Mastuj Times

Mastuj Times MASTUJ UPPER CHITRAL
(UPDATE NEWS)

گلگت بلتستان و چترال میں نوجوانوں کی خودکشیاں, ذہنی صحت کا سنگین بحران اور ریاستی غفلتاقبال عیسیٰ خان 28 ستمبر 2025نوجوا...
10/01/2026

گلگت بلتستان و چترال میں نوجوانوں کی خودکشیاں, ذہنی صحت کا سنگین بحران اور ریاستی غفلت

اقبال عیسیٰ خان
28 ستمبر 2025

نوجوانوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات نہ صرف ایک افسوسناک حقیقت ہیں بلکہ یہ ایک ایسے خاموش بحران کی نشاندہی کرتے ہیں جو سماجی، نفسیاتی اور معاشرتی سطح پر تیزی سے گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ یہ رجحان صرف عالمی سطح پر ہی نہیں بلکہ پاکستان، بالخصوص گلگت بلتستان اور چترال جیسے نسبتاً پسماندہ اور دور افتادہ علاقوں میں بھی انتہائی تشویشناک حد تک بڑھ چکا ہے۔
عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوانوں میں خودکشی اموات کی ایک بڑی وجہ بن چکی ہے، اور ان میں سے تقریباً 90 فیصد واقعات اُن ممالک میں پیش آتے ہیں جہاں معاشی حالات کمزور یا درمیانے درجے کے ہیں۔ ماہرین نفسیات اس کو ایک کثیرالجہتی بحران قرار دیتے ہیں جس میں ذہنی بیماری، سماجی دباؤ، معاشی مشکلات، خاندانی مسائل اور ثقافتی جکڑ بندیاں یکجا ہو کر نوجوانوں کو انتہائی اقدام کی طرف دھکیلتی ہیں۔
نفسیاتی لحاظ سے، ڈپریشن، اینگزائٹی، بائی پولر ڈس آرڈر، اسکیزوفرینیا، خود ترسی، مایوسی، منشیات کا استعمال، اور بچپن کے صدمات ایسے اہم عوامل ہیں جو خودکشی کی راہ ہموار کرتے ہیں۔ متاثرہ نوجوان عام طور پر نیند، خوراک، جذباتی توازن اور سماجی روابط میں شدید تبدیلیوں کا شکار ہوتے ہیں، اور اکثر خود کو ناکام یا بوجھ محسوس کرتے ہیں۔
سماجی سطح پر تنہائی، خاندانی تناؤ، تعلیمی ناکامی، بے روزگاری، غربت، اور مستقبل سے متعلق غیر یقینی کی کیفیت مزید جذباتی دباؤ کا باعث بنتی ہے۔ تاہم، گلگت بلتستان اور چترال کے مخصوص تناظر میں ایک اور خطرناک پہلو سامنے آیا ہے جو حالیہ برسوں میں نوجوانوں کو ذہنی اور جذباتی سطح پر تباہ کر رہا ہے، اور وہ ہے سوشل میڈیا کا غلط استعمال۔
حالیہ تحقیقات اور میڈیا رپورٹس سے یہ بات واضح ہوتی جا رہی ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال میں نوجوانوں کو بلیک میلنگ، غیراخلاقی تصاویر اور ویڈیوز کے ذریعے ہراساں کیا جاتا ہے۔ بعض اوقات یہ مواد جعلی تعلقات یا مجرمانہ گروہوں کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے، جو پھر متاثرہ نوجوانوں کو بلیک میل کر کے مالی، جنسی یا سماجی دباؤ میں مبتلا کرتے ہیں۔ ایسی صورتحال میں، متاثرہ افراد شدید شرمندگی، خوف اور بے بسی کا شکار ہو کر انتہائی اقدام کا راستہ اختیار کرتے ہیں۔
گلگت بلتستان میں پولیس ریکارڈز کی بنیاد پر کی گئی ایک تحقیق کے مطابق 2012 سے 2022 کے درمیان صرف تین اضلاع میں 340 خودکشی کے واقعات رپورٹ ہوئے۔ ان میں 53 فیصد خواتین، 59 فیصد غیر شادی شدہ افراد اور تقریباً 40 فیصد متاثرین کی عمر بیس سال سے کم تھی۔ 73 فیصد کیسز میں ذہنی دباؤ کو بنیادی سبب قرار دیا گیا۔ سب سے زیادہ واقعات ضلع غذر میں رپورٹ ہوئے، جہاں 2024 کے آغاز سے اب تک 46 سے زائد خودکشیوں کی اطلاع دی گئی ہے۔
چترال کی صورت حال بھی مختلف نہیں۔ ایک سماجی تحقیق کے مطابق 2013 سے 2019 کے دوران 176 افراد نے خودکشی کی، جن میں 58 فیصد خواتین شامل تھیں۔ اکثر کیسز میں تعلیمی دباؤ، خاندانی تنازعات، شادی سے متعلق دباؤ اور صنفی امتیاز جیسے عوامل نمایاں نظر آتے ہیں۔
متاثرہ نوجوانوں میں خودکشی سے پہلے چند علامات دیکھی جا سکتی ہیں، جیسے کہ ناامیدی، خود کو بے قیمت تصور کرنا، منفی خیالات کا غلبہ، سماجی تعلقات سے کنارہ کشی، دلچسپیوں میں کمی، نیند اور خوراک کے معمولات میں بگاڑ، اور خودکشی سے متعلق باتیں یا اشارے دینا۔ اگر کوئی نوجوان ماضی میں خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر چکا ہو یا خودکشی کا منصوبہ رکھتا ہو تو یہ خطرے کی واضح علامت ہے۔
اس بڑھتے ہوئے بحران کی روک تھام کے لیے جامع اقدامات کی ضرورت ہے۔ سب سے اہم یہ ہے کہ ذہنی صحت کو صحت عامہ کا باقاعدہ حصہ بنایا جائے۔ نوجوانوں کو نفسیاتی سہولیات، مشاورت، ہیلپ لائنز، اور سپورٹ گروپس کی سہولت فراہم کی جائے، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں رسائی محدود ہے۔
اسکولوں اور کالجوں میں ذہنی صحت سے متعلق آگاہی مہمات چلائی جائیں، والدین اور اساتذہ کو تربیت دی جائے تاکہ وہ خطرے کی ابتدائی علامات کو پہچان سکیں۔ سوشل میڈیا کے استعمال پر رہنمائی اور نگرانی کو یقینی بنایا جائے، اور بلیک میلنگ یا ہراسانی کا شکار ہونے والے افراد کو قانونی اور نفسیاتی مدد فراہم کی جائے۔
اس کے ساتھ ساتھ، حکومت کو چاہیے کہ وہ روزگار، تعلیم اور معاشی استحکام کے لیے نوجوانوں کو بہتر مواقع فراہم کرے، اور قانون نافذ کرنے والے ادارے سوشل میڈیا پر غیر اخلاقی مواد کی روک تھام کے لیے مؤثر اقدامات کریں۔
خودکشی ایک فرد کا ذاتی سانحہ نہیں بلکہ ایک اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔ گلگت بلتستان اور چترال جیسے خطے، جہاں نوجوان معاشی اور سماجی چیلنجز کے ساتھ ساتھ ثقافتی دباؤ کا بھی سامنا کرتے ہیں، وہاں اس مسئلے کو سنجیدگی سے سمجھنے اور حل کرنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہے۔ بروقت مداخلت، ہم دردی، اور مؤثر مدد سے نہ صرف کئی قیمتی جانیں بچائی جا سکتی ہیں بلکہ ہم نوجوانوں کو جینے کی امید اور اعتماد واپس دے سکتے ہیں۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں کی آدھی زندگی دوسروں کو ٹوپییاں، ہار پہنانے میں اور مبارکباد دینے میں گزر جاتی ہے اقبال ...
08/01/2026

گلگت بلتستان اور چترال کے لوگوں کی آدھی زندگی دوسروں کو ٹوپییاں، ہار پہنانے میں اور مبارکباد دینے میں گزر جاتی ہے

اقبال عیسیٰ خان
8 جنوری 2026

گلگت بلتستان اور چترال کے معاشرے کا ایک تلخ مگر نظرانداز کیا جانے والا پہلو یہ ہے کہ ہماری اجتماعی توانائی کا بڑا حصہ لوگوں کو ہار پہنانے، ٹوپیاں پہنانے اور مبارکبادیں دینے میں صرف ہو جاتا ہے۔ جیسے ہماری آدھی زندگی اسی رسم میں گزر جاتی ہو۔ کوئی عہدہ سنبھالے، کوئی پوسٹنگ لے، کوئی میٹنگ میں آئے یا کوئی تصویر کے فریم میں فٹ ہو جائے، ہم فوراً استقبال کی دوڑ میں لگ جاتے ہیں۔ سوال یہ نہیں کہ عزت دینا غلط ہے، سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے کبھی عزت کے ساتھ ذمہ داری بھی مانگی؟
ایک سنجیدہ اور باشعور معاشرے میں اصل سوال یہ ہونا چاہیے کہ آپ کا کردار کیا ہے، آپ کی ذمہ داری کیا ہے، اور آپ اس ذمہ داری کو کیسے نبھائیں گے۔ مگر ہم پوچھتے ہی نہیں۔ ہم یہ نہیں پوچھتے کہ آپ کا Vision کیا ہے، آپ کی Mission کیا ہے، آپ نے اہداف کیا طے کیے ہیں اور ان کو حاصل کرنے کی Timeline کیا ہے۔ ہم یہ بھی نہیں پوچھتے کہ آپ اپنی JD کے مطابق کیا Deliver کریں گے، کس معیار پر کریں گے، اور کس کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔
یہ رویہ صرف جذباتی کمزوری نہیں، یہ ایک اسٹریٹجک ناکامی ہے۔ جب معاشرہ سوال پوچھنا چھوڑ دیتا ہے تو نظام جواب دینا بھی چھوڑ دیتا ہے۔ ہم تالیاں بجاتے رہتے ہیں اور کام رکتا رہتا ہے۔ ہم تصویریں بناتے رہتے ہیں اور فائلیں دبتی رہتی ہیں۔ ہم مبارکباد دیتے رہتے ہیں اور شفافیت کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ادارے کمزور، فیصلے مبہم اور عوام مایوس ہو جاتے ہیں۔
ایک دانشمند معاشرہ وہ ہوتا ہے جو شخصیات نہیں، کارکردگی کو منائے کرے۔ جو ہار سے پہلے روڑ میپ مانگے۔ جو ٹوپی پہنانے سے پہلے جوابدہی کا معیار طے کرے۔ جو مبارکباد سے پہلے یہ پوچھے کہ آپ ہمیں کیا دے کر جائیں گے، صرف تقریریں یا Measurable Results بھی؟ بدقسمتی سے ہم نے عزت کو سوال نہ کرنے کا لائسنس بنا لیا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ گلگت بلتستان اور چترال جیسے باصلاحیت خطے وسائل، دماغ اور جذبے کے باوجود آگے نہیں بڑھ پا رہے۔ یہاں مسئلہ افراد کی کمی نہیں، مسئلہ سوال کی غیرموجودگی ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہم ذمہ داری لینے والوں کو کندھوں پر بٹھا دیتے ہیں مگر ان کے کندھوں پر بوجھ ڈالنے سے گھبراتے ہیں۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم اپنی سماجی ترجیحات پر نظرثانی کریں۔ ہار، ٹوپی اور مبارکباد اپنی جگہ، مگر اس کے ساتھ Performance Indicators بھی ہوں۔ احترام اپنی جگہ، مگر اس کے ساتھ Transparency بھی ہو۔ خوش آمدید اپنی جگہ، مگر اس کے ساتھ Deliverables بھی طے ہوں۔ ورنہ ہم یہی کرتے رہیں گے، استقبال کرتے رہیں گے، اور ترقی کا انتظار کرتے کرتے ایک اور نسل قربان ہو جائے گی۔
سوال پوچھنا بدتمیزی نہیں، سوال پوچھنا بیداری ہے۔ اور جو معاشرہ سوال نہیں پوچھتا، وہ تاریخ میں صرف تصویر بن کر رہ جاتا ہے، فیصلہ ساز نہیں بنتا۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

گلگت بلتستان اور چترال کا نوجوان، پاکستان کا نظرانداز کیا گیا سب سے قیمتی سرمایہاقبال عیسیٰ خان 7 جنوری 2026 اگر پاکستان...
07/01/2026

گلگت بلتستان اور چترال کا نوجوان، پاکستان کا نظرانداز کیا گیا سب سے قیمتی سرمایہ

اقبال عیسیٰ خان
7 جنوری 2026

اگر پاکستان کے نوجوانوں کو محض تعداد، شور اور بڑے شہروں کی روشنی میں پرکھا جائے تو گلگت بلتستان اور چترال شاید نقشے کے کنارے پر رکھے ہوئے علاقے محسوس ہوں، مگر اگر صلاحیت کو آبادی کے تناسب، مواقع کی کمی اور وسائل کی قلت کے آئینے میں دیکھا جائے تو یہی خطے پاکستان کا سب سے قیمتی انسانی سرمایہ بن کر سامنے آتے ہیں۔ یہ ایک جذباتی دعویٰ نہیں بلکہ زمینی حقائق اور تقابلی اعداد و شمار پر مبنی حقیقت ہے۔
پاکستان کی کل آبادی تقریباً 24 کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ گلگت بلتستان کی آبادی بمشکل 18 سے 20 لاکھ اور چترال کی آبادی تقریباً 5 سے 6 لاکھ کے درمیان ہے۔ یوں دونوں خطوں کی مجموعی آبادی پاکستان کا محض ڈیڑھ فیصد بنتی ہے۔ مگر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ قومی سطح کے مقابلہ جاتی امتحانات، بین الاقوامی اسکالرشپس، کھیلوں کی قومی ٹیموں، فری لانسنگ پلیٹ فارمز اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں ان علاقوں کے نوجوانوں کی نمائندگی کئی بڑے صوبوں کے تناسب سے کہیں زیادہ نظر آتی ہے۔
اب سہولتوں کا موازنہ کیجیے۔ پاکستان کے بڑے شہروں میں درجنوں سرکاری و نجی یونیورسٹیاں، ٹیکنالوجی پارکس، انکیوبیشن سینٹرز، صنعتی زونز اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کے دفاتر موجود ہیں۔ اس کے مقابلے میں گلگت بلتستان اور چترال میں نہ مکمل یونیورسٹی نیٹ ورک ہے، نہ تحقیقاتی مراکز، نہ بڑی صنعتیں، اور نہ ہی مستحکم روزگار کے مواقع۔ انٹرنیٹ کی رفتار، بجلی کی دستیابی اور ٹرانسپورٹ جیسی بنیادی سہولتیں بھی کئی علاقوں میں مسلسل چیلنج بنی رہتی ہیں۔ اس کے باوجود یہاں کا نوجوان قومی اوسط سے زیادہ نتائج دے رہا ہے، جو اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ صلاحیت وسائل کی محتاج نہیں ہوتی، مگر وسائل صلاحیت کو کئی گنا بڑھا سکتے ہیں۔
کامیابی کی کہانیاں محض اعداد تک محدود نہیں۔ گلگت بلتستان کے نوجوان آج دنیا کے مختلف ممالک میں آئی ٹی، انجینئرنگ، میڈیکل اور ریسرچ کے شعبوں میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ سینکڑوں نوجوان فری لانسنگ کے ذریعے سالانہ لاکھوں ڈالر پاکستان لا رہے ہیں، بغیر کسی سرکاری سہولت یا بڑے انفراسٹرکچر کے۔ چترال کے نوجوان فٹبال، ہاکی اور دیگر کھیلوں میں قومی سطح پر اپنی شناخت بنا چکے ہیں، جبکہ کئی طلبہ ہارورڈ، آکسفورڈ، ایل ایس ای اور دیگر عالمی جامعات تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ یہ سب اس خطے کی اجتماعی ذہانت، نظم و ضبط اور سیکھنے کی شدید خواہش کا ثبوت ہے۔
اصل سوال یہ نہیں کہ یہ نوجوان باصلاحیت ہیں یا نہیں، بلکہ سوال یہ ہے کہ ریاست نے ان کی صلاحیت کے مطابق سرمایہ کاری کیوں نہیں کی۔ اگر پاکستان کی مجموعی ترقیاتی فنڈنگ کا محض چند فیصد بھی آبادی کے تناسب سے گلگت بلتستان اور چترال کے نوجوانوں پر خرچ کیا جائے، اگر یہاں معیاری تعلیمی ادارے، ٹیکنالوجی پارکس اور اسکل ڈیولپمنٹ سینٹرز قائم کیے جائیں، تو یہ خطے چند ہی برسوں میں انسانی ترقی کے قومی ماڈل بن سکتے ہیں۔
یہ نوجوان شکایت کم اور ذمہ داری زیادہ اٹھاتے ہیں۔ انہوں نے پہاڑوں کی سختی سے صبر سیکھا، موسموں کی شدت سے برداشت سیکھی، اور محرومیوں سے خودداری۔ یہی وجہ ہے کہ جب انہیں موقع ملتا ہے تو وہ صرف اپنی ذات نہیں سنوارتے بلکہ پورے خطے کا نام روشن کرتے ہیں۔ گلگت بلتستان اور چترال کا نوجوان دراصل پاکستان کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ قومیں وسائل سے نہیں، وژن سے بنتی ہیں، اور وژن ہمیشہ باصلاحیت انسانوں کے ذریعے حقیقت کا روپ دھارتا ہے۔
اب فیصلہ ریاست کے ہاتھ میں ہے۔ یا تو ان نوجوانوں کو نظر انداز کر کے ایک عظیم صلاحیت کو ضائع کیا جائے، یا پھر ان پر اعتماد کر کے پاکستان کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جن قوموں نے اپنے دور دراز علاقوں کے نوجوانوں کو مرکزی دھارے میں شامل کیا، وہی قومیں آگے بڑھیں۔ گلگت بلتستان اور چترال کے نوجوان اس اعتماد کے مکمل طور پر اہل ہیں۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

پاکستان کے نوجوانوں کیلئے دس سنہرے مواقعاقبال عیسیٰ خان 5 جنوری 2026پاکستان اس وقت تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سب ...
06/01/2026

پاکستان کے نوجوانوں کیلئے دس سنہرے مواقع
اقبال عیسیٰ خان
5 جنوری 2026

پاکستان اس وقت تاریخ کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں سب سے قیمتی سرمایہ اس کے نوجوان ہیں۔ یہ نوجوان اگر درست سمت پا جائیں تو معیشت کو سنبھال سکتے ہیں، ریاست کو وقار دے سکتے ہیں اور معاشرے کو نئی روح بخش سکتے ہیں۔ بدقسمتی سے ہم نے برسوں تک نوجوانوں کو صرف اعداد و شمار میں گنا، ان کی صلاحیت کو قومی حکمتِ عملی کا حصہ نہیں بنایا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ جذبات سے نکل کر شعور کی سطح پر بات کی جائے، کیونکہ مواقع موجود ہیں، کمی صرف سمت کی ہے۔
سب سے پہلے ڈیجیٹل دنیا کو دیکھنا ہوگا، جہاں پاکستان کا نوجوان خاموشی سے اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ فری لانسنگ، آن لائن کاروبار، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل مارکیٹنگ ایسے میدان ہیں جہاں ایک عام نوجوان بھی عالمی منڈی تک رسائی حاصل کر سکتا ہے۔ یہ محض روزگار نہیں بلکہ خود اعتمادی کی بحالی ہے، ایک ایسا احساس کہ ہم کسی کے محتاج نہیں، بلکہ مسابقت کے قابل ہیں۔
اس کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور ڈیٹا سائنس وہ شعبے ہیں جو آنے والے برسوں میں طاقت کا نیا پیمانہ ہوں گے۔ جو قومیں اس علم میں آگے ہوں گی، وہی فیصلہ ساز ہوں گی۔ پاکستانی نوجوان اگر آج خود کو جدید مہارتوں سے آراستہ کر لے تو کل وہ نہ صرف اچھی ملازمت حاصل کرے گا بلکہ دوسروں کے لیے بھی مواقع پیدا کرے گا۔
زراعت، جسے ہم اکثر ماضی کا شعبہ سمجھ کر نظر انداز کر دیتے ہیں، دراصل مستقبل کی معیشت بن سکتی ہے۔ جدید کاشتکاری، فوڈ پروسیسنگ اور ایگرو بزنس نوجوانوں کو نہ صرف روزگار فراہم کر سکتے ہیں بلکہ ملک کو غذائی خود کفالت کی طرف بھی لے جا سکتے ہیں۔ زمین آج بھی وفادار ہے، شرط یہ ہے کہ اسے جدید سوچ کے ساتھ اپنایا جائے۔
کاروبار اور انٹرپرینیورشپ نوجوانوں کے لیے ایک ذہنی تبدیلی کا نام ہے۔ نوکری کی تلاش سے نکل کر مسئلہ حل کرنے کی طرف آنا اصل ترقی ہے۔ چھوٹے اسٹارٹ اپس، مقامی صنعتیں اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز نوجوانوں کو خود مختار بناتے ہیں اور معاشرے میں روزگار کا پہیہ گھماتے ہیں۔
پاکستان کا جغرافیہ ایک اسٹریٹجک حقیقت ہے۔ علاقائی تجارت، لاجسٹکس، ٹرانسپورٹ اور سپلائی چین جیسے شعبے نوجوانوں کے لیے وسیع امکانات رکھتے ہیں۔ اگر وژن وقتی فائدے سے نکل کر طویل المدت حکمتِ عملی کی طرف جائے تو یہ شعبے قومی طاقت میں بدل سکتے ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں بھی نوجوانوں کے لیے نئے راستے کھل رہے ہیں۔ آن لائن لرننگ، اسکل بیسڈ تربیت اور تعلیمی پلیٹ فارمز نہ صرف سیکھنے کے مواقع فراہم کر رہے ہیں بلکہ نوجوانوں کو علم بانٹنے کا موقع بھی دے رہے ہیں۔ جو نوجوان علم کو ذریعہ بنالے، وہ کبھی بے اثر نہیں رہتا۔
صحت کا شعبہ صرف روایتی ملازمتوں تک محدود نہیں رہا۔ ہیلتھ ٹیک، ذہنی صحت، کمیونٹی سروس اور سماجی کاروبار نوجوانوں کو انسانیت کی خدمت کے ساتھ پیشہ ورانہ ترقی کا موقع دیتے ہیں۔ یہ وہ میدان ہے جہاں جذبہ اور نظم اکٹھے چلتے ہیں۔
ماحولیاتی تبدیلی نے نئی معیشت کو جنم دیا ہے۔ صاف توانائی، پانی کے تحفظ اور ماحول دوست منصوبے نوجوانوں کے لیے مستقبل کی نوکریاں ہیں۔ جو نوجوان آج ماحول کے لیے کام کرے گا، وہ آنے والی نسلوں کے لیے راستہ ہموار کرے گا۔
تخلیقی صنعتیں، میڈیا اور ڈیجیٹل اظہار نوجوانوں کو آواز دیتے ہیں۔ فلم، تحریر، صحافت اور سوشل میڈیا محض اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ رائے سازی کی طاقت ہیں۔ ذمہ دار اور باخبر نوجوان یہاں قوم کی سوچ بدل سکتے ہیں۔
آخر میں، عوامی خدمت اور ریاستی نظام میں کردار ادا کرنا بھی ایک اہم موقع ہے۔ سول سروس، پالیسی ریسرچ اور سماجی قیادت وہ راستے ہیں جہاں دیانت دار اور اہل نوجوان نظام کو اندر سے بہتر بنا سکتے ہیں۔ تنقید آسان ہے، تعمیر مشکل مگر ضروری ہے۔
یہ کالم کسی خواب کی تشہیر نہیں بلکہ ایک حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ پاکستان کا نوجوان اگر خود پر یقین کر لے، مہارت کو شعار بنا لے اور وقتی مایوسی کے بجائے طویل سفر کا انتخاب کرے تو کوئی وجہ نہیں کہ یہ ملک ترقی کی راہ پر نہ گامزن ہو۔ قومیں شور سے نہیں، سوچ سے بدلتی ہیں، اور یہ سوچ آج پاکستان کے نوجوان کے ہاتھ میں ہے۔



Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

2026 میں نوجوانوں کو درپیش 10 بڑے چیلینجز اور ان سے نکلنے کی حکمت عملیاقبال عیسیٰ خان 4 جنوری 2026سال 2026 نوجوانوں کے ل...
04/01/2026

2026 میں نوجوانوں کو درپیش 10 بڑے چیلینجز اور ان سے نکلنے کی حکمت عملی

اقبال عیسیٰ خان
4 جنوری 2026

سال 2026 نوجوانوں کے لیے صرف ایک نیا سال نہیں بلکہ ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔ یہ وہ نسل ہے جس کے ہاتھ میں بے پناہ معلومات ہیں مگر دل میں شدید بے یقینی۔ آج کا نوجوان باصلاحیت ہے، مگر سمت کے بغیر۔ وہ تیز رفتار دنیا میں جی رہا ہے جہاں کامیابی کی تعریف بدل چکی ہے اور ناکامی کو برداشت کرنے کی صلاحیت کمزور پڑتی جا رہی ہے۔ یہی وہ پس منظر ہے جہاں نوجوانوں کو دس بڑے چیلنجز درپیش ہیں، اور انہی چیلنجز کے اندر ان کی کامیابی کے راستے بھی چھپے ہوئے ہیں۔
سب سے پہلے شناخت کا بحران سامنے آتا ہے۔ سوشل میڈیا نے نوجوان کو یہ باور کرایا ہے کہ کامیابی چند تصویروں، فالوورز اور نمود و نمائش کا نام ہے۔ اس دوڑ میں نوجوان خود کو کھو بیٹھتا ہے۔ مگر تاریخ گواہ ہے کہ جنہوں نے خود کو پہچان لیا، وہی آگے بڑھے۔ عبد الستار ایدھی نہ امیر تھے، نہ طاقتور، مگر انہوں نے اپنے مقصد کو پہچانا اور ایک فرد سے ایک تحریک بن گئے۔ 2026 کا نوجوان اگر خود سے یہ سوال کر لے کہ وہ دوسروں کی نقل کیوں کر رہا ہے تو یہی سوال اس کی شناخت کی بنیاد بن سکتا ہے۔
دوسرا بڑا چیلنج بے روزگاری اور معاشی غیر یقینی ہے۔ ڈگری ہاتھ میں ہے مگر نوکری نہیں، خواب ہیں مگر راستہ واضح نہیں۔ اسی طرح کے حالات میں پاکستان سمیت دنیا کے ہزاروں نوجوانوں نے روایتی ملازمت کے انتظار کے بجائے ہنر کو اپنایا۔ فری لانسنگ، ای کامرس اور ٹیکنالوجی نے عام گھروں سے عالمی کمائی کے دروازے کھولے۔ آج فیصل آباد، سوات اور گلگت کے نوجوان اپنے کمروں سے عالمی کمپنیوں کے لیے کام کر رہے ہیں۔ مسئلہ مواقع کی کمی نہیں، مسئلہ سوچ کی تنگی ہے۔
تیسرا چیلنج ذہنی دباؤ اور تنہائی ہے۔ مقابلے کی فضا، والدین کی توقعات اور ناکامی کا خوف نوجوان کو اندر سے توڑ دیتا ہے۔ دنیا کے بڑے لیڈرز کی زندگیاں دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ جدوجہد کے دن سب سے زیادہ تنہا ہوتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے قید و تنہائی کو شکست میں نہیں بدلا بلکہ کردار کی مضبوطی میں ڈھالا۔ نوجوان اگر ذہنی دباؤ کو کمزوری نہیں بلکہ ایک مرحلہ سمجھے تو یہی دباؤ اسے مضبوط بنا سکتا ہے۔
چوتھا مسئلہ سوشل میڈیا کی لت ہے۔ نوجوان کا قیمتی وقت دوسروں کی زندگی دیکھنے میں ضائع ہو رہا ہے۔ مگر اسی پلیٹ فارم کو کئی نوجوانوں نے سیکھنے، سکھانے اور کمانے کا ذریعہ بنایا۔ فرق صرف نیت اور نظم کا ہے۔ جو سوشل میڈیا کو کنٹرول کرتا ہے وہ آگے بڑھتا ہے، جو اس کے کنٹرول میں آ جاتا ہے وہ پیچھے رہ جاتا ہے۔
پانچواں چیلنج اخلاقی کمزوری اور شارٹ کٹ کلچر ہے۔ آج کامیابی جلدی چاہیے، چاہے اصول قربان ہوں۔ مگر تاریخ میں وہی نام زندہ ہیں جنہوں نے مشکل راستہ چنا۔ قائد اعظم نے برسوں کی جدوجہد میں کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا۔ نوجوان اگر یہ سمجھ لے کہ شارٹ کٹ وقتی فائدہ دیتا ہے مگر طویل نقصان، تو وہ خود کو بچا سکتا ہے۔
چھٹا مسئلہ تعلیم اور عملی زندگی کا فرق ہے۔ نصاب پیچھے رہ گیا ہے اور دنیا آگے نکل گئی ہے۔ مگر اسی خلا کو کئی نوجوانوں نے خود سیکھ کر پُر کیا۔ آن لائن کورسز، انٹرن شپس اور عملی تجربے نے عام طالب علم کو ماہر بنا دیا۔ مسئلہ نظام نہیں، مسئلہ انتظار کی عادت ہے۔
ساتواں چیلنج رہنمائی اور رول ماڈلز کی کمی ہے۔ نوجوان کو لگتا ہے کہ کوئی اس کا درد نہیں سمجھتا۔ مگر اصل رہنمائی کتابوں، سوانح عمریوں اور تجربات میں ملتی ہے۔ جن نوجوانوں نے دوسروں کو الزام دینے کے بجائے سیکھنا شروع کیا، وہ خود مثال بن گئے۔
آٹھواں مسئلہ معاشرتی ناانصافی اور مایوسی ہے۔ میرٹ پر عدم اعتماد نوجوان کو بدظن بنا دیتا ہے۔ مگر ہر دور میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نظام کا رونا رونے کے بجائے اپنی جگہ خود بناتے ہیں۔ یہی لوگ بعد میں نظام بدلتے ہیں۔
نواں چیلنج مقصد کی کمی ہے۔ بہت سے نوجوان زندہ ہیں مگر کسی بڑے خواب کے بغیر۔ مگر جب مقصد واضح ہو جائے تو مشکلات راستہ چھوڑ دیتی ہیں۔ ایدھی، منڈیلا اور بے شمار عام لوگ اسی مقصد کے سہارے غیر معمولی بنے۔
دسواں اور آخری چیلنج قیادت کی کمی ہے۔ نوجوان خود کو حالات کا شکار سمجھتا ہے، قائد نہیں۔ حالانکہ قیادت منصب سے نہیں، ذمہ داری سے جنم لیتی ہے۔ جو نوجوان اپنی زندگی، وقت اور فیصلوں کی ذمہ داری لے لیتا ہے، وہی حقیقی لیڈر بنتا ہے۔
2026 نوجوانوں کے لیے خطرہ نہیں، موقع ہے۔ سوال یہ نہیں کہ حالات کتنے سخت ہیں، سوال یہ ہے کہ نوجوان خود کو کتنا مضبوط بناتا ہے۔ تاریخ نے ہمیشہ ثابت کیا ہے کہ مشکل وقت کمزور نسلوں کو نہیں بلکہ مضبوط کردار والوں کو جنم دیتا ہے۔ اگر آج کا نوجوان سیکھنے، برداشت کرنے اور اصولوں پر قائم رہنے کا فیصلہ کر لے تو یہی چیلنجز اس کی کامیابی کی کہانی بن سکتے ہیں۔

#2026

Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ ہم کیوں زندہ ہیں؟اقبال عیسیٰ خان 2 جنوری 2026کتنے لوگ ہیں جنہوں نے واقعی اپنی زندگی کے مقصد او...
02/01/2026

کیا ہم واقعی جانتے ہیں کہ ہم کیوں زندہ ہیں؟

اقبال عیسیٰ خان
2 جنوری 2026

کتنے لوگ ہیں جنہوں نے واقعی اپنی زندگی کے مقصد اور وژن کو دریافت کیا ہے؟ یہ سوال سادہ ضرور ہے، مگر اس کے اندر چھپی گہرائی انسان کو خود اپنے سامنے لا کھڑا کرتی ہے۔ ہم میں سے اکثر زندگی کو یوں جیتے ہیں جیسے یہ پہلے سے لکھی ہوئی کوئی اسکرپٹ ہو۔ تعلیم حاصل کرو، نوکری ڈھونڈو، گھر بساؤ اور پھر وقت کے ساتھ بہتے چلے جاؤ۔ مگر سوال یہ ہے کہ اس سارے سفر میں ہم خود کہاں ہیں، ہماری پہچان کیا ہے، اور ہم اس دنیا میں آئے کیوں تھے۔
انسان محض سانس لینے کا نام نہیں۔ انسان ہونا ایک ذمہ داری ہے، ایک شعوری عمل ہے۔ وژن وہ روشنی ہے جو اندھیرے راستوں میں سمت دیتی ہے، اور مقصد وہ قوت ہے جو تھکے قدموں کو دوبارہ چلنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ بدقسمتی سے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد اپنے وژن کی تلاش سے پہلے ہی دوسروں کے خوابوں میں قید ہو جاتی ہے۔ والدین کی خواہش، معاشرے کا دباؤ، یا سوشل میڈیا پر دکھائی جانے والی وقتی کامیابیوں کا فریب، سب مل کر نوجوان ذہن کو اس کے اصل سوال سے دور کر دیتے ہیں۔
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ غیر معمولی کامیابیاں ہمیشہ اُن لوگوں نے حاصل کیں جنہوں نے خود سے یہ مشکل سوال پوچھنے کی ہمت کی کہ میں کون ہوں اور میں کیا بننا چاہتا ہوں۔ نیلسن منڈیلا نے جوانی میں یہ طے کر لیا تھا کہ اُن کی زندگی کا مقصد صرف ذاتی آزادی نہیں بلکہ ایک پوری قوم کو وقار دلانا ہے۔ تین دہائیوں کی قید بھی اُن کے وژن کو توڑ نہ سکی، کیونکہ مقصد مضبوط ہو تو حالات کمزور پڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح اسٹیو جابز نے ٹیکنالوجی کو محض مشین نہیں بلکہ انسانی تخلیق کا اظہار بنایا، کیونکہ اُن کا وژن منافع سے آگے انسان اور خوبصورتی تک جاتا تھا۔
یہ بات یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ وژن دریافت نہ کرنا سب سے بڑا نقصان ہے۔ جس قوم کے نوجوان مقصد کے بغیر ہوں، وہ ہجوم تو بن سکتی ہے مگر تاریخ نہیں بنا سکتی۔ وژن انسان کو ہجوم سے نکال کر صفِ اوّل میں کھڑا کرتا ہے۔ مقصد واضح ہو تو فیصلے آسان ہو جاتے ہیں، ترجیحات خود بخود ترتیب پا لیتی ہیں، اور زندگی محض گزارنے کا نام نہیں رہتی بلکہ بنانے کا عمل بن جاتی ہے۔
پیشہ ورانہ زندگی میں بھی وہی افراد آگے بڑھتے ہیں جو اپنے کام کو صرف روزگار نہیں بلکہ مشن سمجھتے ہیں۔ ایک استاد جو یہ جانتا ہے کہ وہ نسلوں کی تعمیر کر رہا ہے، اور ایک ڈاکٹر جو مریض کو صرف کیس نہیں بلکہ انسان سمجھتا ہے، یہی لوگ خاموشی سے انقلاب برپا کرتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے اصل کامیابی مہنگی گاڑی یا بڑی تنخواہ نہیں، بلکہ یہ شعور ہے کہ وہ جو کر رہے ہیں، اس کی کوئی معنویت ہے۔
سوال وہی رہتا ہے۔ آپ میں سے کتنے لوگ ہیں جنہوں نے خاموشی سے بیٹھ کر خود سے یہ پوچھا ہو کہ میری زندگی کا وژن کیا ہے، اور میں اس دنیا کو کیا دے کر جانا چاہتا ہوں؟ یہ سوال آج نہیں تو کل آپ کے دروازے پر دستک دے گا۔ بہتر یہ ہے کہ ہم خود اسے خوش آمدید کہیں، کیونکہ جس دن انسان اپنے مقصد کو پہچان لیتا ہے، اُسی دن وہ واقعی زندہ ہونا شروع کرتا ہے۔




Best Regards,
Iqbal Essa Khan

[email protected]

پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے ٹ...
02/01/2026

پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں ایک بڑی پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن کمپنی لمیٹڈ (پی ٹی سی ایل) نے ٹیلی نار پاکستان اور اوریئن ٹاورز کے سو فیصد حصص کا حصول مکمل کر لیا ہے۔

پی ٹی سی ایل کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے کہ اس لین دین کے بعد پی ٹی سی ایل کو ٹیلی نار پاکستان کا مکمل آپریشنل کنٹرول حاصل ہو گیا ہے، جبکہ اوریئن ٹاورز کے تمام انفرااسٹرکچر اثاثے بھی پی ٹی سی ایل کے کنٹرول میں آ گئے ہیں۔

پی ٹی سی ایل کے مطابق یہ لین دین پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی رول بک اور سیکیورٹیز ایکٹ کے تحت تمام قانونی تقاضے پورے کرنے کے بعد مکمل کیا گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس معاہدے کے بعد ملک کی ٹیلی کام انڈسٹری کے مسابقتی منظرنامے میں نمایاں تبدیلی کا امکان ہے۔

انتہائی اہم اور آخری اطلاع برائے ادائیگی بقایاجاتمیں، ستارہ سویٹس اینڈ جنرل اسٹور کا مالک، احمد نبی افعانی  گزشتہ 15 سال...
01/01/2026

انتہائی اہم اور آخری اطلاع برائے ادائیگی بقایاجات
میں، ستارہ سویٹس اینڈ جنرل اسٹور کا مالک، احمد نبی افعانی گزشتہ 15 سال سے مستوج بازار میں بیکری اور جنرل اسٹور چلا رہا ہوں۔ میں ایک افغانی تاجر ہوں اور اس طویل عرصے میں میں نے پرواک سے بروغل تک اور پرواک سے سورلاسپور تک متعدد افراد کے ساتھ کاروبار کیا ہے۔ ان علاقوں کے کئی افراد کے ذمے اس وقت بھی میرا قرض / بقایاجات واجب الادا ہیں۔

واضح اور دو ٹوک الفاظ میں تمام متعلقہ افراد کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ 5 تاریخ کو مجھے ہر صورت میں افغانستان روانہ ہونا ہے کیونکہ پاکستانی حکومت کی جانب سے آخری وارننگ دی جا چکی ہے۔ اس معاملے میں اب کسی قسم کی تاخیر یا رعایت ممکن نہیں۔

لہٰذا تمام مقروض حضرات کو آخری بار سختی سے مطلع کیا جاتا ہے کہ وہ 5 جنوری 2026 سے پہلے پہلے اپنا تمام بقایا مکمل طور پر ادا کریں تاکہ میں روانگی سے قبل اپنا حساب کتاب کلیئر کر سکوں۔ اس اعلان کے بعد کسی قسم کا عذر، وعدہ یا مہلت قابلِ قبول نہیں ہوگی۔

یہ بھی صاف الفاظ میں بتا دیا جاتا ہے کہ اگر کسی فرد نے مقررہ تاریخ تک اپنی ادائیگی مکمل نہ کی تو اس کے نام، رقم اور تفصیلات پر مشتمل فہرست سوشل میڈیا (خصوصاً فیس بک) پر شائع کر دی جائے گی، جس کی مکمل ذمہ داری نادہندہ فرد پر عائد ہوگی۔

میں نے ہمیشہ ایمانداری، بھروسے اور برداشت کے ساتھ کاروبار کیا ہے، لیکن موجودہ حالات میں مجھے یہ سخت اعلان کرنا پڑ رہا ہے۔ اس لیے تمام افراد سنجیدگی کا مظاہرہ کریں اور کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے فوراً اپنی ادائیگی یقینی بنائیں۔ مسلہ اگر پھر بھی حل نھی ہوا تو مین اپنا سارا حساب کتاب اے سی مستوج اور تجار یونین مستوج بازار کے سامنے رکھون گا

یہ اعلان آخری اور حتمی سمجھا جائے۔

منجانب: ستارہ سویٹس اینڈ جنرل اسٹور مین بازار مستوج


لواری ٹنل اپروچ روڈ ، دیر سائیڈرات گئے برفباری جاری ، تقریبا تین فٹ تک برف پڑ چکی ہے، تاہم روڈ کی صفائی ساتھ جاری ہے، ٹر...
01/01/2026

لواری ٹنل اپروچ روڈ ، دیر سائیڈ
رات گئے برفباری جاری ، تقریبا تین فٹ تک برف پڑ چکی ہے، تاہم روڈ کی صفائی ساتھ جاری ہے، ٹریفک سنو چین کے ساتھ جاری

پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 28 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے۔
01/01/2026

پیٹرول کی قیمت میں 10 روپے 28 پیسے جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 8 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی کر دی گئی ہے۔

عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد نئے سال کے موقع پر پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کے نر...
28/12/2025

عالمی منڈی میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں کمی کے بعد نئے سال کے موقع پر پاکستان میں بھی پیٹرول اور ڈیزل کے نرخوں میں کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
عالمی مارکیٹ میں پیٹرول کی فی بیرل قیمت 75 ڈالر 5 سینٹ سے کم ہو کر 69 ڈالر 73 سینٹ ہو گئی ہے، جس سے پیٹرول کی قیمت میں 5 ڈالر 32 سینٹ فی بیرل کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
پیٹرول کی فی لیٹر ایکس ریفائنری قیمت 145 روپے 66 پیسے مقرر ہوئی ہے، جس میں 11 روپے فی لیٹر کمی دیکھی گئی ہے۔ 15 دسمبر کو پیٹرول کی ایکس ریفائنری قیمت 156 روپے 66 پیسے تھی۔
اسی طرح عالمی منڈی میں ڈیزل کی قیمت میں 4 ڈالر 35 سینٹ فی بیرل کمی ہوئی ہے، جس کے بعد ڈیزل کی قیمت 84 ڈالر 27 سینٹ سے کم ہو کر 79 ڈالر 92 سینٹ ہو گئی ہے۔
ڈیزل کی ایکس ریفائنری قیمت میں 9 روپے 57 پیسے فی لیٹر کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جس کے بعد قیمت 164 روپے 92 پیسے سے کم ہو کر 155 روپے 35 پیسے ہو گئی ہے۔

Address

Chitral
17020MASTUJ

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Mastuj Times posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to Mastuj Times:

Share