Mastuj Times

Mastuj Times MASTUJ UPPER CHITRAL
(UPDATE NEWS)

اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام کی جانب اہم پیش رفتڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی مسلسل کوششوں، خصوصی دل...
24/08/2026

اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام کی جانب اہم پیش رفت

ڈپٹی اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی ثریا بی بی کی مسلسل کوششوں، خصوصی دلچسپی اور مؤثر کاوشوں کے نتیجے میں اپر چترال میں نرسنگ کالج کے قیام کے منصوبے نے ایک اہم مرحلہ طے کر لیا ہے۔

خیبرپختونخوا محکمہ صحت کی جانب سے جاری کردہ مراسلے کے مطابق ADP Scheme No. 240235 — “Establishment of Nursing College at District Upper Chitral” کے لیے باقاعدہ Administrative Approval جاری کر دی گئی ہے۔

اس منصوبے کی مجموعی لاگت 542.240 ملین روپے (تقریباً 54 کروڑ 22 لاکھ روپے) مقرر کی گئی ہے، جبکہ منصوبہ 30 جون 2029 تک مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔

منصوبے کے تحت:
• سول ورکس اور انفراسٹرکچر: 381.186 ملین روپے
• لیب آلات، مشینری، فرنیچر، ٹرانسپورٹ اور کتب وغیرہ: 161.002 ملین روپے
• کل لاگت: 542.240 ملین روپے

یہ اپر چترال کے نوجوانوں، بالخصوص طالبات کے لیے ایک تاریخی اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ نرسنگ کالج کے قیام سے علاقے کے طلبہ کو اپنے ہی ضلع میں معیاری پیشہ ورانہ تعلیم کے مواقع میسر آئیں گے، جبکہ صحت کے شعبے کے لیے مقامی سطح پر تربیت یافتہ افرادی قوت بھی تیار ہوگی۔

ثریا بی بی کی خصوصی دلچسپی اور مسلسل پیروی سے یہ منصوبہ محض ایک تجویز سے نکل کر عملی منظوری کے مرحلے تک پہنچا ہے۔ اب منصوبے کے اگلے مراحل میں فنڈز کے اجراء، تکنیکی منظوری اور عملی تعمیراتی کام کا آغاز شامل ہے۔

اپر چترال میں تعلیم اور صحت کے شعبے میں یہ منصوبہ علاقے کے مستقبل کے لیے ایک اہم سرمایہ کاری ثابت ہوگا۔ ان شاء اللہ نرسنگ کالج کا قیام نوجوان نسل کے لیے روزگار، تعلیم اور پیشہ ورانہ ترقی کے نئے دروازے کھولے گا۔

ترقی کا سفر جاری ہے — اپر چترال کے عوام کے لیے ایک اور اہم سنگِ میل۔

سنوغر موڑگرام اور پرواک کے درمیان پیدل پل 19 سال بعد بحالاپرچترال  – سنوغر موڑگرام اور پرواک کے درمیان واقع پیدل پل، جو ...
24/08/2026

سنوغر موڑگرام اور پرواک کے درمیان پیدل پل 19 سال بعد بحال

اپرچترال – سنوغر موڑگرام اور پرواک کے درمیان واقع پیدل پل، جو گزشتہ 19 سالوں سے خراب حالت میں تھا، بالآخر بحال کر دیا گیا ہے۔ یہ پل مقامی باشندوں کے لیے ایک اہم رابطہ سڑک کی حیثیت رکھتا ہے، جس کی تعمیر نو کے باعث دونوں علاقوں کے درمیان آمد و رفت میں نمایاں سہولت پیدا ہو گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق، پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی حکومت کے دوران اس منصوبے کو عملی شکل دی گئی۔ اس بحالی میں وزیر زادہ اور اسپیکر ثریا بی بی کی خصوصی کوششوں کو کلیدی حیثیت حاصل ہے۔ ان کی ذاتی دلچسپی اور عملی اقدامات کی بدولت یہ منصوبہ تکمیل تک پہنچا، جس سے علاقے کے عوام کو طویل انتظار کے بعد ریلیف ملا۔

مقامی لوگوں نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے ثریا بی بی کی خدمات کو خوب سراہا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اس پل کی بحالی سے نہ صرف روزمرہ کی مشکلات ختم ہوئی ہیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ رہنماﺅں کی اس قسم کی عملی کوششیں عوامی مسائل کے حل کی ضامن ہیں۔

مستوج بروغل روڈ اور اب تک کی ہماری کارکردگی!!تحریر؛  افگں رضامستوج–بروغل روڈ کے حوالے سے عوام کے لیے ایک اہم اور حوصلہ ا...
23/08/2026

مستوج بروغل روڈ اور اب تک کی ہماری کارکردگی!!

تحریر؛ افگں رضا

مستوج–بروغل روڈ کے حوالے سے عوام کے لیے ایک اہم اور حوصلہ افزا پیش رفت سامنے آئی ہے۔ Pre-PDWP میٹنگ میں مستوج–بروغل روڈ کے منصوبے کی منظوری دے دی گئی ہے اور اب یہ منصوبہ منظوری کے اگلے مرحلے یعنی PDWP میٹنگ کی طرف بڑھ رہا ہے۔

یہ بات سمجھنا بہت ضروری ہے کہ اتنے بڑے ترقیاتی منصوبے محض ایک اعلان سے فوری طور پر زمین پر شروع نہیں ہو جاتے، بلکہ ان کے لیے ایک باقاعدہ دفتری، تکنیکی، مالی اور قانونی طریقہ کار ہوتا ہے۔ ہر منصوبہ متعلقہ فورمز سے جانچ پڑتال اور منظوری کے مختلف مراحل سے گزرتا ہے، اور مستوج–بروغل روڈ بھی اسی قانونی و انتظامی پراسس کے تحت آگے بڑھ رہا ہے۔

Pre-PDWP سے منظوری ملنا اسی پراسس میں ایک اہم پیش رفت ہے۔ اب اگلا اہم مرحلہ PDWP کی منظوری ہے۔ اس مرحلے کی تکمیل کے بعد منصوبہ عملی اقدامات کی جانب مزید آگے بڑھے گا اور ان شاء اللہ وہ وقت دور نہیں جب مستوج–بروغل روڈ پر عملی کام کا آغاز ہوگا۔

عوام کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ دفتری مراحل کو تاخیر یا منصوبے کے رک جانے سے تعبیر کرنا درست نہیں۔ منصوبہ قانونی طریقہ کار کے مطابق آگے بڑھ رہا ہے اور ہر مرحلہ مکمل ہونا ضروری ہے تاکہ بعد میں کوئی قانونی یا انتظامی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔

مستوج–بروغل روڈ محض ایک سڑک نہیں بلکہ اپر چترال کے دور دراز علاقوں کے لیے رابطے، تجارت، سیاحت، روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے نئے مواقع کا ذریعہ بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس منصوبے کی تکمیل سے بروغل اور ملحقہ علاقوں کے عوام کو بہتر سفری سہولیات میسر آئیں گی اور علاقے کو ملک کے دیگر حصوں سے مزید مؤثر انداز میں جوڑنے میں مدد ملے گی۔

لہٰذا اس اہم پیش رفت کو سیاسی نعروں کے بجائے حقیقت پسندانہ انداز میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ایک اہم منظوری کا مرحلہ مکمل ہو چکا ہے، اگلا مرحلہ PDWP ہے، اور اس کے بعد منصوبہ عملی کام کی طرف بڑھے گا۔

ان شاء اللہ مستوج–بروغل روڈ اب صرف ایک مطالبہ نہیں رہے گا بلکہ عملی تکمیل کی جانب بڑھتا ہوا منصوبہ بن چکا ہے۔ عوام اطمینان رکھیں، دفتری و قانونی مراحل اپنی جگہ جاری ہیں اور بہت جلد اس منصوبے کے عملی ثمرات زمین پر نظر آنا شروع ہوں گے۔

🌧️ افغان بارڈر ارندو میں طوفانی بارشوں سے سیلابی صورتحالارندو اور ملحقہ مختلف دیہاتوں میں طوفانی بارشوں کے باعث سیلابی ص...
23/08/2026

🌧️ افغان بارڈر ارندو میں طوفانی بارشوں سے سیلابی صورتحال

ارندو اور ملحقہ مختلف دیہاتوں میں طوفانی بارشوں کے باعث سیلابی صورتحال پیدا ہوگئی ہے، جس کے نتیجے میں کھڑی فصلوں، باغات، آبپاشی کی نہروں اور دیگر املاک کو شدید نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔
متاثرہ علاقوں کے عوام کو اس صورتحال کے باعث بھاری مالی نقصان کا سامنا ہے۔ ضلعی انتظامیہ سے مطالبہ ہے کہ فوری طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے نقصانات کا جائزہ لیا جائے اور متاثرین کو مناسب ریلیف اور مالی معاونت فراہم کی جائے۔

23 اگست کا وعدہ کہاں گیا؟ — مستوج بروغول روڈ23 جولائی کو تحریکِ مستوج بروغول روڈ کے دوران ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے مستو...
23/08/2026

23 اگست کا وعدہ کہاں گیا؟ — مستوج بروغول روڈ

23 جولائی کو تحریکِ مستوج بروغول روڈ کے دوران ڈپٹی اسپیکر ثریا بی بی نے مستوج یارخون کے عوام کے سامنے ایک ماہ کے اندر تمام قانونی تقاضے مکمل کرکے 23 اگست کو مستوج بروغول روڈ پر باقاعدہ کام شروع کرنے کا وعدہ کیا تھا اور معاہدے پر دستخط بھی کیے تھے۔

آج 23 اگست ہے، مگر افسوس کہ وہ وعدہ پورا ہوتا نظر نہیں آ رہا۔ جن عوام نے اعتماد کرکے انہیں اس مقام تک پہنچانے میں کردار ادا کیا، آج انہی کے جذبات اور اعتماد کو نظرانداز کرنا انتہائی افسوسناک ہے۔

عوام وعدوں پر نہیں، عملی اقدامات پر یقین رکھتے ہیں۔ اب وقت ہے کہ کیا گیا وعدہ پورا کیا جائے اور مستوج بروغول روڈ پر عملی کام کا فوری آغاز کیا جائے۔


یارخون، اپر چترال میں دریا میں گر کر جاں بحق ہونے والی دوشیزہ کی لاش کو ریسکیو 1122 کی ٹیم نے یارخون پاور ہاؤس کے قریب س...
21/08/2026

یارخون، اپر چترال میں دریا میں گر کر جاں بحق ہونے والی دوشیزہ کی لاش کو ریسکیو 1122 کی ٹیم نے یارخون پاور ہاؤس کے قریب سے نکال لیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق لاش کو ضروری قانونی اور طبی کارروائی کے لیے تحصیل ہیڈکوارٹر (THQ) ہسپتال بونی منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں سے کارروائی مکمل ہونے کے بعد اسے سوگوار خاندان کے حوالے کیا جائے گا۔
ابتدائی رپورٹ کے مطابق متوفیہ کا تعلق یارخون ہی سے تھا اور وہ مبینہ طور پر ذہنی تناؤ کا شکار تھی۔

* (ریسکیو 1122 خیبر پختونخوا)
*

مستوج میں معیاری تعلیم کی جانب ایک اور اہم قدم 📚آغا خان ہائر سیکنڈری اسکول مستوج میں Phase-II Project پر کام کا باقاعدہ ...
20/08/2026

مستوج میں معیاری تعلیم کی جانب ایک اور اہم قدم 📚

آغا خان ہائر سیکنڈری اسکول مستوج میں Phase-II Project پر کام کا باقاعدہ آغاز آج سے ہوگا، جبکہ اس منصوبے کا Phase-I پہلے ہی مکمل ہو چکا ہے۔

ہم عوامِ مستوج، AKESP کے مشکور ہیں کہ انہوں نے مستوج میں معیاری تعلیم کے فروغ اور تعلیمی سہولیات کی بہتری کے لیے جو اقدامات اٹھائے ہیں، وہ یقیناً قابلِ تحسین ہیں۔

ایسے منصوبے نہ صرف ہمارے بچوں کے لیے بہتر تعلیمی ماحول فراہم کرتے ہیں بلکہ علاقے کے روشن مستقبل کی بنیاد بھی مضبوط کرتے ہیں۔

معیاری تعلیم، روشن مستقبل — مستوج کی ترقی کا سفر جاری رہے۔ 🌱📚

20/08/2026

عمران خان کی اسپتال منتقلی کا فیصلہ،
چیف کمشنر اسلام آباد کی نظرثانی درخواست سپریم کورٹ میں اعتراض لگا کر واپس کر دی گئی



19/08/2026

*توق مستوج دریائی کٹاؤ کی زد میں — حکومت سے فوری اقدامات کا مطالبہ*

توق مستوج اس وقت دریائے یارخون کے مسلسل اور شدید کٹاؤ کی زد میں ہے، جس کے باعث پورے گاؤں کی آبادی کو سنگین خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔

گزشتہ سال دریائے یارخون کے شدید کٹاؤ کے نتیجے میں توق مستوج کا بجلی گھر اور کئی ایکڑ قیمتی زرعی اراضی دریا برد ہو گئی تھی۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ اس سنگین صورتحال کے باوجود متعلقہ حکام کی جانب سے مستقل بنیادوں پر کوئی مؤثر اقدام نہیں کیا گیا۔

بعد ازاں مئی کے مہینے میں کچھ ایکسیویٹرز کے ذریعے دریا کا رخ موڑنے کی کوشش کی گئی، تاہم صرف دریا کا رخ موڑ دینا اس مسئلے کا مستقل حل نہیں تھا۔ اس مقام پر ایک مضبوط حفاظتی بند (Flood Protection Bund) تعمیر کرنے کی ضرورت تھی تاکہ مستقبل میں دریا کے کٹاؤ کو روکا جا سکے اور آبادی و زرعی زمینوں کو محفوظ بنایا جا سکے۔

اب رواں سال اگست کے آغاز ہی میں دریائے یارخون نے دوبارہ اپنا رخ توق مستوج کی جانب موڑ لیا، جس کے نتیجے میں مزید قیمتی زرعی اراضی دریا برد ہو چکی ہے۔ صورتحال اس قدر تشویشناک ہو چکی ہے کہ اب پورا گاؤں توق مستوج براہِ راست خطرے کی زد میں ہے۔

اگر فوری طور پر حفاظتی اقدامات نہ کیے گئے تو خدانخواستہ مزید زرعی زمینیں، مکانات، بجلی کا نظام اور دیگر قیمتی املاک دریا برد ہونے کے ساتھ ساتھ انسانی جانوں کو بھی شدید خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

لہٰذا حکومتِ خیبر پختونخوا، ضلعی انتظامیہ اور متعلقہ محکمہ آبپاشی سے پُرزور مطالبہ ہے کہ توق مستوج کا فوری طور پر ہنگامی بنیادوں پر سروے کیا جائے اور دریائی کٹاؤ کو روکنے کے لیے ماہرین کی نگرانی میں ایک مضبوط اور مستقل حفاظتی بند تعمیر کیا جائے۔ وقتی اقدامات کے بجائے مستقل حل کی طرف توجہ دی جائے، تاکہ توق مستوج کی پوری آبادی اور اس کی قیمتی زرعی زمینوں کو مزید تباہی سے بچایا جا سکے۔

توق مستوج کے عوام اس وقت فوری حکومتی توجہ اور عملی اقدامات کے منتظر ہیں۔
مستوج ٹائمز

18/08/2026

‏سپریم کورٹ نے بانی پی ٹی آئی عمران خان کو شفاء انٹرنیشل ہسپتال منتقل کرنے کا حکم دے دیا

‏بانی پی ٹی آئی کا آج ہی اسپتال منتقل کیا جائے، سپریم کورٹ

‏ ڈاکٹر فیصل سلطان اور ڈاکٹر عظمیٰ خان بھی بانی کے ہمراہ ہونگے، سپریم کورٹ

‏اسپتال کے اخراجات خود برداشت کئے جائینگے۔ عدالت کا حکم

Address

Chitral
17020MASTUJ

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mastuj Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mastuj Times:

Shortcuts

Share