14/08/2026
اب تو ہر کوئی تھک چکا ہے.
تحریر میراج الدین
میں اپنے خدشات اس لیے اٹھاتا ہوں کیونکہ کمر کے درد کی وجہ سے چترال سے بونی تک سفر کرتے ہوئے مجھے زیادہ تکلیف ہوتی ہے۔
وزیراعظم کی انسپکشن ٹیم، ضلعی انتظامیہ، مسلم لیگ (ن)، پی ٹی آئی کی قیادت اور مختلف سماجی کارکنوں نے چاروُن سے بونی تک سڑک کی اسفالٹنگ کے کام کی رفتار تیز کرنے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں کیں۔ تاہم، ایسا لگتا ہے کہ ان کوششوں کا کوئی خاص نتیجہ نہیں نکلا۔ کام شروع ہوئے 44 دن گزر چکے ہیں، لیکن 7 کلومیٹر طویل سڑک کا نصف حصہ اب بھی مکمل نہیں ہو سکا۔
اپنی گزشتہ پوسٹ میں، میں نے واضح طور پر ذکر کیا تھا کہ ٹھیکیدار کے لیے اسفالٹنگ کے کام کے مقابلے میں دیگر کاموں، مثلاً حفاظتی دیواروں کی تعمیر اور پہاڑوں کی کٹائی وغیرہ، میں زیادہ دلچسپی یا فائدہ نظر آتا ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ تارکول کی قیمت بہت زیادہ ہے اور پلانٹ سائٹ کے قریب بھی اس کا مناسب ذخیرہ دستیاب نظر نہیں آتا۔
مزید یہ کہ اسفالٹنگ کے لیے موسمِ گرما بہترین وقت ہوتا ہے، جب درجہ حرارت زیادہ ہوتا ہے۔ تاہم، اس دوران تارکول کی مقدار بھی نسبتاً زیادہ ہوتی ہے۔ سردیوں میں تارکول نسبتاً کم استعمال ہوتا ہے، لیکن کم درجہ حرارت کی وجہ سے کام کے معیار پر سمجھوتہ ہونے کا خدشہ رہتا ہے۔
لہٰذا، یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ موسمِ خزاں کے آخری مہینوں میں کام کی رفتار میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
آخر میں، میں اللہ تعالیٰ سے دعا کرتا ہوں کہ وہ نیشنل ہائی وے اتھارٹی (NHA) اور اس کے ٹھیکیدار کے ذہنوں میں مثبت تبدیلی پیدا کرے تاکہ وہ اس اہم کام کی رفتار کو کچھ تیز کریں اور اسے مزید تاخیر کے بغیر مکمل کریں۔