News Chakwal

News Chakwal All Local News of Chakwal, Punjab, Pakistan

https://www.bbc.com/urdu/articles/czv58ej7w5no
21/12/2023

https://www.bbc.com/urdu/articles/czv58ej7w5no

انڈیا، سری لنکا، نیپال، مصر، آسٹریلیا اور ہنگری میں تقریباً 35 لگژری ہوٹلوں کے ساتھ، اوبرائے گروپ، ٹاٹا گروپ کے تاج کے بعد ہندوستان کی دوسری سب سے بڑی ہوٹل کمپنی بن گئ...

06/11/2020

Markets and Shopping Centers in Pakistan are putting pictues of Emmanuel Macron - French President's

مستصر حسین تارڑ کی کتاب ـ پیار کا پہلا پنجاب ۔ سے اقتباسکلر کہار کی سرکنڈوں سے اٹی گھاس پھونس میں الجھی جوھڑ نما جھیل می...
03/09/2020

مستصر حسین تارڑ کی کتاب ـ پیار کا پہلا پنجاب ۔ سے اقتباس

کلر کہار کی سرکنڈوں سے اٹی گھاس پھونس میں الجھی جوھڑ نما جھیل میں سینکڑوں مرغابیاں اس دھند بھری سویر میں تیرتی نہ تھیں، ساکت اور بےجان سی لگتی تھیں، البتہ کبھی کبھار ان میں سے کوئی ایک جب اپنے پر جھاڑتی، ان پروں پر جو پانی کے قطرے دھند میں دھندلاتے تھے انھیں جھاڑتی تب گمان ہوتا کہ وہ تصویریں نھیں ہیں اُن میں جان ھے اور اُس جان میں اُن کے وہ دل دھڑکتے ہیں جن کی دھڑکن اُن کے آبائی وطن کی برفوں کی شدؔت سے تھم جاتے اگر وہ اُن قہر بھرے موسموں سے فرار ہو کر، طویل اڑانوں کے بعد کلر کہار کی اس آسودہ پانیوں والی جھیل پر نہ اترتیں۔
مہا بھارت میں جب ارجن اپنے بھائی کرشن سے اس دنیا کے بارے میں کچھ بھید جاننا چاہتا ہے تو کرشن کہتا ہے
۔
اور یہ بھی جان لو کہ کنول لے پتے اور مرغابی کے پـَر پانی میں رہنے کے باوجود خشک رہتے ہیں، دنیا میں رہتے ہیں پر اس کی آلائشوں سے آزاد رہتے ہیں۔

کلر کہار جھیل میں جتنی بھی مرغابیاں تھیں پانی میں رہنے کے باوجود اُن کے پَر خشک تھے۔

میں نے جھیل کے پانیوں میں موجود ان گنت مرغابیوں کو اپنی نگاہ میں تصور کیا یہ جاننے کےلیے کہ کیا ان میں وہ چار مرغابیاں ہیں جن کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں۔

میری نگاہ جس مرغابی پر ٹھرتی وہ میرے گمان میں اپنے پَر پھڑ پھڑاتی یہ کہتی کہ ہاں میں اُن چاروں میں سے ایک ہوں ، بقیہ تین تم تلاش کر لو ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم نا ممکن کی جستجو میں ہو۔ یہ ضروری تو نہیں کہ خوشی کا تعلق پوری چار مرغابیوں سے ہو۔ وہ ایک مرغابی بھی تو ہو سکتی ہے جو کہ میں ہوں۔ میں ہی یکتا، میں ہی احد ہوں۔ میں ہی حق ہوں۔ کیا مجھے بھی حلآج کی مانند سُولی پر چڑھا دو گے ؟

چین  کرونا وائرس اور چکوالپینگولن کو اردو میں چیونٹی خور کہا جاتا ہے اور یہ پاکستان کے کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے لیکن ...
12/02/2020

چین کرونا وائرس اور چکوال

پینگولن کو اردو میں چیونٹی خور کہا جاتا ہے اور یہ پاکستان کے کئی علاقوں میں پایا جاتا ہے لیکن اس کی سب سے بڑی تعداد پوٹھوہار کے علاقے، خاص طور پر چکوال میں پائی جاتی ہے۔

چین کے شہر ووہان کے جس علاقے سے پہلا مریض سامنے آیا وہ جنگلی جانوروں کی منڈی ہے۔ پہلے کہا گیا کہ سوروں سے یہ وائرس آیا پھر چمگادڑوں پر توجہ مرکوز ہوئی، لیکن اب ماہرین کی اکثریت کا خیال ہے کہ یہ وائرس پینگولن نامی جانور سے انسانوں میں منتقل ہوا ہے۔
معروف سائنسی جریدے نیچر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق پینگولن میں بھی کرونا وائرس پایا جاتا ہے اور جب اس وائرس کے جینیاتی مواد کا موازنہ ووہان کے کرونا وائرس (2019-nCoV) سے کیا گیا تو پتہ چلا کہ دونوں میں 99 فیصد اشتراک ہے۔
آئی یو سی این (انٹرنیشنل یونین فار کنزرویشن آف نیچر) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پینگولن کی حقیقی تعداد کے بارے میں باقاعدہ کوئی تحقیق نہیں ہوئی لیکن جب انگریز دور میں جنگل کاٹ کر بڑی تعداد میں زمینوں پر کاشت کاری شروع کی گئی تو سندھ میں یہ جانور کوہ سلمان کے پہاڑی علاقوں اور بلوچستان کی طرف ہجرت کر گیا اب سندھ میں صرف پانچ فیصد ہی پینگولن باقی رہ گئے ہیں۔
پاکستان وائلڈ لائف کنزرویشن فاؤنڈیشن کے وائس چیئرمین صفوان شہاب احمد نے کہا کہ چند سال پہلے تک پاکستان کسٹم پینگولن کی سمگلنگ کے حوالے سے اعداد و شمار جاری کرتا تھا مگر اب اس تجارت سے وابستہ پیسے کی طاقت کے آگے سارے ادارے بے بس ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ایک پینگولن 25 ہزار کا بکتا ہے جو چین پہنچ کر دس لاکھ کا ہو جاتا ہے۔ جبکہ اس کی کھال پر لگے ہوئے چھلکوں کی قیمت چینی مارکیٹ میں ساڑھے چار لاکھ روپے کلو تک ہے، یہی وجہ ہے کہ جب وائلڈ لائف والے کہیں چھاپہ مارتے بھی ہیں تو چھلکوں کی 80 فیصد تعداد راستے میں ہی غائب کر دی جاتی ہے اور کاغذی کارروائی پور ی کر دی جاتی ہے۔
ان کے مطابق محکمہ وائلڈ لائف کے قوانین ابھی تک وہی پرانے ہیں اور پینگولن کے پکڑنے پر 15 ہزار جرمانہ یا چھ ماہ قید ہے جبکہ انڈیا میں پینگولن پکڑنے پر 20 سال قید یا دو کروڑ جرمانے کی سزا ہے۔
پینگولن ایک نہات ماحول دوست جانور ہے یہ چیونٹیاں اور دیمک کھاتا ہے لیکن گذشتہ سالوں میں اس کے غیر قانونی کاروبار کی وجہ سے سندھ اور خیبر پختونخوا میں اس کی تعدا د میں 90 فیصد، پنجاب میں 80 فیصد اور آزاد کشمیر میں 50 فیصد تک کمی آ چکی ہے جس کی وجہ سے ان علاقوں میں جنگلوں کو دیمک کھا رہی ہے۔
صفوان شہاب نے بتایا کہ ان علاقوں میں جانے سے پتہ چلتا ہے کہ جائیں وہاں دس دس فٹ تک درختوں پر دیمک چڑھ چکی ہے، اور پوٹھوہار اور آزاد کشمیر کے جنگلات دیمک کی وجہ سے مر رہے ہیں اور شاید اگلے چند سالوں میں یہ بالکل ہی ختم ہو کر رہ جائیں گے۔
انھوں نے کہا کہ پاکستان سے چین میں پینگولن کی غیر قانونی سمگلنگ بڑے منظم چینلز کے ذریعے ہو رہی ہے اور مافیا نے اس میں پکھی واسوں کو لگایا ہوا ہے جو پینگولن کو پکڑتے ہیں پھر اس کا گوشت اور اس کے جسم پر لگے چھلکوں کو الگ الگ کرتے ہیں۔ اس مافیا کی سرپرستی کرنے والوں میں محکمہ وائلڈ لائف اور کسٹم کے حکام بھی شامل ہیں۔

اس کی مثال دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ پنجاب میں محکمہ وائلڈ لائف کا اعزازی وارڈن ایک بین الاقوامی شکاری کو لگایا گیا ہے، اسی طرح 18ویں ترمیم کے بعد وائلڈ لائف کا محکمہ صوبوں کو منتقل ہو چکا ہے اور صوبے وفاق کی مانتے ہی نہیں، وفاق چونکہ ان عالمی معاہدوں کو دستخط کردہ ہے جن کی رو سے نایاب جانوروں کی نسلوں کے تحفظ اس کی ذمہ داری ہے مگر وہ اپنی ذمہ داری صرف صوبوں کو خط لکھنے تک محدود کر چکا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ پینگولن کی آبادی تیزی سے معدوم ہو رہی ہے اور صرف گذشتہ تین سالوں میں اس کی تعداد میں 84 فیصد کمی آ چکی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کرنے کے ساتھ لوگوں میں پائے جانے والے مغالطے بھی ختم کرنا ہوں گے کیونکہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ قبرستانوں سے مردے نکال کر کھا جاتا ہے حالانکہ اس کی خوراک صرف چونٹیاں اور دیمک ہیں۔

حکمہ سندھ وائلڈ لائف نے جنوری 2019 میں کچھووں اور پینگولن کا دو ہزار کلو گوشت پکڑا جسے سمگلنگ کی غرض سے ذخیرہ کیا گیا تھا مگر اس وقت صورت حال بڑی عجیب ہو گئی جب وائلڈ لائف کے دفتر سے یہ قیمتی گوشت چرا لیا گیا۔ پولیس کا کہنا تھا کہ یہ چوری محکمے کی ملی بھگت سے ہوئی ہے۔
چین میں جس کرونا وائرس نے تباہی مچاہی ہوئی ہے کوئی بعید نہیں کہ یہ وائرس چکوال سے ہی پینگولن کے ذریعے چین گیا ہو اور وہاں سے یہ انسانوں میں منتقل ہو گیا ہو۔
تاہم واضح رہے کہ ابھی اس سلسلے میں مزید تجربات کرنا باقی ہیں جن سے حتمی طور پر یہ ثابت ہو سکے کہ پینگولن ہی کرونا وائرس کے پھیلاؤ کا سبب ہے۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ یہ معلوم کرنا ہو گا کہ یہ پینگولن کہاں سے آیا، جس کے بعد کہیں جا کر حالیہ وبا پھیلانے والے کرونا وائرس کے اصل منبع کا سراغ لگایا جا سکے گا۔

01/01/2020
کٹاس میں 13 سالہ بچہ ڈوب کر ہلاک
13/09/2019

کٹاس میں 13 سالہ بچہ ڈوب کر ہلاک

15/07/2019

ایک لڑائی ۔ ایک سزا ۔ ایک سڑک
انگریز کا دور حکومت تھا اور چکوال کے ایک گاوں کے لوگوں کی اکثر آپس میں لڑائی ھوتی رھتی تھی ۔ ان کو جیل بھی بھیجا گیا اور سزائیں بھی دیں گئی لیکن لڑائی ختم نہ ھو سکی۔ آخر کار ایک قتل ھو گیا۔ جج نے ان کو دس سال کی سزا سنا دی۔ انگریز سرکار کے حد سے زیادہ وفادار ہونے کی وجہ سے دوسرے انگریز نے جج سے سفارش کی کہ ان کی سزا معاف کر دی جائے کیونکہ یہ ہمارے وفا دار ہیں اور اس سے ان میں مایوسی پھیل جائے گی۔ لیکن جج نے کہا کہ سزا تو معاف نہیں ھو سکتی لیکن ان کی وفا داری کے پیش نظر ان کے سامنے ایک تجویز رکھی گئی کہ یا تو آپ دس سال جیل میں گزار لیں یا پھر چوآ سیدن شاہ سے کھیوڑہ ایک سڑک خود مزدوری کر کے بنا دیں۔ ان لوگوں نے خوشی سے سڑک بنانے کا فیصلہ کیا ۔ جج نے مزید کہا کہ سڑک کا نقشہ وہ ساتھ ساتھ دیں گے۔
قصہ مختصر سرکار نے ایک میل کا نقشہ دیا اور سڑک بنانے کا کام شروع ھو گیا۔ اس سے پہلے کوئی باقاعدہ سڑک موجود نہیں تھی۔ کچھ کلو میڑ تیزی سے مکمل ھو گئے جب سڑک پہاڑ سے نیچے اتارنے کی باری آئی تو انگریز نے سڑک کو گھما کر دوسرے پہاڑ پر چڑھا دیا ۔ غرض اس طرح گھماتے گھماتے سڑک مکمل کرنے میں دس سال کا عرصہ لگا۔
انگریز کو گئے عرصہ دراز ھو گیا لیکن سڑک وہی ھے ۔ بائیس کلو میڑ کا سفر ایک گھنٹے کے قریب ھے اور جو جانی اور مالی نقصان ہر سال ایکسڈنٹ کی وجہ سے ھوتا ھے اس کا کوئی حساب نہیں۔ ھماری محکمہ جات وھی لکیر کے فقیر بن کر سڑک کی دوبارہ تعمیر کے دیتے ہیں کیونکہ لمبی سڑک لمبا بل اور لمبا کمیشن۔ اس کے علاوہ ان کی قابلیت کے کیا کہنے۔
قصہ مختصر وہ سزا اب بھی علاقے کے لوگ بھگت رھے ہیں اور پتا نہیں کب تک بھگتے گے۔

Address

Chakwal
48350

Telephone

03315795176

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when News Chakwal posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share