25/04/2026
پٹرول 250 سے بڑھا کر 485 روپے تک پہنچا دیا گیا، یعنی عوام پر 200 روپے سے زائد کا بوجھ ڈال دیا گیا۔ جب عالمی منڈی میں قیمتیں بڑھیں تو کہا گیا کہ یہ جنگ اور عالمی حالات کی وجہ سے ہے۔ لیکن اب جب وہی جنگ بھی ختم ہو چکی ہے اور عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں واضح طور پر کم ہو رہی ہیں، تب صرف 12 روپے کمی کا اعلان کیا گیا ہے۔ یہ کون سا ریلیف ہے؟ یہ عوام کے ساتھ مذاق اور دھوکہ ہے۔ جب اضافہ فوراً عوام تک منتقل کیا گیا تھا تو اب کمی کیوں نہیں؟ اگر ٹرانسپورٹ کرائے اور اشیاء کی قیمتیں کم نہیں ہوتیں تو اس کی مکمل ذمہ داری اس ناکارہ حکومت پر عائد ہوتی ہے۔ عوام اب مزید اس بے حسی اور ناانصافی کو برداشت نہیں کرے گی۔”جنوبی ایشیا میں پٹرول کی قیمتیں
1۔ 🇵🇰 پاکستان — 370.40 روپے فی لیٹر
2۔ پیٹرول کی قیمت میں 80or12 روپے کمی عوام کو موت دکھا کر بخار پر راضی کرلیا گیا۔🇱🇰 سری لنکا — 266 سری لنکن روپے فی لیٹر
3۔ 🇳🇵 نیپال — 169 نیپالی روپے فی لیٹر
4۔ 🇮🇳 بھارت — 103 بھارتی روپے فی لیٹر
5۔ 🇧🇩 بنگلہ دیش — 265 ٹکا فی لیٹر
6 -🇦🇫 افغانستان — 61 افغانی فی لیٹر
7۔ 🇮🇷 ایران — 6 روپے فی لیٹر
پاکستانی عوام پر ظلم کی انتہا ہے اس کو مسترد کرتے ہیںجدید تحقیق کے مطابق دنیا کے کسی بھی 2 ملکوں کی جنگ کا سب سے زیادہ اثر 3 ملکوں پر پڑتا ہے، دو جنگ لڑنے والے اور تیسرا پاکستان اگر حکومت نے اعلان کیا کہ ایک لیٹر پیٹرول پانچ سو پر ہونے کے ساتھ ساتھ پیچھے سے ایک انگلی بھی دی جائی گی تو یہ وہ قوم ہے کہ اس پر احتجاج کے بجائے اپنے ساتھ گھر سے سرسوں کا تیل لیکر جائیگی تاکہ انگلی جانے میں تکلیف کم ہو ۔
افتخار عالم,بدبودار فوج کے لائے جعلی ناسور عوام کو نوچ نوچ کر کھائیں گے اور کیا جب تک عوام انکے گھروں میں گھس کر انکو نشان عبرت نہیں بنائے گی یہ لوگ ایسے ھی عوام کو نوچتے رھیں گے
ان ساری چیزوں کا پاکستان کے عوام کو کوئی فائدہ نہیں ھماری بیس کروڑ کا بنیادی مسلہ بجلی گیس کھانے پینے کی اشیاء کی کم قیمتوں کا مسلہ ھے بنیادی حقوق کا مسلہ ھے فوج نے ستر سالوں میں ملک کا جو حشر کیا وہ کیسے ٹھیک ھو گا کسی ایک فرد کے بس کا مسلہ نہیں فوج کا احتساب ھو گا تو ھی ملک ٹھیک ھو سکتا ھے ورنہ یہی کرپشن بدبودار سسٹم سے لوگ مریں گے بھوک سے مہنگائی سے بے روزگاری سے اداروں کے بے لگام ھونے سےایک خبر کے مطابق پچھلے دس سالوں میں پاکستانی آئی پی پیز نے 8.344 ہزار ارب روپے کیپیسٹی چارجز یعنی بجلی نہ بنانے کے لیے ہیں۔ یہ اتنی بڑی رقم ہے کہ 2 ہزار میگاواٹ کے دس ڈیم
بنا کر 20 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کی جا سکتی تھی۔ اور دوسری طرف بھاشا ڈیم کی لاگت صرف 1.42 ہزار ارب ہے, پاکستان کے پاس ادا کرنے کیلئے پیسے نہیں ہیں. پاکستان کو تباہ کرنے والی یہ کمپنیاں کس کی ہیں؟ یہ تباہ کن معاہدے کن ملک دشمنوں نے کئے تھے؟ اس پر آخر کون انکوائری کرے گا ؟؟ ذمہ داران کو تختہ دار پر کون لٹکائے گا ؟؟؟