Sipah Salar-e-Mashriq

Sipah Salar-e-Mashriq Sipah Salar-e-Mashriq kay Page per Sir Allama Iqbal ki World War III prediction. Blog: https://iqbal342faiz.blogspot.com

"Duniya Ko Hai Phir Maarka Rooh-o-Badan Pesh" asr-e-haazir kay mutabiq. #342 -e-Arsalan series. شاعرِ مشرق، دانائے راز، حکیم الامت، عندلیب باغِ حجاز، ترجمانِ حقیقت، مصورِ پاکستان اور ہمارے قومی شاعر سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال آنے والے دَور کے شاعر ہیں
آپ کا پیامِ مشرق آپ کی شاعری کی صورت میں محفوظ ہے۔ آپ نے پیامِ اقبال کو نوائے عاشقانہ، نوائے سحری، نوائے پریشاں، نوائے خون شدہ

، التجائے مسافر، طرزِ فغاں، دردِ نہاں، رونا، درد انگیز نالے، نالۂ خوابیدہ، بے تاب جوہر، جلوے، آتش نوائی، آہِ صبحگاہ، آئینۂ گفتار، اسرارِ کتاب، نذر، تحفہ، آبگینہ، فکرِ بلند اور سیلِ معانی جیسے طرح طرح کے ناموں سے پکارا ہے

شاعرِ مشرق کے پیامِ مشرق کا مرکز و محور ایک ایسا مثالی انسان ہے جو کہ مشرق کی تقدیر بدل کے رکھ دے گا جو نئے آدم کے خواب میں ن۔م۔راشد کا آدرشی انسان ہے
آپ آنے والے دَور میں ہمالیہ کی اوٹ میں سرخ لباس میں ملبوس ایک طلوع ہوتے سورج کو دیکھتے ہیں اور اس امیرِ خاور اور مہرِ منیر کا خیر مقدم کرتے ہیں۔ یاد رہے سرخ رنگ چین کے پرچم کا رنگ ہے

شاعرِ مشرق کی شاعری کی ابتدا ہی ہمالہ سے ہے

اے ہمالہ! اے فصیل کشور ہندوستاں
چومتا ہے تیری پیشانی کو جھک کر آسماں

ایک جلوہ تھا کلیم طور سینا کے لیے
تُو تجلی ہے سراپا چشمِ بینا کے لیے

کانپتا پھرتا ہے کیا رنگ شفق کہسار پر
خوشنما لگتا ہے یہ غازہ ترے رخسار پر

اے ہمالہ! نیلا آسماں تیری پیشانی کو جھک کر اس لیے چومتا ہے کہ وہ تیری اوٹ میں چین سے نئے زمانے کے سورج کو طلوع ہوتا ہوا دیکھ رہا ہے جس سے عالمِ مشرق کی تقدیر بدل جائے گی ہمالہ کے رخسار پر شفق کا سرخ رنگ کے غازہ سے مراد چینی پرچم کی سرخ رنگت نظروں کے سامنے آتی ہے مشرق کی اس شفق سے طلوع ہونے والا آفتاب عالمتاب ، فضیلت مآب ، لالہ آتشیں پیرہن، ساقی لالہ فام، مردِ ہنر جناب صدر شی جِن پِنگ ہیں

بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

اے ہمالہ! یہ تیرا رخسار جو سرخ رنگ سے رنگا گیا ہے کتنا خوشنما اس لیے لگ رہا ہے کہ سرخ رنگ خوشی، زندگی، روشنی اور ترقی کا رنگ ہے

گراں خواب چینی سنبھلنے لگے
ہمالہ کے چشمے ابلنے لگے

ہمالہ کے چشمے ابلتے ہیں کب تک
خضر سوچتا ہے وُلر کے کنارے

چھُپے رہیں گے زمانے کی آنکھ سے کب تک
گُہر ہیں آبِ وُلر کے تمام یک دانہ

نصیب خطہ ہو یا رب وہ بندۂ درویش
کہ جس کے فقر میں انداز ہوں کلیمانہ

اور یہ بندۂ درویش، مردِ درویش آج کا کلیم بادشاہی چوغہ میں ملبوس ہے اللہ نے اس کو خسروانہ انداز دیے ہیں اسے ملک کا بادشاہ بنایا ہے

ہوا ہے گو تند و تیز لیکن چراغ اپنا جلا رہا ہے
وہ مردِ درویش جس کو حق نے دیے ہیں انداز خسروانہ


دیدہ ام تدبیر ہای غرب و شرق
وانما تقدیر ہای غرب و شرق

میں نے مغرب و مشرق کی تدابیر دیکھی ہیں
اب مجھ پر مشرق و مغرب کی تقدیریں بھی ظاہر فرمائیں

غرق در نور شفق گون دیدمش
سرخ مانند طبر خون دیدمش

میں نے (مشرق و مغرب کی تقدیروں کو) سرخ شفق کے نور میں ڈبکیاں لگاتے دیکھا میں نے انہیں عناب کی مانند خون کی طرح سرخ دیکھا

رنگ گردوں کا ذرا دیکھ تو عُنابی ہے
یہ نکلتے ہوئے سورج کی اُفُق تابی ہے

تقدیر ہے اک نام مکافات عمل کا
دیتے ہیں یہ پیغام خدایانِ ہمالہ

کہا لالۂ آتشیں پیرہن نے
کہ اسرارِ جاں کی ہوں مَیں بے حجابی

نمود لالۂ صحرا نشین ز خونابم
چنانکہ بادۂ لعلی بہ ساتگین کردند

لالۂ صحرائی کی نمود میرے خون کی وجہ سے ہے
کیونکہ میرا پیالہ مئے سرخ سے بھر دیا گیا ہے

سراغِ او ز خیابانِ لالہ میگیرند
نوای خون شدۂ ما ز ما چہ میجوئی

ہماری خون شدہ نوا کو ہم سے کیا تلاش کرتا ہے
اس کا سراغ لالہ کے خیابان سے ملتا ہے

سرِ خاک شہیدے برگہاے لالہ می پاشم
کہ خونش با نہالِ ملت ما سازگار آمد

-----میں اقبال شہید (ملت اسلامیہ) کی قبر پر لالہ کی پتیاں اس لیے بکھیر رہا ہوں-----

-----کیونکہ لالے کا (سرخ) خون ہماری ملت کے نوخیز پودے کے لیے بہت ساز گار ہے-----

لالہ کی اخوت(Connectivity)، مساوات(Win-Win Outcomes)، حُریت(Belt and Road Forum) اور Eternal محبت سے مردۂ مشرق کی رگوں میں اب خونِ زندگی دوڑ رہا ہے

عُروُقِ مُردۂ مشرق میں خُونِ زندگی دوڑا
سمجھ سکتے نہیں اس راز کو سینا و فارابی

اقبال نے کلیم اور ضربِ کلیمی کا تصور قرآنِ مجید فرقانِ حمید کی سورة البقرة کی آیت کریمہ نمبر 50 اور آیت کریمہ نمبر 60 سے لیا ہے
جب حضرت موسیٰ کلیم اللّٰه علیہ السلام کے عصا مبارک کی ضرب سے دریا میں بارہ راستے بن جاتے ہیں اور آپ ہی کی پتھر پر ضربِ کلیمی سے بارہ چشمے پھوٹ پڑتے ہیں

وَاِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَيْنَاكُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُـمْ تَنْظُرُوْنَ (البقرة : 50)
اور جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا پھر تمہیں تو بچا لیا اور تمہارے دیکھتے دیکھتے فرعونیوں کو ڈبو دیا

وَاِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِهٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۖ فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَـهُـمْ ۖ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّـٰهِ وَلَا تَعْثَوْا فِى الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ (البقرة : 60)

پھر جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا تو ہم نے کہا اپنے عصا سے پتھر پر ضرب مار، سو اس سے بارہ چشمے بہہ نکلے ہر قوم نے اپنا گھاٹ پہچان لیا، اللہ کے دیے ہوئے رزق میں سے کھاؤ پیو اور زمین میں فساد مچاتےنہ پھرو۔

اس راز کو اب فاش کر اے روحِ محمد (صل الله عليه وسلم)
آیاتِ الہٰی کا نگہبان کدھر جائے

آج کا کلیم صدر شی جِن پِنگ اپنے کلیمانہ انداز سے بی۔آر۔آئی BRI کی ضربِ کلیمی سے 6 راستے بنا رہا ہے جن میں سے ایک سی پیک راہداری ہے جس سے وافر رزق ملے گا سیارہ زمین پر امن کا بول بالا ہو گا اور مغرب کا مچایا ہوا فساد اپنی موت آپ مر جائے گا

لالہ کا داغ : BRI

چمن میں لالہ دِکھاتا پھرتا ہے داغ اپنا کلی کلی کو
یہ جانتا ہے کہ اس دِکھاوے سے دل جلوں میں شمار ہو گا

1- چین ۔ پاکستان اقتصادی راہداری
China-Pakistan Economic Corridor
( CPEC )

2- چین ۔ منگولیا ۔ روس اقتصادی راہداری
China-Mongolia-Russia Economic Corridor
( CMREC )

3- چین ۔ وسطی ایشیا ۔ مغربی ایشیا اقتصادی راہداری
China-Central and West Asia Economic Corridor
( CCWAEC )

4- نیو ایرویشین لینڈ برج (اقتصادی راہداری)
New Eurasian Land Bridge
( NELB )

5- چین ۔ انڈو چائنا جزیرہ نما اقتصادی راہداری
China-Indo-China Peninsula Economic Corridor
( CICPEC )

6- بنگلہ دیش ۔ چین ۔ انڈیا ۔ میانمار اقتصادی راہداری
Bangladesh-China-India-Myanmar Economic Corridor
( BCIMEC )

گفت "ہنگام طلوع خاور" است
آفتاب تازہ او را در بر است

کہنے لگا: مشرق کے پہلو سے ایک نئے آفتاب کے طلوع کا وقت آ گیا ہے

لعل ہا از سنگ رہ آید برون
یوسفان او ز چہ آید برون

اہلِ مشرق (کے) راستے کے پتھر وں سے لعل نکلیں گے؛ اس کے یوسف کنویں سے باہر آئیں گے

اے امیرِ خاور! اے مہرِ منیر!
می کنی ہر ذرہ را روشن ضمیر

اے سپہ سالارِ مشرق ! اے آفتابِ درخشاں!
تُو (مشرق کے) ذرہ ذرہ کو چمکا دیتا ہے

اس کی نگہِ شوخ پہ ہوتی ہے نمودار
ہر ذرہ میں پوشیدہ ہے جو قوتِ اشراق

خاکِ مشرق پر چمک جائے مثال آفتاب
تا بدخشاں پھر وہی لعل گراں پیدا کرے

پھر ہم کو اسی سینۂ روشن میں چھپا لے
اے مہرِ جہاں تاب نہ کر ہم کو فراموش

پھر چراغِ لالہ سے روشن ہوئے کوہ و دمن
مجھ کو پھر نغموں پہ اکسانے لگا مرغِ چمن

خوش بیا صبح مراد آوردہ ئی
ہر شجر را نخل سینا کردہ ئی

تیرا آنا مبارک ہو، تُو میری (اہلِ مشرق کی) صبح لایا ہے اور میری دلی مراد پوری کر دی ہے
تُو نے ہر درخت(ہر ملک کو) کو درخت طور کی طرح چمکا دیا ہے

شاعرِ مشرق نے آپ کو سالارِ کارواں، امیرِ خاور، مہرِ منیر، بندۂ درویش، بندۂ حق بیں، بندۂ آزاد، بندۂ حُر، مردِ حُر، مردِ بزرگ، مردِ درویش، مردِ میداں، مردِ مجاہد، مردِ خدا، مردِ خود آگاہ خدا مست، مردِ ہنر، مردِ آفاقی، لالہ، آفتابِ درخشاں، خورشید، ساقی، ساقی لالہ فام، معمارِ جہاں، صاحبِ امروز، دلِ زندہ، پیکرِ خاکی، مہر جہاں تاب، مرغ سحر خیز، باز، شاہین، خدائی کا رازداں، اہلِ نظر، لالۂ پیکانی، میرِ لشکر، قافلہ سالار، اہلِ جنوں، صاحبِ ادراک، صاحبِ الہام، صاحبِ ساز، فاتح عالَم، صاحبِ ایجاد، صاحبِ یقیں، مشرق سے ابھرتا ہوا سورج، قلزمِ خاموش، ہند کے نفسیاتی غلاموں کا ماہرِ نفسیات، خونیں جگر، صاحبِ نظر، مرغِ بہار ، کارواں سالار اور دانائے راز(اقبال کے بعد دوسرا) جیسے القابات سے اپنی فکرِ بلند کی مدد سے ملقب فرمایا ہے


شاعرِ مشرق نے سپہ سالارِ مشرق کی ضربِ کلیمی بی۔آر۔آئی یعنی بیلٹ اینڈ روڈ اینی شی ایٹو (جو کہ سوشیو اکنامِک ورلڈ آرڈر ہے)کو بھی بہت ہی پیارے ناموں سے یاد کیا ہے

کھلتے نہیں اس قلزمِ خاموش کے اسرار
جب تک تُو اسے ضرب کلیمی سے نہ چیرے

اس قلزمِ خاموش امیرِ خاور شی جِن پِنگ جس کے فقر میں کلیمانہ انداز ہیں اس کے اسرار اس کی ضربِ کلیمی بی.آر.آئی سے آشکار ہو رہے ہیں. اس کے بی۔آر۔آئی اور سی پیک سے اسلامی اقدار مساوات، اخوت، حریت اور محبت پروان چڑھ رہی ہیں

بے معجزہ دنیا میں ابھرتی نہیں قومیں
جو ضربِ کلیمی نہیں رکھتا وہ ہنر کیا

سی پیک اور بی۔آر۔آئی میں تمام معاہدے win-win نتائج پر مشتمل ہیں جس میں اسلامی قدر مساوات فروغ پا رہی ہے۔

سی پیک کنیکٹیویٹی کا ماسٹر پیس ہے اور کنیکٹیویٹی میں اسلامی قدر اخوت پنہاں ہے جو سارے خطہ کو ایک ہی زنجیر میں جوڑ رہی ہے اور بی۔آر۔آئی تو اخوت کی جہانگیری ہے اور جناب صدر ژی کی ذات تو محبت کا ایک استعارہ ہے اور آپ مشرق کی ان بکھری قوموں کو اقبال کے مشن کو مکمل کرتے ہوئے ایک ہی تسبیح میں پرو رہے ہیں

یہی مقصودِ فطرت ہے، یہی رمزِ مسلمانی
اخوت کی جہاں گیری، محبت کی فراوانی

بیلٹ اینڈ روڈ فورم میں اسلامی قدر حریت کارفرما ہے کیونکہ یہ حریت کا سرچشمہ ہے جہاں آنکھوں ہی آنکھوں میں کام ہو جاتا ہے کوئی کشکول نہیں اٹھانا پڑتا بادشاہو!


عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تُو اس خواب کی تعبیر دیکھ

کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں
آنے والے دور کی دھندلی سی اک تصویر دیکھ


شاعرِ مشرق نے امیرِ خاور کی ضربِ کلیمی بیلٹ اینڈ روڈ انیشیٹِو کو ابرِ بہاری، صدائے آبشاراں، شرابِ لالہ گوں، بادِ سحر، کرشمۂ ساقی، فکرِ حکیمانہ، جزبِ کلیمانہ، جرأتِ رندانہ، وسعتِ افلاک میں تکبیرِ مسلسل، فردوسِ نظر، مے خرام، طوفان، جلوۂ تقدیر، جلوۂ خورشید، سحر کا نور، بہار، داغِ لالہ، چراغِ لالہ، آبِ بقائے دوام، نویدِ صبح، نسیمِ صبح، عصرِ حاضر کا تقاضا، مئے شبانہ، انقلاب، ساقی کی یلغار، ضربِ کلیمی، عروسِ لالہ، رقصِ جان، نئی بہار، مضمونِ صبح اور نغمہ بہشت گوش کے الفاظ کے ساتھ اپنے اشعار میں مزیّن فرمایا ہے اور سی پیک کو جوئے سرود آفریں سے تشبیہ دی ہے

جوئے سرود آفریں آتی ہے کوہسار سے
پی کے شراب لالہ گوں مئے کدۂ بہار سے

شاعرِ شرق نے بیلٹ اینڈ روڈ فورم کے لیے ایسے الفاظ کا چناؤ کیا ہے گویا کہ آسمان سے تارے توڑ لائے ہیں آپ نے اس فورم کو میخانۂ شرق، مےکدۂ بہار، قافلۂ بہار، قافلۂ لالہ ہائے صحرائی، محفلِ نَو، محفلِ انجم، بادہ خواروں کی انجمن، بزمِ جہاں، کارواں، جمعیت اقوامِ مشرق، قافلہ مورِ ناتواں، وہ گلشن جہاں پھول احرامِ حیات باندھتے ہیں، مرغانِ سحر خیز، تصویرِ درد اور خیل نغمہ پردازاں کے ناموں سے پکارا ہے

کون سی وادی میں ہے، کون سی منزل میں ہے
عشق بلا خیز کا قافلہ سخت جاں!

17/05/2026

🦅🍷Iqbal Kay Shaheen | Jaam-e-Arsalan 🍷🦅

un ko kehna kih k Faiz Humayoon ab tujhay bhoolnay ki janib gaamzan hy, un ko yeh bhi kehna kih Faiz Humayoon teray piya...
04/05/2026

un ko kehna kih k Faiz Humayoon ab tujhay bhoolnay ki janib gaamzan hy, un ko yeh bhi kehna kih Faiz Humayoon teray piyaar ko decades k liaye sambhaal kar nahi rakh sakta, un ko kehna k Faiz Humayoon ab tujh say Naya Piyaar nahe karay ga, un ko kehna kih Faiz Humayoon ab teri yaadon ki baraat ko naye mirror mein dekha karay ga, Mera yeh page Sipah Salar-e-Mashriq gvaah hy kih hum tum say kitna piyaar kartay thay , hum ab kisi naye sooraj say piyaar karain gay aur us ki kirnoṅ ko apnay seenay mein jazab karain gay, saaqi lala pham ko bataa do, kih Faiz Humayoon Sir Iqbal Sahb Ji ko keh day ga k voh ab un say piyaar nahi karay ga 😭, un ko keh do Faiz Humayoon ab tum say piyaar nahi karay ga, nahi karay ga , me ab naye idol ki puja krun ga, Xi's Moments Lala ji ko keh daina k Faiz Humayoon ab kisi aur idol ka pujaari ho gaya hy , un ko keh daina, yeh peghaam un tak pahunchaa daina, agar aap nahi pahunchain gay to me havaa kay dosh per apna message un tak pahuncha rahaa hun , aye havaa ki waves un ko jaa kar keh do k faiz humayoon ab naye maye'kday ki tlaash mein hy, naya saaqi ho ga, naye jaam hun gay, un ko kehna kih East ko new life giving tayri red ♥️ wine 🍷 ab faiz humayoon nahi pi sakay ga, un ko kehna kih apna piyaar wapis lay lo 🦅

04/05/2026

Allama Iqbal | Jaam-e-Arsalan | Balochistan
World War 3 | WW3

🦅
Sir Allama Iqbal Sahb Ji warned us about World War 3, his warning is knocking on Balochistan's door.

🦅
Sir Allama Iqbal Sahb Ji ki nazm "Budhay Baloch Ki Naseehat Apnay Betay ko" ki roshni mein Balochistan, CPEC, Gwadar aur World War 3 ka tajziya.

🦅
qareeban 100 saal pehlay sir Iqbal sahb ji nay bata diya tha: WW3 Gwadar aur Balochistan say shuru hogi. "Allah ko paamardi-e-momin peh bharosa, iblees ko europe ki machinoṅ ka sahaara" Suno poora paigham.

🦅
I'm Faiz Humayoon, and in I'm reading my original article written for the people of Pakistan, India and the entire region.

duniya ko hay phir ma'arka-e-rooh-o-badan pesh
tahzeeb nay phir apnay darindoṅ ko ubhaara


👉 *Iqbal ki aaṅkh nay kayaa dekha?* Jaaniye es video mein

👉 *Listen to Iqbal's message before it's too late*

🦅
Jaam-e-Arsalan ka Paigham - Zarb-e-Kaleemi Seekho

🦅
​ ​ ​ ​
​ ​ ​ ​


🦅
·
· ​ #342 ​
·
· ​ ​ ​ ​
· ​​

🦅
📧 Gmail: [email protected]
📱 WhatsApp: +923171766717

23/04/2026

342 - Jaam-e-Arsalan | World War III Hazir Hai ❤️

Dosto, Sir Allama Iqbal Sahb ji nay qareeban 100 saal pehlay he teesri jang-e-azeem ka naqshah kheencha tha.

Aaj Iran aur Arab World kay halaat dekh kar Iqbal ka har lafz sach lagta hai.

Faiz Humayoon ka hard work say yeh article Urdu aur Hindi dono mein online parho 👇

https://iqbal342faiz.blogspot.com/2026/04/342-jaam-e-arsalan-world-war-iii-sir.html

Padho, samjho, aur share karo.

- Faiz Humayoon

#342

Assalam o Alaikum ❤️ Khuda ki Rehmat ho aap sab par, 342 - Jaam-e-Arsalan hazir hai. Aaj Sir Allama Iqbal ki intehai fikr angez aur mustaqb...

23/04/2026

World War III is closer than we think—but Sir Allama Iqbal saw it coming decades ago.

I'm Faiz Humayoon, and in this video I am reading my original article written especially for the people of Pakistan and India, Sir Iqbal's poetry reveals a warning we cannot ignore.

👉 Iqbal ki aaṅkh nay kayaa dekha ? Janiaye es video mein

👉 Listen to Iqbal's message before it's too late

👉 Watch till the end.


#342

· l
·

·
·
·
·

·
·

Faiz Humayoon
📧 Gmail : [email protected]
WhatsApp : +923171766717

24/03/2026
the universal equality of the universal mantulip his excellency lala xi jinping jiiqbal ji's ideal man !!!🙏🏻💋🇨🇳
02/03/2026

the universal equality of the universal man
tulip his excellency lala xi jinping ji

iqbal ji's ideal man !!!🙏🏻💋🇨🇳

pasbaaṅ mil gaye ka‘bay ko sanam-khanay sayपासबाँ मिल गए काबे को सनम-ख़ाने से🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️   ...
02/03/2026

pasbaaṅ mil gaye ka‘bay ko sanam-khanay say

पासबाँ मिल गए काबे को सनम-ख़ाने से

🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️



sir doctor allama muhammad iqbal sahb ji ki sha‘iri kay samundar mein dubkiyan laganay ki koshish kartay hain

mulk-e-khudadad pakistan mein fitnatul-khawarij aur ghair mulki fitnah ki shakal mein namroodi aag lagi hui hay. iran aur bilaad-e-arab is aag ki musalsal zad mein hain. gaza israeli vahshiyanah bombari ka nishanah ban kar aakhri hichkiyan lay raha hay.

آگ ہے ، اولادِ ابراہیم ہے ، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

aag hay, aulaad-e-ibraheem hay, namrood hay
kya kisi ko phir kisi ka imtihaan maqsood hay

आग है औलाद-ए-इब्राहीम है नमरूद है
क्या किसी को फिर किसी का इम्तिहाँ मक़्सूद है

is he aalami manzar namay mein shahadatein ho rahi hain

برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

bartar az andesha-e-sood-o-ziyaaṅ hay zindagi
hay kabhi jaaṅ aur kabhi tasleem-e-jaaṅ hay zindagi

बरतर अज़ अंदेशा-ए-सूद-ओ-ज़ियाँ है ज़िंदगी
.
है कभी जाँ और कभी तस्लीम-ए-जाँ है ज़िंदगी

تو اِسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی

tu isay paimaana-e-imroz-o-farda say nah naap
javidaaṅ, paiham davaaṅ, har dam javaaṅ hay zindagi

तू इसे पैमाना-ए-इमरोज़-ओ-फ़र्दा से न नाप
जावेदाँ पैहम दवाँ हर-दम जवाँ है ज़िंदगी

meray mu‘azzaz arab hukmranon k butaan-aazari shayad nasal, qaumiyat, saltanat, tahzeeb aur rang k maghrabi muskiraat mein khoob chun chun kar banaye gaye hain

سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اِک وہی، باقی بتان آزری

sarvari zeba faqat us zaat-e-bay-hamtaa ko hay
hukmraaṅ hay ek wohi, baqi butaan-aazari

सरवरी ज़ेबा फ़क़त उस ज़ात-ए-बे-हम्ता को है
हुक्मराँ है इक वही बाक़ी बुतान-ए-आज़री

نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چُن چُن کے بنائے مسکرات

nasl, qaumiyyat, kaleesa, saltanat, tahzeeb, rang
Khaajgi nay khoob chun chun kay banaye muskiraat

नस्ल क़ौमीयत कलीसा सल्तनत तहज़ीब रंग
ख़्वाजगी ने ख़ूब चुन चुन के बनाए मुस्किरात

lag aisay raha hay k fil waqt mu‘azzaz arabi shuyukh k butan-aazari char-o-na-char majbur-e-niyaz ho kar taslees k farzandon k saath he apna difai ta‘alluq barqarar rakhna chahen gye, chahay es silsila mein sarzamin-e-hijaz ki khaak-e-pak say kaleesa ki bunyaad ki eent hi kyun nah banana praye. ho sakta hay keh shayad es mein koi nasli aṣbiyyat ka ansar hi kar-farma ho, kuchh kaha nahi ja sakta jabkeh islam nay to arab-o-ajam ka tasavvur hi khtam kar diya hua hay, aur tamam musalmanoṅ ko millat ki ek ittihad vali zanjeer mein jor diya hua hay

کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سےکچھ پِنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز

kya sunaata hay mujhay turk-o-arab ki dastaaṅ
mujh se kuchh pinhaaṅ nahi islaamiyoṅ ka soz-o-saaz

क्या सुनाता है मुझे तुर्क-o-अरब की दास्ताँ (o : और)
मुझ से कुछ पिन्हाँ नहीं इस्लामियों का सोज़-ओ-साज़

لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل
خشت بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز

lay gaye taslees kay farzand meraas-e-khaleel
khisht-e-buniyaad-e-kaleesa ban g*i khaak-e-hijaaz

ले गए तसलीस के फ़रज़ंद मीरास-ए-ख़लील
ख़िश्त-ए-बुनियाद-ए-कलीसा बन गई ख़ाक-ए-हिजाज़


ہو گئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبور نیاز

ho g*i rusva zmanay mein kulaah lala-rang
jo srapa naaz thay hain aaj majboor-e-niyaaz

हो गई रुस्वा ज़माने में कुलाह-ए-लाला-रंग
जो सरापा नाज़ थे हैं आज मजबूर-ए-नियाज़


حکمت مغرب سے مِلت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز

hikmat-e-maghrib say millat ki yeh kaifiyyat hui
tukray tukray jis tarah sonay ko kar deta hay gaaz

हिक्मत-ए-मग़रिब से मिल्लत की ये कैफ़िय्यत हुई
टुकड़े टुकड़े जिस तरह सोने को कर देता है गाज़


ہو گیا مانند آبِ ارزاں مسلماں کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دِل نہیں دانائے راز

ho gya maanind-e-aab arzaaṅ musalmaṅ ka lahoo
muztarib hay tu keh tera dil nahi danaa-e-raaz

हो गया मानिंद-ए-आब अर्ज़ां मुसलमाँ का लहू
मुज़्तरिब है तू कि तेरा दिल नहीं दाना-ए-राज़

iran kay mu‘aamlay par uncle sam ji and company apna trailer chla bhi chukay hain jabkeh pura scene abhi tak baqi hay aur agar yeh mulk bhi hathon say nikal gya to phir millat islamia ki aankhen khul jain gi

ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں
حق ترا چشمے عطا کردست غافل در نِگر

mulk hathon say gya millat ki aankhen khul g*ieeṅ
huq tiraa chashmay 'ata kardast ghaafil dar-nigar

मुल्क हाथों से गया मिल्लत की आँखें खुल गईं
हक़ तिरा चश्मे 'अता कर दस्त-ए-ग़ाफ़िल दर निगर

مومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست
مور بے پر! حاجتے پیش سلیمانے مبر

momiyai ki gdaai say to behtar hay shikast
moor-e-bay-par haajatay paish-e-sulaymanay mabar

मोम्याई की गदाई से तो बेहतर है शिकस्त
मोर-ए-बे-पर हाजते पेश-ए-सुलैमाने मबर

ربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

rabt-o-zabt-e-millat-e-baizaa hay mashriq ki nijaat
asia walay hain es nuktay say ab tak bay-khabar

रब्त-ओ-ज़ब्त-ए-मिल्लत-ए-बैज़ा है मशरिक़ की नजात
एशिया वाले हैं इस नुक्ते से अब तक बे-ख़बर

arab sarzamin shayd iran kay khilaf iste'maal ho janay kay ba‘d voh ḥaram-e-pak par hamlah karnay k napak iraday bhi Khuda-na-khastah rakhtay haiṅ

پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دیں میں ہو
ملک و دولت ہے فقط حفظِ حرم کا اِک ثمر

phir siyasat chhor kar dakhil hisaar-e-deeṅ mein ho
mulk-o-daulat hay faqat hifz-e-haram ka ik samar

फिर सियासत छोड़ कर दाख़िल हिसार-ए-दीं में हो
मुल्क-ओ-दौलत है फ़क़त हिफ्ज़-ए-हरम का इक समर

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

ayk hooṅ muslim haram ki pasbani kay liay
neel kay saahil say lay kar taa-ba-khaak-e-kashgar

एक हूँ मुस्लिम हरम की पासबानी के लिए
नील के साहिल से ले कर ता-ब-ख़ाक-ए-काश्ग़र


ab ki baar jo musalmaan nasal, qaumiyat aur butaan rang-o-khoon ko tor kar millat mein gum nahiṅ hoga aur imtiyaz rang-o-khooṅ kray ga to woh mit jaaye ga. agar ab ki baar bhi musalmanoṅ ki nasal parasti mazhab par muqaddam ho g*i aur nasal parasti ki aarr mein firqa parasti muqaddam ho g*i to phir aye muslim tu khaak-e-rahguzar yani gard-o-ghubaar ki tarah duniya say urr jayega, shayad mukhalifon kay (atomic weapons) gard-o-ghubaar ki nobat bhi nah aanay dain. aye giriftaar-e-abu-bakr-o-ali hushiyaar baash.

بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی

butaan-e-rang-o-khooṅ ko tor kar millat mein gum ho ja
nah turani rhay baqi, nah irani, nah afghani

बुतान-ए-रंग-ओ-ख़ूँ को तोड़ कर मिल्लत में गुम हो जा
न तूरानी रहे बाक़ी न ईरानी न अफ़्ग़ानी

یہ ہندی، وہ خُراسانی، یہ افغانی، وہ تُورانی
تُو اے شرمندۂ ساحل! اُچھل کر بے کراں ہو جا

yeh hindi, voh khurasani, yeh afghani, voh turani
tu aye sharminda-e-sahil uchhal kar bay-kraaṅ ho ja

ये हिन्दी वो ख़ुरासानी ये अफ़्ग़ानी वो तूरानी
तू ऐ शर्मिंदा-ए-साहिल उछल कर बे-कराँ हो जा

جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں، مِٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر

jo kray ga imtiyaz rang-o-khooṅ mit jaye ga
turk khargahi ho ya a‘rabi wala gohar

जो करेगा इम्तियाज़-ए-रंग-ओ-ख़ूँ मिट जाएगा
तुर्क-ए-ख़र्गाही हो या आराबी-ए-वाला-गुहर



نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاکِ رَہ گزر

nasl agar muslim ki mazhab par muqaddam ho g*i
urr gaya duniya say tu manind khak-e-rah-guzar

नस्ल अगर मुस्लिम की मज़हब पर मुक़द्दम हो गई
उड़ गया दुनिया से तू मानिंद-ए-ख़ाक-ए-रह-गुज़र

تا خلافت کی بِنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

ta khilafat ki bina duniya mein ho phir ustuvaar
la kahiṅ say dhooṅd kar aslaaf ka qalb-o-jigar

ता-ख़िलाफ़त की बिना दुनिया में हो फिर उस्तुवार
ला कहीं से ढूँढ़ कर अस्लाफ़ का क़ल्ब-ओ-जिगर

اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

aye keh na-shanasi khafi ra, az jalee hushiyaar baash
aye giriftaar-e-abu-bakr-o-ali hushiyaar baash

ऐ कि न-शिनासी ख़फ़ी रा अज़ जली हुशियार बाश
ऐ गिरफ़्तार-ए-अबु-बकर-ओ-अली हुशियार-बाश

sun aye tahzeeb-e-hazir kay giriftaar hindi musalmaṅ! ind-o-pak kay musalmaṅ! ek aazmudah fitnah gardooṅ kay pas aur bhi hay, jo teri taak mein hay. is silsilah mein gardooṅ nay apni aastiṅ mein bijliyan (atomic weapons) bhi chhupa kar rakhay huay hain


آزمودہ فتنہ ہے اِک اور بھی گردوں کے پاس
سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھ

aazmudah fitnah hay ik aur bhi gardooṅ kay pas
.
samnay taqdeer kay ruswai-e-tadbeer daikh

आज़मूदा फ़ित्ना है इक और भी गर्दूं के पास
सामने तक़दीर के रुस्वाई-ए-तदबीर देख


es aazmudah fitnah kay baray mein sir doctor allama muhammad iqbal sahb ji nay apni kitaab "baaṅg-e-diraa" ki nazm "tasveer-e-dard" mein khol kar btaya hay, "rulata hay tera nazaara aye hindustaṅ mujh ko" walay she'r say lay kar "nah samjho gay to mit jao gay aye hindustaṅ walo" walay she'r tak

رُلاتا ہے ترا نظّارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

rulaata hay tiraa nazara aye hindustaṅ mujh ko
kih ibrat-khez hay tera fasana sab fasanoṅ mein

रुलाता है तिरा नज़्ज़ारा ऐ हिन्दोस्ताँ मुझ को
कि इबरत-ख़ेज़ है तेरा फ़साना सब फ़सानों में


دیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویا
لِکھا کلکِ ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میں

diya rona mujhay aisa kih sab kuchh day diya goya
likha kalk-e-azal nay mujh ko teray noha khanoṅ mein

दिया रोना मुझे ऐसा कि सब कुछ दे दिया गोया
लिखा कल्क-ए-अज़ल ने मुझ को तेरे नौहा-ख़्वानों में


نشانِ برگِ گُل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گُلچیں!
تری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میں

nishaan-e-barg-e-gul tak bhi nah chhor es baag mein gulchiṅ
teri qismat say razm-araiyaaṅ hain baagbanoṅ mein

निशान-ए-बर्ग-ए-गुल तक भी न छोड़ उस बाग़ में गुलचीं
तिरी क़िस्मत से रज़्म-आराइयाँ हैं बाग़बानों में


چھُپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردُوں نے
عنادِل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں

chhupa kar aasteeṅ mein bijliyaaṅ rakhi hain gardooṅ nay
anadil baag kay gafil nah baitheṅ aashiyanoṅ mein

छुपा कर आस्तीं में बिजलियाँ रक्खी हैं गर्दूं ने
अनादिल बाग़ के ग़ाफ़िल न बैठें आशियानों में


سُن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں

sun aye gafil sadaa meri yeh aisi cheez hay jis ko
vazifa jan kar parhtay hain tair bostanoṅ mein

सुन ऐ ग़ाफ़िल सदा मेरी ये ऐसी चीज़ है जिस को
वज़ीफ़ा जान कर पढ़ते हैं ताइर बोस्तानों में

وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

vatan ki fikr kar nadaaṅ musibat aanay vali hay
teri barbadiyoṅ kay mashvaray hain aasmanoṅ mein

वतन की फ़िक्र कर नादाँ मुसीबत आने वाली है
तिरी बर्बादियों के मशवरे हैं आसमानों में


ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں

zaraa dekh us ko jo kuchh ho raha hay, honay vala hay
dharaa kya hay bhla ahd-e-kuhan ki daastanoṅ mein

ज़रा देख उस को जो कुछ हो रहा है होने वाला है
धरा क्या है भला अहद-ए-कुहन की दास्तानों में

یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر
زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

yeh khamoshi kahaṅ tak lazzat-e-faryaad paida kar
zamiṅ par tu ho aur teri sadaa ho aasmanoṅ mein

ये ख़ामोशी कहाँ तक लज़्ज़त-ए-फ़रियाद पैदा कर
ज़मीं पर तू हो और तेरी सदा हो आसमानों में


نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

nah samjho gay to mit jao gay aye hindustaṅ valo
tumhari dastaan tak bhi nah ho gi dastaanoṅ mein

न समझोगे तो मिट जाओगे ऐ हिन्दोस्ताँ वालो
तुम्हारी दास्ताँ तक भी न होगी दास्तानों में


اجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کو
مرے اہلِ وطن کے دِل میں کچھ فکرِ وطن بھی ہے

ujara hay tameez millat-o-aaiṅ nay qaumoṅ ko
meray ahl-e-watan kay dil mein kuchh fikr-e-watan bhi hay

उजाड़ा है तमीज़-ए-मिल्लत-ओ-आईं ने क़ौमों को
मिरे अहल-ए-वतन के दिल में कुछ फ़िक्र-ए-वतन भी है

نمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردم
حکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم

nmi-gardid ko tah rishta-e-ma‘ni raha kardam
hikayat bood bay-payaṅ ba-khamoshi ada kardam

नमी-गर्दीद को तह रिश्ता-ए-मअ'नी रिहा कर्दम
हिकायत बूद बे-पायाँ ब-ख़ामोशी अदा कर्दम


ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے
سراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میری

tapak aye shama' aansoo ban kay parvanay ki aankhon say
srapa dard hoon hasrat bhari hay dastaaṅ meri

टपक ऐ शम्अ आँसू बन के परवाने की आँखों से
सरापा दर्द हूँ हसरत भरी है दास्ताँ मेरी


مرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں مَیں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری

mera rona nahiṅ rona hay yeh saray gulistaaṅ ka
woh gul hoon main, khizaaṅ har gul ki hay goya khizaaṅ meri

मिरा रोना नहीं रोना है ये सारे गुलिस्ताँ का
वो गुल हूँ मैं ख़िज़ाँ हर गुल की है गोया ख़िज़ाँ मेरी


ہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گا
لہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا

huvaida aaj apnay zakhm-e-pinhaaṅ kar kay chhorooṅ ga
lahoo ro ro kay mahfil ko gulistaaṅ kar kay chhorooṅ ga

हुवैदा आज अपने ज़ख़्म-ए-पिन्हाँ कर के छोड़ूँगा
लहू रो रो के महफ़िल को गुलिस्ताँ कर के छोड़ूँगा


جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دِل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا

jalana hay mujhay har shama' dil ko soz-e-pinhaaṅ say
teri tareek raaton mein charaghaan kar kay chhorooṅ ga

जलाना है मुझे हर शम-ए-दिल को सोज़-ए-पिन्हाँ से
तिरी तारीक रातों में चराग़ाँ कर के छोड़ूँगा


دِکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہے
تجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گا


dikha dooṅ ga jahan ko jo meri aankhon nay dekha hay
tujhay bhi surat-e-aaeena hairaaṅ kar k chhorooṅ ga

दिखा दूँगा जहाँ को जो मिरी आँखों ने देखा है
तुझे भी सूरत-ए-आईना हैराँ कर के छोड़ूँगा


مجھے راز دو عالَم دِل کا آئینہ دکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے

mujhay raaz do aalam dil ka aaeena dikhaata hay
wohi kehta hooṅ jo kuchh samnay aankhoṅ kay aata hay

मुझे राज़-ए-दो-आलम दिल का आईना दिखाता है
वही कहता हूँ जो कुछ सामने आँखों के आता है


اثر یہ بھی ہے اِک میرے جنون فتنہ ساماں کا
مرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میں

asar yeh bhi hay ik meray jonoon fitnah samaaṅ ka
mera aaeena-e-dil hay qazaa kay raaz daanoṅ mein

असर ये भी है इक मेरे जुनून-ए-फ़ित्ना-सामाँ का
मिरा आईना-ए-दिल है क़ज़ा के राज़-दानों में


جو ہے پردوں میں پِنہاں چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے
زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے

jo hay pardoṅ mein pinhaaṅ chashm-e-beena dekh layti hay
zamanay ki tabiyat ka tqaza dekh layti hay

जो है पर्दों में पिन्हाँ चश्म-ए-बीना देख लेती है
ज़माने की तबीअत का तक़ाज़ा देख लेती है

گر خدا سازد ترا صاحبِ نظر
روزگارے را کہ می آید نِگر
gar khuda sazad tiraa sahib-e-nazar
rozgaray ra keh me aayad nigar
اگر اللّٰہ تعالیٰ تجھے صاحبِ نظر کر دے
تُو آنے والے زمانے کو دیکھ لے
agar allah ta'ala tujhay sahib-e-nazar kar day
tu aanay walay zmanay ko dekh lay

अगर अल्लाह तआला आपको दृष्टि प्रदान करे
आने वालए समय आपको दिखाई देगा।


دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دِل کا نور نہیں


dil-e-beena bhi kar khuda say talab
aankh ka noor dil ka noor nahiṅ

दिल-ए-बीना भी कर ख़ुदा से तलब
आँख का नूर दिल का नूर नहीं

jalvati aur khalvati agar nah samjhay to phir dono hi khuda-na-khaastah mit jaa-ain gay, aur tumhari dastaaṅ tak nah ho gi dastanoṅ mein, umeed hay dono dekh dikha kar samajh jaa-ain gay aur ho sakta hay keh es silsila mein lala xi jinping sahb ji ki sulah ki policy koi kaam kray kyuṅkeh

allama muhammad iqbal sahb ji shayad lala xi jinping sahb ji say hi kuchh es tarah mukhatib hain


باز در عالَم بیار ایامِ صلح
جنگجویان را بدہ پیغامِ صلح
baaz dar aalam biyaar ayyam-e-sulh
.
Jang-jooyan ra badeh paigham-e-sulh
دنیا میں صلح کے دن دوبارہ لا
جنگجوؤں (انڈیا ۔ پاکستان) کو صلح کا پیغام دے
duniya mein sulah kay din dobara la
jangjuoṅ (india-pakistan) ko sulah ka paigham day

दुनिया में शांति के दिन दोबारा ला
योद्धाओं को शांति का संदेश दो


شورشِ اقوام را خاموش کن
نغمہ ی خود را بہشت گوش کن
shorish-e-aqwam raa khamosh kun
naghmaye khud raa behisht gosh kun
قوموں کے درمیان شورش کو ختم کر
اپنے نغمہ سے (ہمارے) کانوں کو بہشت (جیسا ) کر
qaumon kay darmiyan shorish ko khtam kar
apnay naghmah say ( hamaray ) kanoṅ ko behisht ( jaisa ) kar

राष्ट्रों के बीच के संघर्ष का अंत कर।
अपने नग़मे से ( हमारे ) कानों को जन्नत ( जैसा ) कर।


sir doctor allama muhammad iqbal sahb ji lahori farmatay hain


تُو نہ مِٹ جائے گا ایران کے مِٹ جانے سے
نشہ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے

tu nah mit jaye ga iran kay mit janay say
nasha-e-maay ko ta'alluq nahin paiymanay say

तू न मिट जाएगा ईरान के मिट जाने से
नश्शा-ए-मय को तअल्लुक़ नहीं पैमाने से

ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے

hay ayaan yoorish-e-tataar kay afsanay say
pasbaaṅ mil gaye ka'bay ko sanam-khanay say

है अयाँ यूरिश-ए-तातार के अफ़्साने से
पासबाँ मिल गए काबे को सनम-ख़ाने से



Iran kay baad maghrib (the west) kay hamlay ka pakistan hi nishanah ho ga ji aur ho sakta hy kih es silsila mein koi indian hakumat ko bhi pakistan say jang per uksaye ga aur dar-parda indian sarkaar ki himayat kay bahanay india per qabjay kay plan ko bhi amli jamah pehnaye ga. yeh iran nahi hay, yeh pakistan hay aur saray barr-e-sagheer (subcontinent) ka pasbaaṅ hay.


meray zati khayal kay mutabiq indian sarkaar kay saath kiye gaye defence pact ki aarh mein goroṅ kay boots indian sarzamin par utaar diye jaaen gay aur ho sakta hay k phir woh indian fazaaiya ki taqat ko javaaz bana kar indian fazaon mein apna raaj qaim kar lain aur es tarah jab indian faza un kay control mein chali jaye gi to phir pakistani awwam ki tarah indian janta bhi cheekh uthay gi kuṅkih is tarah mulk ghairon kay qabzay mein chla janay ka khadshah paida ho jaye ga, janta ghair-mahfooz ho jaye gi aur ye bhi mumkin hay kih indian capital ka bazahir control bhi woh he sambhal lein.


woh daur gaya jab jang*in talvaron say larri jaati thin. aaj agar ayk mulk ki fazaai taqat khatam ya kamzor hay aor usay kisi ki madad ki jrurat hy to samajho woh mulk kisi ki saheh madad nah milnay par shikast kha sakta hay aur woh apni janta aur asaason ki hifazat nahi kar skay ga. madadgaroṅ k parday (guise) main mukhalifeen mulk par qaabiz ho jain gay kuṅkih zameeni force, air force ki madad kay baghair kuch nahi kar sakti aur mukhalifeen kay paas taqatwar air force aur jadeed tareen fazaai technology ho gi.


es naazuk waqt par ho sakta hay kih pakistani troops apna mulk ghairon kay panjay say chhura kar india ki janib march krain aur yun maghrib ki bisaat aur maghribi chaalon ki ruswai-e-tadbeer ho gi kuṅkih indian janta aur pakistani awwam mil kar apnay puranay aaqa ka naye (new) bahroop main anay par aysa purtpaak swaagat krain gay kih woh pichhlay 200 saal (years) ki hakmiyyat ko bhool jaay ga aur us ko apni asal tasveer azeem shehr bhopal kay muqaddas shamshaan kay muqaddas dhuveṅ (smoke) mein dikhai day gi aor yeh tasveer mashriq (the east) ko aisii benai bakhshay gi kih us ko apna taabnaak mazi (past) laut-taa (return) hua nazar aay ga


دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زر کم عیار ہو گا

diyaar-e-maghrib kay rehnay waalo! khuda ki basti dukaaṅ nahin hay
kharaa jisay tum samajh rhay ho woh ab zar-e-kam-ayaar hoga

दयार-ए-मग़रिब के रहने वालो ख़ुदा की बस्ती दुकाँ नहीं है
खरा जिसे तुम समझ रहे हो वो अब ज़र-ए-कम-अयार होगा


تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائدار ہو گا

tumhari tahzeeb apnay khanjar say aap hi khud-kushi kray gi
jo shaakh-e-naazuk peh aashiyanah bnay ga na-paedaar hoga

तुम्हारी तहज़ीब अपने ख़ंजर से आप ही ख़ुद-कुशी करेगी
जो शाख़-ए-नाज़ुक पे आशियाना बनेगा ना-पाएदार होगा


وہ فکرِ گُستاخ جس نے عُریاں کِیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اُسی کی بیتاب بجلیوں سے خطر میں ہے اُس کا آشیانہ

woh fikr-e-gustaakh jis nay uryaan kia hy fitrat ki taaqaton ko
usi ki baytaab bijlioṅ say khatar mein hay us ka aashiyanah

वह फ़िक्र गुस्ताख़ जिसने उर्यां किआ ह्य फितरत की ताकतों को
उसी की बेताब बिजलियों से खतर में है उस क आशियाना

( dictionary bijliyon ka matlab atomic energy (weapons) bhi btati hay ji )


es jang mein pak fauj ko auliya-e-kiraam ki ghaibana taaqat hasil ho gi aur un ki taaqat allah ki madad hay kuṅkih allah ka haath un kay haathoṅ per hay. in taaqaton kay bal botay per he yeh mumkin ho jata hy k aysay nazuk time per pakistani tanks ajmer, dilli, kaliyar aur panipat pahunchain gay aur saltanat dehli ko goroṅ ki dast-burd say azaad kra liya jaye ga. es tarah jab dilli kay laal Qilay (red fort) per tiranga kay saath mil kar sabz hilaali parcham lehraye ga to tab hi khilafat ki bunyad dunya mein phir ustuvaar ho gi, mashallah la quwwata illa billah.


تا خلافت کی بِنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

ta khilafat ki bina dunya mein ho phir ustuvaar
la kahiṅ say dhooṅd kar aslaaf ka qalb-o-jigar

ता-ख़िलाफ़त की बिना दुनिया में हो फिर उस्तुवार
ला कहीं से ढूँढ़ कर अस्लाफ़ का क़ल्ब-ओ-जिगर

aur yorish-e-tataar kay afsanay say jo chinese pasbaan ka'bay ko sanam khanay say milay phir woh islami aqdaar adl-o-musaavaat (justice and equality) say muzayyan naya world order dunya per chalaaeṅ gay aur es world order mein pakistan ki "haan" aur "nah" mein aqwam-e-aalam kay faislay huwa karain gay.


allah kay valii jnab bava ji sarkar sufi barkat ali ludhianvi qaddas allahu sirrahul aziz apnay ayk video interview mein farma gaye hain kih

"mera huq tha main pakistan ka mohib hooṅ na. Main nay apna huq ada kar diya kih ayk deevana ayk jungle mein tinkay chun raha tha aur yeh keh raha tha kih woh din door nahiṅ kih kisi din pakistan ki ''haan'' aur ''nah'' ( yes and no ) mein aqwam-e-aalam kay faislay huwa karain gay. aur mera huq tha, main nay ada kar diya aur tussi wasday raho asseeṅ chalday rahiye.
ma shaa allah...... assalamu alaikum"

phir farmaya:

"tareeqat ki yeh aawaz qaumoṅ ko garmaya kray gi, bain-ul-aqwami qanoon ko dars diya kray gi."


jnab lala xi jinping sahb ji ka diya hua 'BRI' ka shared future aur islamic values say muzayyan naya world order apni tamam tar raanaaiyon kay saath aqwam-e-aalam per chha jaye ga aur aam hurriyat ka jo khaab islam nay dekha tha, aye musalmaan! aaj tu us khaab ki tabeer dekh aur sir doctor allama muhammad iqbal sahb ji kay aaina-e-guftaar yani aap ki sha‘iri mein aanay walay daur ki dhundli si ek tasveer dekh! aur ishq ki faryaad ki taseer dekh! kuṅkih ishq ko faryaad laazim ho chuki thi.


عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی
اب ذرا دِل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ

ishq ko faryaad laazim thi, so woh bhi ho chuki
ab zara dil thaam kar faryaad ki taseer dekh

'इश्क़ को फ़रियाद लाज़िम थी सो वो भी हो चुकी
अब ज़रा दिल थाम कर फ़रियाद की तासीर देख


تو نے دیکھا سطوت رفتار دریا کا عروج
موج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ

tu nay dekha satwat-e-raftaar-e-darya ka urooj
mauj-e-muztar kis tarah banti hay ab zanjeer dekh

तू ने देखा सतवत-ए-रफ़्तार-ए-दरिया का 'उरूज
मौज-ए-मुज़्तर किस तरह बनती है अब ज़ंजीर देख


عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھ

aam hurriyat ka jo dekha tha khvaab islam nay
aye musalmaaṅ aaj tu us khvaab ki ta'beer dekh

'आम हुर्रियत का जो देखा था ख़्वाब इस्लाम ने
ऐ मुसलमाँ आज तू उस ख़्वाब की ता'बीर देख


اپنی خاکِستر سمَندر کو ہے سامانِ وجود
مر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہانِ پیر دیکھ

apni khakistar samandar ko hai samaan-e-wajood
mar kay phir hota hay paida yeh jahaan-e-peer dekh

अपनी ख़ाकिस्तर समुंदर को है सामान-ए-वजूद
.
मर के फिर होता है पैदा ये जहान-ए-पीर देख


کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں
آنے والے دَور کی دھندلی سی اِک تصویر دیکھ

khol kar aankheṅ meray aaina-e-guftaar mein
aanay walay daur ki dhundli si ik tasveer dekh

खोल कर आँखें मिरे आईना-ए-गुफ़्तार में
आने वाले दौर की धुँदली सी इक तस्वीर देख


آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

aankh jo kuchh dekhti hay lab peh aa sakta nahin
mahv-e-hairat hooṅ kih dunya kya say kya ho jaaye gi

आँख जो कुछ देखती है लब पे आ सकता नहीं
महव-ए-हैरत हूँ कि दुनिया क्या से क्या हो जाएगी

سنا دیا گوشِ منتظِر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا، پھر اُستوار ہو گا

suna diya gosh-e-muntazir ko hijaaz ki khamshi nay aakhir
jo ahd sahraiyon say baandha gya tha phir ustuvaar ho ga

सुना दिया गोश-ए-मुंतज़िर को हिजाज़ की ख़ामुशी ने आख़िर
जो अहद सहराइयों से बाँधा गया था फिर उस्तुवार होगा

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے ، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

nikal kay sahraa say jis nay rooma ki saltanat ko ulat diya tha
suna hay yeh qudsiyon say main nay woh shayr phir hushyaar ho ga

निकल के सहरा से जिस ने रूमा की सल्तनत को उलट दिया था
सुना है ये क़ुदसियों से मैं ने वो शेर फिर होशियार होगा

( poetry of sir dr. allama muhammad Iqbal sahb ji )

( magnificent tribute to his exalted praise )

🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️

Yeh article
“zulmat khanah-e-dil”
kay makeen kay naam karta hoon jo dil kay liye
“ roshan chirag ”
hain ji ❤‍🔥

faiz humayoon
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻

پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے 🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال صاحب جی کی شاعری کے...
01/03/2026

پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے

🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️

سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال صاحب جی کی شاعری کے سمندر میں ڈبکیاں لگانے کی کوشش کرتے ہیں

ملک خدا داد پاکستان میں فتنۃ الخوارج اور غیر ملکی فتنہ کی شکل میں نمرودی آگ لگی ہوئی ہے۔ ایران اور بلاد عرب اس آگ کی مسلسل زد میں ہیں ، غزہ اسرائیلی وحشیانہ بمباری کا نشانہ بن کر آخری ہچکیاں لے رہا ہے

آگ ہے ، اولادِ ابراہیم ہے ، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے

اس ہی عالمی منظر نامے میں شہادتیں ہو رہی ہیں

برتر از اندیشۂ سود و زیاں ہے زندگی
ہے کبھی جاں اور کبھی تسلیم جاں ہے زندگی

تو اِسے پیمانہ امروز و فردا سے نہ ناپ
جاوداں پیہم دواں، ہر دم جواں ہے زندگی

میرے معزز عرب حکمرانوں کے بتان آزری شاید نسل، قومیت، سلطنت، تہذیب اور رنگ کے مغربی مسکرات میں خوب چُن چُن کر بنائے گئے ہیں

سروری زیبا فقط اس ذات بے ہمتا کو ہے
حکمراں ہے اِک وہی، باقی بتان آزری

نسل، قومیت، کلیسا، سلطنت، تہذیب، رنگ
خواجگی نے خوب چُن چُن کے بنائے مسکرات

لگ ایسے رہا ہے کہ فی الوقت معزز عربی شیوخ کے بتان آزری چار و ناچار مجبور نیاز ہو کر تثلیث کے فرزندوں کے ساتھ ہی اپنا دفاعی تعلق برقرار رکھنا چاہیں گے چاہے اس سلسلہ میں سرزمین حجاز کی خاکِ پاک سے کلیسا کی بنیاد کی اینٹ ہی کیوں نہ بنانا پڑے۔ ہو سکتا ہے کہ شاید اس میں کوئی نسلی عصبیت کا عنصر ہی کارفرما ہو، کچھ کہا نہیں جا سکتا جبکہ اسلام نے تو عرب و عجم کا تصور ہی ختم کر دیا ہوا ہے، اور تمام مسلمانوں کو ملت کی ایک اتحاد والی زنجیر میں جوڑ دیا ہوا ہے

کیا سناتا ہے مجھے ترک و عرب کی داستاں
مجھ سےکچھ پِنہاں نہیں اسلامیوں کا سوز و ساز

لے گئے تثلیث کے فرزند میراثِ خلیل
خشت بنیادِ کلیسا بن گئی خاکِ حجاز

ہو گئی رسوا زمانے میں کلاہ لالہ رنگ
جو سراپا ناز تھے، ہیں آج مجبور نیاز

حکمت مغرب سے مِلت کی یہ کیفیت ہوئی
ٹکڑے ٹکڑے جس طرح سونے کو کر دیتا ہے گاز

ہو گیا مانند آبِ ارزاں مسلماں کا لہو
مضطرب ہے تو کہ تیرا دِل نہیں دانائے راز

ایران کے معاملے پر انکل سام جی اینڈ کمپنی اپنا ٹریلر چلا بھی چکے ہیں جبکہ پورا سین ابھی تک باقی ہے اور اگر یہ ملک بھی ہاتھوں سے نکل گیا تو پھر ملت اسلامیہ کی آنکھیں کھل جائیں گی

ملک ہاتھوں سے گیا ملت کی آنکھیں کھل گئیں
حق ترا چشمے عطا کردست غافل در نِگر

مومیائی کی گدائی سے تو بہتر ہے شکست
مور بے پر! حاجتے پیش سلیمانے مبر

ربط و ضبط ملت بیضا ہے مشرق کی نجات
ایشیا والے ہیں اس نکتے سے اب تک بے خبر

عرب سرزمین شاید ایران کے خلاف استعمال ہو جانے کے بعد وہ حرم پاک پر حملہ کرنے کے ناپاک ارادے بھی خدانخواستہ رکھتے ہیں

پھر سیاست چھوڑ کر داخل حصارِ دیں میں ہو
ملک و دولت ہے فقط حفظِ حرم کا اِک ثمر

ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بخاک کاشغر

اب کی بار جو مسلماں نسل قومیت اور بتان رنگ و خوں کو توڑ کر ملت میں گم نہیں ہو گا اور امتیاز رنگ و خوں کرے گا تو وہ مِٹ جائے گا۔ اگر اب کی بار بھی مسلمانوں کی نسل پرستی مذہب پر مقدم ہو گئی اور نسل پرستی کی آڑ میں فرقہ پرستی مقدم ہو گئی تو پھر اے مسلم تو خاکِ رَہ گزر یعنی گرد و غبار کی طرح دنیا سے اڑ جائے گا، شاید مخالفین کے (ایٹمی ہتھیار) گرد و غبار کی نوبت بھی نہ آنے دیں۔ اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

بُتانِ رنگ و خُوں کو توڑ کر مِلّت میں گُم ہو جا
نہ تُورانی رہے باقی، نہ ایرانی نہ افغانی

یہ ہندی، وہ خُراسانی، یہ افغانی، وہ تُورانی
تُو اے شرمندۂ ساحل! اُچھل کر بے کراں ہو جا

جو کرے گا امتیاز رنگ و خوں، مِٹ جائے گا
ترک خرگاہی ہو یا اعرابی والا گہر

نسل اگر مسلم کی مذہب پر مقدم ہو گئی
اڑ گیا دنیا سے تو مانند خاکِ رَہ گزر

تا خلافت کی بِنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

اے کہ نشناسی خفی را از جلی ہشیار باش
اے گرفتار ابوبکر و علی ہشیار باش

سن اے تہذیب حاضر کے گرفتار ہندی مسلماں! انڈ و پاک کے مسلماں! ایک آزمودہ فتنہ گردوں کے پاس اور بھی ہے، جو تیری تاک میں ہے، اس سلسلہ میں گردوں نے اپنی آستیں میں بجلیاں (ایٹمی ہتھیار ) بھی چھپا کر رکھے ہوئے ہیں

آزمودہ فتنہ ہے اِک اور بھی گردوں کے پاس
سامنے تقدیر کے رسوائی تدبیر دیکھ

اس آزمودہ فتنہ کے بارے میں سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال صاحب جی نے اپنی کتاب "بانگِ دِرا" کی نظم "تصویرِ درد" میں کھول کر بتایا ہے، "رلاتا ہے ترا نظارہ اے ہندوستاں مجھ کو" والے شعر سے لے کر "نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو" والے شعر تک

رُلاتا ہے ترا نظّارہ اے ہندوستاں! مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں

دیا رونا مجھے ایسا کہ سب کچھ دے دیا گویا
لِکھا کلکِ ازل نے مجھ کو تیرے نوحہ خوانوں میں

نشانِ برگِ گُل تک بھی نہ چھوڑ اس باغ میں گُلچیں!
تری قسمت سے رزم آرائیاں ہیں باغبانوں میں

چھُپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہیں گردُوں نے
عنادِل باغ کے غافل نہ بیٹھیں آشیانوں میں

سُن اے غافل صدا میری، یہ ایسی چیز ہے جس کو
وظیفہ جان کر پڑھتے ہیں طائر بوستانوں میں

وطن کی فکر کر ناداں! مصیبت آنے والی ہے
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں

ذرا دیکھ اس کو جو کچھ ہو رہا ہے، ہونے والا ہے
دھرا کیا ہے بھلا عہدِ کُہن کی داستانوں میں

یہ خاموشی کہاں تک؟ لذّتِ فریاد پیدا کر
زمیں پر تُو ہو اور تیری صدا ہو آسمانوں میں

نہ سمجھو گے تو مِٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو!
تمھاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں

اجاڑا ہے تمیز ملت و آئیں نے قوموں کو
مرے اہلِ وطن کے دِل میں کچھ فکرِ وطن بھی ہے

نمیگردید کو تہ رشتۂ معنی رہا کردم
حکایت بود بے پایاں بخاموشی ادا کردم

ٹپک اے شمع آنسو بن کے پروانے کی آنکھوں سے
سراپا درد ہوں حسرت بھری ہے داستاں میری

مرا رونا نہیں رونا ہے یہ سارے گلستاں کا
وہ گل ہوں مَیں خزاں ہر گل کی ہے گویا خزاں میری

ہویدا آج اپنے زخم پنہاں کر کے چھوڑوں گا
لہو رو رو کے محفل کو گلستاں کر کے چھوڑوں گا

جلانا ہے مجھے ہر شمعِ دِل کو سوزِ پنہاں سے
تری تاریک راتوں میں چراغاں کر کے چھوڑوں گا

دِکھا دوں گا جہاں کو جو مری آنکھوں نے دیکھا ہے
تجھے بھی صورت آئینہ حیراں کر کے چھوڑوں گا

مجھے راز دو عالَم دِل کا آئینہ دکھاتا ہے
وہی کہتا ہوں جو کچھ سامنے آنکھوں کے آتا ہے

اثر یہ بھی ہے اِک میرے جنون فتنہ ساماں کا
مرا آئینۂ دل ہے قضا کے راز دانوں میں

جو ہے پردوں میں پِنہاں چشمِ بینا دیکھ لیتی ہے
زمانے کی طبیعت کا تقاضا دیکھ لیتی ہے

گر خدا سازد ترا صاحبِ نظر
روزگارے را کہ می آید نِگر
۔
اگر اللّٰہ تعالیٰ تجھے صاحبِ نظر کر دے
تُو آنے والے زمانے کو دیکھ لے

دلِ بینا بھی کر خدا سے طلب
آنکھ کا نور دِل کا نور نہیں

جلوتی اور خلوتی اگر نہ سمجھے تو پھر دونوں ہی خدا نخواستہ مِٹ جائیں گے، اور تمہاری داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں،، امید ہے دونوں دیکھ دکھا کر سمجھ جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ اس سلسلہ میں لالہ شی جِن پِنگ صاحب جی کی صلح کی پالیسی کوئی کام کرے کیونکہ

علامہ محمد اقبال صاحب جی شاید لالہ شی جِن پِنگ صاحب جی سے ہی کچھ اس طرح مخاطب ہیں

باز در عالَم بیار ایامِ صلح
جنگجویان را بدہ پیغامِ صلح
۔
دنیا میں صلح کے دن دوبارہ لا
جنگجوؤں (انڈیا ۔ پاکستان) کو صلح کا پیغام دے

شورشِ اقوام را خاموش کن
نغمہ ی خود را بہشت گوش کن
۔
قوموں کے درمیان شورش کو ختم کر
اپنے نغمہ سے (ہمارے) کانوں کو بہشت (جیسا ) کر

سر علامہ محمد اقبال صاحب لاہوری جی فرماتے ہیں

تُو نہ مِٹ جائے گا ایران کے مِٹ جانے سے
نشہ مے کو تعلق نہیں پیمانے سے

ہے عیاں یورشِ تاتار کے افسانے سے
پاسباں مِل گئے کعبے کو صنم خانے سے

ایران کے بعد امریکی حملے کا شاید پاکستان ہی نشانہ ہو گا جی اور ہو سکتا ہے کہ اس سلسلہ میں امریکہ انڈین حکومت کو بھی پاکستان سے جنگ پر اکسائے گا اور در پردہ انڈین سرکار کی حمایت کے بہانے انڈیا پر قبضے کے پلان کو بھی عملی جامہ پہنائے گا۔ یہ ایران نہیں ہے، یہ پاکستان ہے اور سارے برصغیر کا پاسباں ہے


میرے ذاتی خیال کے مطابق انڈین سرکار کے ساتھ کیے گئے ڈیفینس پیکٹ کی آڑ میں امریکی بوٹس انڈین سرزمین پر اتار دیے جائیں گے اور ہو سکتا ہے کہ پھر وہ انڈین فضائیہ کی طاقت کو جواز بنا کر انڈین فضاؤں میں اپنا راج قائم کر لیں اور اس طرح جب انڈین فضا ان کے کنٹرول میں چلی جائے گی تو پھر پاکستانی عوام کی طرح انڈین جنتا بھی چیخ اٹھے گی کیونکہ اس طرح ملک غیروں کے قبضہ میں چلا جانے کا خدشہ پیدا ہو جائے گا۔ جنتا غیر محفوظ ہو جائے گی اور یہ بھی ممکن ہے کہ کیپیٹل کا بظاہر کنٹرول بھی وہ ہی سنبھال لیں


وہ دَور گیا جب جنگیں تلواروں سے لڑی جاتیں تھیں،، آج اگر ایک ملک کی فضائی طاقت ختم یا کمزور ہے اور اسے کسی کی مدد کی ضرورت ہے تو سمجھو وہ ملک کسی کی صحیح مدد نہ ملنے پر شکست کھا سکتا ہے اور وہ اپنی جنتا اور اثاثوں کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔ حمایتیوں کے پردے میں مخالفین ملک پر قابض ہو جائیں گے کیونکہ زمینی فورس، ایئر فورس کی مدد کے بغیر کچھ نہیں کر سکتی اور یہ کہ مخالفین کے پاس طاقتور ائیر فورس اور جدید ترین فضائی ٹیکنالوجی ہو گی


اس نازک وقت پر ہو سکتا ہے کہ پاکستانی ٹروپس اپنا ملک غیروں کے پنجے سے چھڑا کر انڈیا کی جانب مارچ کریں اور یوں مغرب کی بساط اور مغربی چالوں کی رسوائی تدبیر ہو گی کیونکہ انڈین جنتا اور پاکستانی عوام مِل کر اپنے پرانے آقا کا نئے روپ میں آنے پر ایسا پرتپاک سواگت کریں گے کہ وہ پچھلے دو سو سال کی حاکمیت کو بھول جائے گا اور اس کو اپنی اصل تصویر عظیم شہر بھوپال کے مقدس شمشان کے مقدس دھوئیں میں دکھائی دے گی اور یہ تصویر مشرق کو ایسی بینائی بخشے گی کہ اس کو اپنا تابناک ماضی لَوٹتا ہوا نظر آئے گا

دیارِ مغرب کے رہنے والو! خدا کی بستی دکاں نہیں ہے
کھرا جسے تم سمجھ رہے ہو ، وہ اب زر کم عیار ہو گا

تمھاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی
جو شاخِ نازک پہ آشیانہ بنے گا ، ناپائدار ہو گا

وہ فکرِ گُستاخ جس نے عُریاں کِیا ہے فطرت کی طاقتوں کو
اُسی کی بیتاب بجلیوں سے خطر میں ہے اُس کا آشیانہ

( ڈِکشنری بجلیوں کا مطلب ایٹمی انرجی (ہتھیار) بھی بتاتی ہے جی )

اس جنگ میں پاک فوج کو اولیائے کرام کی غائبانہ طاقت حاصل ہو گی اور ان کی طاقت اللّٰہ کی مدد ہے کیونکہ اللّٰہ کا ہاتھ ان کے ہاتھوں پر ہے۔ ان طاقتوں کے بل بوتے پر ہی یہ ممکن ہو جاتا ہے کہ ایسے نازک ٹائم پر پاکستانی ٹینک اجمیر، دِلّی، کلیئر اور پانی پت تک پہنچیں گے اور سلطنت دہلی کو گوروں کی دست برد سے آزاد کرا لیا جائے گا۔ اس طرح جب دہلی کے لال قلعے پر ترنگے کے ساتھ مل کر سبز ہلالی پرچم لہرائے گا تو تب ہی خلافت کی بنیاد دنیا میں پھر استوار ہو گی، ماشاءاللہ لا قوۃ الا باللہ

تا خلافت کی بِنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

اور یورشِ تاتار کے افسانے سے جو چائینیز پاسبان کعبے کو صنم خانے سے ملے پھر وہ اسلامی اقدار عدل و مساوات سے مزین نیا ورلڈ آرڈر دنیا پر چلائیں گے اور اس ورلڈ آرڈر میں پاکستان کی ”ہاں“ اور ” نہ“ میں اقوامِ عالَم کے فیصلے ہوا کریں گے

اللّٰہ کے ولی جناب باوا جی سرکار صوفی برکت علی لودھیانوی قدس اللہ سرہ العزیز اپنے ایک وڈیو انٹرویو میں فرما گئے ہیں کہ

" میرا حق تھا مَیں پاکستان کا مُحِب ہوں نا۔ میں نے اپنا حق ادا کر دیا کہ ایک دیوانہ ایک جنگل میں تِنکے چُن رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا کہ وہ دِن دُور نہیں کہ کسی دِن پاکستان کی "ہاں" اور "نہ" میں اقوامِ عالَم کے فیصلے ہوا کریں گے اور میرا حق تھا میں نے ادا کر دیا اور تُوسی وسدے رہو۔ اَسیں چلدے رہیے۔
ماشاءاللّٰه۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔السلام علیکم! "

پھر فرمایا

" طریقت کی یہ آواز قوموں کو گرمایا کرے گی بین الااقوامی قانون کو درس دیا کرے گی "

جناب لالہ شی جِن پِنگ صاحب جی کا دیا ہوا بی۔آر۔آئی کا شیئرڈ فیوچر اور اسلامک ویلیوز سے مزین نیا ورلڈ آرڈر اپنی تمام تر رعنائیوں کے ساتھ اقوامِ عالَم پر چھا جائے گا اور عام حریت کا جو خواب اسلام نے دیکھا تھا اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھ اور سر ڈاکٹر علامہ محمد اقبال صاحب جی کے آئینۂ گفتار یعنی آپ کی شاعری میں آنے والے دَور کی دھندلی سی اِک تصویر دیکھ اور عشق کی فریاد کی تاثیر دیکھ کیونکہ عشق کو فریاد لازم ہو چکی تھی

عشق کو فریاد لازم تھی سو وہ بھی ہو چکی
اب ذرا دِل تھام کر فریاد کی تاثیر دیکھ

تو نے دیکھا سطوت رفتار دریا کا عروج
موج مضطر کس طرح بنتی ہے اب زنجیر دیکھ

عام حریت کا جو دیکھا تھا خواب اسلام نے
اے مسلماں آج تو اس خواب کی تعبیر دیکھ

اپنی خاکِستر سمَندر کو ہے سامانِ وجود
مر کے پھر ہوتا ہے پیدا یہ جہانِ پیر دیکھ

کھول کر آنکھیں مرے آئینۂ گفتار میں
آنے والے دَور کی دھندلی سی اِک تصویر دیکھ

آنکھ جو کچھ دیکھتی ہے لب پہ آ سکتا نہیں
محوِ حیرت ہوں کہ دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی

سنا دیا گوشِ منتظِر کو حجاز کی خامشی نے آخر
جو عہد صحرائیوں سے باندھا گیا تھا، پھر اُستوار ہو گا

نکل کے صحرا سے جس نے روما کی سلطنت کو الٹ دیا تھا
سنا ہے یہ قدسیوں سے میں نے ، وہ شیر پھر ہوشیار ہو گا

( poetry of sir allama muhammad Iqbal sahb ji )

( magnificent tribute to his exalted praise )

🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔🪔
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻
♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️♥️

🌹 یہ آرٹیکل میرے ظلمت خانۂ دل کے مکین ایک ایسے اہلِ دِل شہزادے جی کے نام کرتا ہوں جو نظام جی کے گھر صابر جی لگتے ہیں جنہوں نے قرار چھین لیا۔ وہ روشن چراغ نازنین ہیں اور شمعِ کشتہ کو اپنی موجِ نفس سے جلا سکتے ہیں 🌹













💋 💋

faiz humayoon
🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻🙏🏻

Address

12 Chak JB
Chiniot
35400

Opening Hours

Monday 09:00 - 20:00
Tuesday 09:00 - 20:00
Wednesday 09:00 - 20:00
Thursday 09:00 - 20:00
Friday 09:00 - 20:00
Saturday 09:00 - 20:00
Sunday 09:00 - 17:00

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Sipah Salar-e-Mashriq posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Share