07/06/2025
تڑدوس میں ٹیلی نار کی سروس مکمل بند — گاؤں کا دنیا سے رابطہ ختم، عوام شدید بے چینی کا شکار
ضلع تھرپارکر کے گاؤں تڑدوس اور اس کے قریبی دیہی علاقوں میں ٹیلی نار کی نیٹ ورک سروس گزشتہ کئی دنوں سے مکمل طور پر بند ہے۔ علاقہ مکینوں کا دنیا سے رابطہ منقطع ہو گیا ہے، اور لوگ شدید مایوسی اور بے چینی کا شکار ہیں۔
صرف ایک ٹاور، صرف ایک سہارا — وہ بھی بند
تڑدوس گاؤں میں راوتسر کے مقام پر نصب ٹیلی نار کا ایک ہی موبائل ٹاور کام کر رہا تھا، جو گاؤں سے تقریباً 9 کلومیٹر دور واقع ہے۔ یہی واحد ٹاور تھا جس کی سروس پر پورا گاؤں انحصار کر رہا تھا، کیونکہ علاقے میں نہ کسی اور کمپنی کا ٹاور موجود ہے، نہ ہی کسی اور نیٹ ورک کی کوریج دستیاب ہے۔
پہلے 2G غائب ہوا، پھر 4G بھی بند! ابتدائی دنوں میں جب ٹاور نسب کیا گیا تھا 2G سروس پورے سگنل کے ساتھ دستیاب تھی، لیکن کچھ عرصہ بعد یہ سروس ختم کر دی گئی۔ بعد میں لوگوں کو کمزور 4G سگنلز پر گزارا کرنا پڑا۔ حالیہ 3 سے 4 دنوں سے وہ 4G سروس بھی مکمل طور پر بند ہو چکی ہے۔ نہ کال ہوتی ہے، نہ SMS، نہ ہی انٹرنیٹ کا استعمال ممکن ہے۔
عیدالاضحیٰ پر رابطے کا مکمل فقدان! جب ہر شخص اپنے پیاروں کو مبارکباد دینا چاہتا ہے، اس اہم تہوار پر بھی لوگ اپنے خاندان، رشتہ داروں اور دوستوں سے رابطہ نہ کر سکے۔ تعلیم، روزگار اور کاروبار سب متاثر اس نیٹ ورک بندش نے طلبہ، فری لانسرز، یوٹیوبرز اور آن لائن کاروبار کرنے والوں کو سخت نقصان پہنچایا ہے۔ دکاندار موبائل لوڈ اور ایزی پیسہ سروس فراہم نہیں کر پا رہے۔ انٹرنیٹ سے روزی کمانے والے نوجوان بیروزگار ہو چکے ہیں۔
علاقہ مکینوں نے سوال اٹھایا ہے کہ اگر کمپنی سروس فراہم نہیں کر سکتی تو لوگوں کو بتائے تاکہ وہ کسی اور نیٹ ورک پر جائیں — لیکن جب دوسرا نیٹ ورک ہی دستیاب نہ ہو، تو پھر عوام کیا کریں؟ یہ ایک بنیادی حق ہے کہ ہر شہری کو رابطے کی سہولت حاصل ہو، خاص طور پر ایسے علاقوں میں جہاں کوئی دوسرا متبادل موجود نہ ہو۔
پی ٹی اے اور حکومت سے فوری نوٹس لینے کی اپیل
عوام نے پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی (PTA) اور ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں۔ ٹیلی نار کو پابند کیا جائے کہ سروس بحال کرے، یا علاقے کے لوگوں کے لیے کوئی متبادل حل فراہم کیا جائے۔
📌 کیا آپ بھی اس نیٹ ورک مسئلے سے متاثر ہیں؟ اپنی رائے کمنٹ میں دیں۔ اس پوسٹ کو زیادہ سے زیادہ شیئر کریں تاکہ ہماری آواز حکام تک پہنچے!