Chilas News

Call Directions Website Contact the business

Chilas News The breaking and latest news Updates of Gilgit Baltistan,Pakistan,Knowledge, information,Tourism ect.

Committed to bring you up-to-the minute news & featured stories from around Gilgit Baltistan, Pakistan

Continuing the Journey of Educational DevelopmentA two-day refresher training on Teacher Development and Early Childhood...
07/10/2026

Continuing the Journey of Educational Development

A two-day refresher training on Teacher Development and Early Childhood Education (ECE) and FLN was successfully completed through the joint efforts of Aga Khan Rural Support Programme (AKRSP) and the School Education Department, Diamer.

The training was facilitated by Master Trainers Saeed Ullah and Ghulam Naseer Barkat, with the participation of 25 teachers from across Diamer District.

The training focused on strengthening teachers’ teaching and literacy skills, as well as introducing them to modern methods of assessment and evaluation. Participants were also equipped with practical strategies to effectively apply these approaches in their classroom practices.

The training represents another positive step towards strengthening teachers’ professional capacities and improving the quality of education in Diamer.

چلاس ۔ محکمہ پولیس  میں  بھرتیوں کے دوران جمشید دکھی  فاونڈیشن نے  بےروزگار نوجوان کے لیے خصوصی پانی پلانے کا انتظام کر ...
03/10/2026

چلاس ۔
محکمہ پولیس میں بھرتیوں کے دوران جمشید دکھی فاونڈیشن نے بےروزگار نوجوان کے لیے خصوصی پانی پلانے کا انتظام کر لیا ۔ پولیس کے پاس سہولیات ناکافی ہیں
دوسری بات دیامر فیزیکل دوڑ میں ایر سٹرپ کی لمبای 1.6 میل سے ذیادہ رکھئ گی ہئں ۔ اور وقت 7منٹ کے ڈجاے 6.5 رکھی گی جو کہ نارمل انسان کی صلاحیت کے مطابق نہئ ۔ امیدوراں کی شکایت IGP سے نوٹس کی درخواست ۔سٹرپ کی لمبای کی پیمائیش میٹر کے بجاے گاڑی کے زریعے ناپی گی ہین جوکہ غیر تسلی بخش پیمایش ہیں ۔۔۔۔

کیا ملازمتوں پر ہمار حق نہی ۔؟محکمہ ایجوکیشن گلگت بلتستان و دیامر نے  سیاسی  اور اقریا پروری  کی بنیاد پر چلاس ٹاون کے  ...
03/10/2026

کیا ملازمتوں پر ہمار حق نہی ۔؟
محکمہ ایجوکیشن گلگت بلتستان و دیامر نے سیاسی اور اقریا پروری کی بنیاد پر چلاس ٹاون کے ڈمسایل رکھنے والے گریجویٹ ، سب سے ذیادہ ابادی رکھنے والا تحصیل کو حق ملازمت میں ہندوستان کے ہندوں اور انگریزوں کو بھی پیچھ چھوڑ دیا ۔کیا ٹاون چلاس کے لوگ اچھوت ہین محکمہ ایجوکیشن دیامر پر ایک تعصب پرست ،قوم پرست مخصوص ٹولے کا قبضہ ہیں یہ مفاد پرست اور باریاں لیتے رہیں صرف اپنے رشتہ داروں کے بھرتی کرنے کی علاوہ کوی کام نہی ۔ مجال ھیکہ کسی دوسرے علاقے کے افسر کو موقع دیں ۔ انصاف اور ظلم کی داستان یہ ہیے کہ پورا اشتہار چھان مار کہی بھی ٹاوں اور تحصیل چلاس کے گریجویٹ اور ضرورت مند سکولوں کے لیے ایک بھی اسامی نہی رکھی گی ہیں ۔خاص کر پرایمری سکول بٹوکوٹ ،شاھین کوٹ،ہرپن داس ،رونی ،ہای سکول تکیہ ،شاھین ،چلاس سینگلی ہیٹ کے کے ایچ کے ایک بھی اسامی نہی رکھی گی ۔ جہان سات سیکشن ہیں اور صرف ایک یا دو اساتذہ دستیاب ہیں۔ کیا ملازمتوں میں ٹاون چلاس ،تھور ،گیچھی تھک کا حق نہی ؟ ٹاون گریجویٹ کو جان بوجھ کر نظر انداز کیا جارہا ہیں یہ ایک سوچھی سمجھی ساذش کے تحت کی جارہی تمام یوتھ تنظیموں ،مذہبی رہنماوں ،سیاسی لوگوں کو محکمہ ایجوکیشن کو قید سے اذاد کرانا ہوگا۔ملاذمتوں کو میرٹ، انصاف، ابادی اور ضرورت کے مطابق ٹاون چلاس کے سکولوں کو اسامیاں منظور ہونی چاہیے۔ اسکی ایک اہم وجہ محکمہ ایجوکیشن دیامر نے ہارڈ ایریا سے اساتذہ سے کمیشن لیکر ٹاون کے سکولوں میں غیر قانونی طور ایڑجسٹ کر لیا ہین جس سے ٹاون کے خالی اسامیاں پر ہارڈ ایریا کے کے اساتذہ قابض ہوے ہیں۔ جس سے ہارڈ کے اسامیاں خالی کر کے نی بھرتیاں کی جاتی ہیں ۔غیر قانونی ایڈجسمٹ میں گرلز ہای سکول چلاس میں 7 گرلز مڈل سکول رونی 4، ہرپن۔داس 2 ماڈل ہای سکول چلاس 3 ،ہای سکول رونی 5، ہای سکول تکیہ 4 ،شاھین کوٹ 4 ،خالی اسامیوں کی غیر قانونی پر ہارڈ ایریا کے ڈومسیایل رکھنے والے افراد کا قبضہ ۔ ان کی ابتدای افس ارڈر اورہ ڈومسایل کی چھان بین ہونی چاہیے اس سے ہارڈ ایریا کے سکول بند پڑھے ہیں اس ناجایز قبضے اور ناانصافی کے خلاف تمام گریجویٹ ، علما ،یوتھ اور ٹاون کے سیاسی لوگ مل کر أواذ اور عدالتی کاروای کا اغاذ کرنی چاہیے وذیر اعلی امجد حسین ،وذیر تعلیم امان علی ،سیکریٹری سکول ایجوکیشن اس قرباپروری کا نوٹس لیں تمام۔ہارڈ کے اساتذو کو ان کی ابتدای جاے تعیناتی و ڈومسایل علاقے کی سکول بیجھا جائیں تاکہ مقامی گریجوٹ کو ملاذمت اور لوگوں کو تعلیم کا حق مل سکے ۔محکمہ ایجوکیشن کو کاروباری کے بجاے تعلیمی ادارہ بنانے میں کردار ادا کریں۔

شاھین کوٹ  کے سرکاری سکولوں کو کیو نظر انداذ کیا گیا  ؟؟؟؟؟؟؟ شہریوں کی تحفظات ۔۔۔۔اور شکوہ
26/09/2026

شاھین کوٹ کے سرکاری سکولوں کو کیو نظر انداذ کیا گیا ؟؟؟؟؟؟؟
شہریوں کی تحفظات ۔۔۔۔اور شکوہ

26/09/2026

Celebrating my 10th year on Facebook. Thank you for your continuing support. I could never have made it without you. 🙏🤗🎉

(ضلع دیامر کا تعلیمی زوال اور اس کے طویل المدتی اثرات)تعلیم وہ روشنی ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور، ت...
26/09/2026

(ضلع دیامر کا تعلیمی زوال اور اس کے طویل المدتی اثرات)

تعلیم وہ روشنی ہے جو انسان کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور، ترقی اور خوش حالی کی طرف لے جاتی ہے۔ کسی بھی معاشرے کی ترقی کا بنیادی پیمانہ اس کا تعلیمی معیار ہوتا ہے۔ تعلیم سے دوری دراصل ایک قوم کو ترقی کے مواقع، معاشی خودمختاری اور بہتر مستقبل سے دور کرنے کے مترادف ہے۔
ضلع دیامر بدقسمتی سے تعلیمی میدان میں گلگت بلتستان کے پسماندہ اضلاع میں شمار ہوتا ہے۔ خصوصاً خواتین کی تعلیم کے حوالے سے صورتِ حال انتہائی تشویش ناک ہے۔ اگر ایک بڑے آبادی والے علاقے میں بھی بنیادی تعلیمی سہولیات ناکافی ہوں تو یہ محض ایک انتظامی مسئلہ نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا سوال بن جاتا ہے۔
حال ہی میں وزیرِ تعلیم گلگت بلتستان جناب امان اللہ صاحب کے دورۂ دیامر نے بعض سوئے ہوئے حلقوں کو تعلیمی مسائل پر بات کرنے کا موقع فراہم کیا۔ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے کہ کم از کم تعلیم کا مسئلہ دوبارہ عوامی گفتگو کا حصہ بنا۔ تاہم ہمیں یہ سوال بھی خود سے پوچھنا ہوگا کہ کیا ہم واقعی تعلیم کے لیے بیدار ہوئے ہیں، یا ہماری بیداری کے پیچھے صرف بے روزگاری، پسماندگی، سیاسی محرومی اور دیگر معاشرتی مسائل کا احساس ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ آج بہت سے لوگوں کو احساس ہو رہا ہے کہ تعلیم کے بغیر دوسری اقوام، نسلوں اور معاشروں کے ساتھ ترقی کی دوڑ میں آگے بڑھنا ممکن نہیں۔ اگر ہم اپنی حالت بدلنا چاہتے ہیں تو ہمیں تعلیم کو محض سیاسی نعرہ نہیں بلکہ اپنی اجتماعی ترجیح بنانا ہوگا۔
وزیرِ تعلیم کے دورے پر خوشی کا اظہار اپنی جگہ، لیکن ایک اہم سوال یہ بھی ہے کہ اس سے پہلے محکمۂ تعلیم کے اعلیٰ افسران نے ان علاقوں کا کتنے مرتبہ دورہ کیا؟ ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر تعلیم نے مقامی تعلیمی اداروں کی صورتِ حال کا کتنی بار جائزہ لیا؟ منتخب نمائندوں نے اپنے حلقوں کے اسکولوں کا کتنی بار دورہ کیا؟ کیا مقامی آبادی نے کبھی محسوس کیا کہ ان کے بچوں کی تعلیم بھی حکومت اور منتخب نمائندوں کی ترجیحات میں شامل ہے؟
اس لیے ہمیں وزیرِ تعلیم کے دورے کو محض تصویروں اور رسمی ملاقاتوں تک محدود نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اسے ایک مستقل تعلیمی مہم کا نقطۂ آغاز بنانا چاہیے۔
علامہ اقبال نے کہا تھا:
"خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا"
یہ شعر ہمیں واضح پیغام دیتا ہے کہ اپنی حالت بدلنے کے لیے سب سے پہلے خود آواز اٹھانا ہوگی۔ حکومت کی ذمہ داری اپنی جگہ، مگر کمیونٹی، والدین، اساتذہ، سول سوسائٹی اور منتخب نمائندوں کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
انتظامی کارکردگی اور تعلیمی ترجیحات
دیامر میں تعلیمی مسائل صرف اسکولوں کی تعداد تک محدود نہیں بلکہ اس میں اساتذہ کی کمی، بنیادی سہولیات کا فقدان، طالبات کے لیے محدود تعلیمی مواقع، غیر متوازن وسائل اور بعض علاقوں میں تعلیمی اداروں کی غیر مؤثر فعالیت جیسے مسائل بھی شامل ہیں۔
یہ بھی ایک قابلِ غور امر ہے کہ بعض اسکولوں کے نام یا درجۂ حیثیت تبدیل کیے گئے، لیکن عملاً وہاں مطلوبہ کلاسز، اساتذہ اور دیگر سہولیات دستیاب نہیں۔ مثال کے طور پر بعض اداروں کو ہائر سیکنڈری، مڈل یا ہائی اسکول کا درجہ دیے جانے کے باوجود اگر مطلوبہ تدریسی عملہ اور کلاس رومز موجود نہ ہوں تو محض نام کی تبدیلی سے تعلیمی معیار بہتر نہیں ہوسکتا۔
تعلیمی ادارے کا اصل معیار اس کے نام سے نہیں بلکہ وہاں موجود اساتذہ، طلبہ، کلاسز، تدریسی ماحول، بنیادی سہولیات اور تعلیمی نتائج سے متعین ہوتا ہے۔
اسی طرح اساتذہ کی تعیناتی اور تبادلوں کے نظام میں شفافیت اور میرٹ کو یقینی بنانا بھی انتہائی ضروری ہے۔ اگر مقامی طور پر دستیاب اہل گریجویٹس کو روزگار کے مواقع نہ ملیں اور دوسری طرف دور دراز علاقوں کیے اساتذہ کی تحصیل چلاس کی خالی آسامیوں یا تعیناتیوں کے حوالے سے شفافیت پر سوالات اٹھیں تو اس سے عوام میں بے اعتمادی پیدا ہوتی ہے۔ اس لیے تمام بھرتیوں، تعیناتیوں اور غیر قانونی ایڈجسٹمنٹس کو ختم کر کے واضح قواعد، میرٹ اور شفاف طریقۂ کار کے مطابق ہونا چاہیے۔

شاہین کوٹ اور اس کے گردونواح کی تعلیمی صورتِ حال خصوصی توجہ کی متقاضی ہے۔ ایک بڑی آبادی کے باوجود اگر بچیوں کے لیے مناسب تعلیمی ادارے موجود نہ ہوں تو اس کے اثرات صرف موجودہ نسل تک محدود نہیں رہتے بلکہ آنے والی کئی نسلیں متاثر ہوتی ہیں۔
اگر کسی علاقے میں ایک پرائمری اسکول میں متعدد سیکشنز ہوں اور ان کے لیے صرف ایک یا چند اساتذہ دستیاب ہوں، تو اس صورتِ حال میں معیاری تعلیم کی فراہمی ایک بڑا چیلنج بن جاتی ہے۔ اسی طرح جلیل گاؤں اور پائیں گاؤں جیسے علاقوں میں بچیوں کے لیے مناسب اسکولوں کا نہ ہونا بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
چلاس ٹاؤن میں بھی خواتین اساتذہ کی کمی، کلاس رومز، فرنیچر اور دیگر بنیادی سہولیات کی قلت قابلِ توجہ ہے۔ اگر ایک گرلز اسکول میں متعدد سیکشنز ہوں مگر اساتذہ کی تعداد انتہائی کم ہو تو اس کا براہِ راست اثر طالبات کے تعلیمی معیار پر پڑتا ہے۔
ایسے حالات میں محض سوشل میڈیا پر اسکولوں کے دوروں کی تصاویر کافی نہیں۔ اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب اسکول میں اساتذہ موجود ہوں، کلاسز باقاعدگی سے ہوں، طلبہ کے لیے بنیادی سہولیات دستیاب ہوں اور ان کے تعلیمی نتائج میں بہتری آئے۔
ضلع دیامر بھر میں ایسے 176 اسکول غیر فعال موجود ہیں جو اساتذہ یا دیگر وجوہات کی بنا پر مؤثر طور پر فعال نہیں، اور ان میں بڑی تعداد گرلز اسکولوں کی ہے، تو یہ ایک غیر معمولی تعلیمی بحران کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس مسئلے پر فوری طور پر جامع اور ضلعی سطح کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ ہر غیر فعال یا کم فعال اسکول کی وجوہات الگ الگ معلوم کی جائیں، اساتذہ کی ضرورت کا تعین کیا جائے، خالی آسامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر پُر کیا جائے اور خاص طور پر طالبات کے لیے تعلیمی اداروں کی دستیابی یقینی بنائی جائے۔
اب خاموشی نہیں، منظم آواز کی ضرورت ہے
شاہین کوٹ اور چلاس کے دیگر علاقوں کے مکینوں کو اپنی تعلیمی حالت بدلنے کے لیے منظم، پُرامن اور مثبت آواز اٹھانا ہوگی۔ مطالبات واضح اور قابلِ عمل ہونے چاہئیں:
آبادی اور ضرورت کے مطابق نئے گرلز اور بوائز اسکول قائم کیے جائیں۔
موجودہ اسکولوں میں اساتذہ کی کمی فوری طور پر دور کی جائے۔
خالی آسامیوں پر شفاف اور میرٹ پر بھرتیاں کی جائیں۔
سخت اور دور دراز علاقوں کے لیے شفاف ٹرانسفر اور پوسٹنگ پالیسی بنائی جائے۔
اسکولوں کے لیے فرنیچر، کلاس رومز، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔
گرلز ایجوکیشن کو خصوصی ترجیح دی جائے۔
غیر فعال اسکولوں کا ضلعی سطح پر باقاعدہ آڈٹ کیا جائے۔
منتخب نمائندے اور محکمۂ تعلیم کے افسران اسکولوں کے باقاعدہ فیلڈ وزٹ کریں۔
تعلیمی وسائل کی تقسیم آبادی، ضرورت اور طلبہ کی تعداد کے مطابق منصفانہ بنیادوں پر کی جائے۔
اسکولوں کی کارکردگی کا جائزہ صرف تصاویر یا کاغذی کارروائی سے نہیں بلکہ حقیقی تعلیمی نتائج کی بنیاد پر لیا جائے۔
آخر میں یہ سمجھنا ہوگا کہ کسی علاقے کی پسماندگی محض قسمت کا فیصلہ نہیں ہوتی۔ تعلیم کے ذریعے معاشرے اپنی سمت تبدیل کرتے ہیں۔ اگر آج ہم نے دیامر کے بچوں، خصوصاً بچیوں، کی تعلیم کو ترجیح نہ دی تو اس کے اثرات بے روزگاری، غربت، سماجی محرومی اور کمزور انسانی وسائل کی صورت میں آنے والی نسلوں کو برداشت کرنا پڑیں گے۔
وزیرِ تعلیم کا دورۂ دیامر اگر ایک مستقل اور سنجیدہ تعلیمی پالیسی کی بنیاد بنتا ہے تو اسے ایک مثبت آغاز سمجھا جاسکتا ہے۔ لیکن اصل تبدیلی اس وقت آئے گی جب حکومت، محکمۂ تعلیم، منتخب نمائندے اور مقامی کمیونٹی مل کر عملی اقدامات کریں گے۔
تعلیم کسی ایک فرد، ادارے یا حکومت کی ذمہ داری نہیں؛ یہ پوری قوم کے مستقبل کی ذمہ داری ہے۔
اگر آج ہم نے اپنے بچوں کے لیے اسکول، اساتذہ اور تعلیمی مواقع کا مطالبہ نہیں کیا تو کل ہماری آنے والی نسلیں ہم سے سوال کریں گی کہ جب ان کے مستقبل کا فیصلہ ہو رہا تھا تو ہم خاموش کیوں تھے؟

16/08/2026
وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کے تعلیمی اصلاحات قابلِ تحسین، مگر دیامر میں غیر قانونی ایڈجسٹمنٹس کا ازالہ ضروری۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔...
16/08/2026

وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان کے تعلیمی اصلاحات قابلِ تحسین، مگر دیامر میں غیر قانونی ایڈجسٹمنٹس کا ازالہ ضروری۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین ایڈووکیٹ کی جانب سے محکمۂ تعلیم میں اصلاحات اور تعلیمی نظام کی بہتری کے لیے کیے جانے والے اقدامات قابلِ تعریف ہیں۔ تاہم ضلع دیامر میں اساتذہ کی مبینہ طور پر سفارشی بنیادوں پر ایڈجسٹمنٹ کے باعث بالخصوص ہارڈ ایریاز میں ایک سنگین تعلیمی بحران پیدا ہوا ہے۔
محکمۂ تعلیم دیامر کے ذمہ دار حکام کی جانب سے مبینہ طور پر اقرباپروری اور سیاسی اثر و رسوخ کے تحت گوہرآباد، بونر، گیس بالا پائن اور تھک نیاٹ جیسے ہارڈ ایریاز سے متعدد میل و فی میل اساتذہ کو ٹرانسفر کرکے چلاس ٹاؤن کے مختلف اسکولوں، جن میں ہائی اسکول تکیہ، ہائی اسکول شاہین، ماڈل ہائی اسکول چلاس، گرلز ہائی اسکول چلاس اور مڈل اسکول رونئی شامل ہیں، میں ایڈجسٹ کیا گیا۔ اگر یہ ایڈجسٹمنٹس قواعد و ضوابط اور منظور شدہ میرٹ کے برخلاف ہوئی ہیں تو ان کا شفاف اور غیر جانب دارانہ جائزہ ناگزیر ہے۔
ان اقدامات کے نتیجے میں ایک طرف ہارڈ ایریاز کے متعدد اسکول اساتذہ کی کمی کا شکار ہوئے یا تعلیمی سرگرمیاں متاثر ہوئیں، جبکہ دوسری جانب چلاس ٹاؤن کے مقامی تعلیم یافتہ اور اہل گریجویٹس کے لیے روزگار کے مواقع محدود ہوئے۔ مزید برآں، 2020ء کے بعد پیدا ہونے والی خالی آسامیوں پر بھی مبینہ طور پر میرٹ کے بجائے ایڈجسٹمنٹ کے ذریعے تعیناتیوں کا سلسلہ جاری رہا، جس سے مقامی نوجوانوں میں مایوسی اور بے روزگاری میں اضافہ ہوا۔
لہٰذا وزیرِ اعلیٰ گلگت بلتستان سے مؤدبانہ اپیل ہے کہ اس معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے ایک غیر جانب دار، بااختیار اور شفاف کمیٹی تشکیل دی جائے۔ محکمۂ تعلیم کے ریکارڈ کے ساتھ ساتھ متعلقہ AGPR ریکارڈ بھی طلب کیا جائے تاکہ کئی دہائیوں سے ہونے والی تمام ایڈجسٹمنٹس، ٹرانسفرز اور تعیناتیوں کا قواعد و ضوابط، منظور شدہ آسامیوں اور میرٹ کی بنیاد پر جائزہ لیا جا سکے۔
جو ایڈجسٹمنٹس قواعد کے خلاف ثابت ہوں، انہیں منسوخ کرکے اساتذہ کو ان کے اصل یا ضرورت کے مطابق ہارڈ ایریاز میں تعینات کیا جائے اور خالی آسامیوں کو باقاعدہ اشتہار، شفاف میرٹ اور مسابقتی طریقۂ کار کے ذریعے پُر کیا جائے۔
اس اقدام سے نہ صرف ہارڈ ایریاز کے غیر فعال یا متاثرہ اسکول دوبارہ مؤثر انداز میں فعال ہو سکیں گے بلکہ دور دراز علاقوں کے بچوں کا تعلیم کا بنیادی حق بھی بحال ہوگا۔ ساتھ ہی چلاس ٹاؤن اور دیگر علاقوں کے اہل اور تعلیم یافتہ نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، جس سے میرٹ، شفافیت اور عوام کا محکمۂ تعلیم پر اعتماد بھی بحال ہوگا۔
تعلیم کسی بھی علاقے کی ترقی کی بنیاد ہے؛ اس لیے اساتذہ کی تعیناتی بھی سیاسی سفارش کے بجائے میرٹ، ضرورت اور طلبہ کے مفاد کو سامنے رکھتے ہوئے ہونی چاہیے۔

13/08/2026

Writing
دیامر کی تعلیمی محرومی
اور محکمۂ تعلیم میں میرٹ پر انتظامی اصلاحات کی ضرورت۔
؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محکمۂ سکول ایجوکیشن گلگت بلتستان عرصۂ دراز سے انتظامی مسائل، میرٹ کی مبینہ پامالی، تبادلوں و تعیناتیوں کے تنازعات اور دیگر شکایات کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرتا رہا ہے۔ افسوس ناک امر یہ ہے کہ ان مسائل کے نتیجے میں گلگت بلتستان کے تعلیمی مسائل کم ہونے کے بجائے بعض علاقوں میں مزید سنگین ہوتے جا رہے ہیں۔
اگر گلگت بلتستان کے تمام اضلاع کا تعلیمی موازنہ کیا جائے تو دیامر بدقسمتی سے تعلیمی پسماندگی کا شکار نظر آتا ہے۔ حالانکہ دیامر کے بچے ذہانت، صلاحیت اور محنت کے اعتبار سے کسی دوسرے ضلع کے بچوں سے کم نہیں۔ متعدد طلبہ نے محدود وسائل کے باوجود تعلیمی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ اصل مسئلہ بچوں کی صلاحیت نہیں بلکہ انہیں معیاری سکول، تربیت یافتہ اساتذہ، بنیادی تعلیمی سہولیات اور سازگار ماحول کی عدم دستیابی ہے۔
دیامر کے عوام میں یہ تاثر مسلسل مضبوط ہو رہا ہے کہ محکمۂ تعلیم میں ایک مخصوص گروہ کا اثر و رسوخ میرٹ اور شفافیت کے اصولوں پر غالب آ رہا ہے، جس کے باعث قابل، اہل اور میرٹ پر یقین رکھنے والے افراد کے لیے آگے بڑھنے کے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ اگر یہ تاثر درست ہے تو یہ نہ صرف محکمۂ تعلیم بلکہ پورے خطے کے مستقبل کے لیے تشویش ناک صورتحال ہے۔
خصوصاً ضلع دیامر میں ڈائریکٹر اور ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کی اہم انتظامی نشستوں پر بار بار تعیناتیوں، عدالتی تنازعات اور ایک دوسرے کے خلاف مقدمات و حکمِ امتناعی کی صورتحال نے محکمۂ تعلیم کی کارکردگی پر سوالات اٹھائے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ کشمکش واقعی بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے ہے؟ اگر مقصد تعلیمی ترقی ہے تو تمام توانائیاں انتظامی عہدوں کی کشمکش کے بجائے سکولوں کی بہتری، اساتذہ کی دستیابی اور طلبہ کے تعلیمی معیار کو بلند کرنے پر صرف ہونی چاہئیں۔
اسی طرح دیامر میں بعض غیر معمولی بھرتیوں اور تقرریوں کے حوالے سے بھی مختلف شکایات سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض افراد کے مطابق متعلقہ قانونی و انتظامی طریقۂ کار، بشمول ڈسٹرکٹ ریکروٹمنٹ کمیٹی (DRC)، کی تکمیل کے بغیر بعض افراد کو لیب اسسٹنٹ، اکاؤنٹس برانچ اور کلریکل نوعیت کے کاموں پر تعینات کیا گیا۔ اگر ایسی شکایات درست ہیں تو ان کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ضروری ہیں تاکہ حقائق عوام کے سامنے لائے جا سکیں اور کسی بھی غیر قانونی یا غیر شفاف تقرری کو روکا جا سکے۔
اسی طرح دیامر ٹاؤن کی بعض آسامیوں پر مبینہ طور پر ڈومیسائل یا شناختی کارڈ کے پتے میں تبدیلی کے ذریعے استور اور گلگت سے امیدواروں کی بھرتی کے الزامات بھی سامنے آئے ہیں، جن میں سے بعض معاملات عدالتِ عالیہ میں زیرِ سماعت بتائے جاتے ہیں۔ چونکہ معاملہ عدالتی عمل کا حصہ ہے، اس لیے ضروری ہے کہ حتمی فیصلہ عدالت کے اختیار میں رہتے ہوئے تمام متعلقہ ادارے قانون اور میرٹ کے مطابق کارروائی کریں۔
دیامر کی تعلیمی پسماندگی کی ایک اہم وجہ دور دراز اور ہارڈ ایریاز میں اساتذہ کی کمی بھی ہے۔ بٹوگاہ، کھنر، گوہرآباد، تانگیر، داریل اور تھور جیسے علاقوں کے سکولوں میں تعینات اساتذہ کو اگر مستقل یا غیر معمولی طریقے سے چلاس ٹاؤن کے سکولوں میں ایڈجسٹ کیا جائے تو اس کا براہِ راست نقصان دور دراز علاقوں کے بچوں کو ہوتا ہے۔ شہری علاقوں میں اساتذہ کی تعداد بڑھتی جاتی ہے جبکہ دور افتادہ علاقوں کے بچے استاد کے بنیادی حق سے بھی محروم رہ جاتے ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی صورت میں تعلیمی انصاف کے اصولوں سے مطابقت نہیں رکھتی۔
لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ دیامر میں Hard Area Policy پر سختی سے عمل درآمد کیا جائے، دور دراز علاقوں کی خالی آسامیوں کو ترجیحی بنیادوں پر پُر کیا جائے اور جن اساتذہ کو ان علاقوں میں مستقل طور پر تعینات کیا گیا تھا، انہیں ضابطے اور قانون کے مطابق اپنی اصل جائے تعیناتی پر واپس بھیجا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ اساتذہ کی کمی کو پورا کرنے کے لیے نئی بھرتیوں، شفاف تبادلوں اور ضرورت کی بنیاد پر افرادی قوت کی تقسیم کا مؤثر نظام وضع کیا جائے۔
ہم وزیراعلیٰ گلگت بلتستان جناب امجد حسین زاہد سے اس امر پر امید رکھتے ہیں کہ وہ دیامر کی تعلیمی صورتحال کا نوٹس لے کر اصلاحات کے عمل کو مزید مؤثر بنائیں گے۔ اسی طرح وزیرِ تعلیم اور سیکرٹری سکول ایجوکیشن سے بھی گزارش ہے کہ دیامر کے تعلیمی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے، ہارڈ ایریاز میں اساتذہ کی کمی دور کی جائے، غیر ضابطہ ایڈجسٹمنٹس کا جائزہ لیا جائے اور تمام انتظامی و بھرتی کے معاملات میں میرٹ، شفافیت اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنایا جائے۔
یہ کسی فرد، گروہ یا ادارے کے خلاف جنگ نہیں؛ یہ دیامر کے بچوں کے تعلیمی مستقبل کی جنگ ہے۔ ہمیں عہدوں کی کشمکش نہیں، سکولوں کی بہتری چاہیے؛ ذاتی مفادات نہیں، میرٹ چاہیے؛ سفارش نہیں، قانون چاہیے؛ اور شہری علاقوں میں اساتذہ کا ارتکاز نہیں بلکہ ہر بچے تک معیاری تعلیم کی رسائی چاہیے۔
دیامر کے بچے ذہین اور باصلاحیت ہیں۔ انہیں صرف ایک منصفانہ موقع، اچھا سکول، قابل استاد اور بنیادی سہولیات درکار ہیں۔ اگر آج ہم نے ان کے تعلیمی حق کو یقینی بنا دیا تو یہی بچے کل دیامر اور گلگت بلتستان کی ترقی کے معمار بن سکتے ہیں۔
تحریر شفیع اللہ قریشی ۔ MA ,Edu

عثمان ٹایر کی جانب سے سال 2026 کے بہترین کسٹمرز کو تحائف دے رہیں ہی۔ عثمان  ٹایر گلگت کا مشہور اور معیاری ٹایر سنٹر ہیں ...
28/07/2026

عثمان ٹایر کی جانب سے سال 2026 کے بہترین کسٹمرز کو تحائف دے رہیں ہی۔ عثمان ٹایر گلگت کا مشہور اور معیاری ٹایر سنٹر ہیں جہاں ہر قسم کے معیاری ٹایرز روایتی قیمت پر دستیاب ہیں ۔

Address

Gilgit-Baltista, Diamer
Chilas
14100

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Chilas News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Chilas News:

Shortcuts

Share