24/08/2026
🚨 سرحد یونیورسٹی واقعہ — طلبہ کا مؤقف
سرحد یونیورسٹی کے طلبہ کے مطابق ایک خاتون استاد کو کسی بات پر ناگواری ہوئی، جس کے بعد انہوں نے اپنے باوردی شوہر کو یونیورسٹی بلایا۔ طلبہ کا دعویٰ ہے کہ وہاں پہنچنے کے بعد مذکورہ افسر نے چند طلبہ کو ڈنڈے مارے، اور روکنے کی کوشش پر مبینہ طور پر ہتھیار نکال کر طلبہ کی طرف تان دیا۔ طلبہ کے مطابق فائرنگ بھی ہوئی۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے پولیس سے افسر کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا، تاہم ان کے مطابق پولیس نے فوری کارروائی نہیں کی۔
❓ اہم سوالات:
1️⃣ کیا یونیورسٹی میں باوردی مسلح افسر کا اس طرح آنا اور ہتھیار استعمال کرنا قانونی ہے؟
2️⃣ کیا طلبہ پر ڈنڈے برسانے کی اجازت ہے؟
3️⃣ اگر فائرنگ کا واقعہ پیش آیا تو پولیس نے فوری کارروائی کیوں نہیں کی؟
طلبہ کا مطالبہ ہے کہ واقعے کی شفاف اور غیرجانبدارانہ تحقیقات کی جائیں اور اگر الزامات درست ثابت ہوں تو قانون کے مطابق کارروائی کی جائے۔
سیاست سے بالاتر ہو کر طلبہ کے تحفظ اور انصاف کی بات ہونی چاہیے۔
⚠️ یہ تمام نکات طلبہ کے بیان پر مبنی ہیں؛ حتمی ذمہ داری کا تعین تحقیقات کے بعد ہی ممکن ہے۔
#طلبہ #انصاف #پشاور #خیبرپختونخوا