03/09/2020
مستصر حسین تارڑ کی کتاب ـ پیار کا پہلا پنجاب ۔ سے اقتباس
کلر کہار کی سرکنڈوں سے اٹی گھاس پھونس میں الجھی جوھڑ نما جھیل میں سینکڑوں مرغابیاں اس دھند بھری سویر میں تیرتی نہ تھیں، ساکت اور بےجان سی لگتی تھیں، البتہ کبھی کبھار ان میں سے کوئی ایک جب اپنے پر جھاڑتی، ان پروں پر جو پانی کے قطرے دھند میں دھندلاتے تھے انھیں جھاڑتی تب گمان ہوتا کہ وہ تصویریں نھیں ہیں اُن میں جان ھے اور اُس جان میں اُن کے وہ دل دھڑکتے ہیں جن کی دھڑکن اُن کے آبائی وطن کی برفوں کی شدؔت سے تھم جاتے اگر وہ اُن قہر بھرے موسموں سے فرار ہو کر، طویل اڑانوں کے بعد کلر کہار کی اس آسودہ پانیوں والی جھیل پر نہ اترتیں۔
مہا بھارت میں جب ارجن اپنے بھائی کرشن سے اس دنیا کے بارے میں کچھ بھید جاننا چاہتا ہے تو کرشن کہتا ہے
۔
اور یہ بھی جان لو کہ کنول لے پتے اور مرغابی کے پـَر پانی میں رہنے کے باوجود خشک رہتے ہیں، دنیا میں رہتے ہیں پر اس کی آلائشوں سے آزاد رہتے ہیں۔
کلر کہار جھیل میں جتنی بھی مرغابیاں تھیں پانی میں رہنے کے باوجود اُن کے پَر خشک تھے۔
میں نے جھیل کے پانیوں میں موجود ان گنت مرغابیوں کو اپنی نگاہ میں تصور کیا یہ جاننے کےلیے کہ کیا ان میں وہ چار مرغابیاں ہیں جن کا خوشی سے کوئی تعلق نہیں۔
میری نگاہ جس مرغابی پر ٹھرتی وہ میرے گمان میں اپنے پَر پھڑ پھڑاتی یہ کہتی کہ ہاں میں اُن چاروں میں سے ایک ہوں ، بقیہ تین تم تلاش کر لو ۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ تم نا ممکن کی جستجو میں ہو۔ یہ ضروری تو نہیں کہ خوشی کا تعلق پوری چار مرغابیوں سے ہو۔ وہ ایک مرغابی بھی تو ہو سکتی ہے جو کہ میں ہوں۔ میں ہی یکتا، میں ہی احد ہوں۔ میں ہی حق ہوں۔ کیا مجھے بھی حلآج کی مانند سُولی پر چڑھا دو گے ؟