10/01/2026
گلگت بلتستان و چترال میں نوجوانوں کی خودکشیاں, ذہنی صحت کا سنگین بحران اور ریاستی غفلت
اقبال عیسیٰ خان
28 ستمبر 2025
نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات نہ صرف ایک افسوسناک حقیقت ہیں بلکہ یہ ایک ایسے خاموش بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو سماجی، نفسیاتی اور معاشرتی سطح پر تیزی سے گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ رجحان صرف عالمی سطح پر ہی نہیں بلکہ پاکستان، بالخصوص گلگت بلتستان اور چترال جیسے نسبتاً پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں بھی انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں خودکشی اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے، اور ان میں سے تقریباً 90 فیصد واقعات اُن ممالک میں پیش آتے ہیں جہاں معاشی حالات کمزور یا درمیانے درجے کے ہیں۔ ماہرین نفسیات اس کو ایک کثیرالجہتی بحران قرار دیتے ہیں جس میں ذہنی بیماری، سماجی دباؤ، معاشی مشکلات، خاندانی مسائل اور ثقافتی جکڑ بندیاں یکجا ہو کر نوجوانوں کو انتہائی اقدام کی طرف دھکیلتی ہیں۔
نفسیاتی لحاظ سے، ڈپریشن، اینگزائٹی، بائی پولر ڈس آرڈر، اسکیزوفرینیا، خود ترسی، مایوسی، منشیات کا استعمال، اور بچپن کے صدمات ایسے اہم عوامل ہیں جو خودکشی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ متاثرہ نوجوان عام طور پر نیند، خوراک، جذباتی توازن اور سماجی روابط میں شدید تبدیلیوں کا شکار ہوتے ہیں، اور اکثر خود کو ناکام یا بوجھ محسوس کرتے ہیں۔
سماجی سطح پر تنہائی، خاندانی تناؤ، تعلیمی ناکامی، بے روزگاری، غربت، اور مستقبل سے متعلق غیر یقینی کی کیفیت مزید جذباتی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ تاہم، گلگت بلتستان اور چترال کے مخصوص تناظر میں ایک اور خطرناک پہلو سامنے آیا ہے جو حالیہ برسوں میں نوجوانوں کو ذہنی اور جذباتی سطح پر تباہ کر رہا ہے، اور وہ ہے سوشل میڈیا کا غلط استعمال۔
حالیہ تحقیقات اور میڈیا رپورٹس سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال میں نوجوانوں کو بلیک میلنگ، غیراخلاقی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے ہراساں کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ مواد جعلی تعلقات یا مجرمانہ گروہوں کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، جو پھر متاثرہ نوجوانوں کو بلیک میل کر کے مالی، جنسی یا سماجی دباؤ میں مبتلا کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، متاثرہ افراد شدید شرمندگی، خوف اور بے بسی کا شکار ہو کر انتہائی اقدام کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں پولیس ریکارڈز کی بنیاد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق 2012 سے 2022 کے درمیان صرف تین اضلاع میں 340 خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں 53 فیصد خواتین، 59 فیصد غیر شادی شدہ افراد اور تقریباً 40 فیصد متاثرین کی عمر بیس سال سے کم تھی۔ 73 فیصد کیسز میں ذہنی دباؤ کو بنیادی سبب قرار دیا گیا۔ سب سے زیادہ واقعات ضلع غذر میں رپورٹ ہوئے، جہاں 2024 کے آغاز سے اب تک 46 سے زائد خودکشیوں کی اطلاع دی گئی ہے۔
چترال کی صورت حال بھی مختلف نہیں۔ ایک سماجی تحقیق کے مطابق 2013 سے 2019 کے دوران 176 افراد نے خودکشی کی، جن میں 58 فیصد خواتین شامل تھیں۔ اکثر کیسز میں تعلیمی دباؤ، خاندانی تنازعات، شادی سے متعلق دباؤ اور صنفی امتیاز جیسے عوامل نمایاں نظر آتے ہیں۔
متاثرہ نوجوانوں میں خودکشی سے پہلے چند علامات دیکھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ ناامیدی، خود کو بے قیمت تصور کرنا، منفی خیالات کا غلبہ، سماجی تعلقات سے کنارہ کشی، دلچسپیوں میں کمی، نیند اور خوراک کے معمولات میں بگاڑ، اور خودکشی سے متعلق باتیں یا اشارے دینا۔ اگر کوئی نوجوان ماضی میں خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر چکا ہو یا خودکشی کا منصوبہ رکھتا ہو تو یہ خطرے کی واضح علامت ہے۔
اس بڑھتے ہوئے بحران کی روک تھام کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ ذہنی صحت کو صحت عامہ کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ نوجوانوں کو نفسیاتی سہولیات، مشاورت، ہیلپ لائنز، اور سپورٹ گروپس کی سہولت فراہم کی جائے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں رسائی محدود ہے۔
اسکولوں اور کالجوں میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں، والدین اور اساتذہ کو تربیت دی جائے تاکہ وہ خطرے کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال پر رہنمائی اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے، اور بلیک میلنگ یا ہراسانی کا شکار ہونے والے افراد کو قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو چاہیے کہ وہ روزگار، تعلیم اور معاشی استحکام کے لیے نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرے، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
خودکشی ایک فرد کا ذاتی سانحہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ گلگت بلتستان اور چترال جیسے خطے، جہاں نوجوان معاشی اور سماجی چیلنجز کے ساتھ ساتھ ثقافتی دباؤ کا بھی سامنا کرتے ہیں، وہاں اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ بروقت مداخلت، ہم دردی، اور مؤثر مدد سے نہ صرف کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ ہم نوجوانوں کو جینے کی امید اور اعتماد واپس دے سکتے ہیں۔
Best Regards,
Iqbal Essa Khan
[email protected]