CHITRAL FAST NEWS

CHITRAL FAST NEWS سب سے پہلے سب سے تیز🙋‍♂️

آیون میں مہمان علماء کرام کی پر نور محفل ، سینکڑوں فرزندان توحید نے شرکت کی ، کربوغا شریف کے علماء کی طرف سے امت کو زبوں...
02/06/2026

آیون میں مہمان علماء کرام کی پر نور محفل ، سینکڑوں فرزندان توحید نے شرکت کی ، کربوغا شریف کے علماء کی طرف سے امت کو زبوں حالی سے نکلنے کیلئے اللہ و رسول سے قریبی تعلق قائم کرنے پر زور ، ذکر کی محفل بھی سج گئی ،

چترال ( محکم الدین ) مادیت کے اس دور میں جہاں لوگ مادی وسائل کے حصول کیلئےدن رات کی تمیز کئے بغیر سرگردان ہیں ، وہاں بعض خوش نصیب حضرات ذات باری تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے اور لوگوں کا تعلق اللہ سے جوڑنے کے عظیم مقصد کے تحت سرگرم عمل ہیں ، اور وہ اس کوشش میں ہیں ، کہ امت اپنا اصل مقصد پر واپس آجائے ، ان کا یہ کہنا ہے ۔ کہ آج اللہ پاک کی عنایت کردہ تمام وسائل ہونے کے باوجود امت جس قدر زبوں حالی کا شکار ہے، اس کی بنیادی وجہ اسلامی احکامات و تعلیمات سے دوری اور اللہ و رسول کے بتائے ہوئے راستے سے انحراف ہے ،
اس سلسلے میں آیون کے معروف عالم دین و مبلغ حافظ مولانا خوشولی خان ولی کی دعوت پر ملکی سطح پر دینی خدمات میں نمایاں نام کے حامل خانقاہ کاربوغہ شریف کے علماء مفتی زبیر ، مولانا نورالودود، مولانا ذکریا آیون تشریف لائے ، اور آیون بازار مسجد کورو میں بیان کی ، جس میں سینکڑوں لوگوں نے شرکت کی ، اپنے بیان میں مولانا مفتی زبیر نے کہا، کہ امت کو جس چیز کی سب سے زیادہ ضرورت ہے ، وہ اللہ و رسول سے تعلق ہے ، آج ہم نے اسباب کو خدا بنا لیا ہے ، اور صبح سے لے کر رات تک اپنی ذات کی سہولیات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں ، انہوں نے کہا ، کہ حالات کا دارومدار اعمال پر ہے ، اگر ہم اللہ و رسول کے بتائے ہوئے احکامات کی پیروی کریں گے ، تو آسمان سے ہمارے اعمال کے مطابق نتائج آئیں گے ۔ ہمارے دلوں میں اللہ کے غیروں نے جگہ بنا لی ہے ، اس لئے ان غیروں کو دل سے نکالنے اور اللہ کی ذات کو دل میں بسانے کیلئے مسلسل ذکر کی محنت کی ضرورت ہے ، اللہ کا ذکر اور ورد سے ہی دل منور ہو سکتا ہے ،
اس موقع پر مولانا نورالودود نے ذکر کا حلقہ لگایا ، اور اختتام پر اللہ کے حضور خشوع و خضوع سے دعا کی ، اس طرح یہ بابرکت محفل اختتام کو پہنچی ، بعد آزان ان علماء نے تھانہ آیون میں جوانوں اور ڈی ایس پی حسن اللہ سے ملاقات کی ، اور جوانوں سے بھی دینی پہلو پر خطاب کیا ۔

02/06/2026

جنوری سے مئی تک مجموعی طور پر 1,904 افراد مارے گئے جن میں 1,258 جنگجو، 352 شہری اور 281 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ جبکہ 1,003 افراد زخمی ہوئے جن میں 629 شہری، 231 سکیورٹی اہلکار، 133 جنگجو اور امن کمیٹیوں کے 10 ارکان شامل تھے۔

اسلام آباد،
پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی ماہانہ سکیورٹی رپورٹ کے مطابق دو ماہ کی بہتری کے بعد مئی 2026 کے دوران ملک کی سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر خراب ہوئی، جس کی بنیادی وجہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں دہشت گردوں کی سرگرمیوں میں اضافہ رہا۔

پی آئی سی ایس ایس کے اعدادوشمار کے مطابق مئی میں ملک بھر میں دہشت گردی کے 128 حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ اپریل میں یہ تعداد 101 تھی، یوں حملوں میں 27 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ دو ماہ کے دوران حملوں میں نسبتاً کمی دیکھی گئی تھی، تاہم مئی میں یہ رجحان الٹ گیا اور دہشت گرد گروہوں نے دوبارہ اپنی سرگرمیاں تیز کر دیں۔

حملوں میں اضافے کے باعث جانی نقصان میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ مئی کے دوران 71 شہری، 68 سکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹیوں کے 6 ارکان مارے گئے جبکہ 147 شہری، 35 سکیورٹی اہلکار اور امن کمیٹیوں کے 3 ارکان زخمی ہوئے۔ اپریل کے مقابلے میں شہری اموات میں 92 فیصد اضافہ ہوا، جب یہ تعداد 37 سے بڑھ کر 71 ہو گئی، جبکہ سکیورٹی اہلکاروں کی اموات 28 سے بڑھ کر 68 ہو گئیں، جو 143 فیصد اضافے کے برابر ہے۔

رپورٹ کے مطابق مئی کا سب سے تشویش ناک پہلو خودکش حملوں میں اچانک اضافہ تھا۔ ملک بھر میں مجموعی طور پر 6 خودکش حملے ریکارڈ کیے گئے جن میں سے 4 بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے۔ ان حملوں کے نتیجے میں 34 سکیورٹی اہلکار اور 9 شہری مارے گئے۔ اس کے برعکس مارچ اور اپریل میں صرف ایک ایک خودکش حملہ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

چھ خودکش حملوں میں سے تین خیبر پختونخوا میں ہوئے۔ ان میں دو سابقہ فاٹا کے قبائلی اضلاع میں جبکہ ایک ضلع بنوں میں کیا گیا۔ ایک ناکام خودکش حملہ پنجاب کے ضلع اٹک کے علاقے جنڈ میں بھی رپورٹ ہوا۔ باقی حملے بلوچستان میں ہوئے۔

بلوچستان مئی کے دوران سب سے زیادہ متاثر ہونے والا صوبہ رہا۔ صوبے میں جنگجوؤں کے 71 حملے ریکارڈ کیے گئے جبکہ اپریل میں یہ تعداد 34 تھی، یوں حملوں میں 109 فیصد اضافہ ہوا۔ اغوا کے واقعات میں بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔ ملک بھر میں اغوا ہونے والے 54 افراد میں سے 52 بلوچستان سے اغوا ہوئے، جو صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں بھی جنگجو سرگرمیوں میں اضافہ دیکھا گیا، تاہم صوبے میں زیادہ تر دہشت گردی کے واقعات جنوبی اضلاع میں پیش آئے، جو گزشتہ کئی ماہ سے جنگجو سرگرمیوں کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب سکیورٹی فورسز نے ملک بھر میں کارروائیاں جاری رکھیں۔ پی آئی سی ایس ایس کے مطابق مئی کے دوران سکیورٹی فورسز نے 270 جنگجوؤں کو مارا جبکہ 15 کو گرفتار کیا۔ مارے جانے والے جنگجوؤں میں سے 128 سابقہ فاٹا کے اضلاع، 62 سابقہ فاٹا کے علاوہ باقی خیبر پختونخوا، 71 بلوچستان اور ایک پنجاب میں مارا گیا۔

سال 2026 کے پہلے پانچ ماہ کی مجموعی صورتحال بھی تشویش ناک رہی۔ پی آئی سی ایس ایس کے مطابق جنوری سے مئی تک مجموعی طور پر 1,904 افراد مارے گئے جن میں 1,258 جنگجو، 352 شہری اور 281 سکیورٹی اہلکار شامل ہیں۔ اسی عرصے کے دوران 1,003 افراد زخمی ہوئے جن میں 629 شہری، 231 سکیورٹی اہلکار، 133 جنگجو اور امن کمیٹیوں کے 10 ارکان شامل تھے۔

چترال میں معیاری فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر اور کور کمانڈر گولڈ کپ ٹورنامنٹ کے اعلان کا خیرمقدمچترال(بشیرحسین آزاد)ڈسٹرکٹ فٹب...
01/06/2026

چترال میں معیاری فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر اور کور کمانڈر گولڈ کپ ٹورنامنٹ کے اعلان کا خیرمقدم

چترال(بشیرحسین آزاد)ڈسٹرکٹ فٹبال ایسوسی ایشن (ڈی ایف اے) لوئر چترال کے صدر حسین احمد نے چترال کی فٹبال برادری کی جانب سے کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل سید عمر احمد بخاری کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا ہے جنہوں نے 31 مئی کو چترال میں منعقدہ عوامی جرگہ کے دوران چترال میں ایک معیاری فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر اور کور کمانڈر گولڈ کپ فٹبال ٹورنامنٹ کے انعقاد کا اعلان کیا۔
اپنے بیان میں حسین احمد نے کہا کہ یہ فراخدلانہ اور دور اندیش فیصلہ چترال کے نوجوانوں کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوگا اور ضلع میں فٹبال کے فروغ کے ساتھ ساتھ مثبت سماجی و معاشرتی سرگرمیوں کے لیے ایک نئے باب کا آغاز کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ چترال کی فٹبال برادری اس اہم اقدام پر کور کمانڈر اور پاک فوج کی بے حد شکر گزار ہے۔ ان کے مطابق فٹبال گراؤنڈ کی تعمیر اور اعلیٰ سطحی ٹورنامنٹ کے انعقاد سے نوجوان کھلاڑیوں کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور کھیل کے میدان میں آگے بڑھنے کے بہتر مواقع میسر آئیں گے۔
حسین احمد نے امید ظاہر کی کہ اس اقدام سے چترال میں فٹبال کے کھیل کو مزید فروغ ملے گا اور مقامی کھلاڑی قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکیں گے۔

31/05/2026

چترال میں پولو سمیت دوسرے کھیلوں کا رجحان اور سماجی مسائل کی طرف بے توجہی: ایک تنقیدی جائزہ

چترال اپنی قدرتی خوبصورتی، منفرد ثقافت اور روایتی کھیلوں کی وجہ سے پورے پاکستان میں ایک نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ خصوصاً پولو کو چترال کی شناخت سمجھا جاتا ہے۔ سال بھر مختلف مقامات پر پولو کے مقابلے منعقد ہوتے ہیں جن میں مقامی آبادی کے ساتھ ساتھ سیاح بھی بڑی تعداد میں شرکت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ فٹبال، کرکٹ اور والی بال جیسے کھیل بھی نوجوانوں میں مقبول ہیں۔ کھیلوں کا فروغ کسی بھی معاشرے کے لیے صحت مند سرگرمی تصور کیا جاتا ہے، تاہم جب کھیلوں کے لیے غیر معمولی جوش و خروش سماجی مسائل کی نسبت زیادہ اہمیت اختیار کر لے تو یہ ایک قابلِ غور معاملہ بن جاتا ہے ۔
چترال میں کھیلوں کے مقابلوں پر عوامی دلچسپی اور وسائل کا استعمال اکثر نمایاں نظر آتا ہے، جبکہ دوسری جانب تعلیم، صحت، بے روزگاری، بنیادی ڈھانچے کی کمزوری، ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات اور خواتین کی فلاح و بہبود جیسے اہم مسائل پس منظر میں چلے جاتے ہیں۔ پولو میچز اور دیگر کھیلوں کے انعقاد پر بھرپور توجہ دی جاتی ہے، لیکن دور افتادہ علاقوں میں سکولوں کی حالت، صحت کی سہولیات کی کمی اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے محدود مواقع اکثر نظر انداز ہو جاتے ہیں۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ کھیلوں کا فروغ نقصان دہ ہے، کیونکہ کھیل نوجوانوں کو مثبت سرگرمیوں میں مصروف رکھنے اور صحت مند معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب معاشرتی ترجیحات کا توازن بگڑ جائے۔ اگر کسی علاقے میں بنیادی ضروریات اور عوامی مسائل حل طلب ہوں اور اس کے باوجود زیادہ توجہ تفریحی سرگرمیوں پر مرکوز رہے تو ترقی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
مزید برآں، سوشل میڈیا اور مقامی سطح پر بھی کھیلوں کے مقابلوں کو غیر معمولی پذیرائی ملتی ہے، جبکہ سماجی مسائل پر سنجیدہ مکالمہ نسبتاً کم دیکھنے میں آتا ہے۔ اس رویے کے نتیجے میں عوامی شعور کی تشکیل بھی متاثر ہوتی ہے اور پالیسی ساز اداروں پر مسائل کے حل کے لیے مطلوبہ دباؤ پیدا نہیں ہو پاتا۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ کھیلوں کے فروغ اور سماجی ترقی کو ایک دوسرے کے مخالف نہیں بلکہ تکمیلی شعبوں کے طور پر دیکھا جائے۔ مقامی قیادت، سماجی کارکنان، میڈیا اور نوجوانوں کو چاہیے کہ کھیلوں کے ساتھ ساتھ تعلیم، صحت، ماحولیات اور روزگار جیسے مسائل پر بھی توجہ دیں۔ ایک متوازن معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں تفریح اور ثقافت کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح و بہبود کو بھی مساوی اہمیت حاصل ہو۔
نتیجتاً، چترال میں پولو اور دیگر کھیلوں کا بڑھتا ہوا رجحان ایک مثبت ثقافتی اور سماجی پہلو رکھتا ہے، لیکن اس کے ساتھ سماجی مسائل کی طرف بڑھتی ہوئی بے توجہی تشویش کا باعث ہے۔ پائیدار ترقی کے لیے ضروری ہے کہ کھیلوں کی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ عوامی مسائل کے حل کو بھی ترجیحات میں شامل کیا جائے تاکہ چترال کی ترقی ہمہ جہت اور متوازن ہو سکے۔

شیدی گنگ لوئر چترال میں بچیاں دریا میں گر کر لاپتہ ، تلاش جاری  31 مئی 2026 کو شام 4 بجے، ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو شیدی...
31/05/2026

شیدی گنگ لوئر چترال میں بچیاں دریا میں گر کر لاپتہ ، تلاش جاری

31 مئی 2026 کو شام 4 بجے، ریسکیو 1122 کنٹرول روم کو شیدی گرات، لوئر چترال میں ڈوبنے کے واقعے کے حوالے سے ہنگامی کال موصول ہوئی کہ دو کمسن بچیاں مبینہ طور پر پھسل کر دریائے چترال میں گر گئیں ہیں،

کال موصول ہونے پر، ریسکیو 1122 کیTWRP ٹیمپوریری واٹر رسپانس پوانٹس سے ٹیمیں اسٹیشن فوری طور پر جائے حادثہ پر روانہ کردی گئیں،

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں بچیوں کی تلاش کے لیے دریائے چترال میں مختلف مقامات پر سرچ آپریشن کر رہے ہیں تاہم ابھی تک کوئی سراغ نہ مل سکا ہے، آپریشن کو شام ہونے پر کل صبح تک مؤخر کر دیا گیا ہے، صبح ریسکیو1122 کی ٹیمیں دوبارہ سرچ آپریشن جاری رکھیں گے،

میڈیا کوآرڈینیٹر ریسکیو1122 لوئر چترال

حاجیہ خونزہ ایڈوکیٹ کی  اچانک وفات  بے سہارا خواتین کی محرومیوں میں اضافہ  ہوا ہے ۔ نیاز اے  نیازی ایڈوکیٹچترال کی واحد ...
31/05/2026

حاجیہ خونزہ ایڈوکیٹ کی اچانک وفات بے سہارا خواتین کی محرومیوں میں اضافہ ہوا ہے ۔ نیاز اے نیازی ایڈوکیٹ

چترال کی واحد پریکٹسنگ وکیل ہیومن رائٹس ڈیفنڈر ایڈووکیٹ حاجیہ خونزہ کی اچانک وفات سے انسانی حقوق کمیشن برائے خواتین ایک توانا اواز سے محروم ہوگئی ہے۔ انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نیاز احمد نیازی ایڈووکیٹ نے ایک بیان میں نوجوان خاتون وکیل مس حاجیہ خونزہ کی اچانک اور بے وقت موت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے ۔ اور ان کی موت کو انسانی حقوق اور خصوصاً بے سہارا خواتین کے قانونی اور عدالتی سہارے سے محرومی قرار دیا ہے۔ نیاز اے نیازی نے کہا مس حاجیہ خونزہ ایڈوکیٹ چترال سے نہ صرف پہلی پرکٹسنگ خاتون وکیل تھی بلکہ انسانی حقوق کے پلیٹ فارم سے خواتین سائلین کے لئےامید کی ایک کرن تھی۔ انکی وفات سے ایک خلا پیدا ہوا ہے، جس کو پر کرنا بہت مشکل ہے۔ انسانی حقوق کمیشن اس غم کی گھڑی میں ان کے خاندان کے غم میں برابر کی شریک ہے۔

28/05/2026
27/05/2026

آیون کے قدیمی مرکزی عیدگاہ میں نماز عید کی آدائیگی کاروح پرور منظر ، ہزاروں فرزندان توحید نے نماز عید آدا کی ، اور امت مسلمہ و ملکی سلامتی کیلئے دعا کی ۔

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ سہیل افریدی نے خطے کی ترقی میں آغا خان فاؤنڈیشن کے کردار کو سراہتے ہوئ...
25/05/2026

گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی اور وزیر اعلیٰ سہیل افریدی نے خطے کی ترقی میں آغا خان فاؤنڈیشن کے کردار کو سراہتے ہوئے مستقبل میں تعاون کو مزید وسعت دینے کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔چترال ائیرپورٹ پر پرنس رحیم آغا خان کو گرم چشمہ کے دورے کے بعد رخصت کرنے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صوبائی قیادت نے کہا کہ انہوں نے عزت مآب کے ساتھ خیبر پختونخوا میں مائنز اینڈ منرلز، قدرتی وسائل اور ہاسپیٹلٹی (سیاحت و مہمان نوازی) کے شعبوں میں موجود وسیع مواقع پر تفصیلی گفتگو کی ہے۔چترال ائر پورٹ میں میڈیاسے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ بہت سے ایسے شعبے موجود ہیں جہاں آغا خان فاؤنڈیشن حکومت کے ساتھ مل کر کام کر سکتی ہے۔انہوں نے کہاکہ پرنس رحیم آغا خان نے پشاور میں آغا خان یونیورسٹی اور ہسپتال کے قیام پر اصولی اتفاق کیا ہے۔ چترال میں آغا خان فانڈیشن کی طرف سے انجام دی گئی ترقیاتی کاموں کی تعریف کرتے ہوئے گورنر اور وزیر اعلیٰ نے صوبے کے پسماندہ علاقوں کی ترقی میں فاؤنڈیشن کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے کہاکہ پرنس رحیم آغا خان کی طرف سے انہیں یقین دہانی کرائی گئی کہ صوبائی حکومت کے ساتھ ایک مربوط تعلق کار قائم کیا جائے گا جوکہ اس علاقے سے پسماندگی کے خاتمے میں مدد گار ثابت ہوگا۔

Address

Chitral
17222

Telephone

+923449701411

Website

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when CHITRAL FAST NEWS posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Contact The Business

Send a message to CHITRAL FAST NEWS:

Share