Dil Ki Duniya

Dil Ki Duniya ہم تو سمجھے تھے اک زخم ہے بھر جائے گا
کیا خبر تھی کہ رگِ جاں میں اتر جائے گا
FOLLOW MY PAGE
SHARE YOURE TALENT

16/05/2026

صبر کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہے

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے زمی...
14/05/2026

پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ نے مقامی طور پر تیار کردہ زمین سے زمین پر مار کرنے والے جدید کروز میزائل “فتح-4” کا کامیاب تربیتی تجربہ کیا ہے۔

آئی ایس پی آر کے مطابق جدید ایویونکس اور جدید ترین نیویگیشن سسٹمز سے لیس یہ میزائل طویل فاصلے تک انتہائی درستگی کے ساتھ اپنے ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس تربیتی فائر کا مقصد فوجی دستوں کی آپریشنل تیاری کو مزید بہتر بنانا اور مختلف ذیلی نظاموں کی تکنیکی صلاحیتوں کی توثیق کرنا تھا۔

بیان میں کہا گیا کہ اس کامیاب تجربے کا مشاہدہ پاکستان آرمی راکٹ فورس کمانڈ کے سینئر افسران، دفاعی سائنسدانوں اور انجینئرز نے کیا۔

30/04/2026

محبت سبکو نصیب نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

24/04/2026

‏اچھرہ سا,نحہ
خاتون کے جھنگ کے رہائشی نوجوان شہریار سے تعلقات کے حوالے سے مزید شواہد سامنے آگئے، جھنگ کا رہائشی نوجوان خاتون کو پیسے بھجواتا تھا، دونوں کا مسلسل رابطہ تھا، خاتون اس نوجوان سے شادی کرنا چاہتی تھی، بچے شادی میں رکاوٹ تھے۔سی ڈی آر ریکارڈ کے بعد پولیس ٹیم خاتون سے رابطے میں رہنے والے نوجوان کو گرفتار کرنے جھنگ پہنچ گئی۔

14/04/2026

#پاکستان ایک قدم اور آگے #
بحرہ۔ احمر میں مزائل تجربہ

05/04/2026

ٹرمپ کی ایران کو لاسٹ وارننگ #

 #پاکستان کا انڈیا کو کرارا جواب….
03/04/2026

#پاکستان کا انڈیا کو کرارا جواب….

 #امریکہ 🇺🇸نے  وارننگ دے دی ہے ایران🇮🇷 کو ،،،
02/04/2026

#امریکہ 🇺🇸نے وارننگ دے دی ہے ایران🇮🇷 کو ،،،

27/03/2026

#عنوان: سرحدوں کے سائے

رات کے سناٹے میں سرحد کے قریب واقع ایک چھوٹے سے گاؤں "نورآباد" پر عجیب سی خاموشی طاری تھی۔ ہوا ہلکی ہلکی چل رہی تھی، مگر لوگوں کے دلوں میں ایک انجانا خوف گردش کر رہا تھا۔ یہ گاؤں پاکستان، ایران اور بھارت کے درمیان بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کا خاموش گواہ تھا۔

احمد، جو گاؤں کا ایک سادہ سا نوجوان تھا، اپنے گھر کی چھت پر بیٹھا آسمان کو دیکھ رہا تھا۔ اس کے ذہن میں ایک ہی سوال بار بار آ رہا تھا: "کیا واقعی جنگ ہونے والی ہے؟"

نیچے صحن میں اس کی ماں ریڈیو سن رہی تھی۔ خبروں میں بار بار یہی ذکر ہو رہا تھا کہ خطے میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان تناؤ، بھارت اور پاکستان کے درمیان پرانی دشمنی، اور دنیا کی نظریں اس علاقے پر مرکوز تھیں۔

احمد نیچے آیا اور بولا،
"امّی، کیا واقعی جنگ ہو جائے گی؟"

ماں نے گہری سانس لی،
"بیٹا، جنگیں اچانک نہیں ہوتیں… پہلے خوف پھیلتا ہے، پھر سیاست، پھر فیصلے۔ مگر اللہ بہتر کرے گا۔"

گاؤں کے بزرگ، حاجی صاحب، ہر رات مسجد کے باہر بیٹھ کر لوگوں کو تسلی دیتے۔ وہ کہتے،
"ڈرو نہیں، ہر شور جنگ نہیں ہوتا۔ کبھی کبھی طاقتیں صرف ایک دوسرے کو دکھاتی ہیں کہ وہ مضبوط ہیں۔"

مگر اس بار معاملہ کچھ مختلف لگ رہا تھا۔

ایک دن احمد کا دوست علی، جو شہر سے آیا تھا، بولا:
"میں نے سنا ہے اگر حالات خراب ہوئے تو سرحدیں بند ہو جائیں گی، اور شاید فوجی نقل و حرکت بھی شروع ہو جائے۔"

احمد نے حیرانی سے پوچھا،
"پر ہم جیسے لوگوں کا کیا ہوگا؟"

علی نے تلخی سے ہنستے ہوئے کہا،
"ہم جیسے لوگ؟ ہم صرف خبروں کا حصہ بن جاتے ہیں… اصل فیصلے کہیں اور ہوتے ہیں۔"

اسی دوران گاؤں میں ایک اجنبی آیا۔ اس کا نام ریحان تھا، اور وہ ایک صحافی تھا۔ وہ حالات کا جائزہ لینے آیا تھا۔ اس نے احمد سے بات کی اور پوچھا:
"تمہیں کیا لگتا ہے، کیا جنگ ہونی چاہیے؟"

احمد نے کچھ دیر سوچا، پھر بولا:
"جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔ ہم نے صرف کہانیاں سنی ہیں جنگ کی، مگر جو لوگ اس میں جیتتے ہیں، وہ بھی کچھ نہ کچھ ہار جاتے ہیں۔"

ریحان نے مسکرا کر کہا،
"تم ایک عام انسان ہو، مگر تمہاری سوچ بڑی ہے۔"

دن گزرتے گئے، اور خبریں مزید سنگین ہوتی گئیں۔ کبھی ایران کی طرف سے بیان آتا، کبھی بھارت کی طرف سے کوئی سخت مؤقف، اور کبھی عالمی طاقتوں کی مداخلت کی خبریں۔

ایک رات اچانک گاؤں میں بجلی چلی گئی۔ آسمان پر جہازوں کی آوازیں سنائی دیں۔ لوگ گھروں سے باہر نکل آئے۔ بچوں نے رونا شروع کر دیا۔

احمد کا دل تیزی سے دھڑکنے لگا۔ اس نے اپنے والد کا ہاتھ پکڑا اور پوچھا،
"یہ کیا ہو رہا ہے؟"

والد نے آسمان کی طرف دیکھا اور آہستہ سے کہا،
"یہ صرف طاقت کا مظاہرہ بھی ہو سکتا ہے… یا کچھ اور بھی۔"

کچھ دیر بعد سب کچھ پھر خاموش ہو گیا۔ نہ کوئی دھماکہ ہوا، نہ کوئی حملہ۔ مگر اس رات کے بعد گاؤں کے لوگوں کی آنکھوں سے نیند اڑ گئی۔

ریحان نے اپنی رپورٹ میں لکھا:
"جنگ صرف میدان میں نہیں لڑی جاتی، یہ لوگوں کے ذہنوں میں پہلے شروع ہوتی ہے۔ خوف، بے یقینی، اور افواہیں—یہ سب اس کے ہتھیار ہیں۔"

چند دن بعد حالات کچھ بہتر ہونے لگے۔ عالمی سطح پر مذاکرات کی خبریں آئیں۔ کشیدگی کم ہونے لگی۔ لوگ آہستہ آہستہ معمول کی زندگی کی طرف واپس آنے لگے۔

احمد ایک بار پھر چھت پر بیٹھا تھا، مگر اس بار اس کے چہرے پر سکون تھا۔ اس نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا،
"شاید خطرہ ہمیشہ رہتا ہے، مگر امید بھی کبھی ختم نہیں ہوتی۔"

اس کی ماں نے نیچے سے آواز دی،
"احمد، کھانا ٹھنڈا ہو رہا ہے!"

وہ مسکرا کر نیچے آیا، جیسے کچھ بھی نہ بدلا ہو، مگر حقیقت میں سب کچھ بدل چکا تھا۔ اب وہ صرف ایک نوجوان نہیں تھا، بلکہ اس نے خوف، حقیقت اور امید کے درمیان فرق سیکھ لیا تھا۔

کہانی کا سبق سادہ تھا:
"خطرہ ہو سکتا ہے، مگر ہر خطرہ حقیقت نہیں بنتا۔ اور جب تک امید زندہ ہے، انسان بھی مضبوط رہتا ہے۔"

22/03/2026

اس وقت ایک بڑے جغرافیائی سیاسی تبدیلی کا عمل جاری ہے کیونکہ ترکی، سعودی عرب، مصر اور پاکستان سرکاری طور پر ایک تاریخی علاقائی سلامتی کے معاہدے کی تشکیل کے لیے اعلیٰ سطحی مذاکرات کے لیے ریاض میں اکٹھے ہوئے ہیں۔ ترکی کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کی طرف سے چلائے جانے والے، یہ چار اسلامی ملٹری ہیوی ویٹ سرگرمی سے اپنی وسیع دفاعی صلاحیتوں کو ایک مربوط پلیٹ فارم میں یکجا کرنے کے طریقے تلاش کر رہے ہیں۔ نیٹو جیسے روایتی مغربی اتحاد سے ہٹ کر، اس طاقتور 4 ملکی بلاک کا مقصد مشرق وسطیٰ کے تیزی سے بڑھتے ہوئے تنازعات اور خلیج میں حالیہ ایرانی حملوں کے درمیان سیکورٹی چیلنجوں کی مکمل "علاقائی ملکیت" لینا ہے۔

AI سے تیار کردہ تصویر مثال کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

Address

Haronabad Road Dharanwala
Chishtian Mandi

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Dil Ki Duniya posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Shortcuts

Share