03/10/2026
ستر سالوں میں پہلی دفعہ اس خطہ بے آئین کو وفاق کی طرف سے ایک میگا پراجیکٹ یعنی تین سو بستروں پر مشتمل اسپتال کی شکل میں دیا گیا
جب اس پراجیکٹ حقیقت کا اعلان ہوا تو اسکا حقیقت کا روپ دھارنا اس لۓ بھی سہل لگا کہ اسپتال ہزا میں اسکے لۓ زمین پہلے سے ہی موجود تھی....
اب تین سو بستروں پر مشتمل اسپتال کا پی سی ون منظوری کے آخری مراحل میں ہے اور لگ بھگ منظور ہوا چاہتا ہے
ایسے پراجیکٹ زندگی میں ایک آدھ بار ہی مل سکتے ہیں اور وفاق کے منصوبوں کا ایک نقص یہ ہوتا ہے کہ انکو زرا سی رکاوٹ,مزاحمت یا پھر عوامی یا انتظامی ردعمل کا سامنا کرنا پڑے تو اس بہانے وہ فورا لسٹ سے ختم کردۓ جاتے ہیں...
ایسا ایک بہانہ اس بدقسمت منصوبے کو پچھلے سال ملا جب عدلیہ کے کسی عمارت کی تعمیر میں یہیں زمین استعمال کرنے کی بات کرنے اور اس عمارت کا افتتاح کرنے آنے والے عدلیہ کے سربراہ کے دورے کے دوران مقامی ڈاکٹرز اور عدلیہ کے درمیان ناچاقی کی کیفیت پیدا ہوئی جس کے بعد علماء اکرام,سول سوسائٹی,وکلاء اور عوامی مداخلت پر وہ خطرہ ٹل گیا اور افتتاح کو موخر کیا گیا ...
جب بات بڑھی تو اسوقت کے وزیر اعلی گلگت بلتستان جناب حاجی گلبر خان صاحب کی صدارت میں ایک اعلی سطحی اجلاس میں عدلیہ کو اس سے منسلک اسپتال کی چار دیواری سے باہر زمین مختص کرنے کی منظوری دی گئ تاکہ اس قومی اور عوامی پراجیکٹ کو ممکنہ انحدام سے بچایا جا سکے اس بات کو باقاعدہ منٹ آف میٹنگ کا حصہ بنایا گیا جو کہ رکارڈ پر دستیاب ہے
اس جمود کی کیفیت پر پر پہلے کنکر تب پڑا جب گزشتہ دنوں یہ بات منظر عام پر آئی کہ عدلیہ کے سربراہ چاہتے ہیں کہ انکی عمارت اپنے سابقہ منصوبے کے مطابق اسپتال ہزا کے اسی جگہ ہی تعمیر پر بضد ہیں اور متبادل جگہ کے کۓ گۓ فیصلے کی بات کرنے پر محکمہ صحت اور تعمیرات عامہ کے کچھ مقامی افسران کی سرزنش بھی کی اور کہا کہ اسپتال یا پھر وفاق کے پراجیکٹ ایسے نہیں بنتے وہ فیز کے حساب سے بنتے ہیں...چاہے فیض سے بنے یا بے فیز فیضیاب بہر حال عوام نے ہی ہونا ہے...
انکے اس ضد سے دو ہی باتوں کا شبہ ہوتا ہے
اول یہ کہ کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی مخصوص گروہ کی طرف سے دیامر کے اس اہم منصوبے کے خلاف کوئی بڑی سازش رچائی جا رہی ہے اور یہ اسکا شاخسانہ ہے جس کے بعد عوام یہ سوال کرنے پر مثر ہے کہ متبادل جگہ کی فراہہمی کے باوجود اسی جگہ پر عمارت کی تعمیر پر بضد ہونا انکے دعوے کو تقویت دیتا ہے
جبکہ دوسری وجہ بے جا ضد,بغض اور کدورت جو کہ اتنے بڑے منصب پر براجمان شخص سے توقع کرنا بھی عبث ہے
بہر حال ہر دو صورتوں میں نقصان عوام کا ہے کہ اسکا نتیجہ اس بڑے منصوبے کا ممکنہ اختتام کی صورت میں نکل سکتا ہے
اب یہ علماء دیامر,یوتھ علماء کونسل,دیامر یوتھ مومنٹ ,یوتھ دیامر,عوام دیامر,دیامر بار اور وائ ڈی اے اور پی ایم اے دیامر کی اجتماعی زمہ داری ہے کہ ان دونوں اہم ترین منصوبوں کی اس صورت حفاظت کریں کہ متبادل جگہ پر عدلیہ کی عمارت بھی بنے اور اپنی جگہ پر اسپتال بھی تاکہ عوام الناس کو انکی دہلیز پر انصاف بھی ملے اور صحت بھی.....
بصد شکریہ عوام دیامر........