ سو سال سے اس پنج دیواری حجرے کے اندر کوئی نہیں جا سکا ہے سوائے دو مواقع کے۔ ایک بار 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے دور میں ان کا غلام اور دوسری بار 881 ہجری میں معروف مورخ علامہ السمہودی کے بیان کے مطابق وہ خود۔مسجد نبوی میں قبلہ کا رخ جنوب کی جانب ہے۔ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کا روضہ مبارک ایک بڑے ہال کمرے میں ہے۔ بڑے ہال کمرے کے اندر جانے کا دروازہ مشرقی جانب ہے یعنی جنت البقیع کی سمت۔ یہ دروازہ صرف خاص شخصیات کے لیے کھولا جاتا ہے۔ اس دروازے سے اندر داخل ہوں تو بائیں جانب حضرت فاطمۃ الزہرہ رضی اللہ تعالی عنہا کی محراب ہے۔ اس کے پیچھے ان کی چارپائی (سریر) ہے۔ العربیہ ویب سائٹ نے محقق محی الدین الہاشمی کے حوالے سے بتایا کہ ہال کمرے میں روضہ مبارک کی طرف جائیں تو سبز غلاف سے ڈھکی ہوئی ایک دیوار نظر آتی ہے۔ 1406 ہجری میں شاہ فہد کے دور میں اس غلاف کو تبدیل کیا گیا۔ اس سے قبل ڈھانپا جانے والا پردہ 1370 ہجری میں شاہ عبد العزیز آل سعود کے زمانے میں تیار کیا گیا تھا۔ مذکورہ دیوار 881 ہجری میں اُس دیوار کے اطراف تعمیر کی گئی جو 91 ہجری میں حضرت عمر بن عبدالعزیز نے تعمیر کی تھی۔ اس بند دیوار میں کوئی دروازہ نہیں ہے۔ قبلے کی سمت اس کی لمبائی 8 میٹر، مشرق اور مغرب کی سمت 6.5 میٹر اور شمال کی جانب دونوں دیواروں کی لمبائی ملا کر 14 میٹر ہے۔کہا جاتا ہے کہ 91 ہجری سے لے کر 881 ہجری تک تقریباً آٹھ صدیاں کوئی شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کو نہیں دیکھ پایا۔ اس کے بعد 881 ہجری میں حجرہ مبارک کی دیواروں کے کمزور ہو جانے کے باعث ان کی تعمیر نو کرنا پڑی۔ اس وقت نامور مورخ اور فقیہ علّامہ نور الدین ابو الحسن السمہودی مدینہ منورہ میں موجود تھے، جنہیں ان دیواروں کی تعمیر نو کے کام میں حصہ لینے کی سعادت حاصل ہوئی۔ وہ لکھتے ہیں 14 شعبان 881 ھ کو پانچ دیواری مکمل طور پر ڈھا دی گئی۔ دیکھا تو اندرونی چار دیواری میں بھی دراڑیں پڑی ہوئی تھیں، چنانچہ وہ بھی ڈھا دی گئی۔ ہماری آنکھوں کے سامنے اب مقدس حجرہ تھا۔ مجھے داخلے کی سعادت ملی۔ میں شمالی سمت سے داخل ہوا۔ خوشبو کی ایسی لپٹ آئی جو زندگی میں کبھی محسوس نہیں ہوئی تھی۔ میں نے رسول اللہ اورآپ کے دونوں خلفاء کی خدمت میں ادب سے سلام پیش کیا۔ مقدس حجرہ مربع شکل کا تھا۔ اس کی چار دیواری سیاہ رنگ کے پتھروں سے بنی تھی، جیسے خانہٴ کعبہ کی دیواروں میں استعمال ہوئے ہیں۔ چار دیواری میں کوئی دروازہ نہ تھا۔ میری پوری توجہ تین قبروں پر مرکوز تھی۔ تینوں سطح زمین کے تقریباً برابر تھیں۔ صرف ایک جگہ ذرا سا ابھار تھا۔ یہ شاید حضرت عمر کی قبر تھی۔ قبروں پر عام سی مٹی پڑی تھی۔اس بات کو پانچ صدیاں بیت چکی ہیں، جن کے دوران کوئی انسان ان مہر بند اور مستحکم دیواروں کے اندر داخل نہیں ہوا۔السمہودی نے اپنی کتاب میں حجرہ نبوی کا ذکر کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ اس کا فرش سرخ رنگ کی ریت پر مبنی ہے۔ حجرہ نبوی کا فرش مسجد نبوی کے فرش سے تقریبا 60 سینٹی میٹر نیچے ہے۔ اس دوران حجرے پر موجود چھت کو ختم کر کے اس کی جگہ ٹیک کی لکڑی کی چھت نصب کی گئی جو دیکھنے میں حجرے پر لگی مربع جالیوں کی طرح ہے۔ اس لکڑی کے اوپر ایک چھوٹا سا گنبد تعمیر کیا گیا جس کی اونچائی 8 میٹر ہے اور یہ گنبد خضراء کے عین نیچے واقع ہے“یہ سب معلومات معروف کتاب ”وفاء الوفاء با اخبار دار المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم“ کے مؤلف السمہودی نے اپنی مشہور تصنیف میں درج کی ہیں۔ مسجد نبوی، حجرہ شریف اور قبر مبارک کے حوالے سے یہ کتاب سب سے مستند حوالہ ہے۔اس کتاب میں مدینہ منورہ کی تاریخ سے متعلق تمام معلومات جمع کی گئی ہیں. علامہ السمہودی کی وفات 911 ہجری میں ہوئی۔ 881 ہجری یا 1477 عیسوی سے لے کر اب تک تقریباً ساڑھے پانچ سو سال کے عرصے میں کوئی انسان آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر مبارک کی زیارت نہیں کر سکا ہے ۔

🌹 حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ 🌹1سر کٹ گیا مگر کبھی کردار جھک نہ سکا،حق زندہ رہا، کربلا گواہ رہی۔2ظلم کے اندھیروں میں بھی...
27/06/2026

🌹 حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ 🌹

1
سر کٹ گیا مگر کبھی کردار جھک نہ سکا،
حق زندہ رہا، کربلا گواہ رہی۔

2
ظلم کے اندھیروں میں بھی چراغِ وفا جلتا رہا،
حسینؓ کا نام رہا، باطل مٹتا رہا۔

3
جس نے خدا کی رضا پر سب کچھ قربان کر دیا،
وہی حسینؓ ہے، وہی عزت کی صدا۔

4
تلواریں جسموں کو مٹا سکتی ہیں، سچ کو نہیں،
کربلا آج بھی کہتی ہے، حق کبھی مرتا نہیں۔

5
جو دین کی خاطر ہر آزمائش میں ثابت قدم رہا،
سلام اُس حسینؓ پر، جس نے حق کا پرچم بلند رکھا۔

🌹 حضرت امام حسینؓ کے اخلاقِ مبارک 🌹✨ اخلاق انسان کو بلند کرتے ہیں، اور حضرت امام حسینؓ کا کردار اس کی روشن مثال ہے۔حضرت ...
26/06/2026

🌹 حضرت امام حسینؓ کے اخلاقِ مبارک 🌹

✨ اخلاق انسان کو بلند کرتے ہیں، اور حضرت امام حسینؓ کا کردار اس کی روشن مثال ہے۔

حضرت امام حسینؓ، رسول اللہ ﷺ کے نواسے، حضرت علیؓ اور حضرت فاطمہؓ کے لختِ جگر تھے۔ آپؓ نے اپنی پوری زندگی میں ایسے اعلیٰ اخلاق کا مظاہرہ کیا جو ہر مسلمان کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔

🌿 1. عاجزی اور انکساری
اتنے بلند مقام کے باوجود آپؓ ہمیشہ عاجزی اختیار کرتے۔ کسی غریب، یتیم یا ضرورت مند کو کبھی حقیر نہ سمجھتے بلکہ محبت اور عزت سے پیش آتے۔

🤝 2. عفو و درگزر
اگر کسی سے غلطی ہو جاتی تو بدلہ لینے کے بجائے معاف کرنا پسند فرماتے۔ یہی وہ اخلاق ہے جس کی تعلیم قرآن و سنت دیتے ہیں۔

💖 3. سخاوت اور خیر خواہی
حضرت امام حسینؓ اپنی ضرورت پر دوسروں کی ضرورت کو ترجیح دیتے۔ محتاجوں، مسکینوں اور مسافروں کی مدد کرنا آپؓ کی عادت تھی۔

😊 4. حسنِ اخلاق
آپؓ نرم گفتگو، مسکراہٹ اور بہترین رویے سے لوگوں کے دل جیت لیتے تھے۔ رسول اللہ ﷺ کی تربیت کا اثر آپؓ کی شخصیت میں نمایاں تھا۔

⚖️ 5. حق پر ثابت قدمی
آپؓ نے پوری زندگی حق، عدل اور انصاف کا ساتھ دیا۔ کربلا میں بھی آپؓ نے ظلم کے سامنے سر نہ جھکایا اور دین کی سربلندی کے لیے عظیم قربانی پیش کی۔

📖 رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں۔"
(جامع الترمذی)

🌺 حضرت امام حسینؓ کی زندگی ہمیں سکھاتی ہے کہ عزت، صبر، اخلاق، سچائی، رحم دلی اور حق پر استقامت ہی ایک مومن کی حقیقی پہچان ہیں۔

🤲 اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت امام حسینؓ کے پاکیزہ اخلاق اپنانے، حق پر ثابت قدم رہنے اور اپنی زندگی کو قرآن و سنت کے مطابق گزارنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

❤️ اگر آپ بھی حضرت امام حسینؓ سے محبت کرتے ہیں تو اس پیغام کو دوسروں تک ضرور پہنچائیں تاکہ ہم سب ان کے اخلاقِ مبارک سے سبق حاصل کر سکیں۔
#اسلام #سیرت

🌿 عام بخار کے لیے مجرب روحانی عمل 🌿                           بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ          ھُوَاللّ...
26/06/2026

🌿 عام بخار کے لیے مجرب روحانی عمل 🌿

بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ

ھُوَاللّٰهُ الْخَالِقُ الْبَارِیُ الْمُصَوِرُ لَہُ الْاَسْمَآ ءُ الْحُسْنٰی ؕ**

🕊️ طریقۂ عمل:

مندرجہ بالا آیاتِ مبارکہ کو **صاف کاغذ** پر لکھیں، پھر اسے **بغیر موم جامہ** کے **سفید کپڑے کی دھجی** میں باندھ کر مریض کے **گلے میں ڈال دیں۔**

🌸 **اہم ہدایت:**
جب بخار اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اتر جائے تو **تعویذ اور سفید کپڑا دونوں جلا دیں۔**

🤲 **یاد رکھیں:**
یہ ایک **روحانی عمل** ہے، اصل شفا صرف **اللہ تعالیٰ** ہی عطا فرماتا ہے۔ اگر بخار شدید ہو، بار بار آئے یا کئی دن تک برقرار رہے تو کسی مستند ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔

✨ **اللہ تعالیٰ تمام بیماروں کو کامل صحتِ عاجلہ، کاملہ اور دائمہ عطا فرمائے۔ آمین۔**

#شفا

🌿 جنت کے راستے: وہ اعمال جو ایک مسلمان کو جنت کے قریب کرتے ہیں✨ سوال یہ نہیں کہ ہم دنیا میں کتنے کامیاب ہیں، بلکہ یہ ہے ...
25/06/2026

🌿 جنت کے راستے: وہ اعمال جو ایک مسلمان کو جنت کے قریب کرتے ہیں

✨ سوال یہ نہیں کہ ہم دنیا میں کتنے کامیاب ہیں، بلکہ یہ ہے کہ اللہ کے نزدیک ہماری کامیابی کتنی ہے؟

قرآن و حدیث کی روشنی میں کچھ ایسے اعمال ہیں جن کے بارے میں جنت کی بشارت آئی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ ایک مسلمان کون سے کام کرے تاکہ وہ جنت کے راستے پر چل سکے۔

📌 عمل 📖 مختصر وضاحت

🕌 نماز کی پابندی پانچ وقت کی نماز جنت کی کنجی ہے۔ جو نماز کی حفاظت کرتا ہے، اللہ اس کے لیے آسانیاں پیدا فرماتا ہے۔
🤲 توحید پر قائم رہنا اللہ کو ایک ماننا اور شرک سے بچنا جنت کی سب سے بڑی شرط ہے۔
📖 قرآن کی تلاوت اور عمل قرآن صرف پڑھنے کے لیے نہیں بلکہ زندگی میں نافذ کرنے کے لیے نازل ہوا ہے۔
❤️ والدین کے ساتھ حسنِ سلوک والدین کی خدمت اور اطاعت جنت کے دروازے کھولنے والے اعمال میں سے ہے۔
🤝 لوگوں کے حقوق ادا کرنا کسی کا حق نہ مارنا، انصاف کرنا اور امانت داری اختیار کرنا۔
😊 اچھے اخلاق اپنانا نبی ﷺ نے فرمایا کہ بہترین مسلمان وہ ہے جس کے اخلاق بہترین ہوں۔
💝 صدقہ و خیرات کرنا ضرورت مندوں کی مدد کرنا اللہ کی رحمت کو متوجہ کرتا ہے۔
🤫 غیبت، جھوٹ اور حسد سے بچنا یہ اعمال نیکیوں کو کمزور اور دل کو سیاہ کر دیتے ہیں۔
🤲 توبہ اور استغفار کرنا گناہ ہو جائیں تو فوراً اللہ کی طرف رجوع کرنا مومن کی نشانی ہے۔
❤️ مخلوقِ خدا سے محبت کرنا لوگوں کے لیے آسانی پیدا کرنا اور ان کے کام آنا عظیم نیکی ہے۔
🤲 دعا اور اللہ پر بھروسہ ہر حال میں اللہ سے امید رکھنا اور اسی پر توکل کرنا۔
🌱 نیکی کی دعوت دینا دوسروں کو بھلائی کی طرف بلانا صدقۂ جاریہ بن سکتا ہے۔

🌸 یاد رکھیں!

یہ دنیا ہمیشہ رہنے والی نہیں۔ قرآن ہمیں بار بار یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی اور دھوکے کا سامان ہے۔ آج جس مال، عہدے اور شہرت پر انسان فخر کرتا ہے، ایک دن سب کچھ یہیں رہ جائے گا۔

💭 ذرا سوچئے!

چند سال بعد ہمارا گھر، گاڑی اور کاروبار ہمارے ساتھ نہیں ہوگا۔

لیکن ایک نماز، ایک سچا صدقہ، ایک آنسو کی توبہ اور ایک نیکی ہمارے ساتھ قبر میں جائے گی۔

🌹 جنت میں نہ بیماری ہوگی، نہ غم، نہ بڑھاپا، نہ موت۔

✨ وہاں ہمیشہ کی خوشیاں ہوں گی۔ ✨ اللہ کی رضا ہوگی۔ ✨ انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت ہوگی۔ ✨ ایسی نعمتیں ہوں گی جنہیں نہ کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کسی کان نے سنا، نہ کسی دل نے تصور کیا۔

🤲 آج ہی فیصلہ کریں

دنیا کی دوڑ کبھی ختم نہیں ہوگی، لیکن زندگی ضرور ختم ہو جائے گی۔

آئیے عہد کریں کہ: ✅ نماز کی پابندی کریں گے
✅ قرآن سے تعلق مضبوط کریں گے
✅ والدین کا احترام کریں گے
✅ لوگوں کے حقوق ادا کریں گے
✅ گناہوں سے بچنے کی کوشش کریں گے
✅ ہر روز ان اعمال کے کرنے کی کوشش ضرور کریں گے

🌷 اللہ تعالیٰ ہمیں دنیا کی فانی محبت سے بچائے، نیک اعمال کی توفیق عطا فرمائے اور جنت الفردوس میں جگہ نصیب فرمائے۔ آمین۔ 🤲💚

24/06/2026

Legened of poetry

24/06/2026

Allama Iqbal rahmatullah alaih ke yeh ashaar har us shakhs ke liye paigham hain jo deen se door aur ghaflat mein mubtala hai.

Namaz, Ramadan, ittihad aur muhabbat-e-ummat par mabni yeh kalaam aaj bhi hamari rehnumai karta hai.

Aap ko sab se zyada kaunsa sher pasand aaya? Comment mein zaroor likhiye.

Address

Bhera, Dist. Sargodha
Bhera
40540

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Zikr-e-Taiba posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share